روزہ اور صحت

رمضان المبارک میں روزے کی عبادت اللہ پاک کو بے حد پسند ہے۔ روزہ دار کے منھ کی بو اللہ کو مشک وعنبر سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ روزہ دار کے لیے اللہ کے ہاں انعامات و اکرام کی کوئی حد نہیں۔ روزہ دار اس عبادت سے بہت زیاہ ثواب حاصل کرتا ہے۔ روزہ بہت بڑی عبادت ہے۔ اس کاثواب اور روحانی برکات سے ہر مسلمان واقف ہے۔ روزہ رکھنے سے ہمارے جسم میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جو پورا سال جان نہیں چھوڑتی، ایک دن بھی دوا کے بغیر گزارنا مشکل ہوتا ہے۔ اوربہت سے مرض ایسے بھی ہمیں لاحق ہوتے ہیں جو کثیر المدت یا قلیل المدت اثرات چھوڑتے ہیں۔ جب رمضان المبارک آتا ہے اور ہم اس میں روزے رکھنا شروع کرتے ہیں توان بیماریوں میں 40 فیصد تک افاقہ ملتا ہے۔ یہ صرف روزے کی برکت ہے۔ ہم نے کئی ایک خطرناک مرض کا شکار مریضوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ پورے سال کی ترتیب بنائیں اور اس ترتیب پر ہرماہ کچھ روزے رکھیں۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ سابقہ قضا روزے پورے ہوتے ہیں،دوسرا مریض کو روزہ رکھنے سے دوائیوں پر چلنے سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اس چھوٹے سے عمل پر جس نے بھی د وام کے ساتھ روزے رکھے ہیں اس نے مرض پر قابو پایاہے۔

بے وقت کے کھانے اور غذا میں لاپرواہی سے بھی ہم کئی ایک بیماریوں کا شکار ہو تے ہیں۔ اس لیے علماء کرام و طبی ماہرین کہتے ہیں کہ افطار و سحر میں سادہ خوراک لی جائے۔ مرغن،چٹ پٹے اور تیز مسالاجات کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ روزہ رکھنے سے ایک بہت بڑا طبی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری خوراک کم ہوجاتی ہے اور ہم زیادتی خوراک سے بچ کر اس سے پیدا ہونے والے امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ سائنس اس دور میں خوراک کی زیادتی کے نقصانات بتارہی ہے لیکن اللہ پاک نے آج سے چودہ سو سال قبل قرآن پاک میں اس کی یوں تشریح فرمائی ہے:”وکلواوشربوا انہ لایحب المسرفین“۔(الاعراف) روزہ دار جب اپنی خوراک میں اعتدال برتتا ہے تو اس کی صحت پر دیر پا اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ سارا سال بیماریوں سے پریشان رہنے والے افراد رمضان المبارک میں مکمل صحت مند نظر آتے ہیں۔ اس لیے کہ روزہ کی برکت سے خوراک میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے مرض میں کمی ہو جاتی ہے۔

جو لوگ بسیار خوری کی لَت میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے رمضان المبارک میں روزہ رکھنے سے جسمانی ساخت میں بہتری کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ اللہ پاک کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہم مسلمانوں پر روزے فرض کیے ہیں۔ تاکہ گیارہ ماہ میں جو ہم نے زیادہ کھانے کی عادت بنا لی ہوتی ہے اور اس بسیار خوری سے ہمارے جسم میں جن بیماریوں نے جگہ بنا لی ہوتی ہے روزہ رکھنے سے ان کا خاتمہ ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کھاؤ پیو اور پہنو اور خیرات کرو بغیر فضول خرچی اور تکبر کے“۔(بخاری، کتاب اللباس) ایک اور جگہ روزے کے طبی فوائد کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلیغ اشارہ فرمایا:”صومو اتصحو“۔(مجمع الزوائد، کنز الاعمال)  روزہ کے طبی فوائد کے ساتھ بے شمار روحانی اثرات بھی ہیں۔ جو روزہ دار کو حاصل ہوتے ہیں۔ روزہ دار صبر شکر کرتا ہے، جس سے اس کی طبیعت میں ٹھراؤ آتاہے۔ روزہ دار ذہنی انتشار، بدنی خلفشار سے بچا رہتا ہے۔ روزہ کے ذریعے سے انسان کی نفسیاتی تربیت ہوتی ہے۔ اور روزہ دار روحانی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔ روزہ دار کو رمضان المبارک میں سب سے قیمتی دولت جو ملتی ہے وہ ہر کام میں راہ اعتدال کا اختیار کرنا ہے۔ روزہ رکھنے سے ہماری صحت کے ساتھ روحانی قوت میں بھی اضافہ ہوتاہے۔ آج دنیا اس بات کا اقرار کررہی ہے کہ زیادتی خوردنوش کے صحت پر سخت قسم کے نقصانات مرتب ہوتے ہیں۔ روزہ داررمضان اور روزہ کی برکت سے تمام مصائب و آلام سے چھٹکارا پالیتا ہے۔

حکیم محمد سعید شہید ؒ لکھتے ہیں کہ روزہ جسم میں پہلے سے موجود امراض کاعلاج ہے۔ روزہ دار بیماریوں سے نجات پاتا ہے اور بیماریوں کے ممکنہ لاحق خطرات سے محفوظ رہتا ہے۔ روزے کا ایک اورطبی فائدہ یہ ہے کہ قوت مدافعت میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہر شئی کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے“۔ (المجمع الکبائر) جس طرح زکوٰۃ ادا کرنے سے مال پاک ہوجاتا ہے اسی طرح روزہ رکھنے سے جسم تمام بیماریوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ ا س کے علاوہ روزہ دار کذب، حسد، غیبت اور بغض جیسی باطنی بیماریوں سے نجات حاصل کرتا ہے۔ روزہ ہمیں صحت مند رکھتا ہے۔روحانی و جسمانی امراض کو دفع کرتا ہے۔ ہم رمضان ا لمبارک میں روزہ رکھنے کی وجہ سے ہی صحت حاصل کرتے ہیں اور طبیعت میں بشاشت اور فرحت محسوس کرتے ہیں۔ روزہ رکھنے کی وجہ سے ہم روحانی و طبی امراض سے بَچے رہتے ہیں۔ روزہ جہاں اللہ پاک کی طرف سے بڑا ثواب عبادت ہے تو وہیں یہ صحت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں اللہ پاک سے توفیق مانگنی چاہیے کہ ہم پورے سال روزہ رکھ کر صحت مند رہیں۔

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں