مسئلہ میراث

آج کچھ وقت میسر آیا تو اپنے لکھے بہت پرانے مضامین دیکھنے کا موقع ملا۔ زمانہ طالب علمی میں بہت سارے مضامین  ایسے بھی لکھے گئے جو نہ معلوم اس وقت مجھے بہت غیر اہم لگے یا لکھنے کے بعد ان کو پڑھا تو اس میں مجھے ایسی کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوئی کہ میں انھیں بہت زیادہ سنبھال کر رکھنا ضروری سمجھوں۔ ان مضامین میں بہت سے ایسے مضامین بھی تھے  جو کسی اسٹیڈی سرکل کی تیاری کیلئے تیار کئے گئے ہوتے تھے یا ایسے جو کسی امتحان کی تیاری سے تعلق رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کو لکھا اس لئے جا تا تھا تاکہ اسٹیڈی سرکل کے دوران یا امتحانی پرچہ حل کرتے ہوئے، کئے گئے یا  پوچھے گئے کسی سوال کے جواب کو نہ صرف سہل بنایا جا سکے بلکہ اپنی بات کو جامع اور مدلل طریقے سے پیش کیا جا سکے لہٰذا وقت گرنے کے بعد ان کی اہمیت  بھی ختم ہوجاتی تھی یا سمجھ لی جاتی تھی اور یوں ایسے بہت سارے مضامین  یا جمع کی گئیں سیر حاصل معلومات نئے لکھے جانے والے مضامین کے نیچے دبتے دبتے ماضی کا حصہ بنتی چلی جاتی تھیں۔ آج کچھ بہت ہی پرانے کاغذات ہاتھ لگے تو میری نظریں  1979 میں لکھے ایک مضمون پر جیسے گڑ سی گئیں اور میں حیران رہ گیا کہ  ایک بہت ہی معلوماتی اور نہایت خوبصورت مضمون  میری لا پرواہی کی نظر کیسے ہو گیا۔ پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ یقیناً ایک ایسا مضمون ہے جس کو اگر پزیرائی مل گئی تو بہت سارے ایسے اشخاص جو بعض اوقات وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں کافی تفکر کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنے دل کی تمکنت کیلئے اہل علم سے رجوع کرکے مسئلے کا حقیقی حل چاہتے ہیں، ان تمام کو اس مضمون سے کافی حد تک رہنمائی حاصل ہو سکتی ہے۔

اس مضمون کو باقائدہ ایک مضمون کی شکل دے کر  کسی رسالے یا اخبار کیلئے ارسال کرنے سے قبل مجھے بہت ہی سوچ بچار سے کام لینا پڑا۔ کیونکہ یہ کوئی عام سا موضوع تو تھا نہیں۔ دینی مسئلہ پر لکھا گیا ایک مضمون تھا جس میں کسی قسم کی غلطی کی کوئی گنجائش ہو نہیں سکتی تھی۔ پھر یہ بھی کہ میں کوئی عالم دین بھی نہیں تو کیا میں ایسا مضمون فرضی معلومات کی بنیاد پر تو نہیں لکھ رہا جس کی وجہ سے میں کسی گرفت میں آجاؤں اور میرے لئے جواب دینا مشکل ہو جائے۔ سوچ بچار زیادہ اس بات پر کرنا پڑی کہ آخر مضمون میں دی گئیں معلومات کا مآخذ تھا کیا اور یہ کہ اس مضمون کے لکھنے کی ضرورت پیش کیوں آئی تھی۔ مضمون کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد کیونکہ میں خود تقریباً 40 سال پیچھے کے زمانے میں جا پہنچا تھا اس لئے آہستہ آہستہ تحت الشعور کی کئی تہوں پر جما گرد و غبار خود بخود جھڑنے لگا اور پھر بیاض ماضی کا وہ صفحہ بھی اجل کر سامنے آگیا جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں ابھی عملی زندگی میں باقائدگی سے داخل نہیں ہوا تھا لیکن کسی نہ کسی طرح بہت ساری مصروفیات میں اپنے آپ کو مشغول رکھا کرتا تھا۔ جمعیت سے وابستگی کی وجہ سے عام طور پر وہ لوگ جو دین کا کم علم رکھتے تھے لیکن خواہش رکھتے تھے کہ اگر کسی سلسلے ان کو دین کے کسی سلسلے میں  اطمنان بخش معلومات مل جائیں تو وہ اپنے فرائض سے آزاد ہوجائیں۔ جماعت اسلامی یا جمعیت طلبہ سے وابستہ افراد کی اس زمانے میں بہت زیادہ قدر و منزلت ہوا کرتی تھی اور خاص طور سے شرعی معاملے میں ان کی بتائی ہوئی باتیں سند سمجھی جاتی تھیں۔ اس کی بھی دو وجوہات تھیں، ایک یہ کہ جماعت یا جمعیت میں سے تعلق رکھنے والا کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ پہلے تھا نہ اب ہے جو غیر مستند باتیں بیان کرتا ہو اور اگر وہ کسی مسئلے کے بارے میں فی البدیہہ کچھ نہ بھی بتا سکتا تھا تب بھی وہ مہلت لیکر اس تک وہ بات ضرور پہنچا دیا کرتا تھا۔ بالکل اسی طرح کچھ میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ وہ صاحب وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں کافی پریشان تھے۔ جب انھوں نے مجھ سے معلومات چاہیں تو سر دست مجھے چند باتوں کے علاوہ، جو کہ سب ہی جانتے ہیں، اور کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں نے مہلت مانگی۔ اس سلسلے میں کافی لوگوں سے بات ہوئی۔ ایک جگہ سے معلوم ہوا کہ وراثت کے سلسلے میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) کی ایک بہت ہی جامع کتاب  “مسئلہ وراثت” کے عنوان سے موجود ہے۔ میری تو بن آئی اس لئے کہ کوئی میل بھر کی دوری پر ان کا دارالعلوم تھا ۔ وہاں سے وہ کتاب مول لی اور جو معلومات صاحب کو درکار تھیں وہ ان کے سامنے رکھ دیں۔ اسی  دوران میں نے اہم معلومات اس کتاب میں سے جمع کیں اور ان کو اپنی ڈائری میں نہ صرف درج کرلیا بلکہ انھیں ایک مضمون کی شکل بھی دیدی۔ اب جبکہ میں تقریباً 40 سال کے ماضی سے اپنے حال میں لوٹ چکا ہوں اس لئے مناسب سمجھتا ہوں کہ ان حاصل شدہ معلومات میں کیوں نہ آپ سب افراد کو شریک کرلوں۔

وراثت کی تقسیم ایک بہت ہی نازک مسئلہ ہے۔ ایک کافی ضخیم کتاب لکھنے کے باوجود مفتی محمد شفیع (رح) اپنے تئیں یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ اتنا کچھ لکھنے کے باوجود بھی مجھے تشنگی محسوس ہو رہی ہے تو ہم اور آپ کس گنتی میں آتے ہیں۔ ان کی کتاب کے مطالعے کے بعد حقیقتاً رب کے حضور بے ساختہ سجدہ ریز ہوکر اس کا شکر ادا کرنے کا دل چاہا کہ اس نے اتنا دیا ہی نہیں کہ دنیا سے رخصتی کے وقت دل میں کوئی درد اٹھے کہ جانے تقسیم میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی تھی۔ اول تو مال و دولت ہے ہی اتنی بری چیز کہ وہ ایمان کو مجروح کئے بغیر رہتی ہی کب ہے لیکن اگر وہ ہو ، بکثرت ہو اور دل خدا خوفی بھی رکھتا ہو تو اس کی تقسیم، تقسیم کا حق ادا کردے، یہ ایک بہت ہی دل ہلادینے والا معاملہ ہے۔ ایسے افراد جن کے پاس مال و دولت ہے ہی نہیں یا ہے تو بہت ہی محدود ہے، ان کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے اور جن کو اللہ نے دیا ہے اور بے حساب دیا ہے ان کو اپنا دل کشادہ رکھنا چاہیے اور اس کی تقسیم کو اپنی زندگی ہی میں ممکن بنا لینا چاہیے۔  ذیل میں میں وراثت کی تقسیم کیسے ہونی چاہیے، اس کو سلسلہ بسلسہ بیان کرنے کی جسارت کرونگا اور اہل علم سے درخواست کرونگا کہ جہاں بھی کوئی غلطی یا کمی محسوس ہو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ اصلاح ہو سکے۔

اولاد کا حصہ

1۔ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا

2۔ لڑکیاں دویا دو سے زیادہ ہوں تو ترکہ میں ان کا دو تہائی حصہ

3۔ اگر صرف ایک لڑکی ہو تو آدھے ترکہ کی مالک

شوہر اور بیوی کا حصہ

1۔ اگر بیوی کا اس حالت میں انتقال ہو جائے کہ وہ لا ولد تھی تو شوہر کو بیوی کے ترکہ میں سے نصف ملے گا

2۔ اگر بیوی اولاد چھوڑ کر مری ہے تو شوہر کو ترکہ میں سے چوتھائی ملے گا

3۔ اگر شوہر لا ولد فوت ہوجائے تو بیوی کو چوتھائی حصہ تر کہ میں سے ملے گا

4۔ اگر شوہر اولاد چھوڑ کر مرے گا تو بیوی کو آٹھواں حصہ تر کہ میں سے ملے گا

نوٹ

اگر کسی کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو چوتھے یا آٹھویں حصے میں سب مساوی شریک ہونگیں

ماں باپ کا حصہ

1۔  ماں اور باپ کو الگ الگ اولاد کے ترکہ میں سے ،اگر وہ صاحب اولاد مرے ہوں، چھٹا حصہ ملے گا

2۔ اگر لا ولد اولاد کا انتقال ہوا ہو تو صرف والدین وارث قرار دیئے جائیں گے۔ ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی حصہ ملے گا

بھائی بہن کا حصہ

1۔اگر کوئی اس طرح مرے کہ نہ والدین حیات ہوں اور نہ کوئی اولاد، صرف ایک بھائی ہو اور ایک بہن تو دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا

2۔ اگر بھائی بہن کی تعداد دو سے زیادہ ہو تو ایک تہائی حصے میں سے سب مساوی شریک کر دیئے جائیں گے

بھائیوں بہنوں کی مختلف صورتیں

1۔ اگر بھائی کی صرف ایک بہن ہو، کوئی اولاد نہ ہو تو اس کو تمام ترکہ میں سے نصف ملے گا

2۔ اگر بہن لا وارث فوت ہوجائے تو اس کے ترکہ کا وارث بھائی قرار پائے گا

3۔ سگی بہنیں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی حصہ پائیں گی

4۔ اگر بھائی بہن ملے جلے ہوں تو دو عورتوں کے بربر بھائی حصہ پائے گا

مزید شرکت

1۔اگر سگی بہنیں بھی ہوں اور بیٹیاں پوتیاں بھی ہوں تو بہنیں عصبہ قرار پائیں گی یعنی بیٹیاں اور پوتیاں اپنا حصہ لیں گی پھر جو کچھ بچے گا وہ بہنوں کو دیا جائے گا

2۔ اگر سگی بہنیں بھی ہوں اور بیٹا ، پوتا، باپ اور دادا بھی ہوں، یعنی اصل یا فروع موجود ہو تو بھر بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا

سوتیلی بہن کا حصہ

1۔ اگر ایک سگی بہن ہو اور ایک سوتیلی تو چھٹا حصہ پائے گی

2۔ دو یا دو سے زیادہ سگی بہنیں ہوں تو پھر سوتیلی بہن کو کچھ نہیں ملے گا

3۔ دو یا  دو سے زیادہ سگی بہنیں ہوںاور سوتیلی بہن معہ سوتیلے  بھائی کے ہو تو  یہ بہنیں عصبہ قرار پائیں گی۔ باقی ترکہ عورت کو اکہرا اور مرد کو دہرا کے اصول کے تحت تقسیم کیا جائے گا

4۔ اگر میت نے پسماندگان میں بیٹا، پوتا، باپ، دادا (اصل و فرع)، یا سگا بھائی یا سگی بہن بصورت عصبہ چھوڑی ہو تو سوتیلی بہن کو کچھ نہیں ملے گا

پوتی کا حصہ

1۔ اولاد کے حصے کے عنوان کے تحت جو تین صورتیں بیٹی کے حصے میں پانے کی مرقوم ہیں وہی پوتی پر بھی چسپاں ہوتی ہیں

2۔ میت نے ایک بیٹی اور ایک پوتی چھوڑی ہو تو پوتی کو چھٹا حصہ ملیگا

3۔ دو بیٹیاں جو عصبہ نہ ہوں اور ایک پوتی، میت نے چھوڑی ہو تو پوتی کو کچھ نہیں ملے گا

4۔ پوتی بیٹے اور پوتے کی موجودگی میں بھی محروم قرار دی جائے گی

ورثہ کی قسمیں

1۔ اصحاب فروض

2۔ عصبات

اصحاب فروض

1۔ مردوں میں  باپ، دادا، شوہر اور بھائی

2۔ عورتوں میں  ماں، دادی، بیوی، بیٹی، پوتی، بہن (ماجائی)، سوتیلی بہن اور سگی بہن

عصبہ

شرع نے رشتے داروں کی تین نوعیتوں کا لحاظ و اعتبار کیا ہے

1۔ اصل: ۔ اصل جڑ کو کہتے ہیں یعنی والدین

2۔ فروع:۔ شاخ کو کہتے ہیں یعنی لڑکی

3۔ عصب: ۔ یہ اصل و فروع، اصحاب فروض کی موجودگی میں ترکہ کے بقیا حصے کے وارث قرار پاتے ہیں اور اگر اصحاب فروض نہ ہوں تو پھر سارا ترکہ ان کو ہی ملتا ہے

حقیقی وارث

شرع نے حقیقی وارث عصبہ ہی قرار دیا ہے اسی لیئے بیٹا عصبات میں آتا ہے اصحاب فروض میں نہیں آتا  ہے۔کیونکہ شرع نے دوسرے رشتے داروں کے جو حصص مقرر کردیئے ہیں ان کے ادا کرنے کے بعد تمام مالِ متروکہ کا وارث وہی ہوتا ہے اور اگر وہ نہ ہوں تو بلا شرکت غیرے وارث بن جاتا ہے۔

عصبہ کی اقسام

1۔ جو اصحاب فروض سے نہ ہو، مرد ہو، اور میت سے اس کی جتنی بھی قرابت جتنے واسطوں سے ہو وہ سب واسطے مرد کے ہوں

نوٹ:۔ اصل عصبہ یہی ہے کیونکہ اگر یہ موجود ہو تو دوسرے عصبات خود بخود محروم ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے عصبات کی عصوبت مستقل نہیں

عصبہ بالغیر

عصبہ بالغیر کیلئے ضروری ہے کہ

1۔ عورت ہو

2۔ اصحاب فروض میں سے ہومگر کسی عصبہ کے باعث  عصبہ بن گئی ہو جیسے بہن بھائی کے باعث، پوتی پوتے کے باعث عصبہ بن گئی ہو

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو عورت اصحاب فروض میں سے نہ ہو اور اپنے سے برابر درجے  کے عصبے کے ساتھ عصبہ نہیں قرار پاتی جیسی پھوپھی چچا کے ساتھ

عصبہ مع الغیر

یہ وہ عورت ہے جو اصحاب فروض میں سے ہو لیکن کسی ایسی عورت کے ساتھ جو خود بھی اصحاب فروض میں سے ہو، عصبہ ہو گئی ہو، جیسے بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہے اور اصحاب فروض کی فہرست سے خارج ہوجاتی ہے

عصبہ مع الغیر وہ سگی یا سوتیلی بہن ہوتی ہے جو بیٹی کے ساتھ جمع ہو

عصبات میں یہ اصول مد نظر رکھنا چاہیے کہ جو عصبہ میت کے قریب تر ہوگا وہ اس عصبہ سے جو میت سے اپنے رشتے کے لحاظ سے دور ہو، حصے میں مقدم قرار دیا جائے گا۔ مثلاً چچا، چچا کے بیٹے سے اور چچا کا بیٹا چچا کے پوتے سے۔

قریبی رشتہ دار

قریبی رشتے دار شرع کی اصطلاح میں  “ذوی الارحام” کہلاتے ہیں۔ ان کا درجہ اصحاب فروض اور عصبات کے بعد ہے۔ ذوی الارحام میں شامل ہونے کی شرط یہ ہے

1۔ عورت ہو۔ اس میں اور میت میں “واسطے” مرد ہوں

2۔ اس میں اور میت میں تمام “واسطے” مرد کے نہ ہوں، نہ اس کا شمار اصحاب فروض میں ہو نہ عصبات ہیں

اس ضمن میں نواسہ، نواسی نیز ان کی اولاد جو صاحب فروض نہ ہوں، نیز بہن کی اولاد، بھائی کی لڑکی، نیز پھوپھی چچی وغیرہ۔ ذوی الارحام میں بھی یہی اصول کارفرما ہے کہ  حصے میں مقدم اسی کو مانا جائے گا جسے میت سے زیادہ سے زیادہ نسلی اور خونی قرابت ہو۔

محجوب

حجاب کے لغوی معنیٰ پردے اور آڑ کے ہیں۔ بعض وارث ایسے ہوتے ہیں  کہ کامل یا ناقص طور پر دوسرے وارث یا ورثہ کو متاثر کر دیتے ہیں۔ یعنی یا تو ان کا حصہ کم ہو جاتا ہے  یا بالکل ختم ہوجا تا ہے۔ ان متاثر ہونے والوں کو “محجوب” کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے “حجب” (حُ جُ ب)  کی دو قسمیں قرار پاتی ہیں

1۔ حجبِ نقصان

2۔ حجبِ حرمان

حجبِ نقصان

کسی وارث کا حصہ کسی دوسرے وارث کی وجہ سے  کم ہوجائے، جیسے اگر عورت لا ولد ہو کرمرے  تو شوہر کو نصف حصہ ملے گا لیکن اگر اس کی اولاد ہو تو شوہر کو چوتھائی حصہ ملے گا۔  اسی طرح شوہر لا ولد ہو تو بیوی کو ایک چوتھائی ترکہ ملے گا اور اگر اولاد ہو تو آتھواں حصہ اس کے ترکہ میں آئے گا۔

حجبِ حرمان

اس صورت میں ایک وارث دوسرے وارث کو بالکل ہی محروم وراثت کر دیتا ہے جس کے دو پہلو ہیں

1۔ اصل واسطہ اگر موجود ہے تو نیچے کا یعنی کمتر واسطہ محروم الارث ہو جائے گا۔ مثلاً میت کے باپ دادا دونوں زندہ ہیں تو باپ کو حصہ ملے گا دادا کو نہیں

2۔ یکساں نوع کے وارثوں میں “نوع” کو خاص طور پر ذہن میں رکھیے۔ قریب تر وارث بعید کا  حاجب ہوگا  مثلاً پوتا پڑ پوتے کا حاجب ہوگا، اس لئے کہ نوع ایک ہوئی، مگر پوتی کے باعث پڑ پوتا محروم نہیں ہوگا اس لئے کی “نوع” کی نوعیت بدل گئی۔

موانع وراثت

کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو انسان کو حق وراثت سے محروم کر دیتی ہیں یعنی پھر وہ وارث ہونے کے باوجود بھی کوئی حصہ نہیں پاتا۔ مثلاً

1۔ مورث کا قتل، خواہ وہ دانستہ ہو یا نا دانستہ

2۔ اختلاف دین۔ یعنی کافر اور مسلمان۔ مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا

3۔ غلامی۔ غلام بھی کسی کا وارث قرار نہیں دیا جاسکتا

4۔ اخلاف دارین۔ یعنی وارث اور مورث دو ایسے الگ الگ ممالک کے باشندے ہوں جہاں سے تبادلہ زر ممکن نہ ہو

یہ ہیں وہ چیدہ چیدہ اصول جس کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو جائیداد اور وراثت کی تقسیم بنا کسی تلخی، رنجش یا لڑائی جھگڑے کے ممکن ہو سکتی ہے۔ قوانین قوانین ہی ہوتے ہیں اور ان پر احسن طریقے سے عمل کیا جائے تو کوئی فتنہ جنم لے ہی نہیں سکتا۔ اب خواہ انسان اپنے دل و دماغ  سے کسی اصول کو تراشیں یا اللہ کے بنائے ہوئے قانون پر چلیں، اس پر اصل مسئلہ عمل درآمد کو یقینی بنا ہی ہوتا ہے بصورت دیگر وہی کچھ فساد نظر اتا ہے جس کو ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔

ایک انتہائی قابل غور بات یہ بھی پیش نظر ہونی چاہیے کہ وراثت کی تقسیم میں جہاں جہاں بھی انسانوں نے اپنی مرضی و منشا کے مطابق قانون سازی کی ہے، ان کا جائزہ لینے پر جو بات سامنے آتی ہے وہ “ظلم” کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ظلم سے مراد یہی نہیں ہوتی کہ کسی کو جسمانی اذیت ہی دی جائے یا اس کے  لئے اللہ کی زمین کو تنگ کردیا جائے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ تقسیم وراثت میں کسی کو تو بے حد نواز دیا جائے اور کسی کو اس کے جائز حق سے ہی محروم کر دیا جائے۔ جس چیز کو فتنہ و فساد کہا جاتا ہے وہ صرف لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت گری ہی نہیں ہوتا بلکہ فتنہ یہ بھی ہے کہ کسی کو اس کا حق نہ دیا جائے یا کسی کا حق اتنا کردیا جائے کہ فریق مخالف اس کا بوجھ برداشت نہ کر سکے۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں خواتین کو وراثت میں اتنے زیادہ حقوق دیدیئے گئے ہیں کہ  مرد شادی کے نام سے ہی بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یا تو وہاں “زنا” کیا جاتا ہے یا پھر “فرینڈ شپ” کے نام پر عورتیں مردوں کے بچے پال رہی ہوتی ہیں۔ اگر اسلام کے دیئے گئے حق وراثت کو سامنے رکھا جائے تو یہ ایک ایسا قانون ہے جس میں نہ تو کوئی وراثت سے محروم رکھا جانے والا ملول ہوتا ہے اور نہ ہی وہ فرد خوشی سے نہال جس کو مال وراثت میں سے کچھ حصہ ملے اس لئے ہر دو فریق کیلئے مال وراثت ملنے  یا نہ ملنے کے سارے جواز موجود ہیں۔ کوئی ایک کمزور سے کمزور رشتہ بھی ایسا نہیں جس کا وراثت میں حق بنتا ہو اور وہ اسے نہ دیا جائے۔

عملاً مسلمانوں میں بھی تقسیم جائیداد ظلم و زیاد تی سے بھری ہوئی ہے لیکن یہ سب اس لئے ہے کہ پوری دنیا میں ایسی کوئی بھی ریاست نہیں جہاں اسلامی نظام کا عملاً نفاذ ہو۔ جب ملک کا قانون ہی اسلام کے لائے ہوئے اصولوں اور نظام کے مطابق نہیں ہوگا تو اس کے قانون پر عمل کیونکر ممکن ہے۔ اسلام کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ بے شک  دنیا کی کسی بھی ریاست میں عملاً نظام اسلام نہ ہونے کے باوجود دنیا میں کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جو اپنی جائیدادوں اور وراثت کی تقسیم نہایت دیانتداری کے ساتھ اسلام کے قانون وراثت کے مطابق ہی کرنا پسند کرتے ہیں۔ انفرادی طور پر تو ہر مسلمان اس بات کی کوشش پوری پوری کرتا ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی حق دار کا حق نہ مارے۔ پاکستان میں گوکہ اسلامی نظام کو عملاً کہیں بھی نافذ نہیں کیا گیا لیکن اس پر بھی ہمارے بینک ایسی رقم جو  کسی میت نے چھوڑی ہو وہ اس کے لوحقین کو اسلامی تقسیم وراثت کے مطابو ہی تقسیم کرنا پسند کرتے ہیں۔

یہ تو وراثت کی تقسیم ہے۔ پوری دنیا میں اسلامی نظام نافذ نہ ہونے کے باوجود  یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ لوگ کسی کے کہے اور سنے بغیر اپنی زکوٰت تک اسلامی قانون زکوٰت کے مطابق لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہ بات اسلامی ممالک کے رہنے والے مسلمان ہی نہیں کرتے، وہ مسلمان جو غیر اسلامی ممالک میں رہائش پزیر ہیں، وہ بھی اسلام کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق ہی اپنی زکوٰت اور خیرات کی رقوم اسلامی اصولوں کے مطابق ہی تقسیم کرتے ہیں اور یہی اصول اپنی وراثت کی تقسیم کیلئے بھی اپنائے ہوئے ہیں۔

مسلمان وہ خوش قسمت قوم ہے جس کے پاس زندگی گزارنے کیلئے  زندگی کے ہر میدان کیلئے بہترین ہدایات موجود ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اسلامی ملکوں اور خاص طور سے پاکستانی حکمرانوں کو اللہ یہ توفیق دے کہ وہ اپنے ملک کے قوانین کو بھی اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق کر لیں۔ یہی وہ کام ہے جس کو انجام تک پہنچانے کیلئے اس ملک کو بنایا گیا تھا اور یہ پاکستان اسی وقت پاکستان بنے گا جب اللہ کے نظام کو یہاں عملاً نافذ کردیا جائے گا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں