سوشل میڈیا۔۔۔احتیاط لازم ہے

موجودہ دو ر جدید تیکنیکوں کا دور ہے، جہاں انسان  نت نئی ایجادات اور ٹیکنا لوجی سے مستفید ہورہا ہے۔ بات اگر جدت کی ہو تو شاید ہی آج کوئی ایسا شعبہ زندگی ہوگا، جو اس سے محروم ہو۔ دیگر شعبوں کی طرح موجودہ مواصلاتی نظام بھی بدل گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب انسان پیغام رسانی یا یاد دہانی کے لئے اہم باتیں جانوروں کی ہڈیوں پر مختلف اشکال کی صورت میں نقش بند کرتا تھا، پھر وقت بدلا اور کاغذ کی ایجاد کے بعد یہ کام نہایت آسان ہو گیا، پرنٹنگ پریس نے تو جیسے انسان کو  ’پر‘  لگا دئے ہوں، پلک جھپکتے ہی کسی بھی مواد کی ہزاروں کاپیاں تیار ہوجاتیں، بعد ازاں کمپیوٹر اور انٹرنیت کی ایجاد نے مواصلاتی نظام کی شکل ہی تبدیل کر دی ہے۔ پہلے جو پیغام دنوں یا گھنٹوں میں بھیجا جاتا تھا۔ وہ ان کی ایجاد کے بعد چند منٹوں میں بھیج دیا جاتا ہے، پھر چاہے پیغام وصول کرنے والا دنیا کے کسی بھی حصے میں کیوں نہ ہو، صرف یہ ہی نہیں بلکہ مختلف سہولیات کے باعث اس پر آنے والی لاگت بھی کم ہو گئی ہے۔ تو دوسری طرف بیشتر ایپلیکیشن مفت میں میسر ہیں۔ جن میں فیس بک،  یو ٹیوب،  واٹس ایپ،  ٹوئٹر،  اسنیب چیٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ جہاں صارفین نہ صرف اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں بلکہ دن بھر کی سر گرمیوں کو بھی اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب کے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔

ان تمام ایپس میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپلیکیشن فیس بک ہے،  یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں صارفین پوسٹ کے ذریعے اپنے جذبات اور رائے کا اظہار تو کرتے ہی ہیں، ساتھ ہی من پسند تصاویر اور ویڈیو بھی شئیر کرتے ہیں، جس کے لائیکس اور کمنٹس کا نا فہم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات صارفین کو لائیکس اورکمینٹس کا ایسا چسکا لگتا ہے کہ وہ دھڑا دھڑ پوسٹس شئیر کرتے ہیں۔ جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انکے پاس کرنے کے لئے کوئی دوسرا کام ہی نہیں ہے۔ وہ کمینٹس اور لائیکس کے چکر میں اکثر اوقات اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، جس کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ سماجی رابطوں کی سائٹ ہے، جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ آپ جو بھی چیزیں شئیر کرتے ہیں وہ صرف آپ کے اہلِ خانہ یا حلقہ احباب تک محدود نہیں ہوتا۔ بلکہ انجان صارفین بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔ اسے اپنی وال پر شئیر کر سکتے ہیں۔ اس طرح انکی تصاویر یا ویڈیو ز پل بھر میں ہی وائرل ہوجاتی ہے۔ وائرل ہونے والی پوسٹ پر ماہر سافٹ وئیر / آئی ٹی کے بغیر قابو پانا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات وائرل ہونے والی تصاویر کسی کی زندگی بنا دیتی ہیں تو کسی کو بگاڑ دیتی ہیں۔ بلاشبہ  ”سوشل میڈیا“  ایک جادو ہے، لہٰذا اسے پوری طرح سیکھ اور سمجھ کر استعمال کریں، ورنہ یہ آپ پر پلٹ بھی سکتا ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں