’’Best Buy کی کہانی‘‘

سال 2016،دنیا کی ٹاپ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کنیڈا کی (Best Buy) کمپنی کو ایوارڈ لے اڑی ۔یہ کہانی ہےBest Buy کے مالک امریکی بزنس مین (Richard Michael Schulze) شلزے کی۔ شلزے کی آپ بیتی بھی دوسرے امیر ترین لوگوں سے مختلف نہیں ۔لیکن زندگی میں اس نے جو کچھ کمایا جو کامیابیاں حاصل کیں وہ طوفانو ں سے لڑنے، خطرات سے کھیلنے سے کم نہیں۔شلزے مشکلات میں ہاتھ مَلنے والا نہیں تھا ۔اس کا باپ بہت غریب اور تنگ دست تھا ۔وہ شلزے کی پیدائش پر ہمسائیوں کو کچھ نا کھلا سکا ۔جھونپڑی نما گھر میں اس خاندان کے پاس کھانے کے برتن بھی بقدر ضرورت تھے۔شلزے کا باپ صبح کو روزی روٹی کی تلاش میں نکلتا تو شام تک گھر لوٹتا، جس سے اتنا ملتا کہ جس سے یہ تین لوگ پیٹ کی آگ بجھاپاتے۔کبھی تو فاقے کرنے پڑتے۔اسی کسمپرسی ،خستہ حالی میں شلزے بڑا ہوتا گیا ۔اس کے والدین کو اس کی تعلیم کی فکر ستانے لگی تو شلزے کو اسکول میں داخل کرا دیا گیا ۔شلزے بھی والدین کی امیدوں کے لیے پڑھتا رہا ۔اچانک حالات گراوٹ کا شکار ہوئے تو شلزے نے رنجیدہ دل ،نم دیدہ آنکھوں ،بوجھل قدموں سے سینٹ پاؤل میں واقع سنٹرل ہائی اسکول کو خیر باد کہ دیا ۔یوں شلزے تعلیمی میدان سے باہر نکل آیا۔
اسے نوکری کی تلاش تھی جس میں اس کے دوست نے مدد کی اور یہ آئر فورس میں بھرتی ہوگیا ۔لیکن وہ یہاں مطمئن نہیں تھا ۔کیوں کہ جتنا وہ کماتا تھا اس سے گھر میں پڑے غربت کے گڑھے بھرے نہیں جا سکتے تھے۔کھانے کے لیے روٹی ، پہننے کے لیے کپڑے ، سر چھپانے کے لیے مکان نہ تھا ۔اس نے سازگار حالات آنے تک فوج میں وقت گزارا پھر وہ یہاں سے دست بردار ہوگیا۔یہاں سے نکلنے کے بعد اس نے ایک ’’ کنزیومر الیکٹرونکس کمپنی ‘‘ میں سیلزمین کی نوکری کرلی ۔اور یہی شلزے کی کامیابی کی پہلی اڑان تھی ۔شلزے فوج میں نوکری کے دوران علاقوں میں آتا جاتا تھا،لوگوں سے ملتارہتا تھایہی چیزیں اس کی نئی جاب یعنی سیلزمینی میں کار آمد ثابت ہوئیں ۔دن بدن اس کی سیکھنے کی عادت بڑھتی گئی اور شلزے چھوٹی دکان سے لے کر بڑی کمپنی تک کے لوگوں سے ملنے لگا۔ان کے قریب ہوتا گیا۔یہ قرابت کام کی نوعیت کو سمجھنے ،مسائل کو بغور حل کرنے میں مددگار ہوتی۔اس دوران اس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملازمین کے اپنے با س کے بارے میں شکوے کیا ہیں؟ اور باس ملازمین کی شکایات پر کیا رد عمل ظاہر کرتا ہے؟
شلزے کا ایک عام کسٹمر سے بھی واسطہ پڑتا تھا۔وہ بڑی کمپنیوں کے بڑے بڑے اسٹوروں سے بہت خفا رہتا ۔اس لیے کہ ان کی چیزوں تک عام آدمی اور غریب کی پہنچ نہیں تھی ۔جیسا کہ ہم آج دیکھتے ہیں بڑے شاپنگ مال کو ایک غریب آدمی صرف حسرت سے دیکھ سکتا ہے ،وہاں جا نہیں جا سکتا۔شلزے کیوں کہ ان حالات کا سامنا کر چکا تھا اس لیے وہ ان مسائل کے حل کیلیے غور وفکر کرتا رہتا تھا۔شلزے نے سوچا کیوں نا ایسی کمپنی بنائی جائے جس میں ملازمین کی تربیت ،ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔اور اس کمپنی سے ہر طبقے کے لوگ فائدہ اٹھائیں ۔1966 میں جب شلزے کی عمر 25 سال تھی ،اس نے اپنے گھر میں (Audio Equipment) کا اسٹور کھول لیا۔جلد ہی اس کے اسٹوروں کی تعداد 9 تک جا پہنچی ۔اس نے اپنے اسٹوروں میں چیزیں اس طرح سجائیں کہ کسٹمر جو چاہے اٹھائے ،دیکھے ،پرکھے پسند کرے اور پھر خریدے۔سیلزمینی میں اس نے کمپنیوں سے اچھے تعلقات بنا لیے تھے اس لیے اسٹوروں میں اس نے قیمتیں انتہائی کم رکھیں۔آج ہم سپر مارکیٹس میں ٹرالیز لے کرمن پسند اشیاء مرضی سے اٹھاتے ہیں۔یہ آئیڈیا دراصل شلزے نے 1966 میں متعارف کر ادیا تھا۔
شلزے کی کامیابی کا راز چیزوں کی سجاوٹ اور کم قیمت میں اچھی چیز کا ملنا تھا۔اسی خوبی نے ایک عام سیلزمین کو دنیا کی Best Buy کمپنی کا مالک بنا دیا ۔ایک آئیڈیا تیر بہدف ثابت ہوا اور شلزے ترقی کے زینے چڑھتا گیا۔ اس کے اسٹور دنیا بھر میں موجود ہیں اور ا س کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار ہے۔شلزے نے اپنے اسٹوروں کا فارمیٹ بنایا۔اس نے اٹھارا ہزار اسکوائر فٹ کے اسٹور بنوایے۔اشیاء کی قیمتیں کم رکھیں۔ملازمین کی بہترین ٹریننگ کروائی۔ایڈورٹائزنگ پہ خوب خرچ کیا۔اس کے اسٹور پر غریب اور معمولی تنخواہ دار بھی باآسانی خریداری کر سکتا ہے۔شلزے کا یہ فارمیٹ مقبول ہوا ۔وہ اسی پیٹرن ،فارمیٹ اور پالیسی کے مطابق اپنی برانچز کھولتاگیا۔آج Best Buy دنیا کی بہترین سیلزکمپنی بن چکی ہے۔یہ فارمیٹ ہمیں پاکستانی برانڈز جنید جمشید اسٹور،گل احمد اسٹور،زبیداز اسٹورز وغیرہ میں نظر آتا ہے ۔لیکن یہ ابھی بہت پیچھے ہیں۔شلزے کا ماننا ہے کہ فارمیٹ ہی کاروبار کی پہچان اور جان ہوتے ہیں۔
اس وقت BestBuy کے اثاثوں کی مالیت پانچ ارب ڈالر ہے اور اس کے دنیا بھر میں 155 اسٹور ہیں۔2016 میں Best Buy کو بہترین سیلز کمپنی کا ایوارڈ ملا ۔اگر کوئی کاروبار کی پیچیدگیوں کو سمجھ کر مستقل بنیادوں پر ایک فارمیٹ بنا کر کام کرے تو وہ بھی کامیابی کی کنجی حاصل کر سکتا ہے۔کاش ! ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فہرست میں Best Buy کی طرح کوئی پاکستانی کمپنی بھی نام کمائے۔امید باقی ہے۔

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں