خاندان میں ہم آہنگی

اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔

الحمد للہ حالات اتنے بھی خراب نہیں جتنے کے دکھائے جاتے ہیں ۔

باشعور گھروں میں خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی ہاتھ بٹاتے ہیں،ہمارے ہاں بوقت ضرورت مرد بچے چائے بھی بنالیتے ہیں ۔کھانا بھی خود گرم کرلیتے ہیں ۔اسکے لئے گھر کی خواتین کو پوسٹر اٹھا کر باہر نکل کر تگ و دو نہیں کرنی پڑتی ۔

خاندان میں ہم آہنگی ہو،عزت احترام قائم ہو تو ایک دوسرے کے کام کرنے سے کسی کا کوئی حق متاثر نہیں ہوتا ۔ہاں دیہی علاقوں ،دینی شعور سے نابلد ،تربیت سے عاری رسمی تعلیم کے پروردہ شہری علاقوں اور وڈیرہ کلچر میں خواتین سے بدسلوکی کی مثالیں مل جاتی ہیں۔

اصلاح کی بہرحال ضرورت ہے۔مگر حقیقی اصلاح مارچز اور ریلیز سے نہیں بلکہ تعلیم  وترغیب سے ہوگی۔ اس کے لیے معاشرے کی تمام اکائیوں کا اپنا کردار اہم ہے ۔ بغاوت مادر پدر آزادی  نہیں  بلکہ عزت،احترام،محبت،تقدس،شفقت،انسانیت میں ہر جنس انسانی  برابر ہو دائرہ کار کی تقسیم حق تلفی نہیں، آسانی اور زندگی کی روانی کے لیے ہے۔

اور اس بات کو سمجھنے کے لیے دین و دنیا کی تعلیم کے ساتھ معاشرے کو مثبت ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ابتداء سے گھر پر  بچے  بچیوں کو یہ تربیت اور ترغیب دی جائے تو معاشرے میں یہ حقوق و فرائض کی جنگ نہ ہو ۔

حصہ

1 تبصرہ

  1. بالکل صحیح کہا آپ نے باجی۔ پوسٹر اور بینر اٹھا کر ایسے مطالبات کرنا انتہائی نامناسب طریقہ ھے اور اس بات کی علامت ھے کہ ان خواتین کو گھر پر صحیح ماحول اور تربیت میسر نہیں آئی

جواب چھوڑ دیں