روزے اورکینسر کی بیماری

کینسر دنیا کی بڑی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے اور آج بھی دنیا کے اندر وہ بیماریاں جو مہلک بیماریوں میں شمار ہوتی ہیں اس میں امراض قلب کے بعد کینسر کی بیماری دوسرے نمبر پر آتی ہے اور مختلف قسم کے کینسر کی وجہ سے دنیا کے اندر کروڑوں لوگ ہر سال لقمہ اجل بن جاتے ہیں اس حوالے سے میڈیکل سائنس میں ریسرچ کا عمل برسوں سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا لیکن پچھلے 8-10 سالوں میں روزے اورکینسر کے تعلق کے حوالے سے بڑی دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے اور یہ ہمہ جہتی تعلق ہے، اس کے کئی پہلو اور جہتیں ہیں اس حوالے سے بھی ریسرچ ہورہی ہے کہ کیا روزے رکھنے والوں کوکینسر کم ہوتا ہے یا روزے کا کوئی Preventive یا Protectiveاثر ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں یا جانوروں کو جن کو Fasting کرائی جاتی ہے ان میں کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے اس حوالے سے بھی کافی ریسرچ ہورہی ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں اگر ان کو کینسر ہو اور ان کو کینسر کی ٹریٹمنٹ دی جا رہی ہے تو ان مریضوں میں Response کیسا ہوتا ہے اور کیا وہ ان سے بہتر ہوتا ہے کہ جو روزے نہیں رکھتے، اسی طرح کینسر کے مریضوں میں دوائیوں کے سائیڈ افیکٹس کا کیا معاملہ ہوتاہے خاص طورپر ان لوگوں میں کہ جن کو Fasting کرائی جاتی ہے یہ تحقیقی بڑا اہم کا موضوع ہے۔
جہاں تک کینسر پری وینشن کا تعلق ہے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں یا فاسٹنگ کرتے ہیں ان میں کینسر کی شرح ان لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو روزے نہیں رکھتے ابھی اس کا کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے لیکن بہر حال یہ بات تحقیق سے سامنے آئی ہے اور اس پر اسٹڈی ہورہی ہے، مثال کے طورپر چوہوں پراسٹڈی کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ان کو فاسٹنگ کرائی جائے تو ان میں لیور کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے، آنتوں،معدے کے کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے تو روزے رکھنے کے نتیجے میں کئی جگہوں کے کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے بھی جو لوگ مستقل روزے رکھتے ہیں یا کچھ دن چھوڑ کر روزے رکھتے ہیں مثلاً مہینے میں ایک، دو یا تین دن، ان میں بھی کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ریسرچ کا دوسرا دلچسپ موضوع وہ ہے کہ جس پر کافی اسٹڈیز ہوئی ہیں کینسر کے جن مریضوں کی کیموتھراپی کی جاتی ہے اگر ان کو کیمو تھراپی دینے سے پہلے ایک ہفتے کے لیے یا ۵ یا۰۱ دن کے لیے ۵۱ یا۸۱ گھنٹے کی فاسٹنگ کرادی جائے تو اس کیمو تھراپی کا اثر بہت ہی نمایاں ہوجاتا ہے اس کے کچھ اثرات ایسے ہیں جو صحت مند Cells پر مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں کینسر Cell کے ڈیتھ ریٹ کے اندر اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ جن لوگوں کو کینسر کی ٹریٹمنٹ چل رہی ہوتی ہے، کیمو تھراپی ہورہی ہوتی ہے ان کو Fasting کرائی جائے تو اس کے نتیجے میں ان دواؤں کے Complicationsاور سائیڈ افیکٹس کم ہوجاتے ہیں۔ ریسرچ کے یہ مثبت نتائج بھی ہیں کہ کینسر کیمو تھراپی کرنے سے پہلے مریض کو اگر 10-15 دن فاسٹنگ کرائی جائے۔ تو15-18 گھنٹے کے لیے اس کینسر کیموتھراپی کے اثرات کو بڑھا دیتی ہے۔
کینسر کے مریضوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، جب کہ اس بیماری میں مریض کو نفسیاتی اثرات کابھی سامناکرنا پڑتا ہے جو بعض اوقات اصل مرض سے بھی بڑھ جاتے ہیں کینسر تو بہتر ہوجاتا ہے لیکن ڈپریشن بہتر نہیں ہوتا۔ روزے کے نتیجے میں کینسر کے مریضوں کے مرض میں بہتری کے ساتھ ساتھ ان کے ڈپریشن اورنفسیات پر بھی مثبت اثرات پڑتے ہیں اورمریض کے اندر یہ صلاحیت بڑھ جاتی ہے کہ وہ کینسر کا مقابلہ کرسکے اس کے اندر حوصلہ اور اعتماد پیدا ہوجاتا ہے فاسٹنگ کے جو اثرات کینسر کے مریضوں میں نمایاں ہوتے ہیں وہ بڑے ہمہ جہتی ہیں۔ کیمو تھراپی کے جو اثرات ہوتے ہیں روزے کی وجہ سے وہ کس طرح بہترہوتے ہیں، کس طرح سائیڈ افیکٹس کم ہوتے ہیں اورکس طرح کینسرکے لیے فاسٹنگ کا ایک مثبت رول ہے یہ ایک بڑا تحقیق کا موضوع ہے مگر ہمیں امید ہے کہ آئندہ جو بھی تحقیق ہوگی اس کے نتیجے میں نئے پہلو سامنے آئیں گے اور اس کا تعلق پتا چلے گا اور اس کے نتیجے میں ہم یہ جان سکیں گے کہ روزہ نہ صرف ایک ایسی رحمت ہے جو انسان پر روحانی اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ اس کو بہت ساری بیماریوں سے بھی بچاتی ہے جس میں کینسر جیسی مہلک اور موذی بیماری سے بچاؤ بھی شامل ہے اور اگر خدانخواستہ کسی کو کینسر ہو بھی تو اس روزے کے ذریعے اس کے علاج کو augment کیا جاسکتا ہے اس کے سائیڈ افیکٹس کو بہتر کیا جاسکتا ہے اور کینسر سے وابستہ ڈپریشن اور اینگزائٹی کو بھی دور کیا جاسکتاہے۔

حصہ
mm
پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر ملک کے معروف نیورولوجسٹ ہیں جو آغا خان ہسپتال میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔صحت کے حوالے ملکی و بین الاقوامی جرائد میں ان کے تحقیقی مقالے شایع ہوتے رہتے ہیں

جواب چھوڑ دیں