سقوط مشرقی پاکستان۔۔۔۔۔عظیم المیہ 

یہ سچ ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ بھول جاتی ہے اس کا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔تاریخ دراصل ہے کیا؟حقائق و مشاہدات کو عمل تسوید میں لانے کے عمل کو تاریخ کہا جاتا ہے۔اور کتبِ تواریخ سے ہی یہ بات ہم تک پہنچی ہے کہ حقائق و مشاہدات اور حالات و واقعات کو جمع کرنے کا عمل اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب حضرتِ انسان نے لکھنا شروع کیا تھا۔دسمبر 1971 ہماری تاریخ کا سال سویدا اور درد ناک اذیت سے عبارت ایسا سال ہے کہ جب ہمارا ایک بازو بنگلہ دیش کی صورت میں ہم سے کٹ کر جدا ہو گیا تھا۔پاکستان کی تاریخ میں سب سے اذیت ناک سانحہ ہے کہ جس سے نہ صرف پاکستان دو لخت ہوگیا بلکہ اس عظیم المیہ سے پاکستانی قوم پر نفسیاتی،معاشی،معاشرتی اور سیاسی اثرات کا مرتب ہونا فطری تھا ،خاص کر افراد کی نفسیات بری طرح متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔پاکستان کے دو لخت ہونے کے عمل کی جامع و صریح تفہیم کے لئے واقعات و تناظر کا مکمل مطالعہ ناگزیر ہے۔تاہم تاریخ کے تین کرداروں بھٹو،مجیب اور یحیٰ کے رویوں کو جس قدر اخبارات و رسائل اور کتابوں میں پیش کیا گیا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ دیگر واقعات کا اس سانحہ سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں،مگر ایسا ہرگز نہیں د یگراروں کی چالاکیوں اور چالبازیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ بھی ایک ایسا ہی کرب ناک سانحہ ہے کہ جس کے رونما ہونے میں کثیر واقعات و حقائق شامل ہیں۔اہلِ فکر و دانش آج تک اس سوال کے جواب کے متلاشی ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان کا ذمہ دار در اصل ہے کون؟ناکام سیاسی راہنما،فوجی حکمرانوں کا ہوسِ اقتدار،بھارت کا کردار،بین الاقوامی سازش،جغرافیائی فاصلہ،ثقافتی بُعد،زبان کا فرق ،ہندو اساتذہ کا کردار یا فوجی شکست؟تمام حقائق و کردار اپنی جگہ درست مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشہ پر موجود ہے۔وقت کی نزاکت اس بات کی متقاضی ہے کہ مکمل تفصیل میں نہ جایا جائے،تاہم نجماً نجماً اس کا تذکرہ ضروری ہے جس سے قارئین کو اس عظیم سانحہ کے اصل حقائق اور اسباب و عوامل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔سب سے پہلی حقیقت علیحدگی کی جغرافیائی و ثقافتی بُعد ہے جس سے بنگالی قوم و سیاستدان پوری طرح باخبر تھے بلکہ اس کی تشہیر کا کوئی موقع بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔خاص کر بنگالی سیاستدانوں نے اس کی تشہیر کے لئے دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی اس کو خوب خوب اجاگر کیا۔ بنگالیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدان بھی کسی طور کم نہیں تھے انہوں نے بھی جلتی پہ تیل چھڑکنے کو کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا،جس کا ایک حوالہ قارئین کے لئے ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے صرف سات ماہ بعد ہی مارچ 1948 میں دستور ساز اسمبلی کے ایک مسلم لیگی رکن عزیز احمد نے کہا تھا کہ’’محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ نظام میں مشرقی بنگال کو واقعتا نظر انداز کیا جا رہا ہے‘‘ایسے بیانات کے پس منظر میں بھی کئی ایک محرومیاں مضمر تھیں۔اسی لئے تو قیام پاکستان کے بعد ہی وہ جذبہ رفتہ رفتہ سرد پڑنے لگ گیا جو آزادی اور تحریک کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ دونوں بازوؤں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا،جو کہ جغرافیائی حفاظت کے لئے کمزوری کی ایک دلیل تھی۔اسی طرح اگر دونوں حصوں کی ثقافت کی بات کی جائے تو مشترکہ مذہب اور سیاسی جدو جہد کے علاوہ کوئی قدر مشترک دکھاء نہیں دیتی ہے۔زبان سے لے کر پہناوے اور مختلف مواقع پر رسوم و روایات تک بھی مشترکہ اقدار سے خالی تھے۔ایسے حالات میں دونوں صوبوں کو متحد اور ایک مرکز کے تحت سیاسی طور پر مضبوط کر کے چلانا اتنا سہل کام نہیں تھا ایسا صرف دو عوامل سے ہی ممکن ہو سکتا تھا ،ایک دلیر،مدبر سیاسی راہنما ئی سے اور دوسرا مضبوط آئینی نظام سے۔۔۔اگرچہ آئینی نظام کے بارے میں قائد اعظم نے برملا کہہ دیا تھا کہ ہمارا آئین اسلام کے مطابق ہی ہوگا۔تاہم قدرت نے انہیں مہلت ہی نہ دی کہ وہ قیام کے بعد زیادہ عرصہ زندہ رہ کر سیاسی و معاشی انقلاب و اصلاحات برپا کر پاتے۔قائد اعظم کے بعد سے 1958 تک کسی مضبوط سیاسی قیادت کا سہارا نہ مل سکا جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں ایک خلا پیدا ہوتا گیا اور دونوں حصوں کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک وسیع خلیج پیدا ہوتی گئی۔سیاسی قیادت کے بعداس خلیج کی ایک بڑی وجہ سماجی طرز عمل میں تفاوت بھی تھا کیونکہ مغربی پاکستان کی سیاست پر اکثر و بیشتر وڈیروں،جاگیرداروں اور نوابوں کا تسلط تھا جبکہ مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں کی بڑی تعداد وکلا،اساتذہ اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر مشتمل تھی۔جس کی ایک دلیل تواریخ کتب میں اس طرح سے ملتی ہے کہ دوسری دستور ساز اسمبلی میں مغربی پاکستان کے چالیس اراکین میں سے 28 جاگیردار تھے جبکہ مشرقی پاکستان کی نمائندگی 20 وکلا اور9 ریٹائرڈ ملازمین کر رہے تھے۔اور ان میں ایک بھی جاگیر دار نہیں تھا۔لہذا مشرقی حصہ کی سیاسی پختگی اور بالیدگی کا اندازہ اسی ایک بات سے ہی ہو جاتا ہے۔بلکہ یو ں کہنا مناسب ہوگا کہ ان کے طرز عمل،مساوات اور شرح خواندگی کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے۔مزید اگر اس سانحہ میں بھارتی کردار کا جائزہ لیا جائے تو بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت نے کبھی بھی شیخ مجیب کے خلاف کوئی بات نہیں کی،علاوہ ازیں دونوں حصوں کی علیحدگی کے اگر سب سے بڑے عنصر کا تذکرہ کیا جائے تو وہ تعلیم اور معیشت تھی۔اور یہ دونوں شعبے مکمل طور پر ہندوؤں کے قبضہ میں تھے،صوبے کی 80 فیصد دولت پر ہندوؤں قابض تھے،جبکہ تعلیمی میدان کی اگر بات کی جائے تو مشرقی حصہ میں موجود 290 ہائی سکولزاور97 کالجز کے کل 95 فیصد پر بھی ان کا ہی کنٹرول تھا،اور ان تمام سیاسی،تعلیمی ہندو پنڈتوں کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف تھا۔جس سے مغربی پاکستان کی عوام کے خلاف سیاسی فضا کی راہ ہموار ہو گئی۔اسی طرح 1966 میں جب مجیب الرحمن نے اپنے چھ نکات پیش کئے تو پورا صوبہ بنگال چھ نکات پر لبیک کہتا ہوا قومی و سیاسی دھارے کا حصہ بن گیا۔عوامی لیگ کے شائع کردہ منشور میں مجیب الرحمن کے چھ نکات قارئین کی معلومات کے لئے نظر کر رہا ہوں۔تاکہ بات واضح ہو جائے کہ اصل میں ان نکات کے پیچھے کیا عزائم پوشیدہ تھے۔
1 ۔ملک کا طرز حکومت وفاقی اور پارلیمانی ہوگا،جس کے تحت وفاقی مقننہ اور صوبے کی مقنناؤں کے لئے انتخاب براہ راست اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونگے۔وفاقی مقننہ میں نمائندگی آبادی کی بنیاد پر دی جائے گی۔
2۔وفاقی حکومت کے پاس دفاع،امور خارجہ اور کرنسی کے شعبے ہونگے۔
3 ۔ملک کے دونوں حصوں کی الگ الگ کرنسیاں ہونگی۔جو باہمی طور پر قابلِ تبادلہ ہونگی۔
4 ۔صوبے اپنی اقتصادی پالیسی خود تیار کریں گے۔
5 ۔آ ئین کے تحت صوبوں کی زر مبادلہ کی آمدنی کے علیحدہ علیحدہ حسابات کا نظام کیا جائے گا۔
6 ۔صوبائی حکومتیں قومی سا لمیت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے ملیشیا یا نیم فوجی فورس قائم کرنے کی مجاز ہوگی۔
ان چھ نکات پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سیاسی ،عسکری،بیوروکریٹس اور عومی نمائندوں نے اگرچہ ملے جلے خیالات کا اظہار ہی کیا ہے کہ اس مسئلہ کا حل سیاسی ہونا چاہئے تھا اس لئے کہ ایک میز پر آکر سیاستدان خود بخود ہی انتہائی اقدام سے پیچھے ہٹ سکتے تھے،میری ذاتی رائے میں چھ نکات سے سیاسی طالب علموں کو واضح عندیہ مل جاتا ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف وفاق اور فیڈریشن کو کمزور کرنا تھا اور اس قدر کمزور کرنا تھا کہ وفاقی حکومت عملی طور پر بالکل غیر موثر اور حقیقی اختیار سے محروم ہو کر رہ جاتی اور جس کا اختتام وہی ہوتا ہو علیحدگی کی صورت میں ہو چکا ہے۔اگرچہ مجیب الرحمن نے پہلے نکتہ میں وفاقی ریاست کا ذکر بھی کیا ہے تاہم جب باقی پانچ نکات مکمل صوبائی خودمختاری بلکہ صوبائی آمریت کا اشارہ دے رہے ہوں تو پھر وفاق کی مضبوطی اور وفاقی ریاست چہ معنی؟
تاہم اس حقیقت سے بھی مفر نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک اور بڑی وجہ الیکشن 1970 کے بعد اس وقت کے بڑے سیاسی راہنماؤں کے بیانات بھی ہیں،جیسے بھٹو نے 21 دسمبر1970 میں ایک بیان میں واضح کیا کہ ’’گزشتہ تئیس برسوں میں امورِ مملکت میں مشرقی پاکستان کی عدم شمولیت کا مطلب نہیں کہ آئندہ بائیس برسوں تک مشرقی پاکستان،مغربی پاکستان پر حکومت کرے‘‘اسی طرح مجیب الرحمان نے بھی 3 جنوری1971 کو رمنا ریس کورس میں عوامی لیگ کے اراکین قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اکثریت کے نمائندے ہیں اس لئے ہم آئین تشکیل دیں گیاور اس راستے میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو کچل دیا جائے گا‘‘اسی جلسہ میں ہی ’’جے بنگلہ‘‘کا نعرہ بھی بلند ہوا اور اسی سٹیج پر بنگلہ دیش کا نقشہ بھی آویزاں کیا گیا تھا جو اس بات کی طرف واضح اشارہ تھا کہ اب صرف اور صرف بنگلہ دیش ہی ان کی زندگیوں کا مقصد ہے۔یہ وہ چند حقائق و واقعات تھے جن کی وجہ سے ہمارا ایک بازو ہم سے جدا ہو گیا اور ہم ایک لخت سے دو لخت ہونے پہ مجبور ہو گئے۔اور اس حقیقت کو ہم 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقدہ لاہور تسلیم بھی کر چکے ہیں۔مگر اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں ہے کہ ہماری تاریخ کے صفحات میں اسے عظیم المیہ ہی لکھا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں