بچوں کو عزت دیں‎

وہ میرے قریب، میری والی صف میں ہی نماز ادا کر رہے تھے۔ ہماری اگلی صف میں کچھ بچے موجود تھے، نماز کے دوران بھی وہ بچے وہ ساری حرکتیں کرتے رہے جو ہم میں سے ہر شخص اپنے بچپن میں کر چکا ہے، اور یہ حرکتیں ہی ہوتی ہیں جو “بچپن” کا پتا دیتی ہیں۔

 سلام پھرتے ہی ان صاحب نے اگلی صف میں اپنے سامنے موجود بچے کا کالر بے دردی سے کھینچا اور حقارت کے ساتھ فرمانے لگے “چلو نکلو، مسجد سے ابھی” بچہ کچھ جھینپ گیا، اور دعا کے لئے اٹھائے ہوئے اپنے ہاتھوں میں شرمندہ ہو کر  اپنا منہ ڈال دیا۔ انہوں  ایک لمحہ تاخیر کئیے بغیر اس بچے کا کالر دوبارہ اس زور سے کھینچا کہ وہ پیچھے آدھی صف تک آ گیا۔ اس کے بعد دوسرے بچے بھی اپنی “عزت نفس” کو سنبھالتے ہوئے اللہ کے گھر سے فرار کے راستے ڈھونڈ لگے۔

 انہوں نے کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ بچوں کو زور کی ڈانٹ پلائی اور ایک بچے کی گدی پر تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ میں نماز کے اختتام کے بعد کچھ دیر تک یہ سارے مناظر بڑی تکلیف کے ساتھ دیکھ رہا تھا، لیکن اب میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا تھا۔ میں نے تھوڑی تیز آواز کے ساتھ کہا “انکل! یہ بات آپ آرام سے بھی کہہ سکتے تھے” شاید ان کو اس کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور مدافعانہ لہجے میں بولے “یہ لوگوں کی نماز خراب کرتے ہیں، شیطان ہے یہ سب”۔

 مسجد میں موجود تقریباً تمام ہی نمازیوں کا رخ ہماری طرف ہو چکا تھا۔ “تو ان کو تمیز سے تمیز سے سکھانا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے”۔ میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا شاید کہیں اپنا بچپن بھی آنکھوں میں گھوم گیا۔

 آپ یقین کریں میں نے بچوں کی عزت نفس کو جتنا مجروح مسجد اور اسکول میں ہوتے دیکھا ہے اور کسی تیسری جگہ نہیں دیکھا۔ جس حقارت اور تحقیر کے ساتھ مساجد میں بچوں کو ہمارے بزرگ ذلیل کرتے ہیں اور جس طرح اسکولوں میں “معزز اساتذہ اکرام” بچوں کی عزت نفس کا جنازہ نکال لیتے ہیں دل پاش پاش ہو جاتا ہے۔

 یہی تو وہ جو جگہیں تھیں جہاں سے وقت کے امام اور امت کے مستقبل نکلا کرتے تھے، لیکن یقیناً ان مساجد اور مدارس میں استاد امام ابو حنیفہ جیسے اور بزرگ عطا بن رباح جیسے ہوا کرتے تھے۔

پرسوں ہماری مساجد کے امام صاحب نے سختی سے تقریبا ڈانٹتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ “جو بھی نمازی اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو لے کر مسجدآئے گا، اسے مسجد سے بچے سمیت باہر نکال دیا جائے گا پھر وہ ہم سے شکایت نہ کرے”۔ ایک دوسری مسجد میں آج نماز پڑھی تو بغیر حوالے کے بڑا سا بورڈ نصب تھا کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابالغ بچوں کو مسجد میں لانے سے منع فرمایا ہے”۔

 مجھ جیسے ناقص العلم آدمی تک جب یہ احادیث پہنچ گئیں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ ان “علماء” اور “ائمہ” تک یہ احادیث کیوں نہیں پہنچ سکیں؟ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نمازوں کو صرف اس لئے طویل کردیا کرتے تھے کیونکہ امام حسن حسین کبھی رکوع اور کبھی سجدے کی حالت میں آپ کی کی کمر اور پیٹھ پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ فرض نماز میں عین امامت کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ اس لئے طویل ہو گیا کیونکہ حجرے سے نکل کر حسنین شریفین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سوار ہوگئے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اتارنا چاہا تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرما دیا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بچوں کے رونے کی آواز پر خواتین کو ڈانٹنے کے بجائے خود نماز کو مختصر کر دیا کرتے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ ایک بدو نے مسجد نبوی میں کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیشاب کردیا صحابہ اس کی طرف دوڑ پڑے تو آپ نے روکا اور فرمایا پہلے اسے فارغ تو ہو لینے دو جب وہ فارغ ہوگیا، تو صحابہ کو حکم دیا کہ مسجد کی صفائی کرو، اسے اپنے پاس بلاکر بٹھایا اور فرمانے لگے “میرے بھائی! مسجد اللہ کا گھر ہے یہاں گندگی تھوڑی کی جاتی ہے”۔ صحابہ فرماتے ہیں ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہترین سکھانے والا نہیں دیکھا۔

 آپ کمال ملاحظہ کریں مدینے میں تین یہودی قبائل آباد تھے۔ ان میں سے کسی قبیلے کا ایک بچہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں آ کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔ اس کی عمر بھی بمشکل دس سے گیارہ سال ہوگی کچھ دن وہ نہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ اس بچے کے گھر تشریف لے گئے وہ عین نزع کی حالت میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار سے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا بیٹا بولو لاالہ اللہ محمد الرسول اللہ اللہ، اس بچے نے کلمہ پڑھا اور انتقال کر گیا۔ صحابہ فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے ایسے چمک اٹھا جیسے چودھویں کا چاند ہو وہ بچہ کوئی سردار نہیں تھا، کسی مسلمان کی اولاد نہیں تھا، بس ایک یہودی کی اولاد تھا۔

جب امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کو تیرہ سال کی عمر میں ان کے والد امام ابو حنیفہ کے پاس زانوئے تلمذ طے کروانے کے لیے لائے تو امام صاحب نے فرمایا “اتنے بڑے بچے کا میں کیا کروں گا؟ آپ تو اس گارے کو اپنے مطابق پہلے ڈھال چکے ہیں”۔

 مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے اپنے ایک مرید سے فرمایا کہ “کل سے اپنے بچے کو بھی ساتھ لے آنا وہ ہفتے بھر بعد ٹوپی پہنا کر اور خوشبو لگا کر اپنے بیٹے کو تھانوی صاحب کی مجلس میں لے آئے، بچے نے پورے ادب اور احترام کے ساتھ  سر جھکا کرمولانا کی گفتگو سنی۔ محفل برخواست ہونے پر اشرف علی صاحب نے اس سے فرمایا “تمہیں اپنے بچے کو لانے کا کہا تھا، اپنے ابا کو لے آئے” اس نے کچھ شرمندہ ہو کر جواب دیا “حضرت! اس کو ہفتے بھر سکھاتا رہا ہوں کہ آپ کی محفل میں کیسے بیٹھنا ہے۔ مولانا صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے “اسی لئے تو کہا تھا کہ لاؤ تاکہ یہاں آکر سیکھے، تم نے تو اسے ضائع کر دیا اب وہ خوف کی حالت میں کیسے یہاں سے کچھ سیکھے گا؟”

 اگر صاحبان منبر و محراب کی وعیدوں پر یقین کر لیا جائے تو حضرت علی کا دس سال کی عمر میں اسلام قبول کر کے نماز پڑھنا اور حضرت زید بن حارثہ کا بھی لگ بھگ اسی عمر میں اسلام کے بعد نمازوں کا اہتمام کرنا کس کھاتے میں شامل ہوگا؟

 خاص طور پر اسکولوں میں ٹیچرز جس لہجے اور جس انداز میں بچوں سے بات کرتی ہیں، آپ یقین کریں مجھے انہیں “استاد” بولتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے اسکولوں کی 90 فیصد ٹیچرز کی زبان سوائے طعن و تشنیع اور تحقیر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی ان کا ہر جملہ حوصلہ شکن، دل شکن اور روح تک کو زخمی کر دینے والا ہوتا ہے۔

 جن لہجوں میں  ان معصوم پھول جیسے بچوں کے ساتھ ان کی ٹیچرز گفتگو کرتی ہیں ایسے تو کوئی اپنے بدترین دشمن کے ساتھ بھی شاید نہ کرتا ہو اور پھر آپ توقع رکھتے ہیں کہ وہ کوئی اچھے انسان اور بہترین مسلمان بنیں گے؟

اس معاملے میں ترکی نے اپنی نئی نسل کے لیے بہترین اقدامات کئے ہیں انہوں نے مساجد میں “پلےایریاز” بنا دیے ہیں تاکہ بچے مساجد سے مانوس ہوسکیں۔ وہ اسٹڈی ٹور کے لئے اپنے بچوں کو مسجد میں لے کر آتے ہیں۔ طیب ایردوان کے الفاظ میں “اگر آپ کی مساجد کی پچھلی صفوں سے بچوں کے کھیلنے کودنے کی آوازیں نہیں آتی ہیں، تو پھر اگلی صفوں میں موجود بزرگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے”۔ وہ چالیس دن تک نماز فجر باجماعت ادا کرنے والے بچوں میں حکومتی سطح پر سائیکلیں تقسیم کر رہے ہیں۔

جو والدین اپنے بچوں سے عزت چاہتے ہیں انہیں اپنے بچوں کو عزت دینا پڑے گی، جو اساتذہ اپنے طالب علموں سے احترام چاہتے ہیں، انہیں اپنے طالبعلموں کا احترام کرنا پڑے گا۔ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے اپنے بچوں کو عزت دی ہے آپ اپنے بچے کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں آج سے اس کو ویسے ہی عزت اور احترام دیں جیسا آپ اس کو  ویسا بننے کے بعد دینگے۔ زندگی آپ کو کچھ نیا نہیں دیتی، یہ بس آپ کو وہ لوٹاتی ہے جو آپ اس کو دیتے ہیں۔ شمس تبریز کے الفاظ میں ہر شخص اپنی زندگی کی دیگچی  پکانے میں مصروف ہے، اس میں جو ڈالوگے مستقبل میں وہی کھانا پڑے گا”۔

 بچوں کو دین اور مسجد سے منحرف کرنے میں سب سے بڑا کردار بدقسمتی سے ہمارے ائمہ کرام کا ہے اور اسکولوں سے منحرف کرنے میں اساتذہ کرام کا۔ آپ بچوں کی بےعزتی کر کے ان سےعزت نہیں کرواسکتے ہیں اور اگر آپ بچوں کی “عزت نفس” مجروح کرکے ان سے احترام کی توقع رکھتے ہیں تو پھر جان لیں کہ آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں