جامعات  کے نام

 فزکس میں پڑھا تھا کہ پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ دنیا فلیٹ ہے بالکل فلیٹ جوتے کی مانند جو ایک طرف سے شروع ہوتا اور دوسری طرف ختم ہو جاتا ہے ( اب اس کی اردو تک میری رسائی نہیں) مگر بعد کے آنے والے سائنسدانوں نے ثابت کیا کہ دنیا گول ہے ،آپ گھوم پھر کر اسی جگہ پر آتے ہیں جہاں سے آپ نے سفر شروع کیا تھا۔

اسے پڑھا تو تھا مگر حتمی یقین کا کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا مگر جامعہ گجرات کی مہربانی سے اب یہ یقین حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جامعہ میں داخلہ لینے سے پہلے ہی کچھ دوستوں نے ہمارے پاگل پن کو دیکھ کر خوشخبری دے دی تھی کہ وہاں ہم جیسوں کےلیے بےشمار علاج خانے موجود ہیں جنہیں ہم سوسائٹیز کہتے ہیں ۔

پڑھائی سے تو ہم ایف ایس سی کے مارے پہلے ہی اکتائے ہوئے ہوتے ہیں سو اس کی بات ہی چھوڑیئے ۔ ٹکٹ کٹانی  پنجاب کی تھی کٹ گجرات کی گئی ، پر جو اوپر والے کی مرضی– سو  داخلہ لیے اور لاکھ ارمان سجائے جامعہ تشریف  لاتے ہیں ،  ساری زندگی بس کے پاس سے گزرنے پر ڈرتے رہے تھے  مگر پہلے ہی دن بس میں  ایسے دھکے کھائے کہ عقل ٹھکانے آ گئی،گھر جا کر اماں جی کے سامنے خوب روئے  ہمیں نہیں جانا جامعہ گجرات ہمیں پنجاب جانا ہے، اماں جی نے دو جوتے لگائے، اثر ایسا ہوا کہ اگلے دن آدھا گھنٹہ پہلے ہی بس کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ ساری اسکول اور کالج لائف دوسروں کو ایتھکس سکھاتے رہے اب یہاں اپنے ایتھکس بھی خطرے میں پڑ گئے تھے ۔ خیر آتے ہی سب سے پہلے تو ہمیں صفائی کا خیال ستانے لگا ،ڈیپارٹمنٹ میں بوڑد پر صفائی مشن چلایا مگر قابل احترام  قلم کاروں نے اپنے خلائی قلموں سے اسے پل بھر میں ناکام بنا دیا ،پھر ہم نے ہم جماعتوں سے صاف کہ تھا بھئی گھر سے شاپر لایا کریں گے اور اس میں کاغذ رکھا کریں گے ابھی یہ بات جاری ہی تھی کہ ہمارے دلعزیز دوست جن پر ہمیں خود سے زیادہ بھروسہ تھا، نے ہمارے بستہ سے نکلے چپس کے پیکٹ کو لقمہ اجل بنا کر فرش واصل کر دیا اور ہم وہیں دانت پیستے رہ گئے ۔

پھر ہم نے اس خواب کو خواب ہی رہنے دیا اور اپنا دھیان اور جگہ بٹانے کی کوشش کی کہ ایسے میں  علاج خانوں میں داخلے کھولنے لگے میرا مطلب سوسائٹیوں کے انٹرویو ہونے لگے، ہم جوش میں آ کر ہر جگہ داخلے کے فارم بڑھتے رہے اور  وہ بھی اونچے عہدوں پر ، چند ایک نے یہ ستم برداشت کر لیا مگر باقیوں نے صاف کہہ دیا بہن ابھی آپ کی بیماری اینشل سٹیج پر ہے اس لیے آپ کو اتنے ہائی کوالیفائیڈ علاج کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم پھر بضد رہے کہ اعلی علاج نہ صحیح،  اپنے حلقے میں ہی شامل کر لیں بادل نخواستہ  ان میں سے کئی کو کرنا پڑا اور ہم اسی پر خوش ہو گئے۔ ہمیں  علاج سے زیادہ  اس بات سے دلچسپی بھی کہ اس کار خیر کے پیچھے کن نیک  لوگوں کا ہاتھ ہے یہ کسی راز سے کم نہیں لگ رہا تھا مگر ایک سیمسٹر نے مجھ پر یہ راز افشا کر دیا( وہ والی افشاں نہیں) مطلب واضح  کر دیا اور یہیں سے مجھے دنیا گول ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے جسے اگر میں  پیش کروں تو  شاید مجھے نوبل انعام کا حقدار قرار دے دیا جائے، امید پر دنیا قائم ہے ۔

جی دراصل حقیقت کچھ یوں ہے کہ  یہ چند دیوانوں کی ٹولی ہے جنہیں چین سے جینا بلکل پسند نہیں، یہ ہر جگہ بھاگتے دوڑتے ہی ملتے ہیں، ساری جامعہ ایک طرف مزے سے کیفے میں بیٹھ کر چائے سموسے کھا رہی ہوتی ہے اور یہ الگ جھنڈ بنائے دماغ کھپا رہے ہوتے انہیں شاید امانت کی پاسداری کا اتنی آگاہی  نہیں اس لیے دماغ استعمال کرتے ذرا نہیں سوچتے کہ واپس بھی کرنا ہے ۔ صد حماقت کہ یہ ٹولی ہر جگہ یہاں وہاں ہر جگہ پائی جاتی ہے اور یہ سب علاج خانے جامعات میں جو پائے جاتے ہیں  انہی کے دم سے قائم اور آباد ہیں اور ہم جیسے بھی ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں، عہدے الگ ، رتبے الگ مگر چہرے وہی جانے پہچانے ہر طرف دکھائی دیتے ہیں ۔ آخری انٹرویو کے محاذ کے بعد جیسے ہی نارمل ماحول میں قدم رکھتی ہوں دوست پوچھتے ہیں کیا ہوا ، تو بس یہی کہہ پاتی ہوں کہ یہ چند شریر لوگوں کی سازش ہے  ابھی یہ الفاظ زبان سے نکلتے ہی ہیں کہ علاج خانوں کی ایجنسی اس راز کے افشا کرنے پر  ہائی کورٹ کی اندھیری  جیل میں بند کردیتی ہے لاکھ منتوں کے بعد رہائی اس شرط پر دی جاتی ہے کہ کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ اگر ان دیوانوں کو کہیں  ذرا سا موقع مل جائے سہی،  دنیا ہلا کر رکھ دیتے ہیں مگر  سچ تو یہ ہے کہ  ان دیوانوں کی وجہ سے ہی دنیا میں امید کی کرن دائم و آباد ہے ۔

اس تحریر کا مقصد کسی صورت میں  کسی شخص یا طبقے کی دل شکنی  کرنا ہرگز  نہیں ہے، صرف ماحول میں مزاح  کا پہلو پیدا کرنا اور تخلیقی عمل کی آزمائش ہے ،بہت شکریہ ۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں