کفار کی عیدوں میں شرکت اور انہیں مبارکباد یا تحفہ دینا

“والذين لا يشهدون الزور” (سورۃ الفرقان)

اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو کافروں کی عیدوں میں شریک نہیں ہوتے.

[ تفسیر ابن کثیر ]

کفار کی عیدوں پر ان کی عبادت گاہوں کا رخ مت کیا کرو ؛ بے شک ان پر اللہ کا غصہ اترتا ہے !

[ سیدنا عمر فاروق ؓ || مصنف عبد الرزاق : ١٦٠٩ ]

کفار کی عید پر انہیں مبارکباد پیش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو صلیب کے آگے سجدہ کرنے پر مبارکباد پیش کرنا!

[ ابن القيم رحمه الله || أحكام أهل الذمة : ٢١١/٣ ]

“غیر مسلموں کی سرزمین میں رہنے والا مسلمان ان کی عید کو انہی کی طرح منائے اور اسی رویّے پر اس کی موت ہو تو قیامت کے دن بھی وہ انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا.”

[ سيدنا عبد الله بن عمرو ؓ || السنن الكبرى للبيهقي : ١٨٨٦٣ ]

“اگر کوئی شخص پچاس سال اللہ کی عبادت کرے, پھر مشرکین کی عید کے موقع پر اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے کسی مشرک کو ایک انڈہ ہی تحفہ دے دے تو اس نے کفریہ کام کیا اور اپنے تمام اعمال ضائع کر لیے!”

[ امام ابو حفص كبير الحنفي || الدر المختار : ٧٤٥/٦ ]

“اگر کسی شخص کی بیوی عیسائی ہو تب بھی وہ اس کو عیسائیوں کی عید میں شرکت کی اجازت نہ دے کیونکہ اللہ نے گناہوں پر تعاون کو منع قرار دیا ہے!”

[ امام احمد بن حنبل || المغني لابن قدامة : ٣٦٤/٩ ]

شافعی فقہاء کا کہنا ہے کہ کفار کی عید میں شرکت کرنے والے کو سزا دی جائے!

[ مغني المحتاج : ٥٢٦/٥ ]

“مسلمانوں کیلیے جائز نہیں کہ وہ عیسائیوں کو کوئی ایسی چیز بیچیں جو ان کی عیدوں میں کام آنے والی ہو ؛ کیونکہ یہ ان کے شرک کی تعظیم اور ان کے کفر کی معاونت ہے!”

[ امام ابن القاسم المالكي || المدخل لابن الحاج : ٤٦/٢ ]

حصہ

جواب چھوڑ دیں