ڈگری نہیں قابلیت

میری خوش قسمتی تھی کہ میری پہلی نوکری تھی اور سُمیر یوسف کی شکل میں مجھے اسسٹنٹ مینیجر مل گیا تھا۔سُمیر کا تعلق سُرجانی ٹاون کے لوئر مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔ان کے والد صاحب بس اسٹاپ پر چھولے بیچ کر گزارا کرتے تھے۔ گھر کے حالات دیکھتے ہوئے سُمیر نے بس اسٹاپ کے سامنے اپنا کھوکھا لگالیا۔پان،سگریٹ کا کاروبار شروع ہوگیا لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے نیٹ ورکنگ کے انسٹی ٹیوٹ میں نوکری شروع کردی۔

یہ شام 4 بجے  انسٹیٹیوٹ کا تالا کھولتے،کمروں کی صفائی کرتے،کمپیوٹر اور دوسری ڈیوائسز پر کپڑا مارتے پھر طلبا طالبات اور اساتذہ کو چائے، پانی پلاتے رہتے۔ اس طرح رات تک اسٹیٹیوٹ کو تالا لگاتے اور گھر آ جاتے۔ اس وقت یہ میٹرک پاس تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کا شوق کمپیوٹر اور ڈیوائسز کی طرف بڑھنے لگا انہوں نے اپنے ادارے کے مالک “عرفان غوری” صاحب سے درخواست کی کہ مجھے بھی  “سِسکو ” کو پڑھنی ہے لیکن ایک “چائے پلانے والا” بھلا کہاں پرائیویٹ یونیورسٹیز میں پڑھنے والے ایلیٹ کلاس لوگوں کے درمیان پڑھ سکتا تھا۔

اتفاق یہ ہوا کہ انکی دوستی ایک لڑکے سے ہوگئی جس کو ان کے شوق کا اندازہ ہو گیا۔وہ تلاش کے بعد ان کو زبانی کلامی نیٹ ورکنگ سمجھاتا اور یہ وقت سے پہلے انسٹیٹیوٹ  کا تالا کھول کر سارا وقت ڈیوائسسز سے کھیلتے رہتے تھے۔ بل آخر 27 دسمبر 2007 کو سُمیر نے اس لڑکے کے ساتھ اس شرط پر “سِسکو” کا امتحان دے دیا کہ اگر وہ پاس ہوا تو پیسے معاف لیکن اگر فیل ہو گیا تو ڈھائی سو ڈالر واپس کرنے پڑیں گےلیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اس طرح انسٹیٹیوٹ کا “چائے پلانے والا” سسکو سرٹیفائیڈ بن چکا تھا۔

 27 دسمبر کی شام سُمیر مٹھائی لے کر “عرفان غوری”صاحب کے سامنے کھڑا تھا اور انہیں یہ “دلدوز” خبر دے رہا تھا کہ “صفائی والا” آپ کے پیچھے کرنے کے باوجود آگے نکل چکا ہے۔ خدا کا کرنا کہ پھر سمُیر یوسف نے نیٹ ورکنگ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ کمپنی کے مالک نے ان کو بتایا کہ ضیاء الدین اسپتال میں ایک سیکیورٹی ڈیوائس انسٹال کرنی ہے جو کہ اے-ایس-اے کہلاتی ہے اور نیٹ ورکنگ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ وہ خاصی رِسکی اور مشکل کے قسم کا کام ہوتا ہے۔

 عشاء کی نماز کے بعد سُمیر نے یوٹیوب پر انسٹالیشن کا طریقہ سیکھا اور فجر کے بعد ضیاءالدین جاکر ڈیوائس انسٹال کردی۔ اب ان کی میٹنگز بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز کے آئی ٹی ہیڈز سے ہونا شروع ہو گئی تھیں اور باس کو یہ فکر تھی کہ اس کے پاس تو “گریجویشن” کی ڈگری تک نہیں ہے۔آخرکار باس کی ہدایت اور کمپنی کے خرچے پر دنیا دکھاوے کے لیے دوسری دفعہ میں سُمیر  نے اپنا بی –کام مکمل کرلیا۔

آپ میر عُمر کی مثال لیں۔میرعُمر صرف سترہ سال کا کم عمر اور ہونہار لڑکا ہے۔جس نے ابھی حال ہی میں انٹر کے امتحانات دیئے ہیں لیکن یہ چھٹی جماعت سے کمپیوٹر کا شوقین ہے۔اس نے اتنی کم عمری میں کمپیوٹر گرافکس سیکھ لی یہ اعلی ترین ویڈیو ایڈیٹنگ کرنا بھی جانتا ہے، ایک بہترین پروگرامر بھی ہے اور اس نے اتنی سی عمر میں ہیکنگ بھی سیکھ لی ہے۔

یہ صبح میںایک ادارے میں ملازمت  کرتا ہے اور ان کی ٹیم کا بنیادی حصہ ہے۔ایک موٹیویشنل اسپیکر کے یوٹیوب چینل کی ویڈیوز بھی ایڈٹ کرتا ہے اور کراچی کے  ایک بڑے سُپر مارٹ کی چین کا سارا کانٹریکٹ  بھی اسی کے پاس ہے یہ رات میں بھی فری لانس کام کرتا ہے۔میں جس دن سے اس نوجوان سے ملا ہوں میں اس کی قابلیت محنت اور عظمت کا قائل ہو گیا ہوں۔یہ رات رات بھر جاگ کر جِنوں کی طرح کام کرتا ہے اس لڑکے کو پانچ منٹ ضائع کرنا 5000  کا نوٹ ضائع  کرنے سے زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔

اس کے کزن اور دوست اس کے پاس یہ سمجھ کر کام سیکھنے آتے ہیں کہ اس  فیلڈ میں “اسکوپ” بہت ہے اور کچھ ہی دنوں میں مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ابھی تک علم کی وہ تڑپ اور آگ ہی نہیں ہے جو میر عُمر میں سُلگ  چکی ہے۔وہ پیسے کے لئے اس کے پاس آتے ہیں اور اس کا نشہ شوق ہے۔آپ اتنی چھوٹی سوچ کے ساتھ بھلا کیسے جی سکتے ہیں کہ پیسے کو اپنا مقصد بنالیں؟

آپ یہ دونوں کہانیاں پڑھیں اور ہماری نئی نسل اور ان کے والدین کا حال دیکھیں ہم اتنے معصوم ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم “ڈگری” کی مرہون منت ہے اور علم حاصل کرنے کے لئے ڈھیر سارا پیسہ درکار  ہے۔علم کا تعلق  نہ پیسوں سے ہے اور نہ ہی ڈگری سے۔علم کا تعلق آپ کے شوق اور آپ کی اپنی تڑپ سے ہے۔

 ایک نوجوان سُقراط  کے پاس آیا اورکہا کہ مجھے اتنا ہی علم چاہیے جتنا آپ کے پاس ہے۔ سُقراط  اس نوجوان کو لے کر دریا کنارے پہنچا  اور اس کو کہاکہ دیکھو پانی میں کیا نظر آ رہا ہے؟اس نوجوان نے جیسے ہی سر نیچے کیا سُقراط نےاس کا سر پانی میں ڈبو دیا اور تھوڑی دیر بعد باہر نکالا تو وہ نڈھال ہو کر زمین پر گر گیا سُقراط نے اس سے پوچھا تمہیں کس چیز کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی؟اس نے ہانپتے  ہوئے جواب دیا سانس اور ہوا کی سُقراط مسکرایا اور بولا “جس دن علم کی تڑپ اور پیاس بھی ہی اتنی شدت سے محسوس ہو میرے پاس آ جانا مجھ سے زیادہ علم تمہیں نصیب ہو جائے گا”۔

 گلاس ڈور دنیا کہ جاب تلاش کرنے والی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے پچھلے دنوں گلاس ڈور نے سی این بی سی کو ایک سروے فراہم کیا جس میں بتایا گیا  کہ دنیا کی چودہ بڑی کمپنیوں نے نوکری کے اشتہارات میں سے چار سالہ ڈگری کی شرط کو نکال دیا ہے ۔ ان کمپنیوں میں مائیکرو سافٹ، ایپل،آئی- بی- ایم، بینک آف امریکہ اور اسٹاربکس سمیت مزید 9 ادارے شامل  ہیں ۔آئی- بی- ایم کی چیف ایگزیکٹو کا دعویٰ ہے کہ ہمارے ایک تہائی ملازمین کے پاس چار سالہ ڈگری نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ڈگری کے نام پر قابلیت کو  ضائع نہیں کر سکتے۔

کاش کہ کوئی ہمارے نوجوانوں کو سمجھائے کہ “اسکوپ” دنیا کی کسی فیلڈ میں نہیں ہوتا ہے۔ “اسکوپ” آپ کے اپنے اندر ہوتا ہے۔ آپ جتنے قابل ہوتے چلے جاتے ہیں آپ کا “اسکوپ”  اُتنا بڑھتا چلا جاتا ہے۔چاہے آپ ففٹی موٹرسائیکل پر “مصالحے” ہی کیوں نہ بیچتے ہوں۔ ایک دن آپ “شان مصالحے” بنالیتے ہیں۔آپ زیادہ محنت کرکے زیادہ وقت لگا کر زیادہ ترقی نہیں کر سکتے بلکہ آپ اپنی قدر اور ویلیو بڑھا کر زیادہ ترقی کر سکتے ہیں کیونکہ 24گھنٹے دنیا میں سب کو برابر ملتے اور روز چودہ گھنٹے سورج ہم سب کے لئے بالکل برابر سے چمکتا ہے۔ اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ڈگری کی نہیں قابلیت کی ضرورت ہے۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں