حیاتِ قائد کے چند روشن واقعات

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ہمہ جہت خوبیوں سے مبرا ایک ایسی سحر انگیز شخصیت کہ جن کی بے پناہ جادوئی خوبیوں اور راہنمائی سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔انہوں نے اپنی ساری زندگی ان اصولوں کے تحت بسر کی جنہیں اسلام کے سنہری اصول کہا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی اپنی بلند کرداری،دیانت،جہدِ مسلسل ،شرافت اور اعلی نصب العین کے حصول کو ہر چیز سے مقدم رکھا ۔انتہائی نا مساعد حالات میں بھی ثابت قدمی اور بلند حوصلگی کا ثبوت دیا کہ انگریزوں کا شاطرانہ رویہ اور ہندوؤں کی چال بازیاں ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ پیدا کر سکیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں اگرچہ کچھ ایسے موڑ بھی آئے کہ جس سے ان کے بلند حوصلہ کی اونچی دیوار لمحہ آن میں صدِ رملہ ثابت ہو سکتی تھی مگر انہوں نے کمال مہارت اور عقل سلیم سے ان حالات کا ،فرار کی بجائے مردانہ وار مقابلہ کیا،سیاست کے آغاز سے قیام پاکستان تک قائد نے نوجوان نسل کو ملکی معمار اور شاندار مستقبل قرار دیا۔ان کا خیال تھا کہ ملکی بقا ،استحکام اور امن و سلامتی کے پیامبر نوجوان نسل کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔اسی سوچ کو عملی جامہ پہچانے کے لئے ان کی زندگی کے چند واقعات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے قائد کی سوچ،بصیرت،حوصلہ اور خیالات کتنے وسیع و ارفع تھے۔
بمبئی میں وکالت کے پیشہ کے آغاز میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا تھا کہ ایسے میں عدالتی دلال روزانہ ان کی خدمت میں آکر کہتے کہ اگر آپ ہمیں کل فیس کا آدھا دیں تو ہم زیادہ سے زیادہ مقدمات آپ کے پاس لائیں گے،تو اس پر جناح نے جواب دیا کہ ’’میں ایسا نہیں کرونگا ،ایسا کرنے سے مجھے بھوکا رہنا بہتر ہے‘‘قائد اعظم عدالت میں بحث کے وقت ایک خاص انداز میں کھڑے ہوتے پھر اپنا مونو کل آنکھ پہ لگاتے اور اطمینان سے جج سے بحث کرتے کہ کمرہ عدالت میں مکمل خامشی طاری ہو جاتی،ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جج نے ان سے گلہ کیا کہ مسٹر جناح میں آپ کی آواز نہیں سن پا رہا تھوڑا اونچا بولیں تو قائد اعظم نے جواب دیا کہ’’جج صاحب میں بیرسٹر ہوں ایکٹر نہیں ہوں‘‘ابوالحسن اصفہانی اپنے ایک مضمون بے مثال لیڈر میں لکھتے ہیں کہ قائد کی عادت تھی کہ کمرے سے باہر نکلتے وقت تمام لائٹ بند کر دیا کرتے تھے،میں آخری بار ان سے 31اگست 1947 گورنر ہاؤس میں ملا تھا۔ہم کمرے سے نکلے تو مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے اور کمرے سے نکلتے وقت حسب عادت تمام لائٹ کا بٹن بند کرتے آ رہے تھے۔تو میں نے ان سے کہا کہ سر آپ گورنر ہیں اور یہ سرکاری رہائش گاہ ہے اس میں لائٹ جلتی رہنا چاہئیے،تو قائد نے جواب دیا کہ سرکاری رہائش گاہ ہے اسی لئے تو میں ایسا کر رہا ہوں یہ نہ تمہارا پیسہ ہے اور نہ میرا یہ سرکاری خزانہ کا پیسہ ہے اور میں اس پیسہ کا امین ہوں۔‘‘فاطمہ جناح ’’میرا بھائی‘‘ میں ایک واقعہ تحریر فرماتی ہیں کہ زندگی کے آخری ایام میں جب ان کی حالت بہت خراب تھی تو میں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا جس پر انہوں نے کہا کہ ’’فاطی کیا تم نے کسی جرنیل کو اس وقت رخصت پر جاتے ہوئے دیکھا ہے جب اس کی فوج میدان جنگ میں اپنی بقا کے لئے بر سر پیکار ہو‘‘ اس پر میں کہتی کہ آپ کی زندگی بہت عزیز ہے تو وہ جواب دیتے کہ ’’مجھے تو ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی زندگی کی فکر ہے‘‘
ْْٗٓٓقائد اعظم محمد علی جناح وکالت کے پیشہ کو بہت اچھا خیال کرتے تھے،اس زمانے میں انگریز جج اکثر وکلا کے خلاف غیر شائستہ الفاظ کا استعمال کر لیا کرتے تھے اور اکثر وکلا جواب بھی نہیں دے پاتے تھے،ایک انگریز کی عدالت میں ایک بار جناح حاضر ہوئے تو انگریز جج نے کہا کہ جناح خیال رکھئے گا کہ آپ کسی تیسرے درجہ کے جج کے سامنے پیش نہیں ہو رہے تو جناح نے جواب دیا کہ ’’آپ بھی خیال رکھئے گا آپ بھی کسی تیسرے درجہ کے وکیل سے مخاطب نہیں ہیں‘‘قائد اعظم کا کردار آئینے کی طرح شفاف تھا وہ کسی کے سامنے نہیں جھکتے تھے،ایک دفعہ قائد کسی کانفرنس میں تقریر فرما رہے تھے کہ ان کا مونوکل زمین پہ گر گیا ،وہاں موجود انگریز اور ہندو بہت خوش تھے کہ اب قائد کو ان کے سامنے جھنا پڑیگا،لیکن ان سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے جب انہوں نے اپنی جیب سے دوسرا مونوکل نکال کر آنکھ پہ لگا لیا۔
14اگست1947 کی روح پرور شام تھی جب گورنر ہاؤس کے وسیع چبوترے پر قائد اعظم مسکرا مسکرا کر لوگوں سے مبارک باد وصول فرما رہے تھے،ایسے میں ایک غیر ملکی صحافی نے کہا کہ آپ کتنے خوش نصیب ہیں کہ آپ نے ایک آزاد ملک حاصل کر لیا،جس پر بانی پاکستان کا جواب تھا کہ میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ پاکستان بن گیا مگر اس کا بانی میں نہیں ہوں،صحافی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا تو پھر اس ملک کا بانی کون ہے۔تو قائد نے جواب دیا
’’every musalman ‘‘
یہ ہیں ان کی روشن حیات کے چند تابندہ واقعات جو قائد کی اصول پرستی،عظمت کرادر،بلند حوصلگی اورصالح جذبہ کی صحیح معنوں میں عکاسی کرتے ہیں۔مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے ان حقائق کو بھلا بھی دیا اور جھٹلا بھی دیا وگرنہ وہی عظمت و شکوہ پاکستان کا خاصہ ہوتا جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔ابھی بھی کچھ نہیں ہوا عظمت رفتہ کو آج بھی اقوال قائد پر عمل پیرائی سے حاصل کیا جا سکتا ہے،کمی بس عمل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں