روزے اور موٹاپا

موٹاپا دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ۰۲ فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ موٹاپا صرف بڑی عمر کے مرد اورخواتین تک محدود نہیں بلکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی اس کا شکار ہیں۔
موٹاپا اس بیماری کو کہتے ہیں جس میں جسم کے اندر چربی کی زائد مقدار جمع ہو جاتی ہے، اس کے نتیجے میں فرد کا وزن بڑھ جاتا ہے، پیٹ بڑھ جاتا ہے، کولہوں پر گوشت جمع ہو جاتا ہے، پورے جسم پر بھی چربی چڑھ جاتی ہے لیکن اس کے اصل نقصانات ظاہری نہیں ہوتے بلکہ جسم کے اندر مرتب ہونے والے اثرات اصل نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا اس وقت میڈیکل سائنس کی تحقیق کا بہت بڑا موضوع ہے، بلڈپریشر کی بھی ایک اہم وجہ موٹاپا ہے، شوگر کی بھی ایک اہم وجہ یہی مرض ہے۔ اسی طرح فالج، گردہ اور گھٹنے کی بیماری کی وجہ بھی وزن کا بڑھنا اور موٹاپا ہے۔ موٹاپا کئی بیماریوں کی جڑ ہے، اس کے نتیجے میں بیسیوں ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں، بعض اوقات یہ نقصان قلیل مدت کے لیے ہوتا ہے اور بعض اوقات طویل مدت کے لیے۔ حال ہی میں ایک تحقیقی مقالہ سامنے آیا ہے جس میں کئی ہزار لوگوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ پتا چلایا گیا کہ جو لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ان کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوتی ہیں، وہ کم عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور بہت زیادہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جن میں کینسر، امراض قلب، فالج اور اس نوع کی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔
موٹاپے کے حوالے سے میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اسے دواؤں کے ذریعے کم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ علاج صرف یہ ہے کہ غذا کو کنٹرول کیا جائے اور روزے غذا کو کنٹرول کرنے کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ ہیں۔ فی زمانہ یہ بات سمجھی جا رہی ہے کہ روزے اور فاقہ کشی کے نتیجے میں جتنے مؤثر طریقے سے وزن کو کم کیا جا سکتا ہے اور موٹاپے سے بچا جاسکتا ہے وہ کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ اس طریقہ علاج کو ’فاسٹنگ تھراپی، یا ’اسٹارویشن تھراپی، (starvation) کہتے ہیں۔ اس پر ریسرچ ہو رہی ہے کہ ایک فرد صرف پوری رات کو بھوکا رہے تو نتیجے میں اس کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس کے وزن میں کتنی کمی ہوتی ہے، بلڈ پریشر کتنا کم ہوتا ہے، جو لوگ بلڈ پریشر کی دوائیں استعمال کر رہے ہوتے ہیں ان کو دوا کی ضرورت نہیں پڑتی، شوگر کی بیماری کم ہو جاتی ہے۔ ریسرچ سے ثابت ہے کہ اگر لوگ رمضان میں غذا کو قابو میں رکھیں تو آسانی سے دس سے بارہ کلو وزن کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ ان لوگوں کو بھی ہوتا ہے جو موٹاپے کی طرف مائل ہوں یا جن کے جسم میں چربی کی مقدار زیادہ ہو۔ روزے رکھنے کے ایک طرف جہاں روحانی فوائد ہیں وہیں موٹاپے کا علاج اور وزن میں کمی اس کے طبی فوائد میں ایک بڑا فائدہ ہے۔
موٹاپا ہمارے ملک میں ایک بڑا طبی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بلڈ پریشر، شوگر، کینسر، اورکولیسٹرول بڑھنے کی اہم وجہ موٹاپا اور وزن بڑھنا ہے۔ اب بچوں میں بھی یہ بیماری بڑھ رہی ہے۔ جن لوگوں کا وزن نارمل ہے ان کو اس حوالے سے کوئی خاص احتیاط کرنے کی ضرورت نہیں لیکن جو لوگ وزن کی زیادتی کا شکار ہیں وہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ وزن کم کرنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ کون سی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں؟ کیا سرگرمیاں کرنی چاہئیں؟ کس طرح کی غذا لینی چاہیے۔ اس حوالے سے رہنمائی موجود ہے کہ آپ کتنے کیلوریز لیں، کتنی غذا استعمال کریں، کتنا پانی استعمال کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں موٹاپے سے بچا جا سکے اور وزن کم کیا جا سکے۔
تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ روزے رکھنے سے وزن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی بعض ڈاکٹروں نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے کہ روزے رکھنے کے بعد وزن پر کیا فرق پڑتا ہے۔ اوریہ بات سامنے آئی ہے کہ یہاں ایسے لوگ بہت بڑی تعداد میں ہیں جن کا وزن روزے رکھنے سے بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ پر تحقیق کی گئی تو اندازہ ہوا کہ رمضان میں لوگ عام دنوں سے زیادہ کھاتے ہیں، اور نہ صرف یہ کہ عام دنوں سے زیادہ کھاتے ہیں بلکہ مرغن غذائیں استعمال کرتے ہیں جو کاربوہائڈریٹ بڑھاتی ہیں، میٹھے کا استعمال بڑھ جاتا ہے، سحری میں اورافطار میں بھی لوگ میٹھا کھانا پسند کرتے ہیں، پراٹھے اور چکنائی والی چیزوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے کیوں کہ یہ چیز یں معدے میں زیادہ دیر تک رہتی ہیں، اور بھوک کا احساس کم ہوتا ہے۔ الغرض ہمارے یہاں caloric consumption رمضان کے مہینے میں بڑھ جاتی ہے۔
ایک انسان اوسطاً ۲ ہزار یومیہ کلو کیلوریز استعمال کرتا ہے، اسے تین وقت غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی فرد کیلوریز کا استعمال تو اتنا ہی کرے لیکن غذا یومیہ ۳ ہزار کلو کیلوریز لے تو اس کا وزن بڑھ جائے گا۔ پاکستان میں لوگوں کا وزن رمضان میں بڑھ جانے کی اہم وجہ یہی ہے کہ وہ اپنی کیلوریز اور غذا پر نظر نہیں رکھتے۔ اس لیے جو لوگ اپنے وزن کے حوالے سے فکر مند ہیں اور جن کو وزن بڑھنے کے نتیجے میں لاحق ہونے والی بیماریاں ہیں ان کو اپنے وزن سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔
جو لوگ رمضان میں وزن کم کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ سب سے پہلے وہ رمضان میں اپنا وزن مانیٹر کرنا شروع کریں، رمضان سے قبل کا وزن معلوم کریں اوردیکھیں کہ وزن بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔ آپ کا وزن آپ کو بتائے گا کہ آپ سحر اور افطار میں اور کھانے میں کتنی غذا لے رہے ہیں۔ اگر ہم تین، چار ہزار کلو کیلوریز لے رہے ہیں تو نتیجے میں وزن بڑھ جائے گا۔ ہمیں اپنی غذا کی حراری قدر (کیلورک ویلیو) کا اندازہ ہونا چاہیے، یہ معلومات ڈاکٹروں سے مل سکتی ہیں۔ بہت سی معلومات انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔
رمضان میں بکثرت میٹھی چیزیں استعمال کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وزن بڑھتا ہے، موٹاپا کم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ میٹھا کھانا چھوڑ دیں، وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اسی طرح رمضان میں ہم زیادہ کو لیسٹرول والی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں، عام دنوں میں توکوئی شخص تلی ہوئی چیزیں بلاناغہ استعما ل نہیں کرتا لیکن رمضان میں بالعموم گھروں ہیں حال یہ ہوتا ہے کہ پکوڑے بنائے جاتے ہیں، سموسے تیار ہوتے ہیں اور تلی ہوئی (deep fried) دیگر چیزیں۔ وزن کم کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو چاہیے کہ رمضان میں تلی ہوئی غذائیں استعمال نہ کریں، اگر چکنائی والی چیز استعمال بھی کرنی ہے تو تلی ہوئی ہرگز نہ ہو۔
رمضان میں لوگ سوچتے ہیں کہ سرگرمیاں کچھ کم کر دینی چاہئیں، چلنا پھرنا اور محنت کم کرنی چاہیے، سارا سال ورزش کرنے والے لوگ بھی بالعموم رمضان میں ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ رمضان میں جسمانی سرگرمیاں کم نہیں کرنی چاہئیں، ان کو بڑھانے کی بھی ضرورت نہیں، ان پر صرف نظر رکھنی چاہیے لیکن انہیں برقرار ضرور رکھنا چاہیے، خواہ چہل قدمی ہو یا کسی کام سے گھر سے نکلنا ہو، اپنا معمول ترک نہیں کرنا چاہیے۔ غذا کے استعمال پر گہری نظر رکھ کر ہم اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔ جن چیزوں میں شکر شامل ہو وہ بھی وزن بڑھانے کا باعث بنتی ہیں، اس لیے شکر اور شکر والے مشروبات کا استعمال بھی خاص احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ ایک گلاس شربت میں کتنی کیلوریز ہوتی ہیں۔ ویسے بہترین مشروب صاف پانی ہے، پانی کے ساتھ افطار کرنا چاہیے۔
میڈیکل سائنس نے وزن کم کرنے کے حوالے جو بھی تحقیق کی ہے اس میں روزے ایک اہم ہتھیار تسلیم کیا گیا ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے ’فاسٹنگ تھراپی، عالمی سطح پر مستند طریقہ علاج ہے۔ لوگ اپنا وزن کم کرنے کے لیے اپنی غذاؤں کو تبدیل کرتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے طرح طرح کی خوراکیں (diets) دنیا بھر میں دستیاب ہیں اور وہ سب فاقے کے کسی نہ کسی اصول کے مطابق ہیں۔

حصہ
mm
پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع شاکر ملک کے معروف نیورولوجسٹ ہیں جو آغا خان ہسپتال میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔صحت کے حوالے ملکی و بین الاقوامی جرائد میں ان کے تحقیقی مقالے شایع ہوتے رہتے ہیں

جواب چھوڑ دیں