میں کیا کروں مس؟

مجھے آپ سےایک بات کرنی ہے، بغیر نظریں ملائے اس نے دھیمی آواز   میں کہا ،میں کاپیوں کےڈھیر میں سر دئیے بیٹھی تھی جب  اس کی آمد کےاحساس پہ میں نےسر اٹھا کر اسے دیکھا اور خاموشی سے ایک جانب سے کاپیاں اٹھا کر اس کے لیئے جگہ بنائی ،وہ آہستگی سے میرے برابر میں آبیٹھی۔میرے ابو مجھے گھر میں سب سے کم پیار کرتے ہیں ،زمین پہ نظریں جمائے اس نے بِلا توقف بولنا شروع کیا، انہیں میں اچھی نہیں لگتی شاید ،وہ میری ہر بات،ہر فرمائش رد کر دیتے ہیں ،جب کہ  وہی بات اسی وقت اگر میری  بڑی بہن کہتی ہے تو فوراً  مان لیتے ہیں ،مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ،بات کرتے کرتے اس کی آواز  بلآخر بھرا گئی ۔میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا، بمشکل گیارہ  بارہ سال کی بچی اپنے آنسوئوں پہ قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی، میں خاموش رہی، اس وقت اس کا بول لینا زیادہ اہم تھا، وہ بولتی گئی اور میں اس کا ہاتھ تھامے سنتی چلی گئی ،جہاں جہاں وہ اٹکتی میں اسکے ہاتھ پہ اپنے ہاتھ کے دباؤ کو ذرا بڑھا دیتی اور وہ پھر رواں ہو جاتی، جانے کب سے بھری بیٹھی تھی، میری بڑی بہن ایک پروفیشنل کالج کے دوسرے سال میں ہے، اس نے ہمیشہ ہر امتحان بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا ہےتو اس سے ابو ہمیشہ ہی بہت خوش رہتے ہیں،اس کی ہر بات مانتے ہیں ،اسے بہت وقت دیتے ہیں ،دیر تک اس سے باتیں کرتے ہیں ، اس کی ہر بات غور سے سنتے ہیں ، کاش الفاظ اس کی آواز میں موجود درد کو بیان کر پاتے  (پھر وہی امتحان اور نمبر،،،میں بے بسی سے سوچ کے رہ گئی) آپ کے نمبر کیسے آتے ہیں ؟ اب میرا سوال کرنا ضروری تھا، میرے نمبر بس ٹھیک آتے ہیں ، اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور شرمندگی سے نظریں نیچی کر لیں ،وہ اس سے اسی لیئے محبت زیادہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ان کا سر فخر سے اونچا کر دیتی ہے اور میں ۔۔۔وہ آگے کچھ نہ کہہ پائی ۔

اس چھوٹی سی ملاقات نے مجھے اب تک مضطرب کیئے رکھا ہے ، بظاہر اس صورتحال میں والدین کے روئیے کی عکاسی ہوتی ہے ،اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین کا جھکاؤ اولاد میں سے  کسی ایک  کی طرف زیادہ ہوتا ہے،البتہ اکثر والدین  حکمت سے توازن قائم رکھتے ہیں ، لیکن یہ معاملہ صرف اتنا نہیں ہے،  دنیا  بھر میں خون آشام بلا کی طرح زندگی کے ہر شعبے میں اپنے پنجے گاڑتی  ہوئی مادیت پرستی کے اثرات  اس صورتحال میں واضح نظر آرہے ہیں، ایک طرف ہماری مذہبی تعلیمات کہتی ہیں کہ :

” کامیاب ہوا وہ جس نے تزکیہ کیا” دوسری  جانب ہمارا معاشرہ کہتا ہے کہ:” کامیاب ہوا وہ جس نے امتحان میں زیادہ اچھے نمبر حاصل کر لیئے،”کیوں؟ اس لیئے کہ اچھے نمبرز بڑی ،نامور اور مہنگی پروفیشنل یونی ورسٹی میں داخلے کے لیئے بنیادی شرط ہیں، اور ایسے تعلیمی ادارے میں داخلے کے بغیر معاشرے میں ممتاز مقام حاصل کرنا ایک طرح سے ناممکن ہے، اور تلخ ہی سہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ عہدہ اور دولت اس معاشرے میں عزت اور کامیابی کا اصل معیار ہیں ۔ اس صورتحال میں دنیا کے ہر معاشرے میں جو دوڑ جاری ہے اس نے انسان کو ہر وہ چیز عطا ء کردی ہے جس کی اس نے خواہش کی ہو، سوائے سکون کے۔

جنوبی کوریا میں شرح تعلیم 2ء99 فیصد ہے یہاں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین میں بزنس اینڈ مینیجمنٹ اور انجینئیرنگ ہیں .دوسری جنگِ عظیم کے بعد حیرت انگیز ترقی کرنے والے اس ملک میں جو شے حیرت انگیز طور پہ عدم دستیاب ہے ،وہ ہے سکون، اس کا ثبوت وہاں خطرناک  حد تک بڑھتی ہوئی خودکشی کی شرح ہے،تحقیق کے مطابق ان خودکشیوں کی بڑی وجوہات میں ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسی نفسیاتی بیماریاں سرِ فہرست ہیں ،  تعلیمی اور پروفیشنل میدان میں  شدید دباؤ  کاماحول  اس ملک کی پہچان بن چکا ہے ۔جرنل آف رائل سوسائٹی آف میڈیسن کے مطابق جن معاشروں میں معاشی دباؤ زیادہ ہو وہاں ذہنی اور جسمانی بیماریوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ نوجوان طالبعلموں کی خود کشی کی شرح یہاں سب سے زیادہ ہے ، نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں جنوبی کوریا کے ایک طالبعلم کا اپنے  اسکول میں چوتھی خودکشی کے بعد دیا گیا یہ بیان شامل کیا گیا ہے ۔

”دن بدن ایک بے رحم مقابلے میں گھرتے چلے جانے سے  ہم  شدیدگھٹن کا شکار ہیں ،یہاں تک کہ ہوم ورک  کی زیادتی ہمیں اس بات تک کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنے پریشان حال ہم جماعت افراد کے لیئے تیس منٹ ہی نکال سکیں ،ہم سے کھل کر ہنسنے کی صلاحیت بھی چھینی جا چکی ہے۔ “

ماہرین کے مطابق یہاں ،والدین، استاد ،غرضیکہ پورا معاشرہ ایک طالبعلم کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دیتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد  اچھے گریڈز اور اس کے بعد اچھا معاشی مرتبہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ضرورت ا س امر کی ہے کہ ہم بحیثیت والدین اور استاد اس بات کا ادراک کریں کہ ہر انسان کو قدرت کی جانب سے مختلف صلاحیتوں سے نوزا گیا ہے، تقدیر پر ایمان  ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا میں مقام بنانے کے لیئے محنت اور کوشش کے ساتھ ساتھ مشیتِ ایزدی اور قسمت کا بھی عمل دخل ماننا ہو گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ دنیا کے نزدیک عزت اور مرتبے کا معیار جو بھی ہو ،اللہ کے نزدیک واحد معیار تقویٰ ہے، اس سوچ کو معاشرے کی سوچ بنانے کے لیئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، ہمیں اپنے بچوں اور طالبعلموں کو یہ بتانا ہو گا کہ کہ مسابقت کا اصل میدان نیکیوں میں سبقت لے جانا ہے، اگر مقابلہ ہے تو مغفرت اور جنت کے حصول میں آگے نکل جانے کا مقابلہ ہے ۔

ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی شخصیت کا گہرا مطالعہ کرنا ، انکی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دھونڈ نکالنا اور اس کے مطابق انہیں راستے ،مواقع اور وسائل مہیا کرنا ہمارا کام ہے، اگر ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقیناً  ہم وہ معاشی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جسکی قیمت   چکانے کے لیئے سکون  جیسی نعمت کو داؤ  پر نہیں لگانا پڑے گا۔ حکومتی سطح پر اس سلسلے میں اقدامات کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے ۔لیکن فی الوقت بحیثیت والدین ہمیں یہ طے کر لینا چاہیئے کہ ہمارے نزدیک کامیابی کا معیار کیا ہے؟ اپنے ادھورے خوابوں اور نا تمام حسرتوں کی بھینٹ اپنے بچوں کو چڑھا کر ہمیں کیا حاصل ہو گا؟ ہمیں بار بار اپنے آپ کو یاد دلانا ہو گا کہ  یہ جیتے جاگتے انسان ہیں ،جن کے لیئے ہمارے روئیے بے حد اہم ہیں ،ہم ان کے لیئے اپنی مسکراہٹ، اپنا پیار ،اپنی تھپکی کہیں نمبرز اور گریڈز سے مشروط تو نہیں کر رہے؟ ہمیں خوش کرنے یا ہمارے اشتعال سے بچنے کے لیئے کہیں ہمارے بچوں کو اپنے جذبات کی قربانیاں تو نہیں دینی پڑ رہیں ؟ جیسے اس بچی نے سسکیوں کے درمیان  مجھ سے کہا، مس ! میں نے بہت کوشش کی ،ٹیوٹڑ سے پڑھ کر بھی دیکھا ،خود سے محنت کر کے بھی دیکھا ،کبھی میں بی گریڈ سے آگے نہیں بڑھی ،میں کیا کروں مس؟؟

حصہ

5 تبصرے

  1. آج کا اھم ترین موضوع ھے۔جو نئ نسل کو توقی کے بجائے زوال کی طرف لئے جا رھا ھے۔مسئلہ کا حل اساتذہ و والدین و ریاست کے تعلمی عوامل کے اشتراک سی ممکن نظر اتا ھے۔ زرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ھے ساقی۔

  2. بہت اہم موضوع ہر لکھا ہے آپ نے۔ مقابلے کی اس فضا نے ایک ناقابل بیان اسٹریس ہم پر اور ہمارے بچوں پر لاد دیا ہے۔

  3. بہت خوب لکھا ہے۔۔آج کے دور کی تلخ حقیقت،کامیابی کا اصل معیار تو آخرت کی کامیابی ہے

جواب چھوڑ دیں