آگے آپ کی مرضی 

ہمارے ملک میں عجیب و غریب سسٹم ہے جس کی سرے سے ہی سمجھ نہیں آتی ،گورنمنٹ کے کرنے والے کام عوام کررہی ہوتی ہے اور عوام کے کرنے والے کام گورنمنٹ نے اپنے ذمہ لیے ہوئے ہیں کہیں بھی گورنمنٹ کی گرفت مضبوط نظر نہیں آتی جو جس عہدے پر براجمان ہے وہ ان داتا بنا بیٹھا ہے۔ غریب کا کوئی پرسانِ حال نظر نہیں آتا جس محکمے میں بھی کسی کام سے جانا ہو وہاں رشوت کے بغیر کوئی بات بھی سننے کو تیار نہیں ہوتا اور رشوت دے دینے پر وہی کام اس طرح ہوجاتا ہے جیسے اس میں مشکل نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔ یہ کیا ہے؟ ان کو کون پوچھے گا؟ ان کو کون بتائے گا کہ یہ جو تنخواہ وصول کرتے ہیں یہ عوام کے دیے ہوئے ٹیکسوں سے ہی اکٹھا ہوتی ہے اور عوام کی خدمت ہی ان کا کام ہے نہ کہ عوام کو ذلیل کرنا۔لوگ سرکاری اسکولوں کی بجائے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں سے علاج کی بجائے پرائیویٹ کلینکس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کوئی وجہ تو ہے جس کی وجہ سے لوگ ایسا کرنے پر مجبور ہیں جب کہ گورنمنٹ اسکولز کے اساتذہ پرائیویٹ اسکولز کے اساتذہ سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔گورنمنٹ ہاسپٹلز میں پرائیویٹ ہاسپٹلز کی نسبت زیادہ سہولیات ہیں(بشمول ڈاکٹرز، نرسز، بلڈنگ، لیب،) تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری اسکولز میں اساتذہ کا طلبہ سے رویہ درست نہیں ہے بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹریٹ کیاجاتا ہے بچوں کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے۔ اساتذہ کے ذہن میں یہ بات اٹکی ہوئی ہے کہ وہ تو گورنمنٹ کے ملازم ہیں، بچوں کو پڑھائیں یا نہ پڑھائیں ان کو تنخواہ مل رہی ہے اور ملتی رہے گی اور اوپر سے اساتذہ کے ہاتھ محکمہ کی طرف سے باندھ کر ان کو بے بس کردیا گیا ہے ایسے ایسے کام اساتذہ کے ذمہ لگادیے گئے ہیں جو کلرکوں، خاکروبوں اور پرنسپل یا ایڈمن کے کرنے کے ہیں ۔بچہ اسکول نہیں آیا تو استاد ذمہ دار ،بچہ اسکول چھوڑ گیا تو استاد ذمہ دار ،بچہ بیمار ہوگیا تو استاد ذمہ دار، ایسا نہیں ہونا چاہیے استاد کا کام بچے کی تربیت کرنا ہے اور تربیت وہ اس کی کرے گا جو آئے گا جو گھر سے نہیں آئے گا اس کی تربیت کی ذمہ داری استاد کی نہیں ہے ،استاد کو استاد ہی رہنے دیں کلرک یا ایڈمن نہ بنائیں ۔یہ کام اگر اتنا ہی ضروری ہے تو اس کام کے لیے ایک ایڈمن بھرتی کرلیں۔یہی اساتذہ جب اپنی پرائیویٹ اکیڈمی میں ہوتے ہیں تو ان کی باتوں سے پھول جھڑتے ہیں پرائیویٹ اسکول میں بچوں کو گھر جیسا ماحول دیا جاتا ہے بچوں کے والدین سے اساتذہ کو ٹچ رکھا جاتاہے ہر بات سلیقے سے کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ بچہ گورنمنٹ اسکول کی بجائے پرائیویٹ اسکول کو ترجیح دیتا ہے اسے وہاں اپنائیت ملتی ہے۔اسٹوڈنٹس کو بیٹا کہتے ان کا منہ نہیں تھکتا اور سرکاری اسکول اس کے برعکس۔کیا یہ دوغلہ پن نہیں، کیا یہ تصویر کا دوسرا رخ نہیں ہے، ایک چہرے پہ دوسرا چہرہ نہیں ہے. اگر سرکاری اسکول کے اساتذہ بھی بچوں سے مشفقانہ رویہ اپنائیں تو پرائیویٹ اسکول بند ہوسکتے ہیں ۔بند نہ بھی ہوں تو ایسے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جاسکتی ہے جو پرائیویٹ اسکول افروڈ نہ کرنے کے باوجود مقروض ہوکر، بھوکے رہ اپنا پیٹ کاٹ پر بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔کیا استاد ایسا ہوتا ہے جیسے آپ ہیں؟ بالکل نہیں استاد وہ ہوتا ہے جسے دیکھتے ہی ادب سے نگاہیں جھک جائیں تو کیا آپ کے شاگرد ایسا کرتے ہیں اگر نہیں کرتے تو سوچیے گا ضرور کہ خرابی کہاں ہے.؟؟؟ ہم نے ایسے اساتذہ کو بھی دیکھا ہے جو ضرورت مند بچوں کو فری پڑھایا کرتے تھے اور اپنی جیب سے ان کی مدد بھی کیا کرتے تھے اور ان کے شاگردوں کو بھی دیکھا ہے جو بڑھاپے میں اساتذہ کو سلام کرنا نہیں بھولتے تھے اور فضول کام کرتے ہوئے آج بھی اگر ان کو ان کا استاد نظر آ جائے تو وہ ڈر جایا کرتے ہیں اور اچانک استاد نظر آنے ہر فوراًاحتراماً اٹھ کر کھڑے ہوجاتے تھے. سرکاری ہسپتال میں بیٹھا ڈاکٹر یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کسی ڈیرے پر وڈیرہ بیٹھا ہو ۔ٹیبل پر ٹانگیں پسارے، دوستوں سے خوش گپیوں میں مصروف،نرسوں اور لیڈی ڈاکٹر سے ہنس ہنس کر باتیں، مریض کے اندر داخل ہوتے ہی ناک منہ چڑانا، تحقیر آمیز لہجے میں بات کرنا، اسے برابھلا کہنا ایسے مسیحا مریض کو ہاتھ لگانا گناہ سمجھتے ہیں. دوبارہ کسی بات کا پوچھنے پر ایسے برتاؤ کرتاہے جیسے کوئی ان پڑھ گوار اور اجڈ کرسی پہ بیٹھا ہے جس نے آج تک اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا جبکہ وہی ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ ہسپتال میں ایسے بات کرتاہے جیسے یہ دولہا اور مریض اس کے باراتی ہوں مطلب اس کو پتہ ہے کہ کس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے لیکن سرکاری ڈیوٹی پر اس کے دماغ میں یہ بات ہوتی ہے کہ یہ غریب لوگ ہیں اور میں سرکاری ملازم ہوں جسے ہر یکم کو بلاتعطل یہ میسج موبائل پر ریسیو ہوجاتا ہے کہ آپ کی تنخواہ آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردی گئی ہے اس کے دماغ سے یہ خناس نکالنا بہت ضروری ہے آپ ڈاکٹر ہیں مسیحا ہیں مسیحائی کیجیے آپ تو مریض کو تڑپتا چھوڑ کر موبائل پر چیٹنگ کرتے ہیں۔گپیں لگاتے رہتے ہیں ایسے ہوتے ہیں مسیحا ؟؟؟خدارا اپنا رتبہ پہچانیے اپنی عزت کروائیے اگر آپ اپنے پیشے سے مخلص ہوں گے تو ہر کوئی آپ کی عزت کرے گا مانا کہ پیسہ ضروری ہے لیکن عزت سے بڑھ کر نہیں آگے آپ کی مرضی۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں