میں اوروہ 

   یہ دنیا فانی ہے۔۔۔دھوکا دینے والی ہے۔۔۔۔کبھی بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے کسی بھی موڑ پر تنہا پھیک دیتی ہے ۔۔۔یہ بھروسے کے قابل نہیں ۔۔۔۔۔لیکن ایک چیز ایسی ہے جو کبھی دھوکا نہیں دیتی۔۔جو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی وہ نہ انسان ہے نہ فرشتہ۔۔نہ ہی کوئی حیوان یا جن۔۔۔۔وہ ایک میرے رب کی عطا کردہ نعمت ہے۔۔۔جو کسی بھی موڑ پر گمراہ نہیں کرتی ۔۔۔۔جب سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو تمہارا تحفظ کرے گی۔۔۔تمھیں ہمت دے گی تمھیں حوصلہ دے گی۔۔۔۔تمہیں وہ سکون دے گی جو کسی اورشئے سے حاصل نہ ہوگا ۔۔۔۔جو کبھی رولاۓ گی تو تمھاری بھلائی کے لیے ۔۔۔جو تمھاری رہبر ہے، دوست ہے۔۔۔یہ وہ ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انبیاء کا سرداربنایا ۔۔۔۔رمضان کو مبارک مہینہ بنایا ، عربی کو مقبول کیا اور مکہ کو شرف دیا۔۔۔۔جبرائیل علیہ السلام کوفرشتوں میں افضل بنایا۔۔۔

 آخر ہے کیا جس کا مو ضوع ‘میں’ ہوں ۔۔۔جس کا مقصد مجھے سکون دینا ہے۔۔۔گمراہی سے روکنا ہے۔۔۔جس کے اندر رائی کے برابر شک نہیں۔۔۔۔جس کے سچے ہونے کی اس کے نہ ماننے والوں نے دلیل دی۔۔۔۔جس نے ملکوں سے زیادہ دلوں کو فتح کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی رسی کو تھام کر میں اپنے آپ کو مضبوط اور محفوظ محسوس کرتی ہوں۔۔۔جو میرے  لیے نذیر بھی ہے بشیر بھی۔۔۔یہ وہ ہے جسے چھوڑ دو تو پکڑنا مشکل اور پکڑلو تو چھوڑنا مشکل۔۔۔!

                   اسکی بس ایک خوبی جو بہت مشکل ہے وہ یہ کہ اس کو ایک دفعہ خود اپنا بنانا پڑتا ہے پھریہ تمہارا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔۔۔۔۔لیکن اگر اس کو اپنا نہ بنایا تو یہ تمھارے پاس ہونے کے باوجود تمہاری نہیں ہوگی۔۔۔یہ ہے میرے رب کا انعام،میرا فرقان میرا ‘قرآن’۔۔۔!

حصہ

2 تبصرے

  1. بہت جاندار تحریر ۔ ماشااللہ تبارک اللہ ۔ قرآن مجید واقعی اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔

Leave a Reply to عشرت زاہد جواب منسوخ کریں