یہاں ملتا ہے بن مانگے

(سفرِ سعادت۔ سفرِ حج)
قسط نمبر۴
ہم منی واپسی کے لئے کسی سواری کی تلاش میں تھے، کوئی بھی سواری آ کر رکتی تو ایک ہجوم اس کی طرف لپکتا، اور وہ فوراً ہی بھر جاتی، ہم اپنے مردوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے، تقریباً نصف گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک ویگن ہاتھ لگی، ڈرائیور کو ۵۵ نمبر کیمپ کا بتا کر سب تسلی سے بیٹھ گئے، سب اس قدر تھکے ہوئے تھے کہ سب ہی سو گئے، اور اب ڈرائیور آخری سٹاپ آنے پر سب کو نیچے اترنے کا کہہ رہا تھا، سب آنکھیں ملتے نیچے اترے، مردوں نے کیمپ نمبر ۵۵ کا پوچھا جو انہیں بتا دیا گیا کہ یہاں سے نیچے اتریں اور ’’کوبری‘‘ کو پار کر کے سامنے ہی ہے۔ نیچے اترتے ہوئے راستہ دو جانب جا رہا تھا، اور وہیں اختلاف ہو گیا کہ کدھر کو جانا ہے، طاقت ور گروہ آگے ہو لیا اور باقی سب پیچھے چلنے لگے، اتنی دیر پیچھے چلے کہ آگے والوں کو یقین ہو گیا کہ ہم غلط راستے پر آ گئے ہیں، پھر واپس مڑے، کئی جگہوں پر آویزاں نقشوں سے مدد لی، جو انگریزی میں بھی تھے اور عربی میں بھی، نقشے کے مطابق ہم اپنی قیام گاہ کے بالکل قریب تھے، بس چند قدم کی مسافت پر!! مگر جب چلنے لگتے تو ساری نشانیاں غائب ہو جاتیں، چلتے چلتے ایک پہاڑی سامنے آگئی، مرد اس پر چڑھنے لگے تو خواتین بھی پیچھے، جب دوسری جانب اترے تو ایک خار دار باڑ سامنے تھی، ایسے لگ رہا تھا باڑ کے دوسری جانب ہمارا کیمپ ہے، میاں صاحب نے ہماری حالت کا احساس کرتے ہوئے پوچھا: ’’اس ستون پر چڑھ کر پار اتر جائیں گی؟‘‘ ادھر کرنل صاحب کی بیگم نے ہولے سے کہا: ’’میرا پاؤں تو پہلے ہی مسلا ہوا ہے، چھلانگ کیسے لگاؤں؟اور کرنل صاحب پورے جلال سے بولے: ’’یہ حج ہے ۔۔ مشقت کا نام ہے‘‘۔ اللہ کا شکر کہ کسی بھی چھلانگ سے پہلے دوسری جانب کا راستہ بند ہونے کا علامتی نشان نظر آگیا، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے واپس پلٹے، ایسا لگتا تھا ہم بس چل رہے ہیں ایسے قافلے کی مانند جس کی منزل غیر واضح ہو، جو ہر چند قدم کے بعد کسی اجنبی راہبر سے اپنی منزل پوچھ رہا ہو، چلتے چلتے ہم ترکی کیمپ کے پاس پہنچ گئے، وہاں ایک نوجوان نے مسکراہٹ سے بھرپور استقبال کیا، اور یہ جان کر کہ ہم پاکستانی ہیں، محبت کا اظہار کیا، بولا: مجھے کچھ معلوم تو نہیں، لیکن میرا دل کہتا ہے آپ کا کیمپ اس جانب ہو گا، اس نے ایک سمت اشارہ کیا اور ہم جوابِ محبت میں اسی سمت چل پڑے، ’’زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم‘‘، مگر محبت کی کوئی زبان ہوتی ہے کیا، بلکہ محبت کسی زبان کی محتاج ہوتی ہے کیا؟ بس ہم چلتے گئے اور چلتے ہی گئے، رات کے دو بجے ہم افریقن کیمپوں کے سامنے سے گزر رہے تھے، اور اندر سے خراٹوں کی آوازیں آ رہی تھیں، اور ہماری حسرت اور بے گھری کے احساس کو دو چند کر رہی تھیں، فضا میں اتنا سکوت تھا کہ ہمارے بھاری قدموں کی چاپ ہمارے دل کو اور بوجھل کر رہی تھی، چلتے چلتے ایک ایک کر کے ہم سے ہمارے لوگ بھی اوجھل ہو گئے تھے، پانچ خاندان جو ابتدائے سفر میں ایک ساتھ چل رہے تھے، اب ان میں ہم اور کرنل صاحب رہ گئے تھے، ہمیں ایک جانب کچھ رونق نظر آئی، ارے واہ، یہ تو پاکستان ایمبیسی کی راہنما سروس ہے، پاکستان کا جھنڈا چوم لینے کو دل چاہا، اہلکاروں نے بتایا کہ ہم اپنے کیمپ کے قریب ہی ہیں، میاں صاحب کو بھی یاد آیا، میں یہیں سے تو آپ کی کھانسی کی دوا لے کر گیا تھا، مگر ہمارا پھر بھی اصرار تھا، ان میں سے کسی کو ساتھ لے چلیں، ’’وہ ہر ایک کے ساتھ بندہ کیسے بھیجیں، تھوڑا سا سٹاف ہے ان کا‘‘، ابھی ہم پریشان ہی تھے کہ ہمارے کیمپ سے باہر ایک شخص نے ہمیں پہچان لیا، ارے بھئی، یہی کیمپ ہے آپ کا، اندر داخل ہوئے تو پتا چلا ہم سے بچھڑا صرف ایک خاندان پہنچا ہے، باقی دو ابھی نجانے کہاں بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم صبح فجر پڑھ رہے تھے جب آخری ساتھی پہنچے، ہم شرمندہ تھے مگر آنے والوں نے کوئی گلہ نہ کیا۔ فجر پڑھ کر سب ایک دوسرے کو اپنی روداد سنا رہے تھے، سب سے مزے دار قصّہ اکرم بھٹی صاحب کا تھا، انہوں نے کہا میں نے اللہ سے دعا کی: ’’اے اللہ میں ان پڑھ بندہ ہوں، تو ہی مدد کرنا، رمی کر کے مکہ گیا، اور طوافِ افاضہ کے بعد ویگن میں بیٹھا، کوبری کے دوسری طرف ویگن سے اترا تو سیدھا کیمپ میں آگیا، اللہ سوہنے نے بڑی مدد کی، ہم تینوں کی‘‘، اور ہم رشک سے انکی آواز سن رہے تھے، واقعی اللہ ہی تو ہے جو بھٹکنے سے بچاتا ہے، اور اس رات ہم پر یہ حقیقت بھی خوب آشکارا ہوئی کہ اللہ کی طرف جانے والے راستے بہت سیدھے ہیں، حرم کا راستہ سب سے آسان راستہ ہے، اصل مشکل تو وہاں سے واپسی پر سیدھا رہنے میں ہے۔
کیمپ میں سب حسبِ استطاعت ذکر، قرآن اور دعا میں مشغول رہے، نمازیں با جماعت کیمپ ہی میں ادا ہوتی رہیں، شام رمی کے لئے نکلے تو مغل صاحب کے موبائل پر میرے بھانجے کا فون آیا، وہ کل کے واقعے کے بعد سے پریشان بیٹھے تھے، مگر ہم نے سارا دن گزرنے کے بعد بھی رابطہ نہ کیا تھا، ہم نے خیریت کی اطلاع دی، لیکن اس چوک کا حساب پاکستان جا کر دینا پڑا، جب یک زبان ہو کر سب نے ایک ہی گلہ کیا، جس میں ہمارے والدین بھی تھے اور بچے بھی، ’’آپ کسی کو پیچھے تو چھوڑ کر نہیں گئے تھے جو آپ کے لئے پریشان ہوتا، اسی لئے مست رہے اپنے ہی حال میں‘‘، اور بیٹی نے بتایا کہ پاکستان کے فوت شدہ حاجیوں کی لسٹ میں جب پانچ مسنگ پرسن رہ گئے جن میں دو اسلام آباد کے تھے، توٹیلیوژن پر خبر سنتے سب گھر والے ایک ایک کر کے خاموشی سے اندر چلے گئے، شاید اسی کے بعد کسی سے گروپ ممبر کا نمبر لے کر فون کیا گیا تھا۔
ہم تکبیرات پڑھتے جمرات کی جانب بڑھے، آج بہت اچھا انتظام تھا، منتظم فورس ایک گروپ کے باہر نکل جانے پر دوسرے کو آگے بڑھنے کی اجازت دیتی، البتہ ستون کے قریب پہنچ کر ابلیس دشمنی میں ایک شخص نے جوتا بھی مار دیا تھا، بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ایک ایک کر کے سات پتھر ہر جمرے پر مارے، وہیں ایک شخص ہجوم کا فائدہ اٹھا کر کسی کی جیب کترتے ہوئے پکڑا گیا، اسے پولیس اپنے حصار میں باہر لے جا رہی تھی، رمی کی ترتیب یوں ہے کہ پہلے جمرہ اولی (چھوٹا شیطان) پھر جمرہ وسطی (درمیانہ شیطان ) اور آخر میں جمرہ عقبی (بڑا شیطان) کو کنکریاں ماری جائیں گی، پہلے دو جمرات پر رمی کے بعد دعا بھی مانگی جائے گی، مگر تیسری رمی کے بعد بغیر رکے قیام گاہ کی طرف جانا ہے، واپس مڑے تو ’’البیک‘‘ کا نام دور سے نظر آرہا تھا، وہاں پہنچ کر مرد بھی قطار میں شامل ہو گئے، اور انتظار کے بعد مطلوبہ کھانا حاصل کر لیا۔
۱۲ دی الحج کو صبح ہی کیمپ میں ہلچل شروع ہو گئی، ہماری خواہش کہ ۱۳ ذی الحج تک قیام کریں دھری کی دھری رہ گئی، سب نے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا، کھانے کے سب سٹال بھی بند ہو جائیں گے، سب ہی واپس جا رہے ہیں۔ اب مرد حضرات پھر خواتین کے بارے میں پروگرام بنانے لگے، سب سامان دے کر خواتین کو مکہ بھجوا دیتے ہیں اور مرد انکی بھی رمی کر آئیں گے، ہمارے میاں صاحب نے تجویز دی کہ ہمارا بھی سامان بھجوا دیں، ہم دونوں رمی کر کے جائیں گے، مرد منتظمین اپنی خواتین کی بھی خواہش عود کر آنے کے پیشِ نظر اس پروگرام کی مخالفت کرنے لگے، ایک صاحب بولے: ’’آپ کا سامان کوئی نہیں لے کر جائے گا‘‘، میاں صاحب بولے: کوئی بات نہیں، ہم سامان ہمراہ لے جائیں گے، مگر انہیں پھر بھی غصّہ آرہا تھا، خواتین آہستہ چلتی ہیں، ہم تیز تیز چل کر رمی کر لیں گے، ہم نے خاموشی ہی میں عافیت جانی، جب سب خواتین سوار ہو گئیں تو وہ صاحب ہمارا سامان بھی لے گئے، ایک اور خاتون بھی ہمارے ساتھ کو آ گئیں، ہمارے میاں صاحب نے ہمیں ہدایت کی، ذرا تیز قدم اٹھائیں تاکہ کسی کو گلہ نہ ہو، ایک صاحب سن کر بولے: ’’بھابھی، کوئی فکر نہ کریں، آپ پیچھے بھی رہ جائیں تو ہم ہیں آپ کے ساتھ،‘‘ اور انہوں نے اپنی بیگم کے ساتھ قدم قدم پر ساتھ دیا، بڑی آسانی کے ساتھ رمی کر کے گاڑی میں سوار ہوئے اور عزیزیہ پہنچ گئے۔ الحمد للہ ہمارا حج مکمل ہو گیا تھا، آج کا باقی دن تھکاوٹ اتارنے میں لگا، حرم کی جانب دل کھنچ رہا تھا، مگر اسباب ناکافی تھے، اگلا دن چڑھا تو سب نے باری باری میلے کپڑے اور احرام دھونے شروع کر دیے، چھت پر دھلائی کے لئے ٹب بالٹیاں پانی کی ٹونٹیاں اور کپڑے پھیلانے کے لئے تار موجود تھے، ہم نے بھی کپڑے دھو لئے، جو کپڑے خشک ہو چکے تھے انہیں کنارے کر کے کپڑے پھیلائے، ایک حاجی صاحب غصّے میں کچھ دیر بعد ہی سر پر آن پہنچے، ہماری قسمت کہ ہم ان کی بیگم سے گپوں میں مصروف تھے، انہوں نے ہمارے میاں کو بے نقط سنائیں، اور بولے، اب میرے کپڑے کسی نے ہلائے تو میں انکے احرام زمین پر پھینک دوں گا، مزید بدمزگی سے بچنے کے لئے ہم کپڑے اتار کر کمرے میں لے آئے۔اسی شام عصر مغرب عشاء کی نمازیں امامِ حرم کی امامت میں سڑک اور صحن حرم میں ادا کی، اور آخر کار ہمیں مکہ کا ہوٹل دوبارہ مل گیا۔
پھر وہی صبح و شام کی فراغت اور حرم کی مصروفیات!!اور ایک مشغولیت جو چپکے سے معمولات میں شامل ہو گئی تھیں وہ والدین، بچوں اور عزیز و اقارب کے لئے تحائف کی خریداری تھی، مکہ کے تاجروں نے نت نئے ساز و سامان سے ہماری اشتہا بڑھا دی تھی، سامان بڑھتا جا رہا تھا، اور وقت سرک رہا تھا، ایسے میں ایک روز خبر ملی کہ ہمیں زیاراتِ مکہ کے لئے جانا ہے، اور پھر اندر کی خبر بھی کہ مرد حضرات احرام ساتھ رکھ لیں، یلملم کے میقات سے عمرے کا احرام باندھا جائے گا۔ اگلے روز ناشتے کے بعد غارِ حرا کی سڑک سے گزرتے ہوئے، غارِ ثور کے پہاڑ کے دامن سے ثور کا جائزہ لیا، منی مزدلفہ اور عرفات کے میدان میں پہنچے، خیموں دار بستیوں کو بے آباد اور اگلے سال کے حاجیوں کی منتظر پایا، جبلِ رحمت پر چڑھے، اس مقام کو دیکھا جہاں رسول اللہ ﷺ نے ایک لاکھ چالیس ہزار حاجیوں کو خطبہء حج الوداع دیا تھا، واپس لوٹتے ہوئے جمرات پر بھی گئے، میں نے جھک کر ان کنکریوں کو دیکھا، جو حاجیوں نے شیطان پر برسائی تھیں، بہت تھوڑی سی کنکریاں وہاں موجود تھیں، تحقیق پر معلوم ہوا کہ زیرِ زمین انتظام کے ذریعے اگلے حج سے پہلے انہیں کہیں اور پھینک دیا جاتا ہے۔
بس میں بیٹھے حاجیوں نے اگلے روز کے لئے غارِ حرا تک جانے کا پروگرام بھی بنا لیا، جن میں کئی خواتین بھی شامل تھیں، ہم نے میاں سے استفسار کیا تو بولے: آپ کے لئے اتنے اونچے پہاڑ پر چڑھنا مشکل ہو گا۔اگلے روز ناشتے کے بعد تمام شائقین حرا کے لئے روانہ ہو گئے، میں خاموشی سے کمرے میں آگئی، تھوڑی دیر بعدمیاں صاحب کا ریسپشن سے فون آیا، میں ذرا اوپر آ رہا ہوں، میرے ذہن میں خیال کوندا، ضرور مجھے لینے آ رہے ہوں گے، اتنے کمزور افراد بھی تو جا رہے ہیں۔ اتنی دیر میں میاں صاحب کمرے میں داخل ہوئے،اور بولے: ’’سوچ رہا ہوں بوٹ پہن جاؤں، چڑھنے میں آسانی رہے گی‘‘، انہوں نے جوتے تبدیل کئے اور یہ جا وہ جا، ہم دروازے میں لگی چابی کو ہی دیکھتے رہ گئے۔
جوں جوں ہماری واپسی کے دن قریب آرہے تھے، حاجیوں کے حساب کتاب میں بھی تیزی آگئی تھی، چالیس طواف کرنے والے کی بخشش ہے، اور لوگ اپنی گنتیاں پوری کرنے لگتے، قریب کے کمروں میں ایک بڑا سا خاندان مقیم تھا، جن کے کھانے ہوٹل کے کمروں کے سامنے ہی پکتے، خواتین سارا دن ہوٹل میں رہتیں، البتہ عشاء کے بعد رات کو جب رش کم ہو جاتا تو وہ سب خواتین کو ساتھ لے کر جاتے اور طواف کی گنتی پوری کروا لاتے، ان کا خیال تھا کہ عورت پر چونکہ با جماعت نماز فرض نہیں ہے اس لئے بار بار حرم کے لئے ہوٹل سے نہیں نکلنا چاہئے، وہ مردوں کی خدمت کر کے اجر و ثواب سمیٹ سکتی ہے۔
ہمارے گروپ کے ایک ساتھی کو حجرِ اسود کو بوسہ دینے کی سعادت ملی تو جیسے سب کی خوابیدہ خواہش بیدار ہو گئی، کبھی کوئی یہ معرکہ سر کر آتا تو کبھی کوئی اور ۔۔ گروپ کی خواتین بھی کسی سے پیچھے رہنے والی کہاں تھیں، البتہ میرا معاملہ مختلف تھا، میں تو حرا کا غار بھی نہ دیکھ پائی تھی، جہاں بھی رش ہوتا، چار قدم پیچھے ہو جاتی، بس ایک روز غم میں بیٹھی تھی کہ یہاں پہنچ کر بھی محروم نہ رہ جاؤں کہ میاں صاحب نے اشارہ کیا، طواف کروایا، جس میں رکنِ یمانی کو بھی چھوا، پھر حطیم میں لے گئے، نفل پڑھنے کی مناسب جگہ بھی مل گئی، تسلی سے دعا مانگنے کا وقت بھی، باہر نکلے تو بولے، وہ مقام کہاں ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ اسری کی رات نفل پڑھ کر مسجدِ اقصی گئے تھے؟ ہم باب عبد العزیز کی جانب مطاف کے اندر سے گئے، تو بدرالنساءؒ سابقہ ناظمہ اعلی اسلامی جمعیت طالبات کی بتائی ہوئی نشانی پر پہنچ گئے، وہاں دو تین اہلکاروں سے پوچھا تو انہوں نے وہی جگہ بتائی، وہاں نفل پڑھ کر باہر نکلتے ہوئے دل کا غم دھل چکا تھا، اور طمانیت نے سارے وجود کو ڈھانک لیا تھا۔
اور پھر وہ شام بھی آگئی، جب عشاء کے بعد ہمیں پیارے مکہ سے کوچ کرنا تھا، طوافِ وداع ادا کیا، اللہ تعالی سے مانگی گئی دعاؤں میں بار بار لوٹ کر آنے کی دعا بھی شامل تھی، سامان تو سب پہلے سے باندھ رکھا تھا، ہمیں جدہ لے جانے والی بسیں آچکی تھیں، مرد سامان لے جا چکے تو اپنے توشے پر نظر ڈالی، ساتھ والے کمرے میں خواتین جمع ہو گئیں، الوداعی ملاقات میں کرنل صاحب کی اہلیہ نقاب میں نظر آئیں، کرنل صاحب نے انہیں توجہ دلائی تھی، بولیں، اب تو میں بوڑھی ہو چکی ہوں، اب تو مجھ پر نقاب فرض بھی نہیں، مگر انہوں نے کہا: جو اتنا عرصہ حجاب کے حکم کی نافرمانی کی اب اطاعت سے رب کی بندگی کا ثبوت دے دو، بات انکے دل کو لگی، اور پھر پاکستان جا کر بھی انکا نقاب قائم رہا، تحفہء حج بن کر!
مغل صاحب کی بیگم نے بقول انکے اس روز دس طواف کئے، اس دعا کے ساتھ کر ہر سال حج نصیب ہو، اور میرے علم کے مطابق وہ ہر سال حج کر رہی ہیں تب سے۔
بس میں بیٹھے تو آنکھیں برسنے لگیں، کعبہ کے منظر آنکھوں میں پھرنے لگے، کتنے اچھے یہ دن!!!
کتنے مزے دار تھے یہ لمحات!! بیالیس روز ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا کی مانند گزر گئے تھے! یہ دنیا کتنی پیاری تھی، کتنی با برکت، کتنی پرنور!!
اللہ سے کیسا پیارا تعلق جڑا تھا، وہ کبھی ہنساتا اور کبھی رلاتا تھا، مگر اس رونے میں مایوسی نہ تھی، بارش کے بعد نکھرنے کا سا احساس ہوتا!
پیاس لگتی تو کوئی اجنبی ہاتھ آپ کے سامنے زمزم کا بھرا گلاس پیش کر دیتا، بھوک لگتی تو کبھی کھجورمل جاتی، کبھی کچھ اور ۔۔
صفوں میں جگہ کم ہوتی تو کوئی بزرگ ترک، یا فلسطینی یا اندونیشی یا کوئی اور ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنے پاس بلا لیتی، کوئی جی بھر کر بلائیں لیتی، کوئی اپنے بیگ سے کوئی سوغات نکال کر آگے رکھ دیتی، با اصرار کھلا دیتی ۔۔
کئی خواتین گلے لگا لیتیں، محبت سے بوسہ دیتیں ۔۔
مکہ سے واپس جاتے ہوئے ایک ایک کر کے سب منظر نگاہوں کے سامنے آرہے تھے، رب کے گھر کے مناظر۔۔ رب کی عطا کے مناظر، جہاں ملتا ہے بن مانگے!!
بس مرکزی شاہراہ پر آئی تو اسے روک لیا گیا، الوداعی ضیافت پیش کی گئی، تمام حاجیوں کے لئے دو دو ڈبے، اور زمزم کی بوتلیں خادم الحرمین شریفین کی جانب سے!
جدہ ائر پورٹ پر لمبا قیام تھا، وہیں فجر پڑھی، سب حاجی دوسروں کو بھی اشیائے خورد و نوش پیش کر رہے تھے، ایک بابا جی بڑے فخر سے دو کرسٹل بال دکھا رہے تھے، کہہ رہے تھے، یہ بری امام کے مزار پر جا کر رکھوں گا، دوسرے بابا جی نے ان سے ایک بال مانگا تو وہ ناراض ہو گئے، خبردار جو میرے ہدیے کی طرف دیکھا، پیر صاحب کے لئے ہے۔
ائر لائن کی جانب سے چیک ان کا اعلان ہوا تو سب اپنے سامان اٹھائے لائنوں میں لگ گئے، کئی طرح کا سامان ریجیکٹ ہونے لگا، سب سے زیادہ افسوس انہیں تھا جن کا زمزم زائد ہونے کی وجہ سے واپس کیا جا رہا تھا، ایک خاتون نے اپنی بھری بوتل چھوڑ دی تو ایک خاتون نے اجازت لے کر اٹھا لی، اور ان کی بوتل کلیئر بھی ہو گی۔
جہاز میں کافی نشستیں خالی تھیں، آپ بیٹھیں یا لیٹیں، سب اجازت تھی، ظہر کا وقت ہوا تو ایک صاحب نے ذرا بلند آواز سے سب کو متوجہ کیا، ایک صاحب کھڑے ہو گئے اور مسئلہ بیان کرنے لگے، چونکہ جہاز زمین سے بلند ہے اور سجدہ کے لئے زمین کا ہونا ضروری ہے اس لئے جہاز میں نماز نہیں ہوتی۔ان کی اس انوکھی منطق پر ابھی چہ مگویاں جاری تھیں کہ انہوں نے آنکھوں پر سفید پٹی باندھی اور تین نشستوں پر پھیل کر لیٹ گئے، تھوڑی دیر میں جہاز میں ان کے خراٹے گونج رہے تھے، مسافروں نے بغیر کسی الجھن کے عصر کی نماز بھی ادا کی، اور شام ڈھلے ہم اسلام آباد ائر پورٹ پر اتر رہے تھے۔
ہمارے میاں جنہوں نے دولہا بن کر بھی ہار نہ پہنا تھا انکے استقبالیہ میں دوست، رشتہ دار اور بچے سب موجود تھے ہاتھوں میں ہار لئے، اور ہم حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
ہمارا ڈھائی سالہ بیٹا ابا کے گنج پر تو پریشان تھا ہی، ہمیں بھی پہچان نہ پا رہا تھا، تھوڑی دیر بعد گود میں بیٹھ کر پوچھتا: آپ امی جان ہیں نا!
واپس اپنی دنیا میں آتے ہوئے یہی سوچ غالب تھی کہ وہ دعائیں جو رب کے گھر میں مانگی ہیں انکی قبولیت کے لئے ہماری ’’سعی‘‘ اور ’’رجوع الی اللہ‘‘ سب سے اہم ہے۔ ربّنا تقبّل منّا انّک انت السمیع العلیم۔آمین
***
اختتام

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں