طلبہ مطالعہ کیوں اور کیسے کریں؟

علم رب ذوالجلال کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔علم ہی کی ذریعے دنیا و آخرت کی فوز و فلاح حاصل کی جاسکتی ہے۔علم کو نہ تو دولت و طاقت کے بل پر حا صل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی وجاہت اور اقتدار کے ذریعے۔صرف تمناؤں اور آرزؤں کے ذریعہ بھی حصول علم ممکن نہیں ہے۔علم کا حصول ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ دولت انھیں عطا کی جاتی ہے جو اس کی سچی طلب رکھتے ہیں اور اس کے حصول میں ہمہ تن مصروف و مشغول رہتے ہیں۔ علم کی ترقی اور استحکام میں مطالعہ کی اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔ مطالعہ علم کی فروانی اور افزائش کا ذریعہ ہے۔علمی ترقی و عروج کا راستہ مطالعہ و کتب بینی سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔مطالعہ و کتب بینی کے بغیر علم میں نکھار و کمال ناممکن ہے۔مطالعہ کی عادت کے ذریعہ ہی طلبہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور علم و حکمت کے نوادرات کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ہم سے پہلے کے زمانے کے طلبہ میں مطالعہ کا جو ذوق و شوق پایا جاتا تھااب وہ ناپید ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔سخت کوشی کے بجائے طلبہ تن آسانی کا شکار رہورہے ہیں ۔ہمارے اسلاف جو راہ علم میں تکالیف برداشت کرنے میں مشہور تھے آج ہمارے طلبہ سخت کوشی کے بجائے تن آسانی کو اپنائے ہوئے ہیں۔سخت کوشی اور مطالعہ کی کمی کے باعث ہمارے طلبہ زندگی کے بلند مقاصد سے نا واقف ہیں۔ان کا علمی تبحر اور دائرہ علم بہت ہی محدود ہوچکا ہے۔طلبہ اپنی قیمتی اوقات کو فضول تعلقات اور فضول گفتگو کی نذر کررہے ہیں۔لایعنی گفتگو اور لایعنی تعلقات ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو کسی کام کا نہیں رکھتا۔طلبہ کتب بینی اور مطالعہ کو اپنے روزمرہ کا معمول بنالیں تاکہ ان میں علمی تازگی باقی رہے اور ان کے علم میں روز افزوں ترقی ہوسکے۔مطالعہ کو صلاحیتوں کی بیداری کا ایک اہم وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔کتب بینی اور مطالعہ نہ صرف طالب علموں کے لئے ضروری ہے بلکہ اساتذہ اور عام افراد کے لئے بھی کتب بینی اور مطالعہ نہایت ضروری ہے کیونکہ مطالعہ انسانی فکر و نظرمیں وسعت پیدا کرنے کا موجب ہے۔ہر زمانے میں کتاب کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے کتابوں کو بہترین دوست مونس و غم خوار قرار دیا تھا۔حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا فرمان ہے’’ میں نے قبر سے زیادہ واعظ ،کتاب سے زیادہ مخلص دوست اور تنہائی سے زیادہ بے ضرر ساتھی کوئی نہیں دیکھا۔‘‘ حضرت ابوالعباسؒ کا قول ہے کہ ’’کتابوں سے کسی فتنے اور بدمزگی کا اندیشہ نہیں ہوتا ،اور نہ اس کی زبان اور ہاتھ سے کوئی خطرہ ہوتا ہے۔‘‘فارسی کا ایک معروف قول ہے کہ ’’ہم نشینی بہ از کتاب مخواہ کہ مصاحب بودگاہ و بے گاہ۔‘‘)ترجمہ؛کتاب سے بہتر کوئی ہم نشین تلاش کرنا فضول ہے، یہ ہر موقع پر ہی ساتھی اور رفیق ہے۔‘‘سکندر نے اپنے کتب خانے کو روحانی معالجہ کا نام دے رکھا تھا۔کارلائل کے مطابق’’کتاب دماغ کے لئے ایسی ہی ضروری ہے ،جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے۔‘‘مطالعہ کے لئے کتاب ضروری ہے اور کتاب وہ واحد ذریعہ ہے جو حصول علم میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔آج کا دور معلومات کے حساب سے (Kknowledge Explosion)علمی انفجار کا دور ہے۔معلومات کا ایک سیل رواں ہے جو کہ امڈتا چلاآرہاہے۔کتب خانو ں کی شکل آج کسی قدر تبدیل ہوچکی ہے۔موبائل فون،انٹرنیٹ،شوشل میڈیا ،معلومات کی ترسیل کے اہم ذرائع تصور کیئے جار ہے ہیں۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس سیل رواں سے کیسے بچ سکتے ہیں اور کس قدر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔معلومات کے اس امڈتے سیلاب سے بچاؤ کا مطلب ہے کہ ہمیں کیا اور کتنا پڑھنا ہے اور کونسے مطالعے سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ محمد بشیر جمعہ اپنی کتاب شاہراہ زندگی پر کامیابی کا سفر میں رقم طراز ہیں کہ ایک صاحب اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لئے ٹیلی فون ڈائریکٹری پڑھتے رہتے تھے۔کیا ٹیلی فون ڈائریکٹری کا مطالعہ ذوق کی تسکین ہے یا پھر تضیع اوقات ۔اس ضمن میں اسلاف کا قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ صاحب مال نہیں ہیں تو زکوۃ کا علم آپ کے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ بھی تضیع اوقات میں سے ایک ہے۔ معلومات کے اس سیلاب سے فائدہ اس وقت حاصل کیاجا سکتا ہے جب طلبہ میں یہ شعور جاگزیں ہوجائے کہ انھیں کیا اور کتنا پڑھنا چاہئے تاکہ وقت ضرورت وہ ان سے فائد اٹھا سکیں۔مطالعہ ایک فن ہے۔اس فن سے واقفیت تعلیمی سفر کو آسان اور کامیاب بنا دیتی ہے۔جو طلبہ طالعہ کے فن سے آگہی نہیں رکھتے ہیں باوجودسخت محنت کے بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوتی ہے۔بہتر تعلیمی کارکردگی کے لئے طلبہ کو فن مطالعہ کے زرین اصولوں سے متصف کرنا ضروری ہے تاکہ وہ کم وقت اور تھوڑی محنت سے بہتر اور نمایا ں کامیابی حاصل کرسکیں۔
مطالعہ کے بنیادی اصول؛۔مطالعہ کے چند اصول ہوتے ہیں ان اصولوں پر عمل پیر ا ہوکر مطالعہ کو سود مند اور تضیع اوقات سے پا ک بنایا جاسکتا ہے۔۔مطالعہ کے تعلق سے اس بات کا علم ضروری ہے کہ ہمیں کیا پڑھنا ہے، کیوں پڑھنا ہے اور کیسے پڑھنا ہے ۔انھیں عناصر کو مطالعے کے اصول کہا جاتا ہے۔
کن کتب کا مطالعہ کیا جائے:۔ ہر چھپا ہوا مواد مطالعے کے لائق نہیں ہوتا۔تمام چھپے ہوئے مواد یا کتابوں کے مطالعے کی ہماری مصروف زندگی اجازت بھی نہیں دیتی۔کتابوں اور مواد کے انتخاب میں ازحد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔کتاب کے انتخاب کے دوران اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کتاب غیر ضروری نہ ہو اور اسکول و کالج کے طلبہ کے لئے یہ پابندی بھی ضروری ہے کہ وہ کتاب غیر نصابی بھی نہ ہو۔غیر نصابی کتب کا مطالعہ فارغ اوقات میں کریں ۔ غیر نصابی مواد کے مطالعے کے وقت خیا ل رہے کہ اس سے تعلیمی سرگرمیوں اور کارکردگی میں کوئی حرج واقع نہ ہو۔غیر نصابی کتب کے مطالعہ میں ہمیشہ معتبر اور مستند مصنفین کی کتب کا ہی مطالعہ کریں تاکہ مسائل میں الجھنے سے کماحقہ بچا جا سکے۔مطالعہ میں احتیاط لازمی ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو توریت جیسی آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرماکر ہماری توجہ اسی جانب مبذول کروائی ہے۔طلبہ کے لئے کتابوں اور مطالعہ کے مواد کے انتخاب میں اساتذہ کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔
مطالعہ کیوں کیا جائے:۔علم کامطلوب و مقصود رضاء الہی کا حصول ہے۔مطالعہ علم کے اضافے کا باعث ہوتا ہے۔اسی لئے مطالعہ بھی رضائے الہی کے لئے کیاجائے۔مطالعہ اورحصول علم کے مقصد کی اہمیت کو اجاگر کرنے والاامام الغزالی کا واقعہ سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے لائق ہے۔ نظام الدین طوسی وزیر اعظم شاہ سلجوق نے اپنے ذاتی مصارف سے ایک مہتم بالشان عظیم مدرسہ جامعہ نظامیہ بغداد کا 459 ہجری مطابق1066 میں قیام عمل میں لایا ۔زرکثیر خرچ کرنے کے بعد جب اس مدرسے نے اپنی تعلیمی خدمات انجام دینے شروع کی تب نظام الدین طوسی نے اس کے معائنے کا ارادہ کیا۔نظام الدین طوسی جب مدرسے نظامیہ تشریف لے جاتے ہیں اور طلبہ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے علم حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے۔ایک طالب علم کہتا ہے کہ اس کے والد بادشاہ کے وزیر ہیں ان کے بعد وہ عہدہ اسی کو ملے گا اسی لئے وہ علم حاسل کر رہاہے ۔دوسرا جواب دیتا ہے کہ اس کا والد بادشاہ کی فوج کا سپہ سالار ہے اس کے باپ کے بعد یہ عہدہ اسے ہی ملے گا اسی لئے وہ علم حاصل کر رہا ہے۔الغرض طلبہ کے جوابات سے نظام الدین طوسی کو بہت رنج ہوا اور وہ مایوس اور دلگیر جب مدرسے سے لوٹ رہاتھا تو دیکھتا ہے کہ ایک طالب علم مشعل کی روشنی میں مدرسے کے کوریڈور میں مطالعہ میں مشغول ہے۔نظام الدین طوسی لڑکے کے قریب پہنچ کر سوال کرتا ہے کہ وہ علم کیوں حاصل کر رہا ہے۔لڑکا جواب دیتا ہے کہ وہ علم اس لئے حاصل کررہا ہے کہ ان باتوں کا علم حاصل کرلوں جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور ان باتوں سے خود کو روک لوں جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔نظام الدین طوسی بچے کے جواب سے بہت متاثر ہوتا ہے اور رنج و تردد اس کے دل سے دور ہوجاتا ہے ۔یہ لڑکا جس نے علم کے حصول کے نہایت پاکیزہ مقصدکو ظاہرکیا ،دنیائے علم آج اسے امام الغزالی کے نام سے یا د کرتی ہے۔جب مقاصد اعلی و ارفع ہوں گے تب کامیابی بھی اتنی ہی شاندار ہوگی۔اسی لئے مطالعہ کا مقصد حصول علم توہونا ہی چاہئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان باتوں کا علم بھی ہونا چا ہئے جو اپنی ذات اور دنیا کے لئے نافع ہو۔لایعنی کتب کا مطالعہ وقت کو برباد کرنا ہے۔ا س سے فائدہ تو کجا نقصان بہت زیادہ ہوں گے۔
مطالعہ کیسے کیا جائے؛۔ امتحان کی تیاری کے لئے کیئے جانے والے مطالعے اور خارجی مطالعہ کے لئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا انحصار طلبہ کی پسند اور طبیعت پر ہوتا ہے۔چند بنیادی باتوں کا خیال رکھتے ہوئے طلبہ مطالعہ کو موثر اور امتحانات میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اکثر طلبہ مطالعہ کے بنیادی اصولوں سے عدم آگہی کی وجہ سے غلطیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔اکثر طلبہ نصابی مطالعہ کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور امتحانات سے صرف چند مہینے یا پھر چند ہفتے قبل تیاری کرتے ہیں۔طلبہ کے لئے مطالعہ کی یہ حکمت عملی بہت ہی نقصان دہ ہے۔طلبہ خود کو سال بھر تعلیمی سرگرمیوں اور مطالعہ میں مصروف رکھیں۔نصاب میں شامل تمام مضامین کے مطالعے کے لئے منا سب وقت فراہم کریں تاکہ فقید المثال کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ نصابی مواد (نوٹس ) کو اسکول اور گھر پر لگاتار دہرانے سے معلومات ذہن نشین ہوجاتے ہیں اور امتحان کے دوران طلبہ ذہنی اضطراب اور عدم اعتمادی سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اساتذہ کی جانب سے فراہم کردہ نوٹس کا گھر پر مطالعہ کرنے سے طلبہ آسانی سے نفس مضمون کو سمجھ سکتے ہیں۔طلبہ غیر نصابی مواد کے مطالعہ پر وقت ضائع نہ کریں۔ہر مضمون کے ایک موضوع کی تکمیل کے بعد دوسرے مضمون اور موضوع کی جانب پیش قدمی کریں۔ایک موضوع کی تکمیل کے بعد ازخود اپنا جائزہ لیں۔تجربہ کار اساتذہ کی جانب سے تیار کردہ سوالنامہ یا پھر خود کاتیار کردہ سوالنامہ ترتیب دے کر سوالات کو متعین وقت میں حل کریں۔جوابات کی تنقیح و جانچ کا کام ایمان داری سے خود انجام دیں۔جانچ کا کام خو د انجام دینے سے طلبہ اپنی خامیوں اور غلطیوں سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور متقبل میں اس کو نہیں دہرا تے ہیں۔ مطالعہ کردہ مواد یا کتاب کو بند کر تے ہوئے اکتساب شدہ معلومات کا اعادہ کریں۔ مطالعہ کے دوران ہر صفحہ کے اہم نکات کو ضبط تحریر میں لائیں۔ اعادہ کو تحریر ی صورت دینا اور اصل ماخذ سے اس کا موازنہ طلبہ کے لئے نہایت سودمند ہوتا ہے۔ مطالعہ کے دوران اہم نکات واقعات اور تواریخ کو قلم بند کریں۔ماہرین تعلیم و نفسیات نے مطالعہ کے لئے چار بنیادی اصولوں کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔
(1)طلبہ نصابی متن کاروزانہ چند صفحات سے زیادہ مطالعہ نہ کریں۔متن کا خلاصہ فی الفور تحریر کرنے سے مطالعہ کی تاثیر میں اضافہ ہوتاہے۔مضامین اور موضوعات کا ترتیب وار مطالعہ طلبہ کے فہم پر خوش گوار اثر ڈالتا ہے۔موضوع کی تفہیم کے بغیر رٹا لگانا وقت کا ضیاع تصور کیا جاتا ہے۔
(2)پرانی معلومات اور موضوعات کو ذہن نشین کرنے کے بعد ہی نئے موضوعات اور مضامین کی جانب پیش قدمی کرنی چاہئے۔طلبہ انفرادی اور اجتماعی مطالعہ سے بھی فیض اٹھا سکتے ہیں۔اجتماعی مطالعہ سے افہام و تفہیم میں ساتھیوں کی ممکنہ مد د سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
(3)رٹا لگانا ہمیشہ برا نہیں ہوتا ہے۔ فارمولے(ضابطوں) ،تواریخ ،خاص قسم کی تعریف (تشریح) کو سمجھ کر یاد کرلینا اچھا ہوتا ہے۔مطالعہ کردہ مواد کو تکرار اور باربار تحریر کرتے ہوئے بہتر طریقے سے یاد رکھا جاسکتا ۔
(4) باقاعدگی سے جماعت میں حاضری اور اساتذہ کے لیکچر س کی باقاعدہ سماعت مطالعہ میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
مطالعہ کی یومیہ مقدار کیا ہو؛۔مطالعہ کی مقدار اور وقت کا تعین طلبہ کی دلچسپی اور معلومات کے انجذاب کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے۔طلبہ روزانہ اتنا مطالعہ کریں جس کو وہ آسانی سے ذہن میں محفوظ کر سکیں۔طلبہ اس وقت تک مطالعہ میں غرق اور مصروف رہیں تا وقتیکہ وہ بوریت اور اکتاہٹ کا شکارنہ ہوں۔جب بھی اکتا ہٹ اور بوریت کا احساس ہو مطالعہ کو فوری ترک کردیں۔عموما دن میں پانچ گھنٹے خود کار مطالعہ (Self-Study)کو سازگار کہا گیا ہے۔ابتدا طلبہ مطالعہ کے دوران جلدہی اکتاہٹ کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن روزانہ باقاعدہ مطالعہ کی عادت کے ذریعہ ان میں دلچسپی اور مطالعہ سے حظ اٹھنے کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔مطالعہ سے ذہنی تھکاوٹ کا احسا س لازمی ہے۔نیند کے ذریعہ جسمانی اعضا کو آرام ملتا ہے جب کہ نیند ذہنی تھکاوٹ کو دور کرنے میں اتنی سود مند نہیں ہوتی ہے جتنا مطالعہ کے فوری بعد کھیل کود اور چہل قدمی ذہنی تھکاوٹ کو دور کرتی ہے۔کھیل کو د اور چہل قدمی طلبہ میں تازگی بھر دیتی ہے جس سے وہ پھر اپنے آپ کو مطالعہ کے لئے تازہ دم اور تیار پاتے ہیں۔
مطالعہ شدہ مواد کو کیسے یاد رکھا جائے؛۔نصابی مواد کو یاد کرنے کے بعد اس کو لکھنے سے مطالعہ مستحکم اور مضبوط ہوجاتاہے۔یادکردہ مواد کو لکھنے سے معلومات نہ صرف ذہن نشین ہوجاتے ہیں بلکہ طلبہ اپنی غلطیوں کی بھی آسانی سے نشاندہی کرسکتے ہیں۔مواد کو یاد کرنے کے بعد لکھنے سے نہ صرف لکھنے کی مشق ہوتی ہے بلکہ لکھنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔مطالعہ شدہ مواد کو یاد رکھنے کے لئے سمعی و بصری تعلیمی سہولتوں کا بھر پور استعمال کریں۔مشہور چینی کہاوت ہے کہ ’’کسی چیز کو ایک بار دیکھنا ہزار بار سننے سے بہتر ہے۔‘‘موثر مطالعہ کے لئے اچھا، پرسکون اور آرام دہ ماحول ضروری ہوتا ہے۔مطالعہ کے دوران توجہ کو منتشر کرنے والی چیزوں شور،ٹی وی اور موبائیل فونس وغیر ہ سے دور رہیں۔مطالعہ کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں لوگوں کا آنا جانا نہ ہو اور ماحول خاموش اور پرسکون ہو۔مطالعہ کے لئے قدرتی روشنی اور تازہ ہوا اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر قدرتی روشنی میسر نہ ہوتو ایسی روشنی کا استعمال کریں جو قدرتی روشنی سے ہم آہنگ ہو۔مطالعہ کے دوران درپیش اشیاء ڈکشنری،پین، پنسل،مارکر،ربڑ،پڑی اور قلم تراش وغیرہ کو اپنے پاس رکھیں تاکہ مطالعہ میں خلل نہ پڑے۔ روزانہ مطالعہ کے لئے ایک وقت مقرر کرلیں اور اس وقت مطالعہ کے سوا کوئی دوسرا کام انجام نہ دیں۔طلبہ مذکور ہ بالا امور پر توجہ مرکوز کر تے ہوئے اپنے مطالعہ کو بامعنی اور با اثر بنا سکتے ہیں۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

13 تبصرے

  1. Hello there! This post could not be written any better!

    Reading through this post reminds me of my old room mate!

    He always kept chatting about this. I will forward this write-up to him.
    Fairly certain he will have a good read. Thanks for sharing!

  2. Hey there! Would you mind if I share your blog with my facebook
    group? There’s a lot of folks that I think would really appreciate your content.
    Please let me know. Thanks

  3. Do you mind if I quote a few of your posts as long as I provide credit and sources back
    to your blog? My blog site is in the very same niche as yours and my visitors would certainly benefit from some of the information you provide here.
    Please let me know if this ok with you. Many thanks!

جواب چھوڑ دیں