قلتِ آب، ایک المیہ

پانی کی قلت کامسئلہ پاکستان میں بھی ہرگزرتے دن کے ساتھ سنگین ترہوتا جا رہا ہے۔پاکستان میں پانی کی کمی کی چند بڑی وجوہات ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، بارشوںکی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں، اس کے علاوہ سب سے اہم ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی پانی کی بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے، پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔ہمیں ذاتی طور پر آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک جگہ کا نہیں بلکہ ملک بھر کا ہے، آنے والی نسلوں کا ہے، ہمیں روز خبریں دیکھ کر ڈیم نہ ہونے کا شکوہ کرنے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی کرنا ہوگا.پانی کی صحیح قدر ان سے پوچھیں جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں، جو پانی کی بالٹیاں اٹھا کر لائن میں جا لگتے ہیں تا کہ سرکاری پانی آنے پر گھر والوں کے لیے استعمال کا پانی بھر سکیں۔ قابل استعمال پانی کی قدر جاننی ہے تو تھر میں پلنے والے ان بچوں کے پیاسے چہرے دیکھیں اور ان دیہاتی عورتوں کو جو دو تین مٹکے مہارت سے سر پہ جمائے کئی میل پیدل چلتی ہیں۔۔گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستانی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جن کے باعث پانی کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔  جنوبی پنجاب کے بعض علاقے بھی ا س کی لپیٹ میں آجاتے ہیں لہٰذا اگر اس پانی کو بہت حکمت عملی اختیار کرکے ذخیرہ کر لیا جائے تو یہ پانی ہمارے لیے باعث رحمت ہوگا اور اس طرح پانی کی قلت سے بھی بچا جاسکتا ہے۔پانی ہماری بنیادی ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ اسے بنیادی حق نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی یہ سیاسی ترجیحات میں شامل رہا جس کے باعث ہمیں مسائل درپیش ہیں۔صحت کا براہ راست تعلق پانی کے ساتھ  ہے۔ بہت سی ایسی عام بیماریاں ہیں جن کا تعلق صرف پانی سے ہے اور مضر صحت پانی پینے سے یہ بیماریاں پھیلتی ہیں۔بیماریوں کے اخراجات کی وجہ سے غربت میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس حوالے سے بھی سہولیات زیادہ نہیں ہیں۔پانی کی بچت کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری صرف حکومتی اداروں پر ہی عائد نہیں ہوتی۔ مستقبل میں مشکلات سے بچنے کے لیے پاکستان کے ہر شہری کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انسانی استعمال میں آنے والا سب سے زیادہ پانی ہوٹلوں میں ضائع کیا جاتا ہے  اور بلا فضول پانی بھی خرچ ہوتا ہے۔  اگر مستقبل میں پاکستان کو اپنے ہاں پانی کی قلت سے بچنا ہے تو اسے کئی محاذوں پر ایک ساتھ اپنی کوششوں کا آغاز کرنا ہوگا۔بچپن سے ہم سب یہ سنتے ہوئے آئے ہیں کہ کسی کو پانی پلانا ثواب کا کام ہے، اب ہمیں عملی طور پر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ پانی جو ہم ضائع کررہے ہیں۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں