“بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے”‎

پچھلے کچھ دن سے پورا ملک جس بحرانی صورتحال کا شکار ہے، اس پہ دل عجیب پریشانی وکشمکش میں مبتلا ہے،عجیب بے سکونی و بے مزگی بے چارگی کی کیفیت۔۔۔

اسی کیفیت میں آج علامہ کا ایک شعر یادآیا جس نے رلا دیا۔۔۔۔

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے

     مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

یہ اسی راکھ کے ڈھیر کو ہی تو ہر بار ٹٹولتے ہیں کہ اس میں جو ایک چنگاری ،ایک شرر عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہےوہ بجھ گیا یا ابھی باقی ہے، دین کے دشمنوں، رب کے دشمنوں کومعلوم ہے جب تک یہ باقی ہے تومسلماں باقی ہے ،یہ جو نہیں تو مسلماں بھی نہیں۔۔۔

نگاہ عشق و مستی میں سمایاکیسا یہ عشق ہے کہ چٹا ان پڑھ (غازی علم دین) ہو،

جرمن یونیورسٹی میں پڑھنے والا نوجوان (عامر چیمہ) ہو،کسی گورنر کی سکیورٹی پر مامور گارڈ(ممتاز قادری)ہو، یا ننکانہ صاحب میں فالسے توڑنے والی معمولی مسلمان  عورت اسی عشق محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں رنگے نظر آتے ہیں۔۔۔

جہاں تک بندہ مومن کی اپنی ذات کا تعلق ہے،بھلے بے عمل کہہ لو،بد عمل کہہ لو، بے دین کہہ لو۔۔۔

لیکن جب بات نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کی ہو ان کی شان میں کوئی کمی ہو کوئی گستاخی ہو یہ قابل قبول نہیں۔۔۔

 یہی تو ایک سہارا ایک آسرا ہے ہمارا یہ چھن گیا تو سب چھن گیا ۔۔۔

خدایا! اس آگ کو جلائے رکھنا۔ اس چنگاری کو کبھی بجھنے نہ دینا ہم سے ہمارا یہ آخری سہارا نہ چھیننا،تیرے محبوب کے امتیوں کے پاس سوائے اس آسرے کے کوئی آسرا نہیں،ہمارا یہ آسرا مرتے دم تک سلامت رکھنا۔۔۔

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں