یہ دربارِ’’ الٰہی ‘‘ہے یہاں ملتا ہے بن مانگے(سفرِ سعادت۔ سفرِ حج)

بعض فیصلے لمحوں میں ہوتے ہیں، یہ ایسی ہی گھڑی تھی، ذو القعدہ کے مہینے میں جب ایک ایک کر ہمارے عزیز و اقارب اور سہیلیاں سفرِ حج پر جا رہی تھیں، اور اسلام آباد کے شہر سے درس والی باجیاں رخصت ہو رہی تھیں تو ہماری ناظمہ ضلع نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حج بیت اﷲ پر پروگرام کریں، اس کی تیاری کے لئے جو حدیث النبی ﷺ ہماری نظر سے گزری اسکا مفہوم کچھ یوں تھا: ’’حج اور عمرے زیادہ کیا کرو ، کیوں کہ یہ گناہوں کو جھاڑتے اور فقر کو کم کرتے ہیں‘‘، ہم کتنی دیر اس حدیث کو زیرِ لب دہراتے رہے، اتنا خوشگوار احساس، ایسا لگا کہ نسخہء کیمیا ہاتھ لگ گیا ہو، یعنی مال کی بڑھوتری اور گناہوں میں کمی۔ میاں سے ذکر کیا تو بولے: ’’میرے ذہن میں بھی ہے، مگر ابھی ہم پر ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی تعلیم ہے، انکا مستقبل، اور ابھی تو ہمارا اپنامکان بھی نہیں‘‘ ، جب میں نے کہا کہ میں بڑھاپے میں نہیں جوانی اور طاقت کے ساتھ حج کرنا چاہتی ہوں، اور رسول اﷲ ﷺ کی حدیث یہ ہے تو وہ بھی تیار ہو گئے، اور پھرکئی ماہ کے انتظار کے بعد حج درخواستوں کا مرحلہ آہی گیا، صالحین کے ہمراہ حج کی دعا مانگی، تو الحمد ﷲ ایک سے بڑھ کر ایک ہمسفر کا ساتھ نصیب ہوا۔ کچھ چیزی جو ابتداء میں سمجھ نہیں آئیں اور پریشانی کا موجب بنیں، وقت گزرنے کے ساتھ احساس ہوا کہ وہ بھی بہت بڑی رحمت تھیں، مثلاً حج کی درخواست جمع کروانے کے بعد ’’امید‘‘ کی خبر، جس نے ثابت کیا کہ ضعف در ضعف کے دنوں میں بھی اﷲ نے کس طرح ہر ہر مرحلے پر مدد کی، اور جسمانی کمزوری کسی عمل میں بھی پیچھے رہنے کا سبب نہ بنی، ساتھیوں نے بہت خیال بھی رکھا، اور اﷲ نے حج کے دو ماہ بعد بیٹی کا انعام دیا، جو واقعی اﷲ کا بہت بڑا انعام اور اسکی رحمت ثابت ہوئی، جس کا نام ہم نے زوجہ ابراہیمؑ کے نام پر’’ ہاجر‘‘ رکھا۔
ہم حج کی تیاریوں میں مگن تھے، جانے میں ابھی ایک ہفتہ تھا کہ صاحب کے کسی دوست نے انہیں ایک پلاٹ دکھایا، جس کامالک اسے فوراً ہی بیچنا چاہتا تھا، اور جگہ بھی ایسی جہاں پڑوس میں یونیورسٹی کے کئی اساتذہ آباد تھے، ڈاکٹر طاہر منصوری، سید افضال کاکا خیل اور ڈاکٹر عبید اﷲ صاحب کی ہمسائیگی نے فوراً ہی فیصلہ کروایا، اور ہم بیعانہ جمع کروا کر پلاٹ کی رقم عاطف صاحب کے حوالے کر کے چلے گئے، واپس آئے تو پلاٹ ہمارا ہو چکا تھا، یہ وہ رحمت اور اﷲ کا کرم تھا جو اس مبارک سفر سے پہلے ہی اﷲ نے کر دیا تھا۔
سفرِ حج کے باقی انتظامات بھی ایسے ہو رہے تھے جیسے بند دروازے کسی آٹو سسٹم سے کھلتے چلے جاتے ہیں، میں ان دنوں ایم فل عربی کر رہی تھی، اسلامی یونیوسٹی کے اساتذہ نے میرے سفر کے شیڈول کے مطابق ڈیٹ شیٹ سیٹ کی اور امتحان بھی لے لیا، ڈاکٹر نے حج سفر کے لئے تسلی بخش صحت کا سرٹیفیکیٹ دے دیا، بس ہر طرف ایک ہی پکار تھی، ہر جانب ایک ہی خواہش کا اظہار، ہمیں دعاؤں میں یاد رکھنا، ہمارے لئے بھی حاضری کی دعا کرنا، اس سفر نے ہمیں بھی بہت معتبر بنا دیا تھا۔۔
۱۴ جنوری ۲۰۰۴ کو روانگی سے چند گھنٹے قبل ڈاکٹرمحمد اقبال خان حالیہ پرنسپل شفاء انٹرنیشنل اسلامآباد نے گھر آکر اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ہمیں خود حاجی کیمپ پہنچائیں گے، (ڈاکٹر صاحب انتہائی مصروف شخصیت ہیں)۔
دمِ رخصت بچوں نے ۔ جن میں سب سے بڑی بیٹی ایف ایس سی کی طالبہ تھی، اور چھوٹا بیٹا اڑھائی برس کا۔ کمال صبر کا مظاہرہ کیا، صرف دس سالہ اسماء کے آنسو نہیں رک رہے تھے، اس نے روتے ہوئے کہا، ’’میں رونا نہیں چاہتی مگر میرے آنسو رک نہیں رہے‘‘، بڑابیٹا چوتھی میں پڑھتا تھا، وہ حساب کی کتاب کھول کر بیٹھ گیا، آپ جائیں مجھے ہوم ورک کرنا ہے، (آج ان محبتوں کی قیمت کا احساس بڑھ گیا ہے)، بے جی (بچوں کی دادی جان جو نوے کی دہائی میں تھیں) نے فقط اتنا کہا، بیٹی میری بھی بہت خواہش تھی ا ﷲ کا گھر دیکھنے کی، آپ خوش نصیب ہیں، اﷲ آپ کا حج قبول کرے، آمین۔
سامان حاجی کیمپ ہی میں دن کو پوری تفتیش کے بعد جمع ہو چکا تھا، اب صرف دستی سامان ساتھ تھا، حاجی کیمپ میں بھی بڑی سرکار کے ہاں حاضری کے آداب، فرائض مستحبات پر گفتگو تھی، خواتین کو سر اچھی طرح ڈھانپنے کے لئے تگ و دو میں مصروف پایا، کچھ نوجوان جوڑے بھی تھے زیادہ تر ادھیڑ عمر اور ضعیف افراد تھے، پاکستانی حاجیوں کی ضعیف العمری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کے باشندے جب زندگی کے سارے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر چکے ہوتے ہیں تو انہیں گناہ بخشوانے کے لئے مکہ مدینہ کے سفر پر بھیج دیا جاتا ہے، تاکہ پاکیزہ موت نصیب ہو۔ ان حاجیوں کو دیکھ کر صاحب کو افسوس ہوا کہ ہم بھی والدہ کو ساتھ لے ہی آتے، کچھ بزرگ تو ان سے بھی زیادہ بوڑھے اور کمزور تھے۔
بسیں آئیں تو حج عملے کی طرف سے بڑی عزت سے پکارا گیا، دعاؤں کی درخواست کی گئی، یہی حال ائر پورٹ پر تھا، ہر جگہ آسانی پہنچانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ امیگریشن کروا کر لاؤنج میں پہنچے تو چائے سینڈوچز سے تواضع! یہیں سے احرام پہنا، نوافل اداکئے، ہمارے گروپ کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی، اس سے پہلے صرف ایک ساتھی سے فون پر بات ہوئی تھی، یہاں مسز مغل اور میجر صاحب کی مسز سے بھی ملاقات ہو گئی، جہاز جدہ سے کچھ پہلے میقات سے گزرا تو فضا لبیک اللھم لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھی، ہزاروں فٹ کی بلندی پر اﷲ کی کبریائی بلند کرتے حجاج بہت اچھے لگ رہے تھے، بالکل پرندوں کی مانند!
صبح کی تازگی ابھی باقی تھی جب جہاز جدہ ائرپورٹ پر اتر گیا، باہر نکلتے ہوئے مسافروں کو ناشتے کے ڈبے بھی دیے گئے، اور انتظار گاہ کی جانب جاتے ہوئے ایک ایک گولی کھانے کو دی گئی اور ساتھ میں پانی کی بوتل! یہ سرزمین عرب پر ہماری پہلی ضیافت تھی، اسکے بعد اپنی باری کا انتظار اور باہر نکلنے سے پہلے سامان کی تلاشی! ہمارے ایک بیگ سے تفہیم القرآن کی ایک جلد برآمد ہوئی، اہلکار سے ساتھ کھڑے ساتھی کو دکھائی اور اس نے چھوڑ دینے کا اشارہ کیا۔ باہر نکلے تو جدہ ائر پورٹ کا چھتریوں والا پورا علاقہ یہاں وہاں سفید احراموں سے عجب روشنی پیدا کر رہا تھا، ہم بیٹھ گئے، اور معلمین کی بسوں کا انتظار کرنے لگے، جو نجانے کس سیارے سے آرہی تھیں کہ انکی مسافت ہی ختم نہ ہو رہی تھی، نماز ظہر کا وقت ہوا تو مردوں نے با جماعت نماز ادا کی، پی آئی اے کا دیا ہوا ناشتا بھوک مٹانے کے کام آیا، اسی وقت ہمارے معلم کی بس بھی آگئی، ہم مکہ کی جانب چل پڑے، دل بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھا، کبھی ہم خوبصورت مناظر دیکھتے اور کبھی پردہ گرا کر آنکھیں بند کر کے اس لذت کو محسوس کرتے جو اس مسافت کے ہر مرحلے میں بڑھتی جا رہی تھی، اور پھر بدایۃ الحرم جہاں ’’للمسلمین فقط‘‘ کا نشان تھا، جی ہاں ہم مکہ کے کنارے پر پہنچ گئے تھے، تھوڑی دیر بعد حاجیوں کے غول کے غول نظر آنے لگے، عصر کی نماز کا وقت قریب تھا، ہماری بس کو روک کر معلم کے مکتب میں ضروری کاروائی کی جا رہی تھی، لمحہ لمحہ گزر رہا تھا، وہیں بیٹھے بیٹھے کانوں نے عصر کی اذان سنی، اور پھر اقامت بھی، مگر باجماعت نماز اب بھی نصیب نہ ہوئی، ہوٹل کے سامنے بس رکی، اور سامان اتارا گیا، صاحب نے قریب سے کیلے خرید کر ہماری جانب بڑھائے، حالانکہ اب تو بھوک کا احساس تھا نہ پیاس کا، بس ایک ہی پیاس تھی، پیاسی نگاہیں ایک ہی منظر کی منتظر تھیں!
ہوٹل کی لابی میں داخل ہوئے، لفٹ کی جانب قدم بڑھایا تو استقبالی تختی نے ہمیں اندر تک مسرور کر دیا جس پر لکھا تھا: ’’ضیوف الرحمن‘‘! اﷲ جی ہم آپ کے مہمان ہیں، اور آپ سے بڑھ کر کون میزبانی کر سکتا ہے، ہمیں ۹۱۰ نمبر کمرے کی چابی ملی، ہوٹل میں سامان رکھا، وضو کیا اور چند ثانیے میں ہم لفٹ سے نیچے اتر رہے تھے، میں نے ہولے سے صاحب سے کہا: ’’کسی سے راستہ معلوم کر لیں‘‘، باہر نکلی تو حماقت کا احساس ہوا، رب کے گھر کا راستہ پوچھا نہیں جاتا، یہاں تو سب قافلے سب راستے اسی جانب جا رہے تھے!
ہم ابھی راستے میں تھے کہ اذان مغرب شروع ہو گئی، ایک خوبصورت اور جاندار پکار، رب کی جانب پکارنے کا ایسا انداز کے رگوں میں دوڑتا خون گرم ہو جائے، قدموں میں تیزی آجائے، باب عبد العزیز سے حرم میں داخل ہوئے، صاحب کے احرام کا ایک کونا پکڑے کب تک چلتے، اقامت شروع ہو گئی اور وہ بھیڑ میں گم ہو گئے، ہم نے خواتین کی جانب نماز کی جگہ تلاش کی، مگر کوئی جگہ نہ ملی، میرے ساتھ چلتی خواتین نے اسی گزر گاہ میں صف بنائی تو میں بھی وہیں کھڑی ہو گئی، اندر داخل ہونے والوں کا سلسلہ بھی جاری تھا، رکوع میں سر اگلی خاتون سے ٹکرا رہا تھا تو سجدہ بھی بلی کی مانند خود کو سکیڑ کر کیا، نجانے یہ کیسی نماز تھی، جہاں دل کی حالت بہت خشوع و خضوع چاہتی تھی مگر قدم قدم پر رکاوٹیں تھیں، سجدہ فقہی اعتبارات کے مطابق تھا بھی یا نہیں، ایک کسک سی تھی دل میں، بہت اچھی نماز اور حسنِ عبادت کی کسک!!
نماز پڑھتے ہی صاحب نے ہمیں تلاش کر لیا، ہم ایک ساتھ مطاف میں اترے، بہت پڑھ سن کر گئے تھے کہ کعبے پر پہلی نگاہ ڈالتے ہوئے جو دعا مانگی جائے ضرور قبول ہوتی ہے، کئی پختہ کار لوگ آنکھ نہ جھپکنے کے نسخے بھی بتاتے ہیں، مگر ہم نگاہ جما بھی نہ پائے تھے کہ پیچھے سے آنے والے ریلے نے ہمارے قدم اکھاڑ دیے، اور ہم انکے ساتھ کئی قدم آگے لڑھک گئے، اللھم انت السلام ومنک السلام، تبارکت یا ذا الجلال والاکرام۔ اللھم زد ھذا البیت تشریفا وتکریما وتعظیما ومھابۃ ، وزد من شرفہ وکرمہ ممن حجہ اوعتمرہ تشریفا وتکریما وبرّا، آمین۔
سبز روشنی کے نشان سے طواف کا آغاز کرنا تھا، اسکے قریب آتے ہوئے ہم نے اتنی آواز میں دعا مانگی کہ ہمارے صاحب بھی دہرا لیں: اللھم انّی ارید طواف بیتک الحرام فیسرہ لی وتقبلہ منّی، سبعۃ اشواط ﷲ تعالی۔ بسم اﷲ اﷲ اکبر کہہ کر ہم نے استلام کیا، حجرِ اسود کا نشان سیاہ ٹائل سے نمایاں کیا گیا تھا، اور عین اس مقام پر رش بڑھ جاتا تھا، دھکے بھی لگتے،( بعد کے سالوں میں پہلے تو اس نشان کو کئی ٹائلوں تک چوڑا کیا گیا، اور اب موجودہ مطاف میں ایسا کوئی نشان نہیں ہے، دائیں جانب لگی سبز ٹیوب لائٹس ہی اس کی نشاندہی کرتی ہیں۔)
زندگی کا پہلا طواف تھا، اتنا ازدحام، صاحب کے احرام کا کونا مضبوطی سے تھام رکھا تھا، ہاتھ کی انگلی میں سات دانوں کی تسبیح، اور تسبیح کرتی زبان ،شکر سے معمور اور دعائیں مانگتا دل!اتنے ازدحام میں بھی کیا تنہائی تھی، بس میں اور میرا اللہ!!!
طواف مکمل کر کے ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصّلی‘‘ پڑھتے ہم مقامِ ابراہیم کے عین پیچھے آگئے، دو نفل بھی ادا کئے اور زم زم بھی خوب سیراب ہو کر پیا، اللھم انی اسئلک علما نافعا ورزقا واسعا وشفاء من کل داء۔
اسکے بعد سعی کے رہنما بورڈ پڑھتے ہوئے صفا مروہ کی جانب چلے، ’’انّ الصفا والمروہ من شعائر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔ اور صفا کی پہاڑی کے کنارے سے سعی کا آغاز کرتے ہوئے ابدأ بما بدأ اللہ ، کہہ کر دعاؤں کا آغاز کیا: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر، لا الہ الا اللہ وحدہ، انجز وعدہ، ونصر عبدہ، وھزم الاحزاب وحدہ، کہہ کر سعی کا آغاز کیا۔
طواف اور سعی دونوں ہی اللہ کی یاد کا ذریعہ ہیں، طواف اور نماز میں اتنا ہی فرق ہے کہ نماز کلام کرنے سے ٹوٹ جاتی ہے مگر طواف میں ضروری بات کی جا سکتی ہے۔ سعی بھی طواف کی مانند اللہ کے ذکر اور دعا کا ذریعہ ہے مگر طواف کے لئے وضو کی شرط ہے جو سعی کے لئے نہیں۔ سعی حضرت ہاجر علیھا السلام کی قدر افزائی کا ایک پیارا سا انداز ہے، ایک ماں کی اپنے لختِ جگر کی پیاس بجھانے کے لئے بھاگ دوڑ ۔۔ ایڑیاں رگڑتے بچے کے قدموں سے ایک ایسے چشمے کا پھوٹ بہنا جو صرف اس بچے کی پیاس بجھانے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اس بے آب و گیاہ وادی میں انسانی آبادی کا سنگِ بنیاد بھی ہے ۔۔ اور حضرت ہاجر ؑ کے اس جملے کی عملی تدبیر بھی جو انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے اشارے پر کہ وہ اللہ کے حکم پر انہیں یہاں چھوڑے جا رہے ہیں، جواباً کہا تھا: ’’اللہ انہیں ہرگز ضائع نہ کرے گا‘‘۔ اللہ تعالی نے پانی کے چشمے کو بنو جرہم قبیلے کے وہاں آباد ہونے کا ذریعہ بنایا۔
سعی سے فارغ ہو ئے تو سرشاری کا عجب عالم تھا، ہم نے عمرہ ادا کر لیا تھا، صاحب نے جھٹ پٹ سر منڈوا لیا اور میں نے مروہ کے کونے میں بالوں کی لٹ کاٹ لی۔ وہیں سے باہر ضروریات سے فراغت کے لئے ’’دورات میاہ ‘‘ (یعنی بیت الخلا ) دکھائی دیے، ہم تازہ دم ہو کر حرم کے اندر سے گزرتے ہوئے باب عبد اعزیز کی جانب بڑھ رہے تھے، اور دل چاہ رہا تھا ، ایک اور طواف!!
بن داؤد کے باہر کی ایک دکان سے کھانا لیا، اور جب ہوٹل میں اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچے تو ’’ضیوف الرحمن‘‘ کی پہلی مہمانی منتظر تھی، دو ڈبے گرما گرم بریانی اور پانی! ہمارے منتظم قاضی صاحب کی جانب سے اکرامِ ضیف !!
ہم نے خوب سیر ہو کر کھایا، میرے میاں صاحب نے فریضہء حج کی ادائیگی کی جانب متوجہ کرنے پر بہت شکریہ ادا کیا، ورنہ نجانے کب تک ہم اس نعمت سے محروم رہتے، اور میں بھی ان سب کی شکر گزار ہوں جو اس ترغیب کا ذریعہ بنے۔ہم نے ایک دوسرے کو اپنی دعائیں بتائیں، ہدایت اور خیر کی بہت سے دعاؤں کے ساتھ’’ ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ‘‘ مانگتے ہوئے میاں صاحب کی کچھ دعائیں انکی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور معاش کی آسانیوں کے لئے بھی تھیں، اور جس دعا پر میں بے اختیار ہنس دی تھی وہ اسلام آباد میں دو گھروں کی ملکیت کی دعا تھی، جسے رب نے اگلے چند برس میں عطا کر دیا۔ ربی لک الحمد۔
رات کے آخری پہر آنکھ کھلی ، اور ہم بڑی سرعت سے رحمن کے گھر جا پہنچے، جس کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں، تحیۃ الحرم کے طور پر طواف کیا، اور صبحِ کاذب میں طواف کا اپنا ہی مزا ہے، ’’انّ ناشءۃاللیل ھی اشدّ وطأ واقوم قیلاً‘‘(المزمل)بلاشبہ رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔
طواف کے بعد نماز پڑھنے کے لئے خواتین کے حلقوں میں جگہ کی تلاش کی تو سب کو بھرا پایا، خواتین شرطہ ’’مشی حاجہ مشی‘‘ کی آوازیں بلند کرتی حاجنوں کو آگے سے آگے روانہ کر رہی تھیں، اسی صبح ہم پر انکشاف ہوا کہ مکہ مکرمہ میں داخلے کے ساتھ ہی ہمارا نام ’حاجہ‘‘ یعنی حاجن ہو چکا ہے، پہلی مرتبہ ہم نے بڑی حیرت اور اجنبیت سے اس کلمے کو سنا مگر بعد کے دنوں میں اس تکرار کے ہم عادی ہو گئے، اس صبح ایک شرطہ نے ہمیں ایک جانب کھڑا کیا، ہم نے نماز کی نیت باندھی ہی تھی کہ دوسری شرطہ اس مقام کو راستہ سمجھتے ہوئے ہمیں اٹھانے آگئی، ہمیں نماز میں مصروف دیکھ کر چلی گئی، دوبارہ پلٹی تو بھی قیام جاری تھا، سہ بارہ بھی ۔۔ ہم تو قیام اللیل کے لئے قرآن کے کچھ حصّے یاد کر کے آئے تھے، وہ بڑبڑاتی ہوئی چلی گئی: ’’تقرئین حول القرآن‘‘، تم پورا قرآن پڑھ رہی ہو، یہ جملہ آج بھی مزا دیتا ہے۔
نماز فجر کے بعد راستے میں ناشتا کیا، ہمیں مکہ میں بھی اپنی رہائش کے قریب اسلام آباد ہوٹل مل گیا تھا، پراٹھا انڈا اور چائے، اور مفتے کے طور پر حلوہ!
مکہ میں زندگی کتنی بدل گئی تھی، نہ فکر نہ فاقہ، نمازیں، طواف، تلاوت، کھانا پینا اور سونا ، اس میں اضافی شے پاکستان والوں سے رابطہ تھی، جس میں میری کوشش ہوتی کہ وہ زیادہ بات کر لیں اور وہ مجھے بات کرنے کا موقع دیے رہتے، وہاں سے آنے والی خبریں بھی خوشی اور اطمینان پر مبنی تھیں، الحمد للہ۔
حرم میں داخل ہوتے ہوئے ہی قیام اور واپسی کا پروگرام طے پا جاتا، کبھی نماز سے پہلے اور کبھی بعد میں طواف کی پلاننگ اورباہر نکلنے کے مقام کی تعیین، ہم اکٹھے طواف کرتے، جس سے طمانیت کا احساس ہوتا، لیکن ایک الجھن تھی، طواف کے دوران میں عورتوں کے گروپ کے ساتھ رہنا چاہتی، تاکہ کسی مرد سے ٹکراؤ نہ ہو، اور میرے میاں چاہتے کہ انکے بائیں جانب مرد ہوں، اور غیر شعوری طور پر ہم ایسے ہی کھنچتے رہتے، ایک روز مغرب ادا کرنے کے بعد میں نے طے شدہ شیڈول سے ہٹ کر طواف کرنا چاہا، بس میرے دل میں یہی خواہش ابھری کہ عورتوں کے گروپ میں طواف کر لوں، لیکن مطاف میں داخل ہونے کے بعد اندازہ ہوا کہ میاں کے ساتھ نے مجھے کس قدر محفوظ رکھا ہوا تھا، ہر بار دھکے یا ٹکر کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوتا، میں تیسرے چکر میں تھی، جب میں نے کچھ دیر سے مسلسل ساتھ چلنے والے شخص کو آنکھ اٹھا کر دیکھا تو وہ میاں صاحب تھے، میں نے سات دانوں والی تسبیح سے انہیں تین دانے گرے ہوئے دکھائے، انہوں نے بھی تین انگلیاں دکھا کر بتایا کہ ان کا بھی تیسرا چکر ہے! مجھے ایسا لگا کہ اللہ تعالی نے خواتین کی محرم کے ساتھ حج کی منطق دل میں اتار دی ہے، وللہ الحمد۔
چند دن بعد مدینہ جانے کا وقت آگیا، ہمارا اضافی سامان رات ہی کو جمع کر لیا گیا تھا، وہ کسی اور مقام پر رکھنا تھا، کیونکہ واپسی پر عمرہ کے بعد ہمیں عزیزیہ آنا تھا، اور وہیں سے مناسکِ حج ادا کرنے تھے۔بس مکہ کی سڑکوں پر رینگنے لگی تو بے اختیار آنسو بہنے لگے، ہماری بس شاہراہ الھجرہ کی جانب بڑھ رہی تھی، وہی شاہراہ جس پر رسولِ کریم نے ہجرت کا سفر کیا تھا، جب مکہ سے نکلتے ہوئے آپ ﷺ نے بے اختیار مکہ سے محبت کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا: ’’اللہ کی قسم، مکہ تو اللہ کی سب سے اچھی سرزمین اور میری سب سے زیادہ پسند یدہ جگہ ہے، اور اگر تیرے باشندے مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں کبھی یہاں سے نہ نکلتا۔ (احمد، نسائی)
اسی سفر میں اللہ تعالی نے بھی اپنے محبوب کو مکہ واپسی کی بشارت سورہ قصص کی اس آیت میں سنا کر آپ کو خوش کر دیا:
انّ الذی فرض علیک القرآن لرادک الی معاد۔ (بے شک جس نے آپ پر اس قرآن کو فرض کیام ہے وہ آپ کو ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔) مفسرین کے مطابق اس میں ضمناً فتح مکہ کا اشارہ موجود ہے۔(جاری ہے)

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں