بلدیہ ٹاؤن ۔ یا کچرا گھر

بلدیہ ٹاؤن کراچی کے پسماندہ علاقوں میں شمار ہونے والا ایک علاقہ ہے ،اس کی قسمت کا دیا صرف ایک ہی مرتبہ جلا اورپھر سیاسی آب و ہوا کے تبدیل ہوتے ہی تیز ہوا کے جھونکے نے اس امید کے دیے کو بھی بجھادیا۔ کہتے ہیں بلدیہ کے علاقے مہاجر کیمپ کا شمار قیام پاکستان کے بعد جب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ کراچی میں تیز ہوا تب کراچی میں کئی مہاجر کیمپ بنائے گئے جس میں ایک مہاجر کیمپ بلدیہ ٹاؤن میں موجود ہے جہاں آج بھی لاکھوں افراد بستے ہیں۔ اس لیے ہی اسے مہاجر کیمپ کا نام دیاگیا ہے۔
مہاجر کیمپ نمبر ایک سے سات نمبر تک کئی علاقے اس میں آتے ہیں۔ مشرف دور حکومت میں جب بلدیاتی الیکشن کا خاکہ تبدیل ہوا تب اس علاقے کے حالات بھی تبدیل ہوئے ۔ نوجوان قیادت نے بلدیہ ٹاؤن کے حالات کو بہتر سے بہتر کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ ناظم بلدیہ ٹاؤن کامران اختر نے دن رات انتھک محنت سے بلدیہ ٹاؤن کے کونے کونے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھاکر واضح کردیا کہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کا اٹوٹ انگہے ۔
سابق ناظم بلدیہ ٹاؤن کامران اختر نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مہاجر کیمپ ایک نمبر سے سات نمبر تک ،19Dسے خیبر چوک ،اتحاد ٹاؤن ،تنویر کالونی سے داؤد گوٹھ تک سڑکوں کا جال بچھا کر بلدیہ ٹاؤن کی سوئی ہوئی قسمت کو جگادیاتھا۔کامران اختر کے دور میں8نمبر ہو یا 9نمبر ہر علاقے کی کچی گلیوں میں سیوریج کے بہترین نظام کی تنصیب کے ساتھ ساتھ گلیوں کی پختگی کا کام بھی سرانجام دیاگیا،یہ کام انہوں نے کوئی دس سے بیس سالوں میں انجام نہیں دیے بلکہ محض اپنے پانچ سالہ دوراقتدار میں ہی ان تمام کاموں کو سرانجام دے کر بلدیہ ٹاؤن کا نام پسماندہ علاقوں کی فہرست سے نکال کر ماڈرن ٹاؤن کی فہرست میں لے آئے تھے۔ انہی کے دور میں بلدیہ ٹاؤن میں پانی کا مسئلہ بھی حل ہوا اورکے تھری پروجیکٹ کے ذریعے بلدیہ ٹاؤن کے لیے الگ سے پانی کی لائن کی تنصیب کرواکر بلدیہ ٹاؤن کے پیاسے عوام کو سیراب بھی کیا۔ گلی محلوں میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے ساتھ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے گراؤنڈز کی تعمیر وترقی میں بھی کامران اختر نے خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
2010ء کے بعد بلدیہ ٹاؤن کی قسمت کا دیااچانک بھج گیا اور دیے میں موجود تیل بھی سیاسی بنیادوں پر نکال دیاگیا۔ کشادہ سڑکیں آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوناشروع ہوئیں اورآج بلدیہ ٹاؤن کی سڑکیں موئن جو دڑو کا منظر پیش کررہی ہیں ،اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پورا بلدیہ ٹاؤ ن آج موئن جودڑو کا منظر پیش کررہا ہے۔ گلی گلی میں سیوریج کا پانی ہر آنے جانے والو ں کو اپنی بے بسی کی داستان سنا رہا ہے ،بلدیہ ٹاؤن میں بچھائی گئی پانی کی لائنیں خشک ہوکر زنگ آلود ہوچکی ہیں اور یہاں کے باسی آج مہنگے داموں پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں اورکھیلنے کے لیے کھلونے ہونے چاہیے آج یہاں کے بچوں کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی پانی کی خالی بوتلیں ہیں جو ہر وقت پانی کی تلاش میں سرگرداں کبھی اس دروازے پر توکبھی اس دروازے پر ایک بوتل پانی کے لیے بھیک مانگتے نظرآتے ہیں۔ ٹینکر مافیا نے اس تمام تر صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور فی ٹینکر 1200روپے سے بڑھاکر 2000روپے تک مکس پانی فروخت کرناشروع کردیا بعض علاقوں میں مکس پانی 3000روپے تک کا فروخت کیاجارہاہے ۔ نیول کالونی ہو یا نونمبر تمام علاقے آج پانی کی بدترین قلت کا شکار ہوکر صومالیہ کا روپ دھارچکے ہیں۔
بلدیہ ٹاؤن کی قسمت کا دیا بجھتے ہی تمام سرکاری اورپرائیوٹ اداروں نے اپنے اپنے رنگ دکھانا شروع کردیے ،کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے ذریعے بلدیہ ٹاؤن سے اربوں روپے کمائے تو واٹر بورڈ افسران نے پانی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرکے بلدیہ ٹاؤن کی خوش حالی کو بدحالی میں تبدیل کیا۔ صفائی ستھرائی کانظام سنبھالنے والا سرکاری ادارہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کیے اور پورے بلدیہ ٹاؤن کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا اورپرائیوٹ ٹھیکے داروں نے اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھا کر خوب پیسے بنائے۔ آج بلدیہ ٹاؤن کی ہر گلی اورہر کوچہ اپنی بے بسی کی داستان سنا رہا ہے ۔
1933والا بلدیاتی نظام 2019ء میں بھی رائج ہے۔ دنیا چاند سے آگے نکل چکی ہے اور ہم آج بھی پرانے اورگھسے پٹے نظام کے سہارے زندگی بہتر بنانے میں مشغول ہیں۔ موجودہ بلدیاتی نظام میں جہاں بہت سے سارے نقائص ہیں وہیں عوام کو اب تک اس نظام کے بارے میں مکمل آگاہی تک نہیں مل سکی ہے۔ اگر کسی علاقے میں کسی شخص سے پوچھا جائے کہ یہاں کا چیئرمین کون ہے تو اسے معلوم نہیں ،کونسلر کون ہے معلوم نہیں ،یوسی کون سی ہے معلوم نہیں۔جب لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں کے بارے میں معلومات نہیں ہوگی تو وہ کیسے اپنے مسائل کا حل تلاش کریں گے۔ منتخب نمائندے ہر وقت فنڈز کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی گلی میں سیوریج کاپانی جمع ہوگیا ہے تواس کے لیے بھی چیئرمین کے پاس فنڈز نہیں کہ وہاں سے گندہ پانی ہی نکال لیں۔ کچرا اٹھانے کا کہا جاتا ہے تو بھی منتخب نمائندے یہ کہہ کر اپنے سر سے بلا ٹال دیتے ہیں کہ فنڈز نہیں ہیں۔
شہری علاقوں کی ترقی کے بغیر شہر قائد کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ بات اب تک کسی میئر اور کسی وزیراعلیٰ کو سمجھ نہیں آئی۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ نچلے طبقے کے مسائل حل ہونگے تو ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں اور یہ وہ نعرہ تھا تبدیلی کا جس کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ۔ تاہم اقتدار میں آتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے منتخب عوامی نمائندوں کے جہاں قول وفعل میں تضاد آیا وہیں ان کے نعروں میں بھی تبدیلی آئی۔ اب انہیں صرف وہ مسائل نظرآتے ہیں جوانہیں یا حکومت کو درپیش ہیں ،جب کہ پسے ہوئے طبقے کی بات اب انہیں ناگوار گزرتی ہے۔
شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کے عوام آج پھر اسی نظام کو یاد کرتے ہیں اور اسی ناظم کو یاد کرتے ہیں جس نے بلدیہ ٹاؤن کا درد محسوس کرتے ہوئے اسے پسماندگی سے نکال کر خوش حالی کی طرف گامزن کیا تھا۔ کیوں کہ آج بلدیہ ٹاؤن وہیں کھڑا ہے جہاں سے ترقی کی شروعات کی تھی ۔

حصہ
mm
روزنامہ جسارت سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف بلاگز ویب سائٹس پر بلاگ ‘فیچرز اور تاریخی کہانیاں لکھتے ہیں۔ روزنامہ جسارت کے سنڈے میگزین میں بھی لکھ رہے ہیں۔ روزنامہ جناح کراچی میں بطور سندھ رنگ میگزین کے انچارج کے طورپر اپنی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ زیادہ تر معاشرتی مسائل پر لکھنے کا شوق ہے۔ اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے ممبر اورپاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے بھی ممبرہیں۔

جواب چھوڑ دیں