اسی خاک سے خوف آتا ہے

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا۔ ایک سفر درپیش تھا لیکن ہیبت اس قدر تھی کہ قدم باہر رکھنے سے ہچکچا رہا تھا۔ دماغ میں پولیس موبائل اور ایمبولینس کے سائرن کی ملی جلی آوازوں کی بھنبھناہٹ تھی۔ ہچکچاہٹ بھی کیوں نہ ہوتی ساتھ میں والدہ اور بہنوں نے سفر کرنا تھا۔ بہت کوشش کی، بہانے بنائے کہ سفر ٹل جائے، ہم رک جائیں مگر مجبوری ایسی کہ نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چار پانچ گھنٹے کا سفر ، لیکن ڈر اور خوف کی تلوار تھی کہ سر پر لٹک رہی تھی۔ سب خو ف زدہ تھے۔ وحشت سی پھیلی ہوئی تھی۔ کیا خبر ملکی سلامتی کے ادارے کے تربیت یافتہ اہلکار؛ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہمیں بھی مار گرائیں۔ کون ہے پوچھنے والا؟؟ خیر مقدر اور نصیب کا سہارا لیتے گاڑی کا بندوست کیا۔ لیکن شرط یہ تھی کہ کسی قسم کا کوئی سامان ساتھ نہیں رکھیں گے۔ حتی کہ والدہ اور بہنوں نے اپنے پرس بھی گھر چھوڑ دیے ۔ ہاں مگر شناختی علامت کے ٹکڑے ساتھ رکھے تھے۔ اگر ٹپکا دیے گئے تو پہچاننے میں مصروف اداروں کو مشکل تو نہ ہو۔ کہاں ڈھونڈتے پھریں گے کہ کون تھے یہ ’’دہشت گرد‘‘۔ کہاں سے تھے؟ آخر نعشیں بھی تو حوالے کرنی ہوں گی۔ ہاں تھوڑے سے پیسے ساتھ رکھے تھے کہ اگر ضرورت مندوں نے ہاتھ ڈال دیا تو خالی نہ لوٹیں۔
خاصی کوشش کے بعد ایک کھٹارا سی گاڑی بک کرانے میں کامیاب ہوا تھا۔ یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں۔ لیکن والدہ نے ڈرائیور کو شیشے اتارنے کا حکم دے دیا۔ ’’امی ٹھنڈ ہے، بیمار ہو جائیں گے سب‘‘۔ میں نے احتجاج کیا لیکن والدہ ماننے سے قطعی انکاری تھیں۔ ناں بیٹا! شیشے کھلے ہوں گے تو چوکی کے پاس سے گزرتے ہوئے پولیس والوں کی نظر پڑے گی۔ ممکن ہے بچ جائیں، شیشے بند ہوئے تو کیا خبر آرڈر کی پابندی میں کوئی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہم پر فائر ہی کھول دے۔ اور پھر کہیں’’ بند شیشے کے پیچھے عورتیں بھی تھیں ہمیں معلوم نہیں تھا‘‘۔ اور مار دیا نا تو تمہیں دہشگرد ثابت کرنے میں محنت بھی کیا صرف ہوگی؟ ڈاڑھی تم نے رکھی ہوئی ہے۔ وہ ساہیوال کے ذیشان کو دیکھا۔ اسے دہشگردوں کا معاون ثابت کر دیا تمہیں داعش کا کمانڈر ثابت کرنے میں تردد کریں گے؟ اور ہم سارے بھی مارے جائیں گے۔ ’’اوہو! کیوں اتنا گھبرا رہے ہو تم لوگ۔ گاڑی کے عقبی شیشے پر جلی حروف میں لکھ کر لگوا دیا ’’ہم دہشگرد نہیں، ہمیں مت مارو‘‘۔ خیر ہوگی جاؤ، خدا کے حوالے‘‘۔ یہ ابا جی کے الفاظ تھے۔
گاڑی چل پڑی، ہم روانہ ہو چکے تھے لیکن سچ بتاؤں تو ڈر کا مارا دل اس تیزی سے دھڑک رہا تھا، اندیشہ تھا کہ منہ سے نکل کر سامنے ڈیش بورڈ پر جا لگے گا۔ گاڑی دھیرے سے مقام مقصود کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دماغ مختلف جالوں میں جکڑا ہوا تھا۔ خیالات کا دریا تھا جو بہتا چلا جا رہا تھا۔ فرط خوف سے سانس اٹک رہا تھا اور ہر دوسرے لمحے یہی خیال گزرتا بس ابھی پیچھے سے چیختی چنگھاڑتی وین آئے گی اور پھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھے گی۔ پھر ٹی وی کی اسکرینیں بریکنگ نیوز اگلنا شروع کر دیں گی۔ سرخ دائرہ میری تصویر کے گرد گھومے گا۔ مختلف ٹکرز چلیں گے اور بھاشن دینے والے سر فخر سے اٹھائے بتا رہے ہوں گے’’ مانسہرہ؛ پولیس مقابلہ، چار دہشت گرد ہلاک‘‘۔ پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملک کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ پھر تفصیل ہو گی۔
ابھی میرا ذہن وہ تفصیل بن ہی رہا تھا کہ امی کی آواز آئی۔’’ عبدل! بیٹا یہاں سے پتوں والے شلجم خرید لو۔ تازہ ہیں اچار ڈال لیں گے‘‘۔ ’’بھائی! مولیاں بھی لیجیے گا۔ پراٹھے بنائیں گے‘‘۔ بہن نے لقمہ دیا تھا۔ میں نے خوف کی چادر کا پلو ہٹا کر دیکھا تو یہ وہ جگہ تھی جہاں مولی، شلجم کے بڑے بڑے کھیت ہیں۔ کسان یہیں سڑک کنارے ٹھیلے لگائے روزی روٹی کمانے بیٹھتے ہیں اور راہ گزر ،یوں ہی گاڑی روک کر، تازہ سبزی خریدتے ہیں۔ لیکن میں اس روز امی کی بات نظر انداز کر چکا تھا۔ جب کہ ڈرائیور کن اکھیوں سے مجھے دیکھ رہا تھا کہ کب یہ رکنے کو کہتا ہے۔ لیکن میں بھلا کیسے رک کر مولی، شلجم خریدتا؟ بھئی! جان ہے تو جہان ہے۔ ابھی آدھے سے زیادہ راستا باقی تھا۔ کیا خبر آئے روز کے واقعات کی طرح ایک واقعہ مزید رونما ہو جاتا۔ چھ چھ راؤنڈ فائر کرنے کے بعد گاڑی کی ڈگی سے مولیاں اور شلجم برآمد ہوتے اور سیکورٹی فورسز بم اور ہینڈ گرینیڈ بنا کر پیش کر دیتیں تو؟؟
یار میرے ڈر کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ گاڑی میں بیٹھتے ہی لائٹر تک باہر پھینک چکا تھا۔ مبادا ملکی بقاکی خاطر، ہمیں قربان کر دیا گیا تو پریس کانفرنس میں کوئی وزیر، مشیر گلے میں سریا تانے کہہ رہا ہوگا:’’ دہشت گردوں کی گاڑی سے آتشیں مواد برآمد ہوا‘‘۔ خیر مجھے یقین ہے ا ن پر ؛کہ اگر کچھ بھی نہ ملا تو بھی وہ ’’وہ‘‘کچھ برآمد کر لیں گے جس کا اندازہ تو کیا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمارے ادارے اب اتنے قابل تو ہیں ہی۔ کیا ہوا اگر غیرذمہ دارانہ کاروائی کر لی تھی تو۔ ہم مانسہرہ کی حدود سے نکل چکے تھے۔ سرد ہوا کے تھپیڑے گاڑی کی کھڑکیوں سے آنا جانا کر رہے تھے۔ ٹھٹھرتا بدن لیے بار بار میں امی سے پوچھتا ’’شیشے چڑھا لوں‘‘۔ امی کا وہی ٹکا سا جواب ہوتا۔’’ مرنے کا شوق ہے تو چڑھا لو‘‘۔ کیوں انہیں موقع دیتے ہو کہ وہ تمہیں بھی چھلنی کر دیں۔ کھلا رہنے دو۔ سردی نہیں مارتی وہ نہ مار دیں۔ سردی سے جم کر مجسمہ بن جاؤ یہ تابوت میں بند ہونے سے بہترہے۔
میں بے خوف ہو کر بھلا کیسے بیٹھتا، کہ سب ہی تو خو ف زدہ تھے۔ ایک جگہ ٹریفک جام میں گاڑی رکی تو فٹ پاتھ پر ریڑھی بان نظر آیا جو مکئی کے دانے فروخت کر رہا تھا۔ بہن کے دل میں چھلی کھانے کی خواہش جاگی تو مجھے اس خواہش کا بھی گلا گھونٹنا پڑا۔ آنے والے وقت کی کسے خبر؟ کیا پتا آنے والا لمحہ کیسا ہو؟ کہیں سے بغیر نمبر پلیٹ گاڑی نکل آئی اور تربیت یافتہ مجاہدوں نے ہمیں روکے بغیر ہی مار دیا اور اس چھلی کو دھماکہ خیز مواد بتا کر پریس ریلیز جاری کر دی تو؟ جب سانحہ ساہیوال کی ننھی گڑیا کا خالی فیڈر دھماکہ خیز مواد بن سکتا ہے یہ تو پھر چھلی ہے اور صرف نون کے اضافے سے چھلنی بن جاتا ہے۔
میں بالکل نہیں چاہتا تھا کہ کسی غیر مؤثر اطلاع پر ہم ہلاک شدگان میں شامل ہو جائیں اور کوئی سیانا پریس کانفرنس کرتے ہوئے فخر سے اپنے جاری کردہ بیان کی جزئیات پر روشنی ڈال رہا ہو۔ جب کہ آپ کے دماغ میں کسی ایسے ہی سانحہ کی متحرک پٹی ہو؛کہ یہ کوئی پہلا سانحہ تو ہے نہیں۔ پھر سامنے ٹی وی کی اسکرین پر دوسرا منظر ابھرے اور ریاست کا نمائندہ افسوس کا اظہار کر تے کہہ رہا ہو۔’’ ہم مرنے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں‘‘۔ ایک اور سیاسی راہنما اپنے دور حکومت کی ایسی وارداتوں کو بھول کر اس سانحہ پر سیاست چمکا رہا ہو۔ اور پھر کوئی تیسرا وزیر جھوٹ پر جھوٹ کا غلاف چڑھاتے ہوئے کوئی نیا بیان دے رہا ہو اور ہم ادھر خون میں لتھڑے پڑے ہوں اور ہمارے خاندان والے اپنے چہروں پر بڑے بڑے سوالیہ نشان لگائے ہمارے کفن دفن کے انتظامات کر رہے ہوں۔ جب کہ میڈیا کو کسی نئے منجھن کی تلاش ہو۔ اور ایسے میں ایک مشیر ٹھاٹھ باٹھ سے پھولوں کا گلدستہ، اتفاقیہ بچ جانے والے میرے فیملی ممبر کو پیش کرے۔ اور اس وقت اسے احساس ہو کہ ’’تمہارے سر پر جو آسمان تھا وہ سمٹ گیا ہے‘‘۔
سفر باقی تھا اور خوف تھا کہ اپنا پھن پھیلائے اسی طرح کھڑا تھا۔ اوردماغ کی سلیٹ پر افتخار عارف کا یہ شعر ابھر رہا تھا۔ شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے۔

حصہ
mm
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الباسط ذوالفقارمختلف سماجی موضوعات پر انتہائی دل سوزی سے لکھتے ہیں،جو براہ راست دل میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔مختلف اخبارات و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں