ہمیں سوچنا ہوگا

یہ 11 ستمبر 2001 کی ایک مصروف صبح تھی، 8:46 کا وقت تھا، لوگ روز کی طرح اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ نیویارک کے مین ہٹن میں کاروبار زندگی اور زندگی کی رعنائیاں جاری وساری تھیں کہ اچانک دنیا کی طویل ترین عمارت “ورلڈ ٹریڈ سینٹر” سے یکے بعد دیگرے 2 جہاز ٹکراگئے۔ مزید ایک اور جہاز امریکا کے فوجی ہیڈ کوارٹر  پینٹاگون سے بھی ٹکرا یا اور اس کے بعد کی باقی ساری کاروائی بھی “منصوبہ بندی” کے عین مطابق انجام دے دی گئی۔

ان تینوں جہازوں کا تعلق امریکن ائیر لائن سے تھا۔ یہ تینوں جہاز امریکا کے ائیر پورٹس سے اڑے اور ان میں سے بھی ایک طیارہ امریکا کے حساس ترین فوجی ہیڈ کوارٹر سے ٹکرایا جبکہ چوتھے جہاز کو اسٹونی کریک ٹاؤن شپ، شینک ولی، پنسلوانیا کے نزدیک تباہ کردیا گیا اور اس جہاز کا تعلق بھی امریکن ائیر لائن سے ہی تھا لیکن اس سب کی تحقیقات کرنے کے بجائے “پلان” کے عین مطابق سارا ملبہ ائیرپورٹس، جہازوں اور ٹیکنالوجی سے محروم مٹی اور دھول میں اٹے افغانستان کی طالبان حکومت، ملاعمر اور اسامہ بن لادن پر لاد دیا گیا۔

پوری دنیا نے اپنا دل، دماغ، آنکھیں اور کان امریکا کے پاس گروی رکھوادئیے اور بغیر کسی سوال و جواب کے اور بے سوچے سمجھے ایک نہتے اور وسائل سے یکسر محروم  ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ ہمارے “بہادر فوجی کمانڈر و صدر” کو تورا بورا بننے سے ڈر لگتا تھا اسلئیے انھوں نے کولن پاول کی سات کی سات شرائط بے چوں چرا مان لیں ۔ نہ صرف اپنی سر زمین افغانستان کے مسلمانوں کے  خلاف امریکا کے حوالے کردی بلکہ بھاڑے کے ٹٹو بن کر اپنے، پرائے ، سفیر و مسافر کو دنیا کے ہر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکا کے حوالے کردیا۔

دنیا کے 48 ممالک پر مشتمل ناٹو اتحاد، پوری اقوام متحدہ، ویٹو پاورز، اور ساتوں ایٹمی قوتوں نے طالبان، ملا عمر اور اسامہ بن لادن کے خلاف اتحاد کرلیا۔ پوری کی پوری دنیا ایک طرف اور دھول اڑاتا افغانستان دوسری طرف۔ اس وقت ملاعمر نے تاریخی جملہ کہا اور بولے؛ “یہ دہشتگردی کی نہیں باری کی جنگ ہے، آج ہماری ہے کل تمھاری آئیگی، ہم تو زمین پر ہی رہنے اور زمین پر ہی سونے والے لوگ ہیں۔ زمین میں ہی مل جائینگےلیکن آپ کوعالی شان محلات اور اپنی اونچی  اونچی عمارتوں میں رہنے کی عادت ہے۔ جب آپ کی باری آئیگی تو آپ کی چیخیں نکل جائینگی”۔

اور پھر اصحاب کہف کی طرح تین سو سال بعد نہیں، موئن جو دڑو کی طرح 4500 سال بعد نہیں، جی ہاں صرف 17 سال بعد دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور “اجڈ، جاہل، گنوار، ان پڑھ اور وسائل سے محروم” طالبان سے امن کے طلبگار ہیں۔ اپنی عزت اور اپنے فوجیوں کی جان کی حفاظت کی امان پانے کے لئیے بے تاب ہیں، کبھی قطر اور کبھی ماسکو میں لمبی لمبی ڈاڑھیوں اور اونچی اونچی پگڑیوں والوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔

یہ 24 نومبر 2015 کا دن تھا۔ روسی ائیر کرافٹ شام کے بارڈر سے اچانک ترکی کی سرحد میں داخل ہوگیا، ابھی اس ائیر کرافٹ کو بمشکل 17 سیکنڈ بھی نہ گذرے تھے کہ ترکی کے ایف – 16 طیارے نے اس ائیر کرافٹ کو پائلٹ سمیت مار کر گرادیا۔ دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور الٹی لٹک گئی لیکن ترکی نے نہ معافی مانگی اور نہ ہی اپنے رویے میں لچک کا اظہار کیا بلکہ بالکل صاف الفاظ میں روس کو خبردار کردیا کہ ترکی کی سلامتی پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دینگے۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ صورتحال اس وقت پیش آئی جب 15 جولائی 2016 کو طیب ایردوان کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور اس بغاوت کا پردہ روس کی خفیہ ایجنسی نے چاک کیا جس ہوٹل میں طیب ایردوان کو گھیر کر مارنے کی پوری منصوبہ بندی ہوچکی تھی وہاں ایردوان کے اینٹلی جنس آفیسر کو روس کی خفیہ ایجنسی کے ذریعے معلوم ہوا کہ یہاں صدر ترکی کا قتل ہونے والا ہے اسلئیے یہاں سے نکل جائیں اور ایردوان کے نکلنے کے ایک گھنٹے بعد باغی فوجی وہاں پہنچ چکے تھے۔روس نے بتایا کہ اس ساری بغاوت کی منصوبہ بندی امریکا کے سفارت خانے میں کی گئی اور آپ کے ملک سے فتح اللہ گولن اور اس کے پیروکاروں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔یہ روس کا ترکی پر اور خاص طور سے طیب ایردوان پر بہت بڑا احسان تھا۔ کیونکہ ترکی 2012 میں اپنا کشکول توڑ کر جی – 18 میں شامل ہوچکا ہے ، سیاسی، معاشی، تعلیمی ، فنی اور ایمانی ہر لحاظ سے اپنی غیرت کا ثبوت دے رہا ہے اسلئیے کسی مائی کے لعل میں ہمت نہیں ہے کہ وہ ترکی کو آنکھیں دکھا سکے۔

کمال یہ ہے کہ  بے چارے طالبان نے تو معاشی اور سیاسی لحاظ سے تو کچھ بھی نہیں کیا لیکن غیرت ایمانی، جذبہء جہاد اور شوق شہادت نے پوری دنیا کی ٹانگیں تھرا کر رکھ دی ہیں اور بدقسمتی سے ہم ہر لحاظ سے “بےغیرتی” اور “بے حسی” کے اعلی ترین مناصب پر براجمان ہیں ۔ہم معاشی اور سیاسی طور پر بھی اتنے بودے اور کمزور ہیں کہ ہم 24 گھنٹے کے لئیے بھی اقوام عالم کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم سعودی وزیر خارجہ کے پاکستان آنے سے پہلے ہندوستان کا پائلٹ  بغیر کسی درخواست اور معافی نامے کے رہا کردیتے ہیں اور سعودی وزیر خارجہ صرف ہندوستان آکر واپس چلا جاتاہے۔ہم جن کے لئیے گاڑیاں چلا چلا کر اور پورے ملک کو ان کی خوش آمدی اور خوش آمدیدی میں لگاتے ہیں وہ بھی عین جنگ کے حالات میں ہمارے دشمنوں کو او – آئی – سی کے اجلاس میں بلا کر ہمارے خلاف تقریر کرواتے ہیں۔

ہماری ایمانی غیرت کا تو یہ حال ہے کہ کل الیکشن تک جس “ملی مسلم لیگ، جماعۃ الدعوہ  اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ” کے بینروں کے سائے میں ہم نے الیکشن لڑا تھا۔ جس حافظ سعید اور مسعود اظہر کو ہم  نے ملک کا محافظ اور  مجاہد اعظم قرار دیا تھا اور ہم جن کے پاؤں دھو دھو کر پینے کو تیار تھے ، آج ہندوستان اور امریکا کی ایک فون کال پر ہم ڈھیر ہوگئے۔

کاش کوئی ہمارے حکمرانوں کے بتائے کہ جنگیں جے – ایف 17 تھنڈر، ایف – 16، بحری آبدوزوں  اور ایٹم بموں سے نہیں لڑی جاتی ہیں بلکہ یہ ایمانی غیرت  اور حمیت ہوتی ہے جو دنیا کے سات ایٹمی قوتوں کو بھی “اجڈ اور گنوار” لوگوں کے سامنے ہاتھ بندھوا کر کھڑا کردیتی ہے۔ یہ اللہ پر پختہ یقین، اپنے زور بازو پر بھروسہ اور اپنی عوام سے بے لوث محبت ہوتی ہے جو دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کو بھی آپ کے لئیے جاسوسی کرنے اور انٹیلی جینس شئیرنگ پر مجبور کردیتی ہے اور پھر ساری دنیا مل کر بھی آپ کا کچھ نہیں اکھاڑ سکتی۔ ورنہ ہم جیسی عزت اور غیرت سے عاری قومیں تو ایک سپر پاور کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری سپر پاور کی منتظر رہتی ہے کہ اب کس کی فون کال پر ہمیں چت لیٹنا ہے؟ ہمیں بحثیت قوم سوچنا ہوگا کہ کم کہاں جارہے ہیں اور ہماری منزل کیا تھی؟

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں