کون لوگ ہو تم؟

صبح سے سر جھکائے شرمندہ اور دُکھی سابیٹھا ہوں۔۔!

دل کہتا ہے اس مملکت خداداد کو ہی خیر آباد کہہ جائوں

کیسی جگہ ہے یارو یہ؟

دل بہت دُکھی ہے۔۔۔!

کہتے تھے کہ یہ دیس اسلام کے لئے ،اسلام والوں کے لئے، اسلام کی چلنے کے لئے بنا تھا مگر یہاں تو ستر برس بعد بھی قرآن نہیں انگریزی قانون کی دلیل دو۔ یہاں تو عیسائی و قادیانی مشنریز ایڈووکیسی کے ذریعہ ہمارے بہت اندر تک نقب لگا چکی ہیں۔ یہاں وزیراعظم سے عیسائیوں کا وفد ملتا ہے اور آسیہ کی ڈیل ہو جاتی ہے ۔یہاں عدالتیں متنازع ہیں اور عوام یرغمال یہاں اسلام پر حملہ ہو تو میڈیا آزاداور آسیہ رہا کر دی جائے تو میڈیا پر پابندی لگ جاتی ہے۔ جج بکتے ہیں اور سستے بکتے ہیں۔ جرنیل دشمن کی اکیڈمیوں سے تربیت پا کر انہیں کی بھاشا بولتے ہیں۔ یونی ورسٹیز میں ہود بائے جیسے کھلے چھوڑ دئیے گئے ہیں اور ایسے میں جب سارے راستے بند پا کر کوئی ممتاز قادری بنتا ہے تو اسے قانون کے نام پر لٹکا دیا جاتا ہے۔۔۔!

یہاں اگلی نسل ہم سے نبی محترم ﷺ کے عشق میں کچھ بھی کر گزرنے کی لاجک مانگتی ہے اور خود لڑکی سے محبت کے لئے کہتی ہے کہ یہ کی نہیں جاتی بس ہو جاتی ہے۔۔۔

یہاں ہر کچھ عرصہ بعد اسٹیبلشمنٹ نیا ٹشو پیپر لاتی ہے اس سے سارا گند صاف کرواتی ہے اور پھر اسے اقتدار کی میوزیکل چئیر کا ایک کھلاڑی بنا کر یا پھر تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال کر بھول جاتی ہے۔۔۔

اے با اختیار لوگو!

کون لوگ ہو تم یارو؟

کوئی کمٹمنٹ ؟

کوئی وفاداری؟

کسی سے کوئی عہد کی پاس داری؟

تم لوگوں سے تو وہ بہت اچھے جو شیطان ہی سے وفا دار ہوجاتے ہیں کسی کھونٹے سے تو بندھ جاتے ہیں انہیں دلیل دے کر درست تو کیا جا سکتا ہے مگر تم۔۔۔!

نہ لیپنے کے نہ پوتنے کے۔۔

تم کرو آسیہ کو رہا

بھیجو اسے باہر

بس یہ یاد رکھو کہ بات آسیہ کی نہیں بات دو تہذیبوں کی لڑائی کی ہے اور اس جنگ میں تم دشمن کے ساتھ ہو گے

وقت ایک سا نہیں رہے گا

تم جلد شکست کھاجائو گے اور پھر انہیں کے ساتھ اُٹھائے جائو گےجن کے کیمپ میں تم کھڑے رہے جن کے حق میں فیصلے دئیے۔۔۔!

اور تم قادری کے جانشینو!

صبح صادق کے طلبگارو

اس رات سے مت ڈرنا

بس ہم پر ہمارے رنگ کے مگر دشمنوں کے ایجنٹوں کو مسلط کرنے والے نظام کی جڑوں پر ضربیں لگانے کے گہرے سوچے سمجھے منصوبے بنائو اور پھر برف کے دماغ کے ساتھ ان پر عمل کے لئے ڈٹ جائوشاباش

رکو نہیں تھمو نہیں کہ معرکے ہیں تیز تر۔۔۔!

حصہ

1 تبصرہ

Leave a Reply to ندیم اختر جواب منسوخ کریں