’’مرض لاعلاج ہے‘‘

ملک میں مہنگائی جب بڑھی ہے غریب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس اعلان میں کوئی حقیقت نہیں کہ غریب کے لیے ہم آسانیاں پیدا کریں گے۔آج تک جس نے بھی اقتدار لیا غریب کے زخموں کو تازہ کرکے لیا۔ بندہ کو اچھی طرح یاد ہے 2008 کے الیکشن میں ہم نے اپنے حلقے سے ایک ایم این اے کو بھر پور سپورٹ دی تھی۔جب وہ صاحب ہمارے گاؤں کی اجڑ اور پسماندہ سبزی منڈی کے گراؤنڈ میں گلے سڑے ٹماٹروں، فروٹوں کی بدبو میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے تو ہم نادان انہیں اپنا مسیحا سمجھ بیٹھے۔ بعد ازاں وہ اقتدار میںآئے اورجب تک رہے وہاں کا رخ نہیں کیاجہاں سے انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ ملے تھے۔ پی پی پی دور حکومت میں حج اسکنڈل سامنے آیا تو وہ صاحب بڑے مگر مچھوں میں شامل تھے اور ان کی چھتر چھایا میں حاجیوں کو لوٹا جاتا رہا ۔اب ہم مذہب کے نام پر دولت کدہ بھرنے والوں سمیت ہر اس مکار کا چہرا پڑھ سکتے ہیں جس نے عوامی ہمدردی کا ڈھونگ رچا رکھا ہو۔
یہ لمحات عام آدمی کے لیے کرب کا باعث بنتے ہیں۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عام آدمی قانون کی بالادستی نہیں چاہتا؟وہ چاہتا ہے کہ قانون لاگو کیا جائے،تھونپا نہ جائے۔معاشی عدم استحکام کا زہر لیے جب کوئی قانو ن کی گرفت میں آتا ہے توپھر وہ قانون کا مساواتی عمل دیکھنا چاہتا ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ عام آدمی پر قانونی گرفت کا شکنجا جتنا مضبوطی سے جکڑا جاتا ہے ،بڑے مگر مچھوں کو اتنی ہی آسانی سے راہ فرار دے دی جاتی ہے۔سرکاری اہلکار شیر کی طرح غریب پر حملہ کرتے ہیں جس سے غیر منصفانہ ماحول پید اہوکر امیرو غریب کے درمیان ایک ناختم ہونے والی خلیج پیدا ہوجاتی ہے۔کیا غیر منصفانہ ماحول کی افزائش اور اس سے جنم لینے والے بھیانک جراثیم کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ؟ اگر ہے تو اس پر جامع حکمت عملی کیوں نہیں اپنائی جاتی؟ غریب اور امیر کے بیچ کا وہ کالا قانون کیوں ختم نہیں کیا جاتا جس سے ایک حسین معاشرہ وجود پذیر ہو سکتا ہے۔
عام آدمی فکر معاش کے لیے صبح گھر سے نکلتا ہے تواسے اپنے بچوں کی روزی روٹی کی تلا ش ہوتی ہے ۔ اگر شہر کے کسی سگنل پر اس کا چالان کٹ جائے ۔ جیب میں وہی جمع پونجی ہو ،جو وہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کما کر لارہا ہو ۔اورقانون کی آڑ میں ریاست اسے اس حق سے محروم کردے تو کیا وہ قانون کی عزت کرے گا؟ کسی سرکاری اہلکار کو دیکھ کر اسے تحفظ کاحساس ہوگا؟اس کے دل میں کسی پولیس اہلکارکی محبت موجزن ہوگی ؟ یہی وجہ ہے کہ غیر ذمہ دارانہ روش نے معاشرے کو ،سماج کو تہس نہس کردیا ہے۔غریب کی سانس روزی روٹی میں اٹکی رہتی ہے۔کبھی بچوں کی اسکول فیس کا مسئلہ۔کبھی صحت کے مسائل۔ ناجانے اورکتنے دل چیر ان گنت مصائب کے تختوں پہ وہ جھول رہا ہوتا ہے۔ایسے میں ریاست کی ’’قانونی ‘‘کاروایاں اسے ر یاست سے باغی ہونے ،خود کشی کرنے پہ مجبور کرتی ہیں۔عدل کا تعلق صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔انصاف کے ترازو کا پلڑایک طرفہ نہیں جھکنا چاہیے ۔ قانون کی بالادستی بلا تفریق کورٹ سے سگنل تک یکساں ہونی چاہیے۔زندگی کے ہر شعبہ میں ،سرکاری ہر ایک ادارے میں منصفوں کے فقدان کو ختم کرنا ریاست کا فرض ہے۔ریاست اپنا فرض پورا کر لے معاشرہ بے مثال ہو جائے گااورجرم اپنا بوریا بستر گول کر جائے گا۔
ایک رکشہ ڈرئیور جب بار بار کے چالان سے تنگ آکر خودکو آگ میں جھلسا دیتا ہے ۔ریاست اسے انصاف دینے سے قاصر نظر آتی ہے ۔اس معاملے میں ریاست گناہ گار ہوگی۔ ا س لیے کہ ملک میں مہنگائی،بے روزگاری ، اقربا پروری ،غیر منصفانہ نظام ، عدم مساوات پر مبنی قانون کانفاذ عام ہے۔ غریب لاقانونیت کی شمع کا پروانا بن چکا۔ یہ چاہ کر بھی دور نہیں جا سکتا۔ اس کااسی میں جلنا مقدر ٹھراہے۔ لیکن اگر کوئی غریب’’چالو‘‘قانون کی گرفت میں آجایے ،جہاں وہ دیکھے کہ انصاف بکتا ہوا نظر آرہا ہے۔ عام آدمی تو یہی سوچے گا کہ مجھے اسی جینا ،اسی میں مرنا ہے ۔ لاقانونیت کے اس جنگل میں غریب کی فرار ممکن ہی نہیں۔ایک دفعہ گھس گئے تو واپسی چار پائی پر ہوتی ہے۔ایسے ہزاروں کیس ہیں کہ مرنے کے بعد ذرائع بتاتے ہیں مجرم بے گناہ تھا۔ ریاست چاہے تو غلطیاں سدھار سکتی ہے۔۔ غیر متزلزل نظام کی دیواریں درست کی جاسکتی ہیں۔
روزی روٹی کی فکر کے ساتھ کیا غریب قانونی شکنجوں میں زندگی کی بازی لگانے کا متحمل ہو سکتاہے؟جس کمالِ ہوشیاری سے غریب کی جیب خالی کر لی جاتی ہے اس سے انسانی انتشار کا در کھلتا ہے ۔دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں اگر قانون کی حکمرانی یکساں ہوتومسائل جنم لیتے ہیں؟ ہم جیسا عامی آدمی غریب کی بقا ء اسی میں سمجھتا ہے کہ عوامی مسائل کس حد تک کم ہوئے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے جہاں اس پر ظلم ہو ،ظالم طاقت ور ہو تو وہ بدلہ کسی نا کسی صورت اپنے سے کمزرو سے سود سمیت وصول کرتا ہے۔یہ عمومی رویہ معاشرے کی گہرائی میں گھر چکا ہے۔ گھروں میں ناچاکی ،اولاد نالائق ، آفس اسٹاف کام چور ، دکان دار سود خور ، کاروباری طبقہ کرپٹ ،سیاست دان مفاد پرست اور ناجانے کتنے زہر ہماری رگوں میں سرایت کر چکے ہیں۔مرض لاعلاج ہو چکا ہے ۔طبیب ہاتھ کھڑے کر چکے ہیں ۔ہم نے اگر عمومی عوامی سطح پرمنصفانہ قانون کا نفاذ کر دیا تو سسٹم خوبخود تندرست ہو جائے گا۔

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں