ادھوری محبت

”دیکھو اب میں مزید تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھ سکتا.’’میرے پیرینٹس نے میرا رشتہ کہیں اور طے کر دیا ہے.‘‘سفیان کافی شاپ میں ٹیبل کے سامنے بیٹھا اس سے بولا’’یہ کیا کہہ رہے ہو سفیان تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے”.. اریب کے چہرے پہ بے یقینی تھی.میں کچھ نہیں کر سکتا یہ اب میرے بس میں کچھ نہیں ہے۔سفیان بے بسی سے بولا۔نہیں سفیان. تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے….. میرا تمہارے سوا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں، تم اپنے وعدے کیسے بھول سکتے ہو سفیان، تم اگر اپنے پیرنٹس سے بات نہیں کر سکتے تو میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ ہم مل کر انہیں سمجھائیں گے ،میں جانتی ہوں وہ ہمیں سمجھیں گے”.جو لڑکی کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتی تھی. جس کے پاس خدا کا دیا سب کچھ تھا ماں باپ کی موت کے بعد ان کی تمام تر دولت اسی کو مل گئی تھی ،وہ ایک عام سے لڑکے کے سامنے رو رہی تھی گڑگڑا رہی تھی اس سے اپنی محبت مانگ رہی تھی کیونکہ اسے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہئیے تھا سفیان ہی اس کے جینے کا سہارا تھا… وہ سفیان سے بے پناہ محبت کرتی تھی….مجھے بھول جاؤ اریب ،تمہیں مجھ سے بہتر ہمسفر مل جائے گا… ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا… پر میں مجبور ہوں. میں کچھ نہیں کر سکتا…. پر میں جانتا ہوں میں تمہاری معافی کا بھی حقدار نہیں ہوں”…. وہ کھردرے سے لہجے میں کہتا وہاں سے اٹھ گیا….رکو… مجھے چھوڑ کر مت جاؤ… میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی… میرا کوئی سہارا نہیں… میں کہاں جاؤں گی”….وہ چیختی رہی چلاتی رہی… پر اسے سننے والا سفیان وہاں سے جا چکا تھا… وہ اس کے پیچھے بھاگنے لگی تو ٹیبل سے ٹکرا کے گر گئی…. شاپ میں موجود سبھی لوگوں کی نظریں اس پہ جمی تھیں پر اس کی نظر دور بہت دور جاتے سفیان پر تھی… جو آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا….اس کی زبان بار بار ایک ہی بات دہرا رہی تھی….مجھے چھوڑ کر مت جاؤ… میں بے سہارا ہوں…. محبت نہ ملنے کا دکھ کیا ہوتا ہے وہ کوئی اریب سے پوچھتا…..اگلے کچھ ہی دنوں میں سفیان کی شادی ہو گئی اور وہ اریب کو مکمل طور پر بھول گیا…. وہ اپنی بیوی کے ساتھ خوش تھا…. اس کی بیوی امریکہ سے آئی تھی اور شادی کے کچھ ہفتے بعد ہی وہ سفیان کو لے کے واپس امریکہ چلی گئی…. سفیان پیچھے کیا کچھ تباہ کر گیا تھا یہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا…. پر جب کسی کی آہ لگ جاتی ہے تو پھر اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے… اور کبھی کبھی ناممکن بھی ہو جاتا ہے…..سفیان کی شادی کو چار سال ہو گئے تھی پر ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھا اور اس بات کا دکھ بھی اسے بہت تھا… چار سال امریکہ میں گزار کر اب وہ چھٹیوں میں ماں باپ سے ملنے آیا تھا… اور آج وہ اپنی بیوی کو گھومانے باہر لے آیا تھا… جب وہ لوگ گھوم کر تھک گئے تو ایک کافی شاپ میں گئے… کافی کا آرڈر دے کر وہ ادھر ادھر کی باتوں میں لگ گئے کہ کسی کے رونے کی آواز پہ چونکے….. وہ کسی بچے کی رونے کی آواز نہ تھی…ارے یہ کون رو رہا ہے”…. سفیان نے حیرت سے کافی سرو کرتے ویٹر سے پوچھا…..’’کچھ نہیں صاحب ایک پاگل لڑکی ہے… کہتی ہے یہاں پر اسے کسی لڑکے نے چھوڑا تھا.. وہ اس سے بے حد محبت کرتی تھی… اس کے جانے کے بعد ایسے ہی بھٹکنے لگی… ویسے وہ بہت امیر لڑکی تھی ماں باپ کی اکلوتی…. پر محبت نے اسے در در بھٹکنے پر مجبور کر دیا… روز اس وقت بہت شدت سے روتی ہے اور چند منٹ میں خاموش ہو جاتی ہے…. بس ایک ہی بات کہتی رہتی ہے مجھے چھوڑ کے مت جاؤ… میں جانتی ہوں تم لوٹ آؤ گے.. مجھے تمہارا انتظار ہے”…. ویٹر نے ادب سے ساری بات بتا دی…. تو آپ لوگ اسے کسی پاگل خانے نہیں بھیج دیتے”… سفیان کی بیوی نیلم نے پوچھا…’’نہیں مادام…. ہمارے مالک کہتے ہیں اس کی دعا اور بددعا میں اثر ہے… وہ کہتے ہیں میں نہیں چاہتا کے وہ مجھے کوئی بددعا دے… ویسے بھی وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی تو میں کیوں اسے تنگ کروں”…. ویٹر پوری ڈیٹیل بتاتا وہاں سے چلا گیا….’’سفیان چلو نہ مجھے اس کے پاس جانا ہے”… نیلم نے رخ سفیان کی طرف کر دیا… ’’ کیا کرنے”… سفیان نے ابرو اچکائے… وہ کہہ رہا تھا اس کی دعا لگتی ہے ہم بھی اس سے دعا لیتے ہیں نا…. چلو نہ”…. نیلم نے بچوں کی طرح فرمائش کی تو سفیان اٹھ کھڑا ہوا وہ دونوں چلتے ہوئے اس کے پاس آئے وہ لڑکی اب رونا بند کر چکی تھی…سفیان نے اسکا چہرہ دیکھا تو جیسا اسے سانس لینا بھی بھول گیا…میلے جگہ جگہ سے پھٹے کپڑے… چہرے اور ہاتھوں پہ جگہ جگہ زخم… بکھرے بال…. اسکی خوبصورت آنکھیں اب مرجھا چکی تھی… چار سال میں وہ صدیوں کی بوڑھی لگ رہی تھی… سنو پیاری لڑکی”…. نیلم نے محبت سے کہا…تو وہ مسکرا کے اسے دیکھنے لگی….سب کہتے ہیں تمہاری دعا میں اثر ہے تم مجھے بھی دعا دو نا اللّٰہ میری بھی جھولی بھر دے”…. نیلم نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا….ہاں… ہاں… لو… دعا لو…. اللّٰہ تمہاری مراد پوری کرے… تمہاری جھولی… بھر دے”….. وہ مسکراتی ہاتھ جھلاتی… اسے دعا دینے لگی…. اور جیسے ہی نظر سفیان پہ گئی تو وہ ٹھہر سی گئی… تم… تم… آ گئے میں جانتی تھی تم آؤ گے سفیان تم لوٹ آؤ گے… دیکھو تم آ گئے”…. اریب ایک دم سے سفیان کی طرف بڑھی اور نیلم نے حیرت سے اسے دیکھا…. جب تک سفیان سنبھلا تب تک اریب زمین بوس ہو چکی تھی….”اریب… اریب اٹھو کیا ہوا ہے تمہیں”… سفیان ایک دم اے آگے بڑھا… نیلم بے یقین سی کھڑی تھی….اریب کو جب ہاسپٹل لے گئے تو پتا چلا کے وہ اس دنیا کو چھوڑ چکی ہے…. وہ تو بس اس کے انتظار میں تھی.. ایک آخری دیدار کے لئے… اب وہ جا سکتی تھی اس دنیا سے سکون سے اور وہ جا چکی تھی….. سفیان کو جیسے چپ سی لگ گئی تھی…. ‘کاش سفیان آپ اس معصوم کے ساتھ ایسا نہ کرتے تو آج اس کی موت کی وجہ آپ نہ ہوتے”…. نیلم بالکونی میں بیٹھے سفیان کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے بولی تو سفیان نظر چرا گیا… کیونکہ کے اسکے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا الفاظ دم توڑ چکے تھے اور وہ خود کو اس معصوم کا قاتل تصور کر چکا تھا…….اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی چھوٹی سی غلطی کسی کی جان لے سکتی ہے…..پر اب گزرا وقت واپس نہیں آ سکتا تھا…..

حصہ

جواب چھوڑ دیں