زبان کی حفاظت

وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اپنی “قسمت” کا رونا رو رہی تھی ۔ جب تسلیاں دیتے دیتے پریشے تھک گئی تو بولی ۔۔۔

” سنو انشراح تمہیں معلوم ہے کہ دوزخ میں لے جانے والی اور عذاب کو بڑھا دینے والی چیز زبان ہے ۔۔”

” کیا مطلب ۔ ؟؟؟ ” انشراح حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر پریشے کو ناسمجھی سے دیکھنے لگی ۔

“مطلب یہ کہ زبان ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم اپنے دل کی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں اسی سے کلام الٰہی پڑھتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ذکرو اذکار اورو عظ و نصیحت کرتے ہیں ۔ انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے والی چیز زبان ہی ہے ۔ اگر زبان کی حفاظت کی جائے تو اس سے بڑے اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں ،۔ اگر زبان کی حفاظت نہ کی جائے تو اس سے بڑے بڑے فسادات برپا ہوتے ہیں۔ دنیا میں جھگڑے ، فساد اور عذاب الٰہی کی بڑی وجہ زبان ہی بنتی ہے۔ “

“واقعی تم ٹھیک کہ رہی ہو پریشے مجھے زبان کے متعلق مزید کچھ بتاؤ ۔” انشراح بولی

” کتاب و سنت میں زبان کی حفاظت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ سے پوچھا کہ یارسول اللہﷺ کس چیز میں نجات ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا “اپنی زبان روک لو، خلاف شرع اور خلاف عقل کوئی بات مت کہو، تمہارا گھر تمہارے لیے کافی ہے ( یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ)

اسی طرح حضرت جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے بہتر کام اللہ کے نزدیک کیا ہے ؟ لوگ خاموش رہے ۔ پھر خود ہی فرمایا : ” حفظ اللسان ” یعنی اللہ کے نزدیک سب سے بہترین کام زبان کی حفاظت ہے  ۔ آپ نے فرمایا اکثر خطائیں زبان سے سرزد ہوتی ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ گالی گلوچ ، فحش کلامی ، کذب بیانی ، دنگا فساد اور قتل و غارت کی جڑ زبان ہے اور غیبت بہتان ، جھوٹ ، طعنہ زنی ، کسی کی راز افشائی ، چغل خوری ، خوشامد ، شکوہ شکایت ، ایسی برائیاں ہیں جو زبان سے سرزد ہوتی ہیں ۔۔۔
آپﷺ نے زبان کے بارے میں فرمایا ؛ ” یعنی خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنی زبان پر قابو پالیا ۔ اللہ تعالی ہمیں حفظ اللسان کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔۔”  پریشے نے اپنی بات ختم کی تو انشراح نے بھی جلدی سے کہا “آمین” اور دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیں ۔۔۔ !!

حصہ

جواب چھوڑ دیں