اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا

شہر کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے شاید آپ کی نظر سے بھی وہ اشتہاری بورڈ گزرا ہو گا جس میں ایک دلہن  ہاتھ پھیلائے دھوپ کا چشمہ لگائے کھڑی ہے اور اس کے عقب میں لکھا  ہے”اپنی شادی سے بھاگنا ہو تو کریم بائیک کرو” ۔اللہ بھلا کرے کس قدر درد دل رکھنے والوں کی ہے یہ کمپنی  جنہوں نے بائیک سروس شروع ہی اس وجہ سے کی ہے کہ لڑکیاں اپنی شادی سے باآسانی بھاگ سکیں، سات کیا سات سو توپوں کی سلامی کے مستحق کیوں نہ ہوں اس سروس کے مالکان جنہوں نے قوم کی بیٹیوں کے بارے میں اس قدر سنجیدگی سے سوچا۔ تفنن برطرف  ،بندہ پوچھے ان سے کہ آپ کی اس عظیم خدمت کا کیا ایک یہی مقصد ہے؟ کیا ایک یہی فائدہ ہے جو اٹھایا جا سکتا ہے؟ اشتہار سازی  ایک حساس کام ہے، لوگوں کی رائے بنانا کہ ہماری پراڈکٹ  یا سروس آپ کی ضرورت ہے، ایسے کہ انہیں یہی اپنی ضرورت لگنے لگے۔

بظاہر مذاق نظر آنے والا یہ ایک جملہ درحیقیقت انتہائی سنجیدگی سے ہماری معاشرتی  اقدار و روایات پہ کیا جانے والا حملہ ہے، میں نے ایک 14 سالہ لڑکی کو یہ اشتہار دکھا کر پوچھا کہ اس اشتہار کو دیکھ کر کیا خیال آتا ہے؟ جواب آیا کہ شادی سے بھاگنے کا سب سے آسان طریقہ کریم کی بائیک ہے۔ غور کیا جائے تو اس جواب میں کیا کچھ نہیں چھپا ہوا! یعنی شادی سے بھاگنا ایک قطعی قابلِ قبول عمل ہے، جس مسئلے پہ سوچنا ہے وہ ہے بھاگنے کا طریقہ کار۔حیرت اس بات کی ہے کہ یہ بورڈ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شاہراہوں پہ لگا ہے ،اور اسےدیکھنے اور اس پہ قدم اٹھانے والے کوئی اربابِ اختیار نہیں ہیں، اس کی مد میں چارجز  لینے والے تو یقینناً ہوں گے،لیکن شاید  ان کی ذمہ داری ٖصرف وصولی تک ہی محدود ہو گی ۔کریم کے اپنے  مالکان کی نظروں سے یہ اشتہار  گزرے بنا ہی بورڈ کی زینت تو نہیں بن سکتا، افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں بھی اس بات احساس نہیں ہوا کہ اس ایک جملے میں کیا کچھ موجود ہے ۔ اسی کمپنی کا ایک اشتہار گزشتہ برس آیا تھا جس میں اسی بائیک سروس کے حوالے سے کافی مناسب الفاظ میں پیغام دیا  گیا تھا، کیا ہی اچھا ہوتا اگر اسی طریقے کو جاری رکھا جاتا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی خدمات پیش کرنے والے ادارے معاشرے میں آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ، لیکن انہیں اس بات سے آگاہ ہوجانا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام جو عرفِ عام میں آپ کے صارف ہیں اس  عمل پہ رد عمل کا بھرپور حق رکھتے ہیں ،ہم ایک صارف کی حیثیت سے اپنا احتجاج زبانی بھی ریکارڈ کروا سکتے ہیں اور عملی بھی،لہٰذا ہمدردانہ گزارش ہے کہ فوری طور پہ کریم سروس کے اربابِ اختیار اس مذموم اشتہار کا نہ صرف نوٹس لیں بلکہ عوام سے معذرت بھی کریں، دوسری جانب خوابِ غفلت میں مدہوش حکمران بھی آنکھیں کھولیں جنہوں نے اسلامی جمہویہ پاکستان کے آئین کی رِٹ قائم کرنے کے لئے اللہ کو حاضر و ناظر جان کے حلف اٹھایا ہوا ہے۔ تیسری جانب عوام بھی اپنی اقدار کی حفاظت کے لیئے  صرف حکمرانوں کی راہ تکنے کے بجائے میدانِ عمل میں آئیں اورمتعلقہ عہدیداران تک اپنی آواز پہچائیں۔

حصہ

1 تبصرہ

  1. salam alikum Janab mery nazdeek yeh paigahm larkon ke leye hai kyun ke jab ik cheese ke do mafhoom nikal ty hon to rajih mafhoom apnana chaiyee abhi humamara mulk is nehaj pr nahi poncha hai berbadi ke or waisy bhi koi izzat dar orat aisa karney see pehley das martaba sochey gi chaeye wo defense men rehny wali ho ya kisi choty ilaqey men rehny wali ho

Leave a Reply to arsalan shah جواب منسوخ کریں