سنو چندا

ہم ٹی وی سے نشر ہونے والا یہ ڈرامہ صائمہ اکرم چوہدری کی تحریر ہے جس کی ہدایات احسن تالش نے دی ہیں، یہ ڈرامہ سیریل پہلی مرتبہ گزشتہ سال رمضان میں نشر ہوئی ،جسے کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور اس مقبولیت  کو دیکھتے ہوئے  اس سال رمضان میں اس کا سیزن  ٹو پیش کیا جا رہا ہے، سوشل ویب سائٹس پہ ناظرین کے تبصروں سے صاف ظاہر ہے کہ اس ڈرامے کو اس کے بے ساختہ مزاح کی وجہ سے پسند کیا جا رہا ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں سے مختلف زبانیں بولنے والے کردار ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں اور تقریباً ہر ایک اپنے مخصوص لہجے کی بنا پر اپنے کردار میں جان ڈالے ہوئے ہے۔ یہ ڈرامہ روزانہ افطار کے بعد نشر کیا جاتا ہے ۔پاکستان کے تفریحی چینلز پہ مزاحیہ پروگرام یوں بھی نہت کم پیش کیئے جاتے ہیں ،اور جو پیش کیئے جاتے ہیں وہ معیاری کہلانے کے قابل نہیں ہوتے، (بلبلے ڈرامہ اس کی اہم مثال ہے)سنو چندا کا شمار بھی ایسے ہی ڈرامہ سیریلز میں ہوتا ہے۔

مذکورہ ڈرامے میں ایک خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے ،جس میں ہر زبان بولنے والے افراد شامل ہیں، گھر میں شادی کی وجہ سے مہمانوں کا آنا جان بھی ہے اور دو بھائیوں کے بچوں ارسل اور جیا کی آپس میں شادی ، شادی کے دوران اور اس کے فوراً بعد  لڑکا اور لڑکی کے مسائل  کا تفصیلی ذکر ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان دونوں کی نوک جھونک کو بنیادی موضوع بنایا گیا ہے، لڑکی انتہائی بد مزاج ،بات بات پر ہتھے سے اکھڑ جانے والی اور شوہر سے بدتمیزی  کرنے والی دکھائی گئی ہے ، جب کہ  اس کی من مانیوں پہ آدھے گھر والے  اس کا ساتھ دیتے پائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب میاں بیوی کی قربت غیر ضروری طور پر  نامناسب حد  تک دکھائی گئی ہے حالانکہ مصنف سے لے کر ہدایتکار اور اداکار اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ڈرامہ  فیملی ڈرامہ ہے جسے اکثر گھروں میں سب افرادبشمول بچے مل کر دیکھتے ہیں۔

ایک اور اہم بات جو مذکورہ ڈرامے میں قابل ِذکر ہے  وہ یہ کہ جوان بیٹوں اور بیٹیوں کے ماں باپ کے جو بطور مہمان گھر پہ آئے ہوئے ہیں  ایک دوسرے سے نامناسب قسم کے روابط ، نامناسب اور ذو معنی جملے دکھائے جا رہے ہیں۔درحقیقت یہ ہمارے معاشرے کی انتہائی غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے۔(یا ہم یوں سمجھیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسی اخلاقی بے راہ روی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟)

تیسری اہم بات غیر معیاری زبان کا استعمال ہے، مثال کے طور پر

“تم نے مجھے سارے گھر میں “گندا” کر دیا(جب کہ لفظ گندا کی جگہ، برا بنا دیا، بدنام کر دیا، شرمندہ کروا دیا بھی کہا جا سکتا تھا)

تم نے “بھنڈ” مار دیا(بے وقوفی کر دی یا کچھ اور استعمال کرنا زیادہ مناسب رہتا)

ایک وقت تھا کہ ٹی وی پہ آنے کے لیئے درست تلفط کے ساتھ اچھی زبان بولنا ایک اہم ترین شرط ہوا کرتی تھی۔

یہ بات دنیا کے ہر معاشرے میں تسلیم کی جاتی ہے کہ ٹیلیویژن معاشرے کی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے ، ایسے میں پاکستان کے میڈیا چینلز صرف ریٹنگ کے چکر میں اس اہم ذمہ داری کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں جو کہ ایک قابلِ مذمت عمل ہے۔

صائمہ اکرم چوہدری ، سیاہ حاشیہ جیسے خوبصورت اور بامقصد ناول کی تخلیق کار بھی ہیں ،  سچ پوچھئے تو یقین نہیں آتا کہ ان کے قلم سے واقعی یہ الفاظ نکلے ہیں؟ یا نکلوائے گئے ہیں؟ یا ان کےلکھے ہوئے کو ترمیم کے ساتھ اس طرح پیش کیا جارہا ہے۔

مصنف ، ہدایتکار اورپیش کار اپنے فرائض کی حساسیت کو یقیناً جانتے بھی ہیں اور ان کا ادراک بھی رکھتے ہیں ، پھر یہ مجرمانہ غفلت بالآخر کس امر کا مظہر ہے؟

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پیمرا کا  نشریات کو مانیٹر کرنے کا طریقہ کار وضع کردہ ہے بھی کہ  نہیں؟

عوام سے بھی بطور ناظرین یہ سوال کرنے کا دل چاہتا ہے کہ اپنے گھروں کے کمروں میں اپنی اولادوں کے ساتھ بیٹھ کر ہم   جو کچھ دیکھ رہے ہیں ، کیا یہ ہی ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے؟ یا ہم آئندہ اپنے معاشرے کی یہی شکل دیکھنا چاہتے ہیں؟

حصہ

4 تبصرے

  1. The one I have noticed in that serial is that the parents have extra marital affairs….. Every old person in that family had a past with full of affairs and the guests in their house are those one with whom they had that affair…… This is not a good thing…… It predicts that young man can do some mistakes or blunders like that and everyone did that or can do when they are young😐😐

  2. بجا فرمایا جناب. میں نے پچھلے سال رمضان کے بعد یہ ڈرامہ دیکھا تھا اور اس وقت تک یہ کافی حد تک دیکھنے لائق تھا. اس بار بھی رمضان کے بعد دیکھنے کا ارادہ تھا مگر ابھی ہی سوشل میڈیا پہ کافی مناطر نظروں سے گزرے تو خون کھول گیا. انتہائی درجے کی جو فحاشی دکھائی گئی ہے وہ الگ ہے مگر ضان جیسے مبارک اور مقدس مہینے میں یہ سب دکھانا اور عوام کا اسے اس ذوق و شوق سے دیکھنا مجھے اس شش و پنج میں ڈال گیا ہے کہ کیا واقعی ہم اپنی تمام تر اقدار بھول گئے ہیں. دھیرے دھیرے ہمارا میڈیا اخلاقیات کی حدود سے مکمل طور پہ باہر نکلتا ہوا نظر آرہا ہے اور یہی حال باقی عوام کا ہے. میڈیا کو تو ہمیشہ سے برا کہا جاتا ہے مگر کیسے مائیں یہ سب اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر شوق سے دیکھ رہی ہیں وہ بھی ماہ رمضان میں. بہت دکھ کی بات ہے کہ ہم مغربی ممالک کو دوش دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنے آشیانے کو خود ہی آگ لگا رہے ہیں. اس موضوع پہ اتنا پر اثر لکھنے کا بہت بہت شکریہ.

  3. پی ٹی وی دور کے ڈرامے زبان و بیان کا اعلیٰ شاہکار تصور کیے جاتے تھے ـ جملوں کا استعمال لفظوں کی ادائیگی درست تلفظ بہترین املا سبھی کا خیال رکھا جاتا تھا ـ
    اب تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ٹیلی ویژن جیسا میڈیم جب زبان کے رموز وا وقاف پہ توجہ نہیں دے رہا اور اسکی اہمیت کو اجاگر نہیں کر رہا تو عام عوام سے اسکی کیا توقع رکھی جائے گی ـ
    ٹیلی ویژن اصلاح اور عمدہ تفریح کا ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ فحاشی کو فروغ دینے کا ـ

جواب چھوڑ دیں