مغرب اور مسلم معاشرے کی خواتین

۔1977 ء میں اقوام متحدہ نے8مارچ کو ” خواتین کے عالمی دن” کے طور پر منانے کی قرار داد پیش کی. جس کے بعد سے یہ سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہوا. بات جب خواتین کے مسائل کی کی جاتی ہے تو عام طور پر تیسری دنیا میں عورت کے استحصال اور اس پر ناروا سلوک کا بہت چرچا کیا جاتا ہے. لیکن اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی بڑی تعداد میں ہمیں ٹوٹ پھوٹ اور جنسی استحصال کا شکار نظر آتی ہیں.اس کے علاوہ جب عالمی سطح پر ہم خواتین کے حقوق کی بات کرنے والوں کو سنتے ہیں، اور ان کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو دو طرح کی آراء سامنے آتی ہیں. ایک عورت اور مرد کے درمیان مساوات کا نعرہ.. جس کا مطلب ہے کہ معاشرت، معیشت، سیاست اور زندگی کے ہر میدان میں عورت کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو مرد پہ عائد ہوتی ہیں اور اسی طرح عورتوں کے وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں. دوسرا آزادی کے نعرے، درحقیقت جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ عورت کی آزادی اور حقوق بس جنسی آزادی میں سمٹ کر رہ گئے ہیں.عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے جان لیں کہ جنسی آزادی عورت کے وقار اور عفت وعصمت کے کی بے حرمتی کے سوا کچھ بھی نہیں. عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے یہ عالمی دانشور تو سو ڈیڑھ سو سال پہلے ہی وجود میں آئے ہیں جبکہ اسلام نے سوا چودہ سو سال پہلے عورتوں کو ہر طرح کے استحصال اور مظالم سے آزادی دلائی ہے ۔اسلام عورتوں اور مردوں کے لیے حدود کا تعین کر کے عورت کی عفت و عصمت کو تحفظ دیتا ہے.اسلام یہ کہتا ہے کہ عورتیں اور مرد حقوق میں برابر ہیں مگر ذمّہ داریاں دونوں کی مختلف ہیں. اور اسلام کا یہ قانون اعتدال پر مبنی ہے. کیوں کہ عورتوں کی جسمانی ساخت، ان کا مزاج اور فطرت مردوں سے مختلف ہے. اسلام نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس کو جواز بنا کے کہا جائے کہ مسلم معاشرے میں عورتوں کو معاشی اور سماجی سرگرمیوں کی اجازت نہیں. ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اسلام نے عورت کو مجبور نہیں کیا کہ وہ گھر کے اخراجات کا بوجھ اٹھائے اسلام اسے عورتوں کے ساتھ زیادتی قرار دیتا ہے کہ سخت اور طاقت فرسا کام عورتوں کے ذمہ لگا دیے جائیں.مغرب نے مردوخواتین کی مساوات کا نعرہ لگا کے جو عورتوں کو گھروں سے باہر نکالا ہے اس سے عورتوں پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے. عورتیں نکل کر دفتروں اور کارخانوں میں کام کر رہی ہیں. دوسری طرف گھر اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی ان پر ہے. ذرا سوچیے! جہاں کسی سے مزدور کی طرح کام لینے کا تصور ہو وہاں عورت اور مرد میں مساوات قائم ہو جاتی ہے.؟ اسی غیر متوازن رویے کا نتیجہ ہے کہ یورپی ممالک کے مردوں کے برابر حقوق کے تمام تر دعوؤں کے باوجود وہاں کی عورتیں شکوہ کرتی ہیں انہیں مرد روایتی تعصب کا نشانہ بناتے ہیں. نیز ان اقوام کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ان کے یہاں ہر تین منٹ بعد ایک خاتون جنسی تشدد کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے.
میری رائے یہ ہے کہ خواہ مسلم ہوں یا مغربی اقوام، اگر وہ عورتوں کے حقوق کے معاملے میں مخلص ہیں تو انہیں عورتوں کے حقوق کے اسلامی منشور کو عملی طور پر اپنانا ہو گا اسی میں امن، سکون، عورتوں کا تحفظ اور صحت مند معاشرے کی بقا ہے.

حصہ

1 تبصرہ

  1. محترمہ فاطمہ زبیر کے قلم سے نکلی بہت عمدہ تحریر۔۔۔۔۔۔👏👏
    اسلامی روایات و قوانین کی اصل روح کے مطابق عمل ہی عورت کے تحفظ کا ضامن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply to ڈاکٹر محمد عبیداللہ جواب منسوخ کریں