بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا را کی نئی سازش

بھارتی وزیر اعظم نریندرا داس مودی کا ماضی انتہائی خطرناک جرائم سے بھرا ہوا ہے اور گجرات میں ریلوے اسٹیشنوں پر کینٹینوں میں چائے بنا کر بیچا کرتے تھے اور انہوں نے بھارت کی دہشت گرد کٹر ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ جسے عرف عام میں آر ایس ایس کہا جاتا ہے اور اس تنظیم کے ارکان نہ صرف مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں بلکہ بھارت کی تمام اقلیتوں کے لئے عذابِ جان بنے ہوئے ہیں مسلمانوں سے سنگین بدلہ لینے کے لئے 1990 ؁ء میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اجودھیا میں بی جے پی کی قیادت کے ساتھ مِل کر بابری مسجد کو شہید کیا تھا اس وقت پاکستان میں میاں محمد نواز شریف صاحب کی حکومت تھی اس وقت انہوں نے بابری مسجد کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی اجودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے دوران دو ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا لیکن اس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے نریندر مودی نے بھارتی ریاست گجرات کی صوبائی حکومت کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی کھلی اجازت دی ہوئی تھی اور احمد آباد میں ہزاروں مسلمانوں کا نہ صرف قتل عام کیا گیا تھا بلکہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ گھناؤنے جرائم کئے گئے تھے جس کی وجہ سے پوری دُنیا میں شور مچ گیا تھا اور نریندر مودی کے داخلے پر امریکہ میں تو باقاعدہ پابندی لگا دی تھی اس کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ممبئی بم دھماکوں، سمجھوتہ ایکسپریس اور مالے گاؤں بم دھماکوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کرنل پروہت کے ساتھ ملوث تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات پر 2014 ؁ء سے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان کے علاقوں بلوچستان، شمالی وزیرستان، سوات، صوبہ سرحد اور خصوصاً صوبہ سندھ کو ٹاگٹ کیا ہوا ہے اور کل بھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد پوری دُنیا میں بھارت کی سخت بدنامی ہوئی ہے اور عالمی عدالت میں اس کے مقدمے کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے سابقہ دیرینہ دوست اور کرم فرما سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے کرپشن کے مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد سے سخت ترین ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ فرانس کے سابق صدر نے 36 رافیل جنگی طیاروں کی کرپشن میں ملوث ہونے کا اُن کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا جس پر بھارتی اپوزیشن نے ان کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت کارروائی کا سخت مطالبہ کر دیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نریندر مودی کی حکومت نے جو قتل عام شروع کرایا ہوا ہے اور املاک نذرِ آتش کی ہیں اس پر بھی جنگی جرائم میں مقدمہ چلانے کی تیاری کی ہوئی ہے اس کے علاوہ بھارت اقتصادی اور معاشی طور پر دیوالیہ ہوتا جا رہا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پہلے دورہ را کے ہیڈ کوارٹر نیو دہلی سے شروع کی تھی بین الاقوامی میڈیا بشمول بھارتی اور پاکستانی میڈیا میں آ چکی ہیں انہوں نے را کو پاکستان میں دہشت گردی بڑھانے صوبہ سندھ میں ضلع تھرپارکر، ضلع عمر کوٹ، تعلقہ کھپرو (ضلع سانگھڑ) ، ضلع گھوٹکی، چنڈکو (تعلقہ ضلع خیرپور) میں سرحدی علاقوں میں آباد ہندوؤں کو جاسوسی، تخریب کاری میں ملوث کرنے، بلوچستان کے باغی گروپوں کو جلال آباد (افغانستان) میں تخریب کاری دہشت گردی، لندن میں قیام پذیر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے مدد اور کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کرکے خدانخواستہ ہانگ کانگ بنانے کی ہدایتیں جاری کی تھیں نہ صرف را کو بھاری بجٹ اس کے سیکرٹ اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا گیا تھا بلکہ نئی ہدایتیں بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جاری کی تھیں۔
پلوامہ ڈرامہ کی آڑ میں 26 جنوری 2019 ؁ء کو بھارتی طیاروں نے اسرائیلی اور امریکی طیاروں کی مدد سے لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان کی سرحد میں گھس کر بالاکوٹ کے جنگلوں پر بم برسائے تھے جس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا لیکن درختوں کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ پاکستان کے ریڈار پر اطلاع ملنے پر پاکستان کے شاہینوں نے انہیں بھگا دیا تھا۔ 27 فروری 2019 ؁ء کو پاکستان کے بہادر سپوتوں اسکوارڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے دو منٹ میں دو بھارتی طیارے تباہ کرکے مرحوم ایئر کموڈور محمد محمود عالم کی یاد دلا دی تھی جنہوں نے 1965 ؁ء میں سرگودھا پی اے ایف بیس سے اُڑکر 5 منٹ میں پانچ بھارتی طیارے تباہ کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان ایئرفورس کے بہادر شاہینوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے اسلحہ و رسد کے اہم ڈپو تباہ کر دیئے تھے اور بخیر و خوبی اللہ کے فضل و کرم سے واپس لوٹ کر آئے تھے اور بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن جس کا جنگی طیارہ مار گرایا تھا اور جنگی قیدی بنا تھا محترم وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے باعزت رہا کرکے واپس بھارت بھجوایا تھا جس سے پاکستان کے وقار میں بہت اضافہ ہوا ہے اور پوری دُنیا بشمول بھارت میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف ذلیل و رُسوا ہو گئے ہیں بلکہ بھارت کے پانچ صوبوں میں ان کی جماعت بی جے پی کو شکست ہو گئی ہے۔ مورخہ 7 مارچ 2019 ؁ء کو پاک بحریہ کے شاہینوں نے کراچی کے سمندر میں بھارتی بحریہ کی آبدوز کا پتہ چلا کر اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ نریندر مودی کے اقتدار سے جانے میں صرف دو مہینے باقی ہیں اس لئے وہ پاکستان پر خدا نخواستہ جارحیت کرکے بھارتی الیکشن جیت کر دوبارہ بھارتی وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ راقم الحروف نے ایک ہفتے قبل اپنے کالم ’’بلوچستان میں را کی سرگرمیوں میں اضافے کا امکان‘‘تحریر کیا تھا مجھے اہم ذریعے سے کوئٹہ سے اطلاع ملی تھی جس کی اب تصدیق ملکی میڈیا نے کر دی ہے کہ را نے پاکستان کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہو کر افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان (پاکستان)اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے مدد مانگ لی ہے جس سے بلوچستان میں دہشت گردی کا سنگین خطرہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے 25 مارچ 2019 ؁ء سے انتخابات کا اعلان پورے بھارت میں کر دیا ہے سوائے 5 صوبوں کے جس میں بی جے پی ہار چکی ہے۔ بھارتی آئین کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے عام انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد بھارتی وزیر اعظم کے تمام اختیارات بھارتی چیف الیکشن کمشنر کو تفویض ہو جاتے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے را کی ہدایات پر نیا ڈرامہ شروع کر دیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سے پاکستان کے خلاف نئی جارحیت کا ارتکاب کرنے کے لئے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اور اس دفعہ بھارت آزاد کشمیر سے مزید بہت آگے علاقوں میں حملہ کرے گا اور یہ متوقع حملہ 10 اپریل 2019 ؁ء سے 16 اپریل 2019 ؁ء کے درمیان ہو گا جس پر اعلیٰ قیادت کے صلاح و مشورے کے بعد وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مورخہ 7 اپریل 2019 ؁ء کو پاکستان کے تمام الیکٹرانک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے اس قسم کی حرکات سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ راقم الحروف کے ذہن میں یہ سوال بار بار گردش کر رہا ہے کہ بھارتی میڈیا غلط بیانی سے کام کر رہا ہے یہ قوی امکانات میں سے ہے کہ بھارت اب کشمیر کے راستے حملہ نہیں کرے گا بلکہ راجھستان سے سندھ کے سرحدی علاقوں بشمول تھرکول پروجیکٹ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنائے گا۔ اس لئے پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی کو چوکنا رہنے کی شدید ضرورت ہے اور بھارتی میڈیا کے غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں