اعتراف نعمت

“عفان !جلدی کرو دیر ہو رہی ہے۔ جماعت شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔۔” “آرہا ہوں۔” بھائی نے جلدی سے بائیک نکالی اور ہم دونوں بہن بھائی تراویح کے لئے روانہ ہوئے پہنچے تو پتہ چلا کہ جماعت کھڑی ہو چکی تھی میں نے اندر قدم رکھا تو دیکھا آخری صف تک جماعت کھڑی ہوئی ہے دل میں رشک ہوا اور جلدی سے آخری صف میں جگہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ فرض پڑھ کر میں نے جگہ ڈھونڈنا چاہی کہ  اس جگہ تراویح پڑھنا ممکن نہ تھا مگر نیچے کا ہال مکمل بھرا تھا لہذا میں اوپر گئی اوپر بھی اللہ کی رحمت سے خواتین بھری تھیں مگر جب میں جگہ ڈھونڈنے لگی تو  ایک خاتون نے کہا “آگے صف میں ایک جگہ ہے۔” میں گئی تو وہاں ایک عجیب سی مگر خوبصورت بچی بیٹھی تھی وہ ٹراؤزر اور شرٹ میں تھی اور بھاری اس قدر تھی کہ سمجھ نہیں آتا کہ واقعی بچی ہے یا کوئی بونی عورت۔۔۔۔میں نے اس سے کہا “ادھر کوئی ہے تو نہیں؟”۔۔۔اس نے  کوئی جواب نہیں دیا تو الٹے ہاتھ پر موجود خاتون نے کہا ” نہیں نہیں کوئی نہیں ہے ۔آپ آجائیں گیپ فل کر لیں میں شکریہ کہہ کر سنتیں پڑھنے لگی۔ سنتیں پڑھتے ہوئے میرے کلچ سے کچھ سکے اس بچی کی جاۓ نماز پر گر  گئے میں نے سلام پھیرا تو خاتون نے کہا “آپ کے کچھ کوائنس گر گئے ہیں” میں نے کہا “جی اچھا !”  اور اس بچی کی جاۓ نماز سے اٹھا لیے خاتون نے کہا “یہاں گرمی بہت ہے ناں؟” میں نے کہا “جی۔” خاتون نے ایک دو باتیں اور کیں تو مجھے ان کا مزاج خاصا دوستانہ معلوم ہوا ان خاتون کے ساتھ ایک چار پانچ سالہ بچی بھی تھی اور خاتون کے حلیے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اچھے گھرانے کی ہیں میں نے انکے سوال کے رسمی جواب دیے اور تراویح شروع ہو گئی دوران تراویح بچی کا نماز پڑھنا کافی پریشان کن تھا وہ تراویح میں جب سجدے سے قیام کے لئے اٹھتی تو وزن کے باعث اٹھ نہ پاتی اور  پھر اونٹ کی طرح اٹھتی اور کبھی دونوں ہاتھ اور پاؤں زمین پر رکھتی جیسے ہم بچوں کے لئے گھوڑا بنتے ہیں پھر ایک دم کھڑی ہوجاتی صرف یہی نہیں وہ التحیات کے بعد بھی نجانے کتنے زاویے سے ٹانگوں کو بندکرتی مجھے اس کو دیکھ کر کچھ عجیب لگ رہا تھا ابھی آٹھ رکعت ہی ہوئیں تھیں کہ اس نے مجھے بلا کر کہا “پانی چاہیے؟” میں نے کہا ” نہیں ہے۔” اس پر  میرے الٹے ہاتھ پر موجود خاتون نے اپنی پانی کی بوتل جھٹ  اس کے آگے کردی یہ لمحہ میرے لئے کافی مسرت بخش تھا کہ آج کے دور میں جہاں لوگ منہ کا جھوٹا کہہ کر ایک دوسرے کا پانی نہیں پیتے  انہوں نے جھٹ اپنا پانی دے دیا اس بچی نے پانی بھی کچھ عجیب طرح پیا۔۔ جس پر بھی خاتون نے کوئی ناگواری نہ دکھائی۔۔ تراویح کے دوران سورہ رحمن کی تلاوت ہوئی تو وہ خاتون زار و قطار رونے لگیں۔ دوران قیام ان کی سسکیاں ختم نہیں ہو رہی تھیں ان کی رونے میں بلا کا اثر تھا پھر قاری کی آواز بھی اتنی دلگدوز تھی کہ میرے  بھی دو آنسو  چھلک گئے تراویح کی  دعا کرتے  ہوئے میں نے سوچا کہ سورہ رحمن کا ترجمہ تو مجھے بھی آتا ہے مگر میرے کبھی یوں آنسو نہیں نکلے۔۔۔۔ میں اسی سوچ میں تھی کہ ساتھ بیٹھی بچی نے اس خاتون کو مخاطب کیا “مما اور کتنی رہتی ہیں؟” میں اس جملے پر بالکل ساکت ہو کر ان خاتون کو دیکھنے لگی۔۔۔ خاتون نے کہا “بیٹا بس فور(4)۔” اور بچی بچکانہ انداز میں خوش ہونے لگی۔۔ میں ان دونوں کو بالکل اس طرح دیکھ رہی تھی جیسے کوئی ڈیٹیکٹیو سوراغ مل جانے پر مشکوک بندوں کو دیکھتا ہے ۔۔ خیر باقی کی تراویح اور وتر کے بعد میں نے عبایا اٹھایا تو امام صاحب نے تراویح میں پڑھی جانے والی سورتوں کے متعلق مختصر حوالہ دینا شروع کیا انہوں نے کہا سورہ رحمان میں جو آیت بار بار آئی ہے وہ ہے ” فبای الاء ربکما تکذبن۔” یعنی “تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟” امام صاحب کا یہ بولنا تھا کہ میں اس  بچی کو پھر دیکھنے لگی۔۔ اس سے پوچھا “آپ کا نام کیا ہے؟” اس نے کہا “ثمرہ رانی!” میں نے کہا” یہ تو بہت پیارا نام ہے! آپ کتنے سال کی ہو؟” کہنے لگی “نائن ایئرز ( 9years ) ” میں نے کہا “ہمم۔”  وہ خاتون مجھ سے گویا ہوئیں۔۔۔”بیٹا میری بچی کے لیے دعا کرنا کہ اس کی بیماری جلد ٹھیک ہو جائے۔” میں نے کہا “کیا بیماری ہے؟” کہنے لگی بیٹا اس کو پریڈر ویلی سنڈروم( prader willi syndrome) ہے اس میں پیدائش کے وقت کچھ ہارمونل ڈس آرڈر کی وجہ سے وزن کم  ہوتا ہے پھر بچے کی بڑھتی عمر کے ساتھ وزن زیادہ ہوتا جاتا ہے اور بچہ ذہنی پسماندگی کا شکار ہو جاتا ہے میں نے ڈاکٹرز کو دکھایا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ بیماری ختم تو نہیں ہو سکتی مگر کنٹرول کی جا سکتی ہے ۔۔ وہ اتنا کہہ کر رو دیں۔ میں نے کہا “اللہ آپ کو صبر دے۔۔ امید رکھیں اللہ ضرور اس کو صحت یاب کرے گا ۔ انشاء اللہ میں ضرور آپ کی بچی کے لۓ دعا کروں گی۔۔۔”

 واپسی میں راستے بھر میں سوچتی رہی کہ واقعی ہم نے کبھی ان اعضاۓ جسمانی اور اس صحت کا شکر ادا ہی نہیں کیا وہ بچی کس قدر تکلیف دہ ہوگی اس سسکیاں  لیتی ماں کے لئے جو اپنے غیر معمولی وزن کے باعث اپنا آپ بھی سنبھال نہیں سکتی۔۔۔ واقعی ہم اور ہمارے عزیز، ہمارے بہن بھائی اور بہن بھائیوں کے بچے صحت یاب اور معمولی بچوں کی طرح نشونما پاتے  ہیں تو ہم کب رب کا شکر ادا کرتے ہیں  کہ اللہ نے ہمارے اندر ہر چیز کو ایک مخصوص حد تک بڑھنے کی اجازت دی  یہ خدا کے خالقت ہی تو ہے کہ جسم کا ہر خلیہ ایک محدود میعاد تک بڑھتا اور  کام کرتا ہے ۔۔۔ واقعی ہم اس نعمت کو نظر انداز کر جاتے ہیں ۔۔ ہم کیوں رب کی رحمت پر مشکور نہیں ہوتے؟ ان سب سوال کے ذہن  میں آتے ہی میں نے اپنے آپ سے پوچھا۔۔۔” پھر میں بھی جھٹلانے والوں میں شامل ہوں؟ جو انعامات کو  پاکر مشکور نہیں ہوتے جو  خلقت کا اعتراف نہ کرے اس نے  جھٹلایا ہی تو ہے۔۔۔ میرے لیے ہی تو رب تعالی نے کہا اور تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ”  یہ آیت ذہن میں آتے ہیں میں نے رب سے کہا کہ” اے رب ! مجھ جھٹلانے والوں میں شامل نہ کیجیو اور مجھے تیری نعمتوں کا اعتراف کرنے والا  اور اپنا شکر گزار بندہ  بنا دے(آمین۔ )

حصہ

جواب چھوڑ دیں