لا حاصل آرزو ۔۔۔۔۔

آپ کو پتہ ہے ..مس رخسانہ ہمیں بد دعائیں دیتی ہیں

اچھا ! کیا کہتی ہیں ؟

اگر  محنت نہیں کرو گے تو تم سب فیل ہوجاؤ گے

————

“ہماری امی دھمکیاں دیتی ہیں . …

ہیں ؟ کیا کہتی ہیں  ؟

.وہ کہتی ہیں اگر تم لنچ باکس خالی کر کے نہ لائے تو گهر میں نہیں گھسنے دوں گی … “”شرارت کروگے تو گھر سے نکال دوں گی “

———–؛

یہ پڑھتے ہوئے  یقینا آپ کے چہرے پر  مسکرا ہٹ  دوڑ گئی ہوگی

اس طرح کے ڈھیروں مکالمے ہمیں سننے کو ملتے ہیں ..معصومیت میں کہے ان بڑے بڑے الفاظ “بد دعا” اور ” دھمکی ” کے منفی تاثر کے باوجود کوئی ڈھونڈنے سے بھی اس میں  نفرت ، لاپرواہی یا بغض کا عنصر نہیں پاتا ..

یہ انداز گفتگو ہمیں قرآنی تعلیمات سے بھی ملتا ہے …ڈرانے والا ، حقیقت کا آئینہ دکھانے والا رویہ ! یعنی تنبیہ  کرنے والا !  انبیاء کا کردار ہمیں یہ ہی بتا تا ہے کہ وہ خوشخبری کے ساتھ ساتھ ڈراوا بھی دیتے ہیں ۔ جس میں منفیت نہیں بلکہ اپنائیت ہوتی ہے !           جو اقوام اور افراد محض اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں ،  بے نام آرزوؤں کے بھروسے درست عمل سے بے نیاز رہتے ہیں ۔کسی کی اصلاح پر اس کے دشمن ہوجاتے ہیں  ان کے بارے میں قرآن بھی مایوسی کا اظہار کرتا ہے ! wishful Thinking   کا لفظ اس کی بہتر تر جمانی کر سکتا ہے ۔ گوگل کریں یا لغت  کا سہارا لیں !معنی  مایوس کن ہی نظر آئیں  گے !

معزز قارئین ! یہ تمہید ہم  نے اس بلاگ کے لیے  باندھی ہے جو اس وقت لکھا جارہا ہے !

اگر آپ پی ٹی آئی کی حکومت پر کسی بھی قسم کی تنقید کریں تو جواب میں طنز سننے کو ملے گا کہ آپ پٹوارن ہیں ! اس ٹولے کو بر سر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ

اس بلاگ کا اتنا حصہ انتخابات کے فوری بعد لکھا گیا تھا ۔۔مصروفیات کے باعث مکمل نہ ہوسکا اور پھر ہم نے بھی اسے یوں ہی چھوڑ دیا کہ اب جبکہ یہ بر سر اقتدار آگئے ہیں  تو ان کا حق ہے کہ انہیں موقع ملنا چاہیے! مگر جیسا کہ محاورہ ہے ” پو ت کے پاؤں پالنےمیں نظر آتے ہیں ” تو کابینہ  کی تشکیل سے ہی آگے کے حالات نظر آرہے تھے ۔ نوجوان نسل کے لیے تو ہر چیز نئی تھی سوان کی دلچسپی  بجا تھی اور ہے !تبدیلی کی لپک جھپک   سمجھ میں آرہی تھی مگر وہ نسل جو پچھلے30سال سے  یہ وعدے وعید اور سبز باغ دیکھ رہی ہو اس کی آنکھوں پر پٹی بندھنا بہت حیرت انگیز تھا ۔

آئیے یادوں کی چلمن ہٹاتے ہیں !

ہماری نسل نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو بھٹو کی حکومت تھی۔ ہر طرف اسلامی سربراہی کانفرنس  کے ترانے گونج رہے تھے۔ ملک دو لخت ہوچکا تھا مگر قوم کو روٹی ، کپڑا اور مکان کے خوشنما نعروں سے بھلانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ادھر تم ادھر ہم  کے تحت بر سر اقتدار آنے والے  کو بالآ خر انتخابی شیڈول کا اعلان کر نا پڑا۔بلاشبہ بھٹؤ نے 73 ء کا آئین اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا  مگر قوم ان  کے کارناموں کے باعث کچھ زیادہ خوش نہیں تھی لہذا اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے 9 پارٹیوں کا اتحاد ان کے خلاف تشکیل پاکرسر گرم تھا ۔7/ مارچ 1977ء  قومی اسمبلی کے نتائج سامنے آتے ہی پوری قوم احتجاجا سڑک پر آگئی اور یوں صوبائی انتخابات  کی نوبت ہی نہ آسکی ! احتجاج نے طول پکڑاکہ اسکول امتحانات منعقد ہی نہ ہوسکے  اور چھوٹے بچوں کو بغیر امتحان اگلی کلاسز میں بھیج دیا گیا ۔ ۔ مذاکرات کے دور چلے جوناکامی پر منتج ہوئے  اور بالآ خر مارشل لاء لگا دیا گیا ۔انہی دنوں مشرقی پاکستان جو اب  بنگلہ دیش  تھا ۔وہاں مجیب  الرحمان  کو قتل کرکے حکومت  تختہ الٹ دیا گیا تھا ۔ مارشل لاء ، جمہوریت کا قتل اور تختہ الٹنے جیسی اصطلاحات بچوں کے لیے نئی تھیں اور وہ اس کو اپنے ذہن کے مطابق  سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اب فوجی حکومت اسلامی نظام کے خوش نما نعروں اور اعلان کے ساتھ اقتدار میں تھی ۔ اس  سلسلے میں کچھ کاسمیٹک اقدامات ہوئے بھی مگر زیادہ تر وعدے ہی رہے جو 11سال تک وفا نہ ہوئے۔اور اس دوران  باشعور ہونے والی نسل کے ہیرو ضیا ء الحق ہی ٹھہرے ! ضیا ء الحق فضائی حادثے میں ختم ہونے سے پہلے انتخابات  کی تاریخ طے کر چکےتھے جو حسب پروگرام منعقد ہوئے ۔یہاں فوجی حکومت سے اندازوں اور تخمینے کی غلطی ہوئی اور بے نظیر زچگی سے فارغ ہوکر انتخابی مہم کے لیے دستیاب تھیں ! پی پی پی کی کامیابی اور بے نظیر کی اقتدار میں آنے کی خبر پہلے سے ہی گرم تھی اور پھر 02 دسمبر88ء  کی دوپہر جب بی بی نے امت مسلمہ کی پہلی کم عمر خاتون کی حیثیت سے حلف اٹھا یا تو خدشات اور شکوک کی ایک  لہر قوم کی اکثر یت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔گھر کے بزرگ جو ان کے والد ذو الفقار بھٹو کی سرگر میوں کو بھگت چکے تھے نئی نسل کے دل ودماغ کو پہلے ہی اس سے آگاہی دے چکے تھے  اور  30 سال پہلے کی نسل میں جو عقائد ونظریات گھر کے بزرگ کے ہوتے تھے گھر کے دیگر افراد اسی کو من و عن مانتے تھے ( میرا ووٹ میری مرضی جیسے نعرے اکیسویں صدی میں مقبول ہوئے  ) چنانچہ معمولی سی برتری کے ساتھ( الطاف بے نظیر بہن بھائی کے نعروں کے بل بوتے پر) بے نظیر وزیر اعظم منتخب ہوگئیں اور مسٹر ٹین پرسنٹ کے ٹائٹل کے ساتھ ان کے شوہر نامدار بھی کوچہ سیاست میں داخل ہوئے۔نااہلی کہہ لیں یا بد دیانتی یا پھر 11 سال تک  آمریت کو  بھگتنے کے بعد اچانک  جمہوریت کی وجہ سے ہیجان کا  شکار قوم شدید اختلافات اور تضادات  میں گھر گئی  ۔

 چنانچہ محض 20  ماہ بعد اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور اب قرعہ فال نواز شریف کے نام لکھا ۔ان کے وعدے بھی دلفریب تھے ۔نوجوانوں  کو پیلی ٹیکسی کی چابی حوالے  کر کے  ایر پورٹ پر گرین  چینل  کھول دیے گئے ۔ ملک میں سرمایہ  تو نہ آیا ہاں ہر طرف امپورٹیڈ چیزوں کی بھرمار ہوگئی ۔۔عوام کو بھی جیسے ہریالی سی نظر آنے لگی ۔93 ء میں پھر اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے انتخابات ہوئے ۔اب پھر بے نظیر کی باری آگئی ۔

 نئے وعدے   کچھ اور سبز باغوں کے ساتھ دہرائے گئے اور بے نظیر ایک دفعہ پھر وزیر اعظم ہاؤس میں براجمان ہوئیں ۔اب کچھ نئی غلطیاں کہہ لیں یااختلافات  کا شاخسانہ !ایک بار پھر عبوری وزیر اعظم کے بعد انتخابات  کا ڈول  ڈال دیا گیا ۔ اور پھر نواز شریف ۔۔۔۔اب عوام بہت بے زار سی تھی چنانچہ رمضان المبارک میں  انتخابات ہوئے  اور ٹرن آؤٹ بہت کم رہا مگر جمہوری عمل جاری رہا ۔۔ نواز شریف  چولا بدلے نظر آئے ۔۔آتے ہی جمعہ کی چھٹی کا اعلان کر کے اپنے پچھلے اسلامی تاثر کو ہر ممکن طور زائل کرنے کے کوشش میں لگ گئے ! اچکن سے سوٹ بوٹ پر آگئے ! ان کا واحد کارنامہ ایٹمی دھماکہ ہے جس کے بعد پوری قوم جذبے اور جوش سے بھری ہوئی تھی ۔بین الاقوامی  پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر نواز شریف نے سادگی اور  بچت کا ڈول ڈالاتھا  ! ہمیں یاد ہے کہااس ضمن میں ہمارے گھر میں  گھی کا بگھار ختم یا  کم کر دیا تھا ! مخلص اور حب الوطن عوام کی آنکھ میں دھول جھونکی جارہی تھی

دوتہائی اکثریت کے باوجود جمہوریت ایک بار  پھر تنازعات کا شکار تھی اور پھر 12 / اکتوبر قوم نے ایک اور مارشل لاء  کا نظارہ دیکھا بقول منیر نیازی :

           ایک اور دریا کا سامناتھا منیر !

اور یہ دریا خون کا دریا ثابت ہوا کہ نائین الیون کے بعد خطے میں سخت بد امنی  رہی  ۔9 سال تک بر سر اقتدار رہنے کے بعد 18/اگست 2008 ء کی دوپہر پرویز مشرف رخصت ہوئے یہ کہہ کر کہ پاکستان کا خدا حافظ ! ان کے لہجے میں جتنا طنز ، زہر اور معنی خیزی تھی ہم سب لرز کر رہ گئے خصو صا ہماری والدہ جن کے بقول صدر ایوب کی الوداعی تقریر ریڈیو پر سن کر وہ بہت روئی تھیں ،اس وقت کے آنسوؤں اور آج کے آنسوؤں میں بڑا فرق تھا ! صدر ایوب کے کچھ نہ کچھ کارنامے تھے اور جو کچھ عیب تھا اس پر پردہ تھا جو بعد میں کھلا جبکہ یہاں تو سب کچھ اظہر من الشمس تھا ! تباہی اور بربادی اور مزید نا امیدی کہ بے نظیر کے قتل کے بعد فوری الیکشن میں پی پی پی کو(ہمدردی کا کہہ لیں یاپھر تمہاری باری ختم ، اب میری باری والا کھیل کے تحت ) اقتدار مل چکا تھا ۔ زرداری کوصدر منتخب کرنا  ایسا تھا جیسے بلے کودودھ کی رکھوالی ! اخلاقی کرپشن اور مالیاتی دیوالیہ صاف نظر آرہا تھا ۔اسٹیبلشمنٹ نے اب اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے حکومت کو پورے پانچ سال تک موقع دیا

اور پھر آتے ہیں 2013 ء کے انتخابات ! اب باری تھی نواز شریف کی ! اور وہ ایک بار پھر ایوان اقتدار میں شامل تھے ۔ان کے اقتدار سنبھالتے ہی پی ٹی آئی جو 15 / 16 سالوں میں بار آور ہوچکی تھی نے رولا ڈالے رکھا ۔۔۔بہر حال حکومت نے اپنی میعاد پوری کی اور  قوم ایک بار پھر انتخابات میں شامل ہوگئی ۔

PTI کی تخلیق سے بہت پہلےہی عمران  خان مشہور و مقبول تھے ۔ہماری نسل کے لیے کر کٹ ہیرو ! آج بھی کوئی پرانی نوٹ بک ہاتھ لگے تو اس میں 5 کر کٹ اسٹار ز کی تصویر سرورق پر نظر آجاتی ہے ۔ اپنےتمام تر اسکینڈلز اور پلے  بوائے کے تاثر کے باوجودان کے پوسٹرز  ہر گھر میں موجود ہوتے ! کر کٹ کیریر کے بالکل اختتام پر ورلڈ کپ جیت کر سپر ہیرو بن چکے تھے ۔۔۔اپنے اسٹارڈم کے مزے اٹھانے کے بعد وہ  شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم پر لگ گئے۔طالب علموں کی پوری قوم  ان کے ساتھ لگ گئی ایک بدلے ہوئے انسان کے روپ میں نظر آئے ۔ ان کی تحریریں جو اخبار کی زینت بننے لگیں کلام اقبال کے مصرعوں کے عنوانا ت سے اخذ کی گئی ہوتیں ۔کافی  لوگ حیران تھے تو کچھ مشکوک کہ کسی اورسے یہ مضامین لکھوائے جاتے ہیں ؟ بہر حال ان کی یہ بدلی ہوئی شخصیت اب سنجیدہ مزاج افراد کے لیے بھی قابل قدر و منزلت  بن گئی۔ان کے وزیر اعظم بننے کی افواہیں بھی  گر دش میں تھیں مگر ہر دفعہ ان کا انکار سامنے آتا رہا ۔  اسی تذبذب کے عالم میں  جمائمہ گولڈ اسمتھ سے ان کی شادی ایک بریکنگ نیوز کے طور ٹاک آف دی ٹاؤن بن چکی تھی ۔سوشل میڈیا نہ ہوتے ہوئے بھی  ہر فورم پر یہ خبر بحث کا عنوان بن گئی ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر ان کا سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان ( آنے والے وقت کی تخم ریزی ثابت ہوئی ) 1996 ء  میں ہوا  ! معروف شخصیت ہونے کے باوجود کوچہ سیاست میں انہیں صفر سے  آغاز کرنا تھا ۔

 مشرف دور حکومت  میں عمران خان اپنی پارٹی کے واحد ممبر اسمبلی تھے ۔2011ء کے بعد ان کی پارٹی کا پھیلاؤ نظر آیا ۔اپنی کرشماتی شخصیت کا فائدہ اٹھا تے ہوئے نوجوان طبقے کی بہترین چوائس  بن گئے ۔اس موقع پر ہم نے ایک بلاگ لکھا جس کا لنک کچھ یوں ہے (www.qalamkarwan.com)اور 2013 ء میں انتخابات سے چند دن پہلے کرین سے زخمی ہوگئے جس  کے باعث  ہمدردی کےگراف مزید بلند ہوگیا !وہ خود اپنا ووٹ تو کاسٹ  نہ کر سکے مگر دوسری جماعتوں کے ووٹ اکاؤنٹ میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ۔وہ پھر بھی مطمئن نہ تھے اور 4حلقے کھلوانے پر اصرار جاری رہا ۔۔اس کشمکش میں  دھرنے کا اعلان ہوگیا ۔ کنٹینر پر بیٹھ کر جو لب و لہجہ  اور انداز اختیار کیا اس کو سن کر اور دیکھ کر اپنے بہت سے مداح کھوتے چلے گئے ۔(جن میں ہم بھی شامل ہیں )۔ اسی لپا ڈگی میں 2018ء کے انتخابات آگئے ۔ تبدیلی کی  جو رو چلی اس میں بڑے بڑے لوگ بہہ گئے  اور بالآ خر وہ شیروانی پہن کر حلف اٹھانے تک آپہنچے ۔۔

زبان اٹکنے پر اگر یہ اسٹیٹس لکھ دیا کہ ہمارا نظام تعلیم  بچے کو Hippopotamus کی ہجے اور تلفظ تو سکھا دیتی ہے مگر خاتم النبیین پر اٹک جاتی ہے ! اس پر جو باتیں سننے کو ملیں طبیعت ہری ہوگئی  جسے فتح کے نشے کاسرور سمجھ کر ٹال  دیا مگر ہر گزرتے دن غلطیاں بڑھتی گئیں اور اس پر عذر گناہ بدتر از گناہ کی مانند بد زبانی پر مبنی دلائل کی بھرمار ایک شخصیت کاطلسم نگلتی چلی گئی ۔۔ہر فیصلہ ایک سے بڑھ کر ایک تباہی کی طرف جاتا نظر آیا ۔۔۔(ہر تنقید پر کم سے کم بری بات جو کہی گئی ۔۔” کون لوگ ہو تسی ۔۔۔”۔۔۔باقی جو لب و لہجہ رہا  وہ سب جانتے ہیں ۔۔ہمارا مدعا یقینا  آپ سمجھ رہے ہوں گے !!(حکومت پر تنقید ہر گز ہر گز ریاست دشمنی نہیں ہوتی اور قوم اوپر اٹھتی ہے تو ہر فرد خوشی اور جوش سے لبریز ہوتا ہے مگر ۔۔!!)

آج   جب اس بلاگ کو مکمل  کیا جارہا ہے تو حکومت بنے 9 ماہ ہونے کو ہیں ۔یہ وہ مدت ہے جس میں کچھ نہ کچھ ظہور پذ(Deliver) ہوہی جاتا ہے۔(تفنن بر طرف!) ہمیں تو اپنے انصافی احباب  کی آرزوؤں کے بت ٹوٹنے کا افسوس ہے ۔۔توقعات ختم ہونے اور مایوس ہونے پر دلی رنج ہے ! اگر حکومت کچھ مثبت سمت میں سفر  کرتی نظر آتی تو ہم اپنا یہ بلاگ ہر گز مکمل نہ کرتے بلکہ اپنی رائے سے رجوع کر لیتے ۔مگر کیا کریں قرآن کی زبان میں ایسی بےنام آرزوؤں کو کہیں گھن لگی کرسی تو کہیں بیت عنکبوت کہہ کر مثال دی گئی ہے !

افسوس تو ہمیں بھی ہے اپنے بچپن کے ہیرو کی ناکامی پر ! اپنے خدشات درست ہوتے دیکھنا کچھ کم تکلیف دہ نہیں ہے ۔۔یہ وہی دلسوزی ہے جسے نادانی کبھی ” بد دعا” سمجھتی ہے تو کبھی ” دھمکی ” کا لبادہ پہنا دیتی ہے ! ۔۔۔۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں