بیمار یورپ اور ہندوستان کے ضمیر فروش

انگلستان کی تا ریخ میں میگنا کارٹا 1215 کی اہمیت اس لئے سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہے کہ اس سال میں انگلستان کے ’’نوابوں‘‘ نے بادشاہ ’’جان‘‘کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے ایک فرمان کے ذریعے انگلستان کو آئینی مملکت قرار دے دیا ۔جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافہ ہوا اور بادشاہ کے اختیارات میں خاطر خواہ کمی کر دی گئی۔حالانکہ یہ وہ دور تھا جب مذہبی اعتبار سے چرچ کو مضبوط حیثیت حاصل تھی،تاہم اس مذہبی ادارے کی وجہ سے پورا یورپ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عقائد کے جھگڑوں میں الجھا ہوا تھا۔ہر طرف خونی ہنگامے برپاتھے،اور سیاسی عدم استحکام جاری تھا،ایسے میں ایک طویل خانہ جنگی کے بعد چارلس اول کو غداری کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس کے بیٹے کو چارلس دوم کا لقب دے کر تخت نشین کر دیا گیا۔بالفاظ دیگر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا کہ جب انگلستان سیاسی کشمکش اور معاشی انحطاط ،اخلاقی اقدار کی پامالی اور مذہبی خانہ جنگی کا شکار تھا۔انکی اپنی معیشت دیگر ممالک کے خام مال و اجناس کی مرہونِ منت تھی،انہیں دنوں انگلستان ،ہندوستان سے کالیکو(سوتی کپڑا)ریشمی رومال،بانات کی بنی ہوئی ٹوپیاں،چینی کے برتن،کھلونے اور تصویریں درآمد کرتا تھا۔گویا انگلستان ایک لحاظ سے ہندوستانی مال کی تجارتی منڈی تھا۔ایسی صورت حال میں انگلستان کا اپنا کپڑا اور فرانس و اٹلی سے درآمد کردہ کپڑا مہنگا ہونے کی بابت یا تو مارکیٹ میں فروخت نہ ہو پاتا یا پھر گودام میں پڑا پڑا خراب ہو جاتا،اس ساری صورتحال میں انگلستان کی پارلیمنٹ میں ایک شور اٹھا کہ مقامی صناع کی معاشی حالت ابتر ہو رہی ہے اور حکومتِ وقت بھی خسارہ سے دو چار ہو رہی ہے تو کیوں نہ ہندوستان سے درآمد کردہ اشیا ،خاص کر کپڑے پر پابندی عائد کر دی جائے۔بالآخر 1700 میں ہندوستانی کپڑے کی درآمد ختم کر دی گئی۔چونکہ انگریز خواتین ہندوستانی کپڑے کو زیادہ شوق سے زیب تن کرنا فیشن خیال کرتی تھیں۔اس لئے بحالت مجبوری اس پابندی کو نرم توکر دیا گیا تاہم ہندوستانی کپڑے کی درآمد پر ڈیوٹی اس قدرلگا دی گئی کہ انگلستان میں اس کی فروخت تقریباًناممکن ہو گئی،حالات بدل گئے اب کمپنی نے کپڑے کی بجائے خام مال انگلستان بھیجنا شروع کر دیا جس سے سرمایہ انگلستان منتقل ہونا شروع ہو گیا،اور پھر یہی سرمایہ انگلستان میں صنعتی انقلاب کا سبب بھی بنا۔بقول سر ولیم
’’انگلستان کا صنعتی انقلاب اس لئے برپا ہوا کہ انگلستان کو کرناٹک اور بنگال کے خزانے استعمال کرنے کا موقع مل گیا ورنہ اس سے قبل ہماری صنعت نہ ہونے کے برابر تھی،اسے ہندوستانی سرمایہ سے تقویت ملی‘‘
اس پسِ منظر کی بیانی کا مقصدانگریزوں کی کاروباری چالاکیاں ،سیاسی فہم و فراست یا معاشی نظام کی تشہیر نہیں بلکہ تاریخ کے طالب علموں اور موجودہ نوجوان نسل تک یہ پیغام پہنچانا مقصود ہے کہ جس قوم کا اپنا ملک مذہبی خانہ جنگی،سیاسی انحطاط اور سازشوں کا شکار ہو وہ ہندوستان کے کاروبار،معیشت اور وسیع و عریض ملک پر قابض ہو کر کیسے دو سو سال تک جزوی و کلی طور پر حکمرانی کرتا رہا۔یہ غلبہ دراصل انگریزوں کی چالبازیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنوں کی ضمیر فروشیوں کا نتیجہ ہے۔اگر ہماری قوم میں سے میر جعفر ،اس کے بیٹے اورمیر صادق جیسے ضمیر فروش ان کا ساتھ نہ دیتے تو سات سمندر پار کر کے آنے والے مٹھی بھر انگریز کس طرح وسیع و عریض ہندوستان پر قابض ہو سکتے تھے۔اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا ۔ان سارے حالات و واقعات سے ہندوستان تو دو وقت کی روٹی کا محتاج ہو گیا مگر انگلستان کی موجیں لگ گئیں۔ہندوستان انگریزوں کے لئے سونے کی چڑیا جبکہ مقامی آبادی کے لئے سونے کا بستر ہی رہ گیا۔وقت اور حالات کو 1857 کی جنگ کے بعد صرف دو لوگوں نے بدل کے رکھ دیا۔ہندؤوں اور سر سید احمدخان نے(تفصیلی وقعات کسی اور آرٹیکل میں بیان کروں گا)۔حسب عادت سر سید کو تو اپنوں کی نظر اور طعنوں نے کھا لیا تاہم وہ اپنے مشن کی تکمیل میں کسی رکاوٹ سے نہ گھبرائے۔مگر ہندؤوں نے براہ راست انگریزوں سے سمجھوتے میں عافیت خیال کرتے ہوئے ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی اور انگریزوں کے عتاب کا رخ مسلمانوں کی طرف کر دیا۔ جسے مسلمان راجاؤں،نوابوں اورجاگیر داروں نے انگریز دوستی،’’نوازش‘‘اور مالی فوائدکے حصول سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔اگر ہندوستان کے یہ ضمیرفروش ،ضمیر فروشی نہ کرتے تو بیمار یورپ کبھی صحت و توانا نہ ہوپاتا،کیونہ معاشی استحکا م سے ہی سیاسی استحکام جنم لیتا ہے اور انگلستان والوں نے اس راز اور فلسفہ کو سمجھ کر ہی اپنی معاشی و سیاسی ترقی کے تانے بانے سے مضبوط یورپ کی بنا رکھی۔

جواب چھوڑ دیں