عالمی یومِ خواتین۔تاریخ اور تجزیہ 

خواتین کا عالمی دن منانے کی روایت ۱۹۰۰ء کے اوائل میں پڑی۔ تب پہلی بار خواتین نے اپنے ساتھ برتی جانے والی زیادتیوں اور صنفی امتیازات کے خلا ف آواز بلند کی ۔ پہلی بار امریکہ میں یہ دن ۲۸ فروری کو منایاگیا جو اُس وقت ایک قسم کی سیاسی تقریب تھی جسے امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے منعقد کیاگیا تھا ۔ تب سے یہ دن ۱۹۱۳ء تک ہر سال فروری میں منایا گیا ۔ لیکن پھر انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن منعقد ہوئی جس میں ایک جرمن خاتون لیڈر (کلا را زیٹکن ) نے اِس دن کو عالمی سطح پر منانے کی تجویز پیش کی ، جسے بے حد پزیرائی حاصل ہوئی اور تب سے عالمی یومِ خواتین ۸ مارچ کو پوری دنیا میں منایا جانے لگا۔ اِس دن خواتین کو پوری دنیا میں اُن کی ہمت اور بلند حوصلے پر خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے ۔
ہر سال یہ دن پوری دنیا میں بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا رہا ہے جس کا اولین مقصدجنسی مساوات کو فروغ دینا ہے ۔ اِس کے ساتھ ہی خواتین کی سماجی، معاشی،ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کو سراہنا اور اُن کی حوصلہ افزائی کرنا بھی اُن مقاصد میں سے ایک ہے ۔ خواتین کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد اُن کو زندگی کے تمام حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہے جن کی بناء پر ہر عورت اپنی زندگی خود مختار ہوکر جی سکے ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بار بڑے جذبے کے ساتھ یہ دن مناتے ہیں لیکن افسوس کہ اِس دن کے اختتام پر وہ سارے جذبے ملکی حالات کے پیشِ نظر دم توڑ جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آتے ہی ہم خود سے اور اُن مظلوم خواتین سے کئے ہوئے عہد و پیماں بھو ل جاتے ہیں ۔ بہت تعجب کی بات ہے کہ ہم اُن مجبور خواتین سے کیے ہوئے وعدے تو بھول جاتے ہیں لیکن فرسودہ رسم و رواج نبھاناکبھی نہیں بھولتے۔
ہمیشہ کی طرح اِ س بار بھی خواتین کے اعزاز میں مختلف پروگرامز منعقد کیے جائیں گے، مشہور شخصیات کو میڈیا کے مختلف چینلز پر بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا جائے گا اور اُن سے خواتین کے حقوق کے متعلق ہمدردی وصول کی جائے گی ، اُن بے بس و لاچار خواتین سے کبھی نہ پورے ہونے والے وعدے کیئے جائیں گے ، سیاسی ٹاک شوز ، اور ادبی محفلیں سجائی جائیں گی ، نئے عزم کے ساتھ ایک بار پھر حکومتِ پاکستان کی طرف سے کچھ نئے قوانین اور احکامات کو متعارف کروایا جائے گا ،نئے سرے سے پالیسی پلاننگ کی بات کی جائے گی ، تنظیمی ادارے ایک بار پھر سے اپنا آپ منوانے کے لیئے فلاحی سرگرمیوں میں اضافہ کر نے لگیں گے لیکن افسوس کہ یہ محض وقتی کاوش ہوگی اور ہر بار کی طرح اِس بار بھی نامور شخصیتوں کو خوب مقبو لیت حاصل ہوگی اور ملکی صورتِ حال جوں کی توں رہے گی ۔
وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں یہ دن اپنی ایک خاص اہمیت بناتا رہا ہے جس میں خواتین پر ظلم و تشدد کے خلاف آواز اُٹھائی جاتی ہے ، اُن میں زندگی کے بنیادی حقوق سے متعلق شعور و آگاہی بیدار کرنے کے لیے مختلف سیشنز منعقد کیے جاتے ہیں ، نت نئے انداز میں خواتین کی بہتر کار کردگی پر اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو اُن کو با اختیار شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اِس ضمن میں ہمارے فلا حی اداروں کا خصوصی تعاون رہا ہے جوکسی حد تک وقتی طور پرمعاشرے میں مثبت ارتعاش کو جنم دیتا ہے لیکن کچھ وقت بعد یہی مثبت تبدیلی نئے سرے سے منفی صورت اختیار کر جاتی ہے اور نتیجے میں صنفی امتیازات کی شدت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور پھر ہر آئے دن خواتین ظلم کی چکی میں پِس رہی ہوتی ہیں ۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کا نصف حصہ خواتین کی اکثریت ہے جو شعور و آگاہی کے باوجو دآج بھی اپنے حقوق سے محروم ہے۔ اِ ن تمام حا لات کے پیش نظر ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِن تمام تر کوششوں کے ساتھ ساتھ کچھ عملی اقدامات بھی کیے جائیں جو سماج میں پھیلی ہوئی نا انصافیوں کا جڑ سے خاتمہ کر سکیں ۔ حکمرانوں کو چاہیئے کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے آئے دن نئی پالیسیز اور احکامات کی آڑ میں کیے کئے دعوے پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوں تا کہ ہر عورت عزت اور تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی جی سکے ۔ یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیئے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا پہلی شرط ہے ۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں