میڈیا کی ترجیحات

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔اور اس لحاظ سے اس کی  اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔عموماً یہ تاثر ملتا ہے کہ میڈیا ہمارے معاشرے کا عکاس ہے اور ہماری تہذیب و تمدن کی حفاظت کا ذمہ دار بھی ہے ۔ریاست کے اہم ستون ہونے کی حیثیت سے اس کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں ؟؟ اس کو اپنی تہذیب و اقدار کو جدید تہذیب کے اثر سے کیسے محفوظ رکھ کر اپنی اقدار اور کلچر کے فروغ کو پروان چڑھانا ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا میڈیا اس کی ترجیحات ریاست کے ستون کی حیثیت سے بالکل ہی جدا ہے ۔مثال کے طور پر کچھ عرصہ پہلے وفاقی وزارتِ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق ایک تجزیہ سامنے آیا کہ پاکستان کے پانچ سے سولہ سال کے تقریباً 45%(22.6) ملین بچے ااسکولوں میں نہیں جاتے ۔ااسکول نہ جانے والوں میں بارہ ملین سے زائد لڑکیاں اور دس ملین سے زائد لڑکے شامل ہیں ۔اور اس میں سب سے بری حالت بلوچستان کی ہے جہاں کے 70% بچے اسکول میں نہیں جاتے۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ااسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح 58% بنتی ہے ۔

یہ ایک مثال ہے مگر میڈیا کی ترجیحات میں تعلیم نہیں ہے ۔یہ بچے کیوں اسکول نہیں جا رہے۔وجوہات کیا ہیں ؟؟میڈیا پر اس قسم کے ایشوز کو کتنا وقت دیا جاتا ہے ؟؟ ہماری قوم کے بہتر مستقبل کی تیاری کے حوالے سے میڈیا پر کیا سر گرمیاں پیش کی جاتی ہیں ؟؟ہنر مندی سکھانے،مثبت سرگرمیوں کی طرف نوجوانوں کو لانے ،قابل اور پر اعتماد شہری بنانے کی طر ف اپنی اقدار،کلچر ،روایات اور تاریخ سے جوڑنے کی طرف کتنا متوجہ کرنا ہے ؟؟اس کو کتنا وقت دیا جاتا ہے ؟؟ہاں میڈیا اپنے وقت کو حکومت کے بیانات،وزیروں کی رپورٹس اور مقتدر اداروں کے image کو بہتر بنانے کی طرف تو متوجہ ھے اور ان کے روز مرہ کے چھوٹے سے چھوٹے ایشوز تک کو ھائی لائیٹ کیا جاتا ھے  ایک چھوٹے سے واقعہ کو بار بار بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا جاتا اور تو اور انڈین اداکاروں کے حوالے  چھوٹی سے چھوٹی خبر کو بڑی اہمیت کے ساتھ ان پر فلمائے گئے گانے دکھا کر سنایا جاتا ھے مگر جو قومی امور ہیں جو اس اھم ستون کی ذمہ داری ھے اس کو یکسر نظر انداز رکھا جاتا ھے مزید برآں اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت معاشرے کے بگاڑ میں میڈیا اپنا کردار تو ادا کر رھا ھے مگر اس کی بہتری میں کوئی مثبت رویہ نظر نہیں آتا   ،   لہذا اگر یہ کہا جائے کہ 90فیصد  وقت میڈیا پر اس طرح کی سر گرمیوں کی نظر ہو جاتا ہے تو غلط نہ ھو گا سب اس کی تائید ہی کریں گے اور اسی طرح ٹاک شوز دیکھیں  تو کوئی  سنجیدگی کے موضوعات کو کور نہیں کرتا  ۔پرائم ٹائم میں تمام ٹاک شوز جو سیاسی،سماجی،اخلاقی لحاظ سے مزاح اور فقرے بازی ،ٹھٹھہ اور سیاسی اکھاڑے کی شکل میں ہی نظر آتے ہیں ۔

ٹاک شوز میں  صحت مند گفتگو کم اور سیاسی اکھاڑا زیادہ نظر  آتا  ہے اسی طرح ڈراموں کے موضوعات دیکھ لیں غیر معیاری اور غیر اخلاقی ہیں ۔ان میں جو کلچر دکھایا جا رہا ہے جو تہذیب دکھائی جا رہی ہے در اصل وہ ہمارے معاشرے کا عکس نہیں ہے جس سے میڈیا کے ذوق ،علم،عقل کا اندازہ ہوتا ہے پھر ہمارے تہوار و عیدین وغیرہ پر بھی پورا دن ناچ گانے دکھا کر کون سی خوشی منائی جاتی ہے ۔ بعض چینلز پر اور خاص طور پر پچھلے دنوں ائیر پورٹس پر بھی ایک ڈرامے کا اشتہار لگا دیکھا کہ پیار لفظوں میں کہاں؟ ۔اور پھر اس ڈرامے کے سین اس کے پہننے والا لباس،ہماری تہذیب و تمدن سے بالکل الگ ہے ۔اور ایسے ہی ڈراموں سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں تمام چینلز اسی قسم کے غیر معیاری اور صرف مغربی تہذیب و تمدن سے متاثرہ ڈرامے پیش کر رہے ہیں ۔ہمارے پاکستانی معاشرے کا کلچر ایک دم تبدیل ہو رہا ہے ۔لباس سے لے کر زبان تک ،کھانے پینے سے لے کر سونے جاگنے کے انداز تک ،شادی بیاہ کی تقریبات کو دیکھ لیں ۔ہندوؤں کے معاشرے سے متاثر ۔انڈین ڈراموں کے بعد اب پاکستان کے چینلز پر بھی ایسے ڈرامے پیش کیے جا رہے ہیں جو ہمارے اسلامی عقیدے ،ہمارے ایمان تک کو ہدف بناتے ہیں ۔طلاق و خلع کا جو تصور ان ڈراموں میں دکھایا جا رہا ہے اس کو دیکھ کر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے میڈیا کی ترجیحات کیا ہیں ؟؟؟اور میڈیا ہمارے معاشرے کو بہا کر کہاں لے جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے نفسیاتی مسائل،ڈپریشن اور،مادہ پرستی میں اضافہ ہو رھا ھے ہے ۔لٰہذا میڈیا کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم اپنی قوم میں  نوجوانوں میں معاشرے میں میڈیا کے اس اہم ستون کے ذریعے  مثبت سوچ کو پروان چڑھائیں ،اپنی تہذیب و تمدن کی حفاظت کریں ۔اور سوسائٹی  کو معاشرتی برائیوں سے بے راہ روی کی   قباحتوں سے بچائیں تا کہ معاشرتی برائیوں کا سدِ باب ہو سکے ۔

کیونکہ معاشرے کو بنانے کے لیے اس کی ترقی اور تہذیب وتمدن کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ھے کہ ھم ریاست کے اس اھم ستون کی ترجیحات کا تعین کریں کہ ھم اس کے ذریعے کس طرح اپنی سوسائٹی کو تبدیل کریں   اس کام کے لئےجو ٹول استعمال ہو اس ٹول کو بھی درست رکھنے  کی ضرورت ھے ۔

حصہ

1 تبصرہ

  1. ماشااللہ ۔۔۔بہت خوبصورتی سے معاشرہ کے مسائل اور میڈیا کے کردار پر لکھی گئ تحریر ہے۔۔۔اللہ پاک زور قلم اور دے۔

جواب چھوڑ دیں