جناب وزیرِ اعظم ! عافیہ کی آس کو ٹوٹنے نہ دیجیے گا

امریکا کی ظالمانہ قید میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، رہائی کی اپیل کے عنوان سے ایک بار پھر میڈیائی افق پر ہیں۔ خط کے نام سے موسوم یہ اپیل دراصل دفتر خارجہ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز ہے۔ اس کے متن کے مطابق ہیوسٹن، امریکا میں کارزویل جیل میں پاکستانی قونصل جنرل، ڈاکٹرعافیہ سے خیریت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک ملاقات 9 اکتوبر کو قونصلر جنرل عائشہ فاروقی کی ڈاکٹر عافیہ سے ہوئی۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ نے اپنا پیغام وزیراعظم عمران خان کو پہنچانے کی درخواست کی۔ اس پیغام کے مطابق: ’’میں قید سے رِہا ہونا چاہتی ہوں۔ امریکا میں میری قید غیر قانونی ہے کیوں کہ مجھے اغوا کرکے امریکا لے جایا گیا تھا۔ عمران خان نے ماضی میں بھی میری حمایت کی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ ایک بڑا ہیرو سمجھا ہے۔ عمران خان کو اپنے اردگرد موجود منافقین سے محتاط رہنا چاہیے۔‘‘
ڈاکٹر عافیہ کا تعلق پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے ہے۔ انہوں نے امریکا کی اعلیٰ جامعات ایم آئی ٹی اور برینڈیز سے گریجویشن اور پی ایچ ڈی کیا۔ ان کے مقالے کا موضوع ’’ابتدائی عمر میں بچوں میں ذہنی نشوونما‘‘ تھا۔ وہ ایک ماہرِ تعلیم ہیں۔ دین سے محبت کے باعث انہوں نے قرآنِ پاک کی تعلیم کو اپنی قابلیت کا حصہ بنایا اور دورانِ تعلیم ہی بصد شوق قرآن حفظ کیا۔ تعلیم کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی ان کا خواب تھا۔ ان کے ساتھ پیش آنے والے حادثات ان خوابوں کی تعبیر میں مانع رہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کراچی سے مارچ 2003 میں مبینہ طور پر اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کے حکم یا اجازت سے تین چھوٹے بچوں سمیت اغوا کرکے بگرام ایئربیس افغانستان لے جایا گیا،جہاں پانچ سال تک امریکی عقوبت خانے میں قید کیا گیا اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ برطانوی نَومسلم صحافی مریم ایوون ریڈلے نے یہاں سے رہائی پانے کے بعد یہاں موجود قیدی نمبر 650 کے ڈاکٹر عافیہ ہونے کا انکشاف عالمی میڈیا کے سامنے کیا۔ انہوں نے عافیہ پر امریکی فوجیوں کے شرمناک اور دل دہلا دینے والے مظالم کا انکشاف بھی کیا۔ اس انکشاف کے بعد ڈاکٹر عافیہ کے خلاف ایک مقدمہ تیار کیا گیا، جس کے مطابق، یہ کمزور اور زخموں سے چْور خاتون ایم فور (M۔4) گن اٹھا کر امریکی فوجیوں پر حملے کی غرض سے فائر کر دیتی ہے۔ فائر اس ڈرامائی انداز سے خطا ہوتا ہے کہ آس پاس در و دیوار میں گولی کا نام و نشان تک نہیں۔ ایک فوجی قریب سے گولی مار کر عافیہ کو زخمی کر دیتا ہے۔ مگر وہ بچ جاتی ہیں اور 2009 میں امریکا منتقل کر دی جاتی ہے۔ ان پر امریکی قیدیوں پر حملہ کرنے اور مارنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بندوق سے حملے کے الزام کی حقیقت ڈاکٹر عبدالقدیر کے بیان سے واضح ہوجاتی ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ بندوق اس قدر وزنی ہوتی ہے کہ عافیہ جیسی دھان پان سی لڑکی سے اٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مذکورہ مقدمہ چلا کر عدالت میں 86 سال قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ اس طرح انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بے گناہ قیدی قرار دیا گیا۔
عافیہ اپنا فیصلہ اللہ کے حوالے کرنے کا اعلان کرتی ہیں۔ قید کی سزا کے طور پر انہیں 62356 کی تنگ و تاریک کوٹھری میں رکھا گیا ہے۔ جسمانی تشدد اور برہنگی کی اذیت، قرآن کی بیحرمتی پر لباس دینے کی شرط اِن مظالم کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب ان کے اہلِ خانہ اپنی مظلوم بیٹی کیلیے انصاف کی تلاش میں مسلسل سرگرداں ہیں۔ عدالتی فیصلے میں ان کو دی جانے والی سزا کو سیاسی سزا کہا گیا ہے۔ اس تعلق سے اس ایشو کو سیاسی کیس کے طور پر ڈیل کیا جانا چاہیے تھا۔ مگر سیاست کے ایوانوں میں اس کیلیے جو بھی آواز بلند ہوئی اس پر قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب دفتر خارجہ کے ذریعے سے منظر عام پر آنے والی مذکورہ بالا پریس ریلیز/ خط عافیہ اور پاکستان کے لیے امید کی روشن کرن ہے۔ یہاں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا بھی قابلِ غور ہے: ’’ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ امریکی سفیر ایلس ویلز کے ساتھ ملاقات میں اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد امریکی حکام نے پاکستان کی درخواست پرغورکرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کیساتھ ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ بار بار اٹھاتے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلر جنرل کی ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے باقاعدہ ملاقات بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کا مقصد ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی صحت کے حوالے سے ان کے خاندان کو آگاہ رکھنا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کوئی پیغام ہو تو وہ بھی ان کے خاندان تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ اطلاعات اور دفترِ خارجہ کے ترجمان کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس دستاویز پر سب سے پہلے ’’انتہائی فوری‘‘ (most immediate) کے الفاظ درج ہیں جبکہ ’’9 اکتوبر‘‘ کو ملنے والا پیغام ’’25 اکتوبر‘‘ کو دفترخارجہ نے اپنی پریس ریلیز کے طور پر جاری کیا۔ کیا دفترِ خارجہ اس ’’انتہائی فوری‘‘ نوعیت کے معاملے میں اتنے دن کی تاخیر کا متحمل ہوسکتا ہے؟ کیا ذمہ داران کا کام نہ تھا کہ وہ برقی تیز رفتاری کے دور میں اس پیغام کو فوری طور پر وزیرِاعظم تک پہنچاتے؟ شایدایسے غیرذمہ دار لوگ ہی امور ریاست کو تعطل کا شکار کرنے والی کالی بھیڑیں کا خطاب پاتے ہیں۔
یہ بات بھی مدِنظر رہنی چاہیے کہ دفترِ خارجہ سے 25 اکتوبر کو ’’انتہائی فوری‘‘ کی ہدایت کے باوجود، یہ پریس ریلیز 7 نومبر کو میڈیا کے ذریعے منظر عام پر لائی گئی۔ اس حوالے سے وفاقی وزراء کے بیانات میڈیا کی ’’بریکنگ نیوز‘‘ بنتے رہے لیکن اس وقت عافیہ کی فیملی سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ کیا حکومت اور دفتر خارجہ کی ترجمانی میڈیا کے ذمے ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ سے متعلق اتنی اہم اطلاعات کیلیے ان کی فیملی کو اعتماد اور بروقت شیئرنگ کا حق نہیں دیا گیا؟ یہاں یہ ذکر بیجا نہ ہو گا کہ اس پریس ریلیز کے منظرِعام پر آنے سے چند ہی گھنٹے قبل، 6 اور 7 نومبر کی درمیانی شب، مبینہ طور پر آسیہ مسیح کو بیرونِ ملک روانہ کیا گیا۔ اگرچہ حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے لیکن جن ذرائع نے یہ خبر دی، وہ اس تردید کو خاطر میں نہیں لارہے۔ ایسے میں یہ خیال بعید از قیاس نہیں کہ آسیہ کی مبینہ روانگی اور عافیہ کیس میں اچانک مستعدی کا آپس میں کچھ گہرا تعلق ہو سکتا ہے۔ حکومت کو آسیہ کیس میں پچھلے دنوں سخت عوامی مزاحمت اور ہزیمت کا سامنا ہو چکا ہے۔ خدانخواستہ، حفظِ ما تقدم کے طور پر تو عافیہ کیس میں گہما گہمی پیدا نہیں کی جارہی؟ کہ عوام کی توجہ آسیہ کیس سے ہٹی رہے۔ نتیجتاً اس ضمن میں متوقع عوامی اشتعال سے بھی بچت رہے!
البتہ یہ بات بھی مدِنظر رہنی چاہیے کہ میڈیا میں آنے والی خبریں حکومتی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ وزیرِ اطلاعات فواد چودھری یقین دلاتے ہیں کہ “عافیہ کا معاملہ مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔” وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امید دلاتے ہیں کہ “عافیہ کو امریکا میں ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔” مذکورہ خط کے حوالے سے 13 نومبر کو ڈاکٹر فوزیہ اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی۔ اس نشست کو عافیہ کی واپسی کے امکانات کے حوالے سے نئی جہتوں میں پیش رفت اور امید کی کرن کہا گیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے قوی امید دلائی ہے کہ پاکستانی قونصل خانہ عافیہ صدیقی کی صحت اور ان کے انسانی و قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے باقاعدگی کے ساتھ ’قونصلر وزٹس‘ کا اہتمام کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قوم کو عافیہ کے حوالے سے ’’جلد خوش خبری ملے گی۔‘‘ اس ضمن میں وفاقی وزیر علی محمد کا کہنا سب سے زیادہ سنجیدگی کا حامل نظر آتا ہے: ’’عافیہ کے معاملے میں ہمارے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔ ہر طرف سے ان کیلیے جدوجہد تو ہو رہی ہے مگر لگتا ہے اخلاص نہیں!‘‘ فاکس نیوز کے مطابق، ڈاکٹر کے بدلے ڈاکٹر کے تبادلے کے ضمن میں شکیل آفریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی واپسی بھی زیرِ غور ہے۔ ان حالات کے دوران میڈیائی رپورٹ کے ذریعے حیرت انگیز انکشافات سامنے لائے جاتے ہیں۔ جن میں بے سر و پا اور ناقابلِ یقین معلومات کو عافیہ سے منسوب کر کے خود اس مجبور کو ہی نام نہاد حکومتی کوششوں کی ناکامیوں کا ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ یہ رپورٹ، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کو دی جانے والی دفترِ خارجہ کی عافیہ کیس سے متعلق دی گئی بریفنگ ہے۔ اس کی وضاحت کی ذمے داری حکومت، خصوصاً دفترِ خارجہ پر عائد ہوتی ہے۔
تازہ ترین اور امید افزا پیش رفت آج 15 نومبر کا سینٹ کا اجلاس ہے۔ جس میں سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی قرارداد پیش کی گئی۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے ایوان کی متفقہ رائے سے یہ قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد کے متن کے مطابق، “سینیٹ عافیہ صدیقی کی مسلسل قید پر اظہار تشویش کرتا ہے، ضرورت ہے کہ عافیہ کی رہائی کا معاملہ دوبارہ امریکا سے اٹھایا جائے۔” قرارداد میں حکومت سے عافیہ صدیقی کی جلد وطن واپسی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق منظور قرار داد دفتر خارجہ کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ حکومت کو بھی قرارداد کی روشنی میں عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کرنے کی یاد دہانی کروائی۔ آسیہ کی روانگی اور شکیل آفریدی کی عمر قریب روانگی کے تناظر میں یہ ایک بروقت اور اہم قدم ہے۔
کسی بھی ملک کے پارلیمنٹ کی قرار داد پورے ملک اور قوم کی آواز ہوتی ہے، ایسی ہی ایک قرار داد قومی اسمبلی سے بھی پاس ہونی چاہیے لیکن یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اس قرار داد کو آخری چیز سمجھ کر اسی پر اکتفا کر کے بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ ہاں اس قرار داد کو عافیہ کی رہائی کے لیے قانونی راستہ سمجھ کر اس کے بعد اگلے مراحل کی طرف توجہ دینی چاہیے مثلا امریکا سے جس بھی معاملے پہ مذاکرات ہوں، ڈاکٹر عافیہ کے مسئلے کو اس میں ترجیحی بنیاد پر شامل ہونا چاہیے۔ بلکہ اس معاملے پر دونوں ایوانوں کا ایک مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے۔اور ایک وفد مختلف جماعتوں کا بنایا جائے جس میں اپوزیشن اور حکومت کی تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو۔یہ وفد امریکی حکام سے مذاکرات کرے، کسی وقت اس معاملے کو دبنے نہ دیا جائے مسلسل اٹھا کے رکھا جائے۔
عافیہ کے خط سے ابھرنے والے اس امید افزا منظرنامے میں اہم ترین کردار وزیرِاعظم عمران خان ہیں۔اگرچہ عافیہ کیس کے حوالے سے عمران خان کا رویہ ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہا ہے۔ اپنے اپوزیشن دور میں چار پانچ سال دھواں دھار سیاست کرنے کے باوجود عافیہ کے اِیشو پر خاموش رہے۔ کچھ لب کشائی کی بھی تو آخری دو دن قبل جب مجمع چھٹ رہا تھا۔ اب ان کی اپنی حکومت کو بھی 100 دن ہونے کو ہیں۔ ابھی تک اس معاملے کو کیبنٹ میں نہیں اٹھایا گیا۔ ان سو دنوں میں کسی ایک میٹنگ میں بھی عافیہ کا کوئی ذکر تک نہیں۔ نہ اب تک باضابطہ طور پر اس معاملے میں امریکا سے مطالبہ سامنے آیا۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں بھی یہ ایشو نظر انداز رہا۔ سب سے اہم، قیدی کا حق ہے کہ ہفتے میں 90 منٹ فیملی سے فون پر بات کرسکے۔ اپنے 100 دنوں میں یہ معمولی سہولت بھی آفیشلی بحال نہ کروا سکے۔ اس سب کے باوجود یہ عافیہ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ وزیراعظم کے نام پیغام میں انہوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ دیکھا جائے تو انہیں بلند مقام پر پہنچا دیا کہ ایک ملک کے بجائے تمام مسلمانوں کا خلیفہ دیکھنے کی دعا کردی!
استاد جامع ام القریٰ شیخ ابو محمد عبداللہ المجازی کے مطابق: ’’اگر کوئی مسلمان عورت یہود و نصاریٰ یا غیر مسلموں کے ہاتھوں میں قید ہو تو تمام مسلمانوں پر اور مسلمانوں کی حکومتوں پر لازم ہے کہ اس کو مکمل طور پر آزاد کرائیں۔‘‘ ایک مظلوم عورت نے قید کی اندھیری کوٹھری سے روشن امید کے ساتھ اپنے حکمران کو مدد کیلیے پکارا ہے۔ ہمیں قوی امید ہے وزیراعظم عمران خان اس مظلومانہ پکار پر ضرور لبیک کہیں گے۔ اپنے انتخابی منشور میں موجود عافیہ کی رہائی کا وعدہ پورا کر کے تاریخ میں اپنے آپ کو اور اس قوم کو سرخرو رکھنے کے اس موقعے کو ضائع نہیں کریں گے۔ دیارِ غیر میں ڈاکٹر عافیہ کی مظلومانہ قید کو پندرہ سال (5,700 دن سے زائد) ہوگئے۔یہ مدت عمر قید سے بھی زیادہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بدترین انسانیت سوز تشدد کے بعد بھی عافیہ کو زندگی دے رکھی ہے تو ہمارا ایمان ہے وہی اللہ عافیہ کو مکمل عافیت کے ساتھ بہت جلد ظلم اور قید سے بھی نجات دلا کر اپنوں میں واپس لائے گا اور ایسا ضرور ہوگا (ان شاء اللہ)

حصہ

جواب چھوڑ دیں