آج کی ڈائری کا ایک ورق

بچے بہت عجیب ہوتے ہیں ۔قدرت کے شاہکاروں میں سے ایک شاہکار ،اوررازوں میں سے ایک راز۔ایسی گُتھی جسے اس کے مالکان یعنی والدین بھی نہ سلجھا سکیں ۔اپنی پیدائش سے لے کر اپنی پوری زندگی ماں باپ کو ہر لمحے، ہر ساعت حیرت کے ایسے ایسے جھٹکے دیتے ہیں کہ کبھی کبھار وہ شاید یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہوں گے کہ َ کیا یہ واقعی ہماری اولاد ہے؟

آپ میں سے جو ماں باپ ہیں ان کے نزدیک شاید یہ حیرت کی بات نہ ہو کہ جب یہ بچے نومولود ہوتے ہیں اور انھیں بھوک لگی ہو ،تو اتنا گلا پھاڑ پھاڑ کر روتے ہیں کہ ماؤں کےہاتھ پیر پھُلا دیتے ہیں ۔وہ بے چاری جب بھاگم بھاگ  (ساسوں کی باتیں  سن کر  کہ اسے رُلا کر دینا ضروری ہے )اس کے لیے دودھ کی بوتل تیار کرکے لاتی ہیں تو جناب وہ بس بوتل کو منہ لگاتے ہیں اور گہری نیندکی آغوش میں یوں چلے جاتے ہیں کہ گویا نشہ ٹوٹ رہا تھا۔حد ہو گئی یعنی کہ ۔۔۔ اب وہ بھری ہوئی دودھ کی بوتل ان موصوف کے جاگنے تک کسی کام کی نہیں رہتی۔

حد تو یہ ہے کہ سارا دن مزے سے سوئیں گے مگر جہاں ماں کھانے کے لیے بیٹھی وہاں ان کا الارم اس زور سے بجتا ہے کہ مائیں ضرور اپنی ماؤں سے معافی مانگنے کے بارے میں سوچتی ہوں گی کہ  شاید ہم نے بھی اپنی ماؤں کو ایسے ہی ستایا ہوگا۔رہی بات رات کی۔۔۔۔آہ ہاہ! یہ وہ غم ہے جس کا کوئی مداوا نہیں کر سکتا ۔یہ قوم( بچے) رات کو اس طرح تازہ دم ہوتی ہے جیسے کہ انھیں کسی جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہو۔ان کی ساری سرگرمیاں اسی وقت کے لیے مخصوص ہو تی ہیں ۔انھیں اپنی پوری پوری آنکھیں کھول کر سارے ماحول کا جائزہ لینا ہوتا ہے ،چنانچہ کمرے کی لائیٹ بندکرکے اندھیرے کی مزیدار نیند لینے کا آپ تصور بھی نہ کریں۔جہاں آپ نے لائیٹ بندکی ،ان کی چنگھاڑ نے سب سے پہلے آپ کے شوہر نامدار کو جگانا ہے جس نے  سونے سے پہلے ہی یہ فرمان جاری کردیا تھا کہ آج میں بہت تھکا ہوا ہوں مجھے اپنی نیند پوری کرنی ہے۔

اور جی بس ہم مشرقی بیویاں ،چاہے سارا  دن گدھوں کی طرح  گھر سنبھالیں ،نوکریاں کریں اور سب سے بڑھ کر اس افلاطون کے ناز نخرے اٹھائیں ،خاموشی سے اسے گود میں لے کر ساری ساری رات بیٹھی رہتی ہیں۔ سب سے  بڑھ کر اگر اس نےکروٹ لینا سیکھ لی ہے تو بس جی آپ کے بیڈ پر سونے کی جگہ کم اور تکیے زیادہ نظر  آئیں گے پر مجال ہے کہ یہ اونچی رکاوٹیں ان کے عزم اور حوصلے کی راہ میں حائل ہوں ۔انھوں نے اسے پار کر کے سرحد کی دوسری جانب ضرور گرنا ہے ۔اگر یہ ایکٹیوٹی وہ نہ کرے تو آپ گھر کے جملہ افراد سے پھوہڑ اور غیر ذمے دار ماں کا لقب کیسےحاصل کر پائیں گی ؟؟

اور وہ  ۔۔۔۔وہ اپنے سارے غم اور سر پر لگنے والی تکلیف بھول کر آپ کی گودمیں غوں غاں کر کے اپنی فتح پر شاداں و فرحاں کھلکھلاتا رہتا ہے۔

بس ایک بات کی تسلّی ہے جس کی وجہ سے ہم مائیں یہ سب بخوشی کر لیتی ہیں جی ہاں

جنّت ایویں تو نہیں ہمارے پاؤں کے نیچے رکھ دی گئی ہے نا

حصہ

جواب چھوڑ دیں