پاکستان اورترکی : بہت فرق ہے

          گزشتہ چند برسوں سےایک رجحان سامنے آرہاہے ۔ وہ رجحان یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ترکی اورپاکستان کا موازنہ کیا جاتا ہے بالخصوص دو چیزوں میں ترکی کی مثال بہت زیادہ پیش کی جاتی ہے۔ نمبرایک جولائی 2016 میں فوج کی جانب سے ایردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اورعوام کی جانب سے اس کوناکام بنانا۔ نمبر دومساجد میں بچوں کے حوالے سے ترکی کی بہت زیادہ مثال پیش کی جاتی ہے۔ جب لوگ اس طرح ترکی کی مثال پیش کرتے ہیں تو وہ پاکستان اور ترکی کے حوالے سے بہت سارے حقائق کو نظرانداز کردیتے ہیں۔

          ناکام فوجی بغاوت کے معاملے کو لیجیے۔ فوج مخالف طبقہ اس معاملے کا پاکستان کے معاملے سے اس طرح موازنہ کرتا ہے کہ  ’’ دیکھو یہ ہوتی ہے زندہ دل قوم ۔ ایسے ہوتے ہیں بہادر لوگ جنہوں نے فوج کو روک دیا۔ یہ ہیں عوام وغیرہ وغیرہ ۔‘‘ پہلی بات تو یہ کہ ترکی میں 1924  ( خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد  ) سے کبھی براہ راست اور کبھی پس پردہ رہ کر فوج ہی حکومت کرتی رہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ترکی کی فوج نے وہاں جبراً سیکولر ازم نافذ کیا،مذہبی تعلیم، مذہبی لباس وغیرہ پر باقاعدہ پابندی لگائی ۔ داڑھی، حجاب، اذان وغیرہ پر پابندی لگائی گئی ۔ شخصی آزادی کو دبایا گیا۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً وہاں جمہوری حکومتیں بھی آتی رہیں لیکن وہ سب کی سب سیکولرازم کی ہی پرچارک تھیں۔  اس دوران جب بھی کسی حکومت نے اسلام کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ ظاہر کیا، فوج نے فوراً اقتدار پر شب خون مارا اور اس حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ وہاں کے سیاست دانوں کو جب بھی موقع ملا،انہوں نےعوام کی خدمت کی۔ رجب طیب ایردوان سب سے پہلے 1994 میں استبول کے مئیر منتخب ہوئے۔ 1998 تک وہ مئیر کی ذمے داریاں نبھاتےرہے۔ اس دوران انہوں نےاستنبول شہر کے کئی اہم مسائل حل کیے۔ ان مسائل میں ٹریفک کے مسائل، پانی کی کمی کا مسئلہ، گندگی، گندگی کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ، آلودگی کا خاتمہ وغیرہ ۔ انہوں نے یہ سارے مسائل حل کیے۔ ان کی کارکردگی عوام کے سامنے رہی۔

          2003 سے 2014 کووہ مسلسل تین بار ترکی کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے ترکی کی معیشت کو سنبھالا دیا، قرضوں سے نجات دلائی، بیروزگاری کا خاتمہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دنیا کے سامنے ترکی کو ایک باوقار، بہادر اور پررعب قوم کے طور پر پیش کیا۔  عالمی سطح پر انہوں نے ہمیشہ ترکی قوم کے خلاف ہونے والے ہر منفی پروپیگنڈے کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا۔ وہ عالمِ اسلام کے لیے بھی ایک امید بن کر ابھرے۔ ان کی توانا آواز نے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کے یہی کارنامے تھے جس کے باعث جب فوج نے ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو ایردوان کی ایک آواز پر پوری قوم سڑکوں پر آگئی اور فوجی بغاوت کو ناکام بنایا۔

          اب اس کے مقابلے میں ہم اپنی سیاسی حکومتوں اور سیاست دانوں کا جائزہ لیں تو معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ جتنی بھی جمہوری حکومتیں آئیں، وہ عوام کو کوئی بھی سہولت دینے میں ناکام رہیں۔ ہر حکومت نے غیرملکی قرضوں میں اضافہ کیا۔ ذاتی مفادات کو تحفظ دیا۔ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے نہ عالمِ اسلام کے لیے کوئی ٹھوس اور واضح موقف پیش کرسکے۔ بجلی، پانی کے مسائل حل نہیں کرسکے۔ بلدیاتی نظام خراب سےخراب ترہوتا رہا ۔ پانی کی کمی بتدریج بڑھتے بڑھتے معاملہ پانی کی نایابی کی طرف چلا گیا لیکن کسی حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ اس پس منظر میں کیا ہم یہ توقع کرسکتے ہیں کہ اگر کوئی  طالع آزما جرنیل کسی حکومت کا تختہ الٹ دے توعوام سڑکوں پر آئیں گے؟ عوام کسی کی خاطر کٹ مرنے کو تیار ہوںگے؟ ہاں اگرسیاست دان عوام کو ریلیف دیتے، وہ عوام کی فلاح وبہبود کے کام کرتے، مہنگائی کے جن کو قابو کرتے، افراطِ زر ختم کرتے، پانی کی کمیابی ختم کرتے، عالمی سطح پرملک و قوم کا تشخص بحال کرتے، دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک باوقار اور غیرت مند قوم کے طور پر پیش کرتے تو پھرہم توقع رکھ سکتے ہیں کہ اگر کسی جرنیل نے حکومت پر شب خون مارا توعوام اس حکومت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔  لیکن افسوس ! ایسا نہیں ہے۔  اس لیے ترکی کے عوام کی جانب سے فوجی بغاوت کو ناکام کرنے جیسے کام کا یہاں سوچنا بھی ممکن نہیں ہے۔

          دوسرا معاملہ مسجد میں بچوں کےحوالے ہے۔ سوشل میڈیا پر باربار ترکی کی مساجد میں کھیلتے کودتے بچوں کی تصاویرشائع کی جاتی ہیں اور ساتھ ہی یہ کیپشن ہوتا ہے کہ ’’ اگرآپ کو مسجد میں پچھلی صفوں سے بچوں  کی آواز نہ آئے تو سمجھ لیں کہ آپ کا مستقبل اس حوالے سے تاریک ہے۔ اسلام بچانا چاہتے ہیں تو بچوں کو مساجد میں آنے دیں، ترکی کو دیکھیں انہوں نے اپنا مستقبل محفوظ بنا دیا ہے۔‘‘ ( ہوسکتا ہے کہ الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہوجائے لیکن مفہوم یہی ہوتا ہے۔) اس کے بعد یہ نصیحت ہوتی ہے کہ بچوں کو مساجد میں کھیلنے کودنے دیں، مساجد میں ان پرروک ٹوک کریں نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کریں۔ بچوں کومساجد میں آنے دیں گے تو کلی ہی بچے ہمارا سرمایہ ہوں گے۔

          یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ والدین نماز کے لیے مسجد جائیں تو بچوں کو بھی ساتھ لے جائیں تاکہ ان کو مسجد جانے کی عادت ہوجائے اور ان کو مسجد سے رغبت ہوجائے۔ لیکن یہ کہنا کہ’’ بچوں پرکوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہیے۔‘‘  یہ بالکل غلط ہے۔ دراصل یہاں بھی معاملہ وہی ہے کہ ہم لوگ ترقی کے ساتھ موازنہ کرتے وقت ترکی کے ماحول، اس کی تاریخ اور سیاسی پس  منظر کاخیال نہیں رکھتے۔ ترکی سیاسی ماضی اور پسم نظرپاکستان سے یکسر مختلف ہے۔ پاکستان، ہندوستان سے الگ ہوا، پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور بنیادی وجہ یہی تھی کہ یہاں مسلمان اپنے دین پر آزادی کے ساتھ عمل کرسکیں ۔ اسی لیے دینی جماعتیں یہاں اسلامی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔ اس کے بالکل برعکس جدید یا موجودہ ترکی خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کرکےقائم کیا گیا۔ یہاں خلافت تھی، اسلامی معاشرہ تھا۔ اس کو ختم کرکے یہاں جبری طور پرسیکولرازم نافذ کیا گیا۔ جیسا کہ ہم آغاز میں بیان کرچکے ہیں کہ ترکی کی فوج نے ترک عوام پرجبراً اذان، حجاب، عربی زبان، داڑھی اور اسلامی لباس پر مکمل پابندی عائد کردی۔

          ایک صاحب نے اپنا واقعہ سنایا کہ 90 کی دہائی میں وہ ترکی گئے، یہ صاحب باریش تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ خریداری کرنےدکانوں پرجاتے تو اکثر دکان دار ان کی داڑھی کو بڑی عقیدت سے چھوتے، نم آنکھوں اور گلوگیرآواز میں ان کو دعائیں دیتے اور کہتے کہ آپ کتنے خوش قسمت ہیں کہ اپنی مرضی سے داڑھی رکھ سکتے ہیں ۔ ہم یہاں  داڑھی بھی نہیں رکھ سکتے۔علاوہ ازیں جمہوری دورمیں بھی جب فوج کو یہ محسوس ہوتا کہ حکومت اسلامی نظام یا اسلامی شعائر کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے تو اس حکومت کا تختہ الٹ دیاجاتا۔ اس پس منظر میں جب رجب طیب ایردوان نے 2003 میں اقتدارسنبھالا۔ انہوں نے بہت آہستہ آہستہ پیش قدمی کی، کم وبیش 14 برس کے بعد وہ اس قابل ہوئے کہ حجاب پر پابندی نرم کی گئی اور مساجد دوبارہ آباد ہونا شروع ہوئیں۔ اس لیے اگر ترکی کے لوگ بچوں کو مساجد میں کچھ نہیں کہتے تو یہ ان کے ماحول، معاشرے اور سیکولر پس منظر کے اعتبار سے بالکل درست ہے۔ اگر وہ بچوں پرروک ٹوک کریں گے تو بچے مسجد سے متنفرہوں گے اور پھر نوجوانی میں یہ بچے مساجد کی طرف نہیں آئیں گے۔

          اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں جس طرح تربیت کا فقدان ہے۔ اس ماحول میں مساجد میں بچوں پر تھوڑی سی سختی ضروری ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بچے مساجد میں شرارتیں کرتےہیں۔ نماز کے دوران تو بالخصوص ان کی شرارتیں زیادہ ہوتی ہیں کیوں کہ ان کو پتا ہوتا ہے کچھ دیرتک تو کوئی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بچوں پرمارپیٹ نہ کریں لیکن کم از کم ان کو تنبیہ ضرورکریں،پیار سے سمجھائیں ضرور۔ اگر ہم یہ کام نہیں کریں گے تو یہی بچے، بڑے ہو کر بھی سنجیدگی اختیار نہیں کریں گے۔ ذرا سا سوچ کرمجھےایک بات کا جواب دیں ۔ پہلے جب اذان ہوتی تھی تولوگ بالکل خاموش ہوجاتےتھے۔ لیکن کیا اب بھی ایسا ہوتا ہے؟ جی آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ یہ وہی نوجوان ہیں جو کبھی بچےتھے۔ ان کو اس جانب توجہ نہیں دلائی گئی اس لیے اب اذان کاا حترام ختم ہوتا جارہا ہے۔

          اب دوسری بات کا جواب دیجیے۔ اب سے کم وبیش 10 برس قبل تک رمضان کا تقدس اور احترام ہوتا تھا۔ جو روزہ نہیں رکھتا تھا وہ بھی کم از کم رمضان کا احترام ضرور کرتا تھا اور سرعام کھانے پینے سے گریز کرتا تھا۔ کیا اب بھی ایسا ہوتا ہے؟ جواب ہے کہ نہیں! آج نوجوان رمضان کے مہینے میں سرعام پان، چھالیہ گٹکا کھاتے، پان اور گٹکا تھوکتے اور سرعام کھاتے پیتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہی نوجوان ہیں جوکبھی بچے تھے۔ ان کو رمضان کا احترام نہیں سکھایا گیا، تربیت نہیں کی گئی تو آج یہ نوجوان رمضان کے تقدس کا خیال نہیں رکھتے۔ آخری بات آج سے 10 یا برس 12 قبل تک جمعے کی نماز کے وقت جب عربی خطبہ ہوتا تھا تو تمام لوگ مکمل خاموشی کے ساتھ ادب واحترام سے اس کو سنتے تھے اور اس دوران کسی ایک کی بھی آواز نہیں آتی تھی۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ نمازِ جمعہ کےعربی خطبے کے وقت پچھلی صفوں میں موجود 20 سے 25 برس تک کے نوجوان آپس میں باتیں کررہے ہوتےہیں۔ یہ وہی نوجوان ہیں جوچند برس قبل تک بچے تھے۔ ان کو جمعے کے عربی خطبے کی اہمیت نہیں بتائی گئی، ان کی تربیت نہیں کی گئی، ان کو بچپن میں تنبیہ نہیں کی گئی اس لیے وہ خطبہ ٔ جمعہ کے دوران بے فکری سے باتیں کرتے ہیں۔

          ان تمام باتوں کو سامنے رکھیں اور ترکی کے ماڈل کو پاکستان کے ماحول اور معاشرے سے نہ ملائیں۔ ان دونوں کے سیاسی اورتاریخی پس منظرمیں بہت زیادہ فرق ہے۔ وہ اپنے معاشرے اور تاریخی پس منظر کے اعتبار سے جو حکمتِ عملی اپناتے ہیں،ضروری نہیں کہ پاکستانی معاشرے پر بھی اس کا سوفیصد اطلاق ہو یا وہ پاکستانی معاشرے کے لیے بھی قابل تقلید ہو۔

حصہ
mm
سلیم اللہ شیخ معروف بلاگرہیں ان دنوں وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیچرز ٹریننگ بھی کراتے ہیں۔ درس و تردیس کے علاوہ فری لانس بلاگر بھی ہیں اور گزشتہ دس برسوں سے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر مضامین لکھ رہے ہیں۔ ...

جواب چھوڑ دیں