ہنوز دلی دور است

20مارچ 1739 ؁ء دہلی میں محلہ حوض قاضی کی سنہری مسجد کا منظر ، یہ مسجد روشن الدولہ کی مسجد بھی کہلاتی ہے ۔ مسجد کی سیڑھیوں پر ایک سپہ سالار ننگی تلوار ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ اس کے گرد محافظین کا دستہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ سپہ سالار ان افواج کا سربراہ ہے جو گزشتہ نو گھنٹوں سے دہلی میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ان نو گھنٹوں میں دہلی میں ایک لاکھ سے زائدبے گناہ افراد قتل کیے گئے ہیں۔ گلی کوچوں میں لاشوں کے ڈھیر جمع ہوچکے ہیں۔ شرفاء دہلی کے گھروں کے دروازے کھلے پڑے ہیں اور حملہ آور افواج کے سپاہی ان گھروں کے باسیوں پر تشدد کرکے پوشیدہ مال و دولت نکلوارہے ہیں۔ دہلی کے خوبصورت مکانات دھڑا دھڑ جل رہے ہیں۔ حملہ آور سپاہی پورے پورے محلے لوٹ مار کے بعدنذرآتش کررہے ہیں۔ مرد و عورت اور جوان بوڑھے کا فرق کیے بغیر قتل وغارت گری کی جارہی ہے۔ دہلی والوں نے بھلا ایسی قیامت کب دیکھی تھی؟ اس قتل عام نے تین سو سال پرانی امیر تیمور کی دہلی پر یلغار کو بھی شرما دیا ہے۔
اب مجبور ہو کر بادشاہ دہلی نے نظام الملک آصف جاہ کو روشن الدولہ کی مسجد بھیجا ہے اور نظام الملک حملہ آور سے دہلی والوں کے لیے جان بخشی طلب کرتے ہیں۔ آخر کار حملہ آور سپہ سالار تلوار نیام میں ڈال لیتا ہے اور یہ اشارہ ہے کہ قتل و غارت گری بند کردی جائے!
یہ سپہ سالار ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار ہے جسے تاریخ میں نادر قلی بیگ بھی کہا گیا ہے اور یہ آج دہلی والوں پر قیامت بن کر ٹوٹا ہے۔ گزشتہ ماہ 24فروری 1739 ؁ء کو دہلی سے سو کلو میٹر دور کرنال کے میدان میں مغل لشکر نادر شاہ کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہوگیا تھااور مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلاکو نادر شاہ نے اس معرکے میں گرفتار کرلیا تھا۔
دہلی میں شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مغل فوج کا یہ حال بھی ہوسکتا ہے۔ صرف32سال پہلے مغل تاجدار اورنگزیب عالمگیر کی وفات کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے تقریباً پچاس سال قندھار اور کابل سے لے کر دہلی اور لاہور تک جاہ و جلال کے ساتھ حکومت کی تھی۔ عالمگیر نے اپنی بیشتر زندگی میدان جنگ میں گزاری تھی اور اپنے دور حکومت میں مرہٹوں اور سکھوں کی یورش پر بڑی کامیابی سے قابو پالیا تھا۔ آج اس کی وفات کے صرف 32سال بعد ایران سے نادر شاہ ایرانی لوٹ مار کرتا چلا آرہا تھا اور دہلی کے لال قلعے تک اسے روکنے والا کوئی نہ تھا!
محمد شاہ رنگیلا1719 ؁ء تا 1748 ؁ء:
1707 ؁ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد سے 1719 ؁ء میں محمد شاہ رنگیلا کی تخت نشینی تک12سال کے وقفے کے دوران مغل تخت پر چھ حکمران مسندنشین ہوئے، اعظم شاہ، بہادر شاہ اول، جہاں دار شاہ، فرخ سیر، رفیع الدرجات، اور شاہجہاں ثانی۔ یعنی12سال میں مغل سلطنت کے چھ حکمران ! عالمگیر کی وفات کے بعد زوال حکومت کی یہ واضع نشانی تھی۔ بہر حال1719 ؁ء میں دہلی کی مغل سلطنت پر محمد نصیر الدین شاہ روشن اختر بہادر تخت نشین ہوئے جو تاریخ میں اپنی طبیعت کی جولانی اور رنگینی کے سبب محمد شاہ رنگیلا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
محمد شاہ رنگیلا رقص و سرور کی محافل کا دلدادہ تھا اور شمشیر و سنان اس کے بس کا روگ نہیں تھیں۔ ’’کوکی‘‘نام کی ایک کنیز اس کے مزاج پر اس قدر حاوی ہوگئی تھی کہ مغلیہ دربار کے سرکاری امور باقاعدہ اس کی مہر سے انجام پانے لگے ۔ اپنے اس مزاج کے باعث محمد شاہ عوام میں رنگیلا بادشاہ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ وہ تمام فتنے جو ہندوستان بھر میں اورنگزیب عالمگیر نے بزدر طاقت دبائے ہوئے تھے وہ سر اٹھانے لگے۔ پنجاب کے سکھ، شمال کے افغان روہیلے اور مرہٹے طاقتور ہوگئے۔ درباری امراء میں ایرانی اور ترک تعصب نظر آنے لگا۔
یورپی تاریخ دان فلپ وڈرف”The man who ruled india” میں رقم طراز ہے، ’’عالمگیر کے بعد آنے والے چالیس برسوں میں محض نام کے بادشاہ یکے بعد دیگرے آتے رہے جو عیاشی میں غرق تھے۔‘‘
مختصراً یہ کہ محمد شاہ رنگیلا کے دور میں مغل سلطنت کی تباہی کے تمام عناصر مرکز دہلی میں یکجا ہوچکے تھے کہ ایسے میں ایران سے نادر شاہ ایرانی کی فتوحات کی خبریں آنے لگیں۔
نادر شاہ: 
نادر شاہ ایران کی سلطنت افشار کا بانی تھا اور اس کا مکمل نام نادر قلی بیگ تھا، جو حکمران بننے کے بعد نادر شاہ افشار یا نادر شاہ رہ گیا۔ ’’آکسفورڈ ہسٹری آف انڈیا‘‘ کے مطابق 1736 ؁ء میں ایران کی صفوی بادشاہت کا خاتمہ کرکے نادر شاہ ایران کا بادشاہ بن گیا، اسی دوران نادر شاہ کے مخالف امراء میں سے کچھ نے کابل میں سلطنت مغلیہ میں پناہ لے لی۔ نادر شاہ نے دہلی میں محمد شاہ کے دربار میں اپنا ایلچی بھیجا اور مطالبہ کیا کہ ان امراء کو کابل سے بے دخل کیا جائے۔ دوران سفرایلچی کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور جب وہ دہلی پہنچا تو اس کی حالت نہایت خستہ تھی۔ مرتضیٰ احمد خان ’’تاریخ عالم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب نادر شاہ کا ایلچی محمد شاہ رنگیلاکے پاس پہنچا تو شہنشاہ ہند شوق فرمارہے تھے اور حالت نشہ میں ہی انہوں نے نادر شاہ کے خط کو ’دفتر بے معنی‘ قرار دے کر ’مئے ناب‘کے پیالے میں ڈبو دیا۔ ‘‘دوسری طرف نادر شاہ نے قندھار پر قبضہ کرلیا اور اپنے خط کا جواب نہ ملنے پر دوبارہ ایلچی بھیجا۔ اس دفعہ بھی نادر شاہ کے خط کا مغل دربار سے کوئی جواب نہ دیا گیا ۔
مغل دربار کے اس سلوک کی وجہ سے نادر شاہ کو مغل سرحدیں عبور کرنے کا جواز مل گیا اور وہ کابل پر حملہ آور ہوگیا۔ کابل باقاعدہ مغل سلطنت کا حصہ تھا اور وہ نادر شاہ کے ہاتھوں فتح ہو کر ایرانی سلطنت میں شامل ہوگیا ۔ کابل کے بعد نادر شاہ نے جلال آباد فتح کیا اور برصغیر میں داخل ہونے کیلئے درّہ خیبر پہنچ گیا۔
شامت اعمال ما صورت نادر گرفت:
نادر شاہ کے ہندوستان پر حملہ آور ہونے اور دہلی کے قتل عام کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ یہ یلغار مغل امراء کی شامت اعمال کا نتیجہ تھی۔ ایرانی و ترک اور شیعہ و سنی چپقلش نے محمد شاہ کی رنگینیوں کے ساتھ مل کر سلطنت مغلیہ کو تباہ کردیا تھا۔ ایسے میں نادر شاہ خدا کے عذاب کی صورت میں ہندوستان میں داخل ہوگیا۔ امراء کی باہمی رقابت اس درجے پر پہنچ گئی تھی کہ انہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر میں مرکزیت کے کمزور ہوجانے کا بھی خیال نہیں رہا۔
یہ قصہ شروع ہوتا ہے امیر المراء سپہ سالار اعظم خان دوراں اور صوبے دار اودھ سعادت خان کی باہمی چپقلش سے۔ کہا جاتا ہے کہ سعادت خان جو محمد شاہ رنگیلا کا قابل اعتماد امیر تھا نسلاً ایرانی تھا اور مغل سلطنت کی کمزوری دیکھ کر اس نے باقاعدہ نادر شاہ کو خط لکھ کر ہندوستان پر حملہ آور ہونے پر اکسایا تھا ۔ مگر اس بات کا کوئی ثبوت تاریخ میں نہیں ملتا۔ سعادت خان اور خان دوراں کے درمیان نسلی اور عقائد کے اعتبار سے تعصب بہر حال موجود تھا۔
دوسری طرف نادر شاہ درہ خیبر کو عبور کرکے پشاور پر حملہ آور ہوگیا۔ پشاور میں لوٹ مار کرکے وہ لاہور کی طرف بڑھا اور لاہور کے مغل صوبیدار زکریا خان کی فوج کو تباہ کرکے دہلی کی طرف عازم سفر ہوا۔
ہنوز دلی دور است: 
کہا جاتا ہے کہ جب نادر شاہ طوفانی انداز میں کابل اور جلال آباد فتح کرتا آگے بڑھ رہا تھا اور دہلی کے دربار میں محمد شاہ رنگیلا کی توجہ اس فوری خطرے کی طرف دلائی گئی تو اس نے بے توجہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہنوز دلی دور است!‘‘ یہاں تک کہ جب نادر شاہ لاہور فتح کرچکا تو بھی محمد شاہ رنگیلا کا جواب یہی تھا ’’ہنوز دلی دور است!‘‘
(خیال رہے کہ یہ جملہ حضرت نظام الدین اولیاء سے بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ جب فیروز شاہ تغلق نے حضرت کو پیغام بھجوایا کہ میرے دلی پہنچنے سے پہلے شہر سے چلے جائیں تو آپ نے جواب میں یہ جملہ فرمایا۔ یہاں تک کہ جب فیروز شاہ تغلق دلی سے چند کوس دور رہ گیا تو پھر بھی حضرت نے اپنے مریدین کو اطمینان کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہنوز دلی دور است!، ممکن ہے محمد شاہ رنگیلا نے حضرت نظام الدین اولیاء کا جملہ ہی نقل کیا ہوا مگر بہر حال محمد شاہ رنگیلا کا یہ جواب اردو میں ضرب مثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔)
محمد شاہ اور اس کی رنگیلی فوج: 
جب محمد شاہ رنگیلا کو نادر شاہی افواج کے کرنال کے میدان میں مجتمع ہونے کی اطلاعات ملیں تو مجبوراً اسے دہلی سے باہر نکلنا پڑا۔ کرنال کا علاقہ دہلی سے تقریباً سو میل دور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نادر شاہ کابل اور قندھار سے طوفان کی طرح سفر کرتا چھ سو میل کا فاصلہ طے کرکے کرنال پہنچ گیا مگر صرف سو میل کا فاصلہ محمد شاہ رنگیلا کی مغل فوج سے طے نہ ہوسکا اور جب لڑائی شروع ہوئی تو مغل توپ خانہ وقت پر پہنچ نہ سکا اور ایرانی تو پ خانے نے مغل افواج کا حشر نشر کردیا۔
دہلی سے نکلنے والے مغل لشکر کی رفتاربہت سست تھی اور ایسا لگتا تھا کہ شاہی لشکر سیر و تفریح کی غرض سے نکلا ہے۔ دہلی کی رقا صائیں اور گلو کارائیں بادشاہ کے دل بہلانے کے لیے ساتھ تھیں۔ کھانے پینے کا سامان اور گانے بجانے کے آلات سے لگتا تھا کہ مغل بادشاہ کو نادر شاہ کی طاقت کا صحیح اندازہ ہی نہ تھا۔ کرنال تک کا سفر مغل لشکر نے اس طرح سے طے کیا کہ شاہی افواج دو سالاروں کی قیادت میں جنگ لڑنے جارہی تھیں۔ ایک لشکر خان دوراں کی قیادت میں اور دوسرا سعادت خان کی کمان میں۔ یعنی اس نازک موقع پر بھی مغل امراء کی آپس میں چپقلش صاف نظر آرہی تھی جو ایک ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کو بھی تیار نہیں تھے۔
جنگ کرنال 1739 ؁ء : 
بہر حال مغل لشکر دو ماہ میں کرنال پہنچا تو نادر شاہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ میدان جنگ میں تیار تھا۔ مغل لشکر دو ٹکڑوں میں تقسیم تھا ۔ طبل جنگ بجا تو معلوم ہوا کہ مغل توپ خانہ تو ابھی میدان میں پہنچا ہی نہیں۔ نادر شاہ نے اس صورتحال سے مکمل فائدہ اٹھایا اور مغلوں کو اپنی توپوں کے نشانے پر لے کر حملہ کردیا۔
نادر شاہ نے بھی اپنی سپاہ کے دو لشکر الگ کرکے خان دوراں اور سعادت خان کے مقابلے پر بھیج دیے اور خود میدان جنگ کے مرکز میں ڈٹ گیا۔ رقص و سرور کا دلدادہ محمد شاہ رنگیلا بھلا کس طرح نادر شاہ جیسے مرد میدان کا مقابلہ کرتا۔ جنگ کا فیصلہ دو گھنٹوں ہی میں ہوگیا۔ خان دوراں کا لشکر مکمل برباد ہوگیا۔ اور وہ خود بھی بری طرح زخمی ہوا۔
’’خان دوراں کی فوج کا یہ عالم تھا کہ ایک خیمہ بھی درست حالت میں نہ ملا کہ جس میں شدید زخمی خان دوراں کا علاج کیا جاسکتا۔‘‘
(سیر المتاخرین۔ طبا طبائی)
اسی حالت میں خان دوراں کا انتقال ہوگیا۔ مغل فوج کے دوسرے لشکر کا بھی یہی حال تھا۔ سعادت خان کو جب معلوم ہوا کہ خان دوراں مرچکا ہے تو اس نے فوراً ہتھیار ڈال کر نادر شاہ کو گرفتاری پیش کردی۔ کہا جاتا ہے کہ سعدات خان ایک قز لباشی سپاہی کی بات سے متاثر ہوگیا تھا کہ جس نے اسے ایرانیوں کے ہم نسل ہو کر ان سے لڑنے کا طعنہ دیا تھا۔
اس طرح اکبر اعظم کے جانشین ایرانی سپاہ کا مقابلہ نہ کرسکے اور ایرنیوں نے انہیں شکست فاش سے دوچار کردیا۔ تاریخ میں اس معرکے کو جنگ کرنال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس جنگ میں عملی طور پر مغل سلطنت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
سعادت خان کی غداری: 
مسلمانوں کا یہ المیہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ غیروں سے زیادہ اپنوں نے انہیں نقصان پہنچایا ہے ۔ اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا ۔ نادر شاہ کرنال سے واپس ایران جانے کو تیار تھا مگر مغل امیر سعادت خان نے ایسا نہ ہونے دیا اور امراء کی چقلش بازی نے آخر کار ایک لاکھ بے گناہ عوام کی جان لے لی۔
تفصیل اس کی کچھ یوں ہے کہ جب قید کے دوران سعادت خان سے نادر شاہ نے اچھا سلوک کیا تو اس نے نادر شاہ کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ دہلی کا رخ نہیں کرے گا بلکہ دو کروڑ روپے تاوان لے کر کرنال سے واپس ہوجائے گا۔ سعادت خان کو نادر شاہ نے عزت کے ساتھ رہا کردیا اور وہ یہ پیغام لے کر محمد شاہ رنگیلا کے پاس پہنچ گیا۔
محمد شاہ اس بات سے خوش ہوگیا اور تاوان کے معاہدے کو طے کرنے کے لیے نظام الملک آصف جاہ کو نادر شاہ کے پاس بھیج دیا۔ سعادت خان ایک لالچی امیر تھا اور خان دوراں کی ہلاکت کے بعد امیر الامراء جو دربار کا ایک بڑا عہدہ ہوتا تھا اس کا متمنیٰ تھا ۔ مگر نظام الملک نے محمد شاہ کو باور کرایا کہ نادر شاہ سے معاہدہ اس کی کاوش کا نتیجہ ہے اور محمد شاہ رنگیلا نے نظام سے خوش ہو کر اسے امیر الامراء کا عہدہ تفویض کردیا۔ نظام الملک آصف جاہ ایک لائق امیر تھا اور عالمگیر کے وقت سے دربار سے منسلک تھا۔ (یہ وہی آصف جاہ ہے جو بعد میں دکن جا کر خود مختار ہوگیا اور دکن کی آذاد ریاست کی بنیاد ڈالی جو انگریزی دور میں بھی قائم رہی) بلا شبہ نظام الملک ہی اس عہدے کا اصل حقدار تھا۔ مگر سعادت خان عہدہ نہ ملنے کی وجہ سے دل میں محمد شاہ رنگیلا کے لیے بغض لیے دوبارہ نادر شاہ کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ دہلی کے شاہی محل میں صدیوں سے جمع کیا گیا مغل خزانہ موجود ہے۔ سعادت خان نے نادر شاہ کو تخت طاؤس اور دیگر مغل جواہرات کی داستانیں سنائیں تو نادر شاہ نے واپسی کا ارادہ ترک کردیا اور محمد شاہ رنگیلا کو امراء کے ساتھ اپنے پاس طلب کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی کی مشہور خاتون نور محل نے بھی اس سلسلے میں نادر شاہ کے کان بھرے اور مغل دربار سے اپنی وفاداری ختم کرتے ہوئے نادر شاہ کو شاہی قلعے میں مدفون خزانے سے متعلق مشہور داستانیں بیان کیں۔
مختصر یہ کہ نادر شاہ کے خیمے میں مغل امراء اور بادشاہ کی ضیافت کی گئی اور محمد شاہ رنگیلا نے مہمان فاتح کی خدمت میں ’’رقص و سرور کی محفل کی صورت میں گنگا جمنا تہذیب کا نمونہ‘‘پیش کیا جس کا وہ شائق تھا۔ محفل کے اختتام پر بادشاہ اور امراء کو علیحدہ خیمے میں نظر بند کردیا گیا اور مغل فوج کو واپس دہلی بھیج دیا گیا۔ اب محمد شاہ رنگیلا باقاعدہ نادر شاہ کا قیدی تھا ۔ محمد شاہ سے ایک خصوصی حکم نامے پر دستخط کروائے گئے جس کی روسے لال قلعے میں موجود شاہی محل میں سعادت خان کو رسائی دی گئی۔ اب اس حکم نامے کو لے کر سعادت خان شاہی محل پہنچا اور بابر اور اکبر کے زمانے کے جمع کیے گئے خزانے، جواہرات، مال و دولت اور شاہجہاں کا مشہور زمانہ تخت و طاؤس لوٹ کر نادر شاہ کو پیش کردیا۔
نادر شاہ کی دہلی آمد اور تاریخی قتل وغارت گری :
مغل خزانے پر قبضہ کرنے کے بعد نادر شاہ نے دہلی جانے کا فیصلہ کیا اور محمد شاہ رنگیلا کو آزاد کردیا تاکہ وہ پہلے دہلی پہنچ کر فاتح بادشاہ کا استقبال کرسکے۔ اس طرح نادر شاہ کی دلی میں آمد ہوئی مگر اس نے اپنی سپاہ کو سختی سے حکم دے رکھا تھا کہ پُر امن باشندوں کو ہر گز تنگ نہ کیا جائے۔
اب نادر شاہ نے کب اور کیوں قتل عام کی اس ضمن میں کئی روایات ملتی ہیں۔ عشرت رحمانی لکھتے ہیں،
’’چند ایرانی سپاہیوں کو ہندوستانی سپاہیوں نے قتل کردیا۔ ایرانی سالار نے اس بات کی شکایت نادر شاہ سے کی تو نادر شاہ جلال میں آگیا اور اس نے حکم دیا ’بزن‘ یعنی مارو۔‘‘
مشہور روایت یہ ہے کہ دہلی میں افواہ پھیل گئی تھی کہ محمد شاہ نے نادر شاہ کو قتل کروادیا ہے۔ اس افواہ کا پھیلنا تھا کہ مغل سپاہ نے دہلی کے گلی کوچوں میں پھرتے ایرانیوں کو قتل کرنا شروع کردیا ۔ پہلے تو نادر شاہ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ اچانک کیا شروع ہوگیا ہے۔ پھر جب اسے بتایا گیا تو وہ آگ بگولہ ہوگیااور اپنے عسکری لباس میں ایک ہاتھی پہ سوار ہو کر دہلی کے بازاروں کا گشت کرنے لگا۔ نادر شاہ کو زندہ دیکھ کر ایرانی سپاہ نے نعرے بلند کرنے شروع کردیے ۔ اب حوض قاضی کی سنہری روشن الدولہ کی مسجد کی سیڑھیوں پر نادر شاہ ننگی تلوار ہاتھ میں لے کر بیٹھ گیا، یہ اشارہ تھا قتل عام کا! اب اہل دلی نے تباہی و بربادی کے وہ مناظر دیکھے کہ جنہیں لکھتے ہوئے مورخ بھی کانپ اٹھتے ہیں۔ ایک دن میں مسلسل نو گھنٹوں تک دہلی والوں کا قتل عام کیا گیا ۔ دہلی کے بازار اور محلے لوٹ مار کے بعد نذر آتش کردیے گئے۔ مغل خزانے خالی کردیے گئے اور امراء کے محلات اور جاگیریں تباہ و برباد کردی گئیں ۔ بربادی کی وجہ سے مغل دارالحکومت دوبارہ سنبھل نہ سکا اور نہ ہی شاہی خزانہ دوبارہ مستحکم ہوسکا۔ یہی وجہ تھی صرف 23سال بعد شاہ عالم ثانی کے دور حکومت میں مغل بادشاہ انگریزوں کا وظیفہ خوار بن گیا اور شاہی خاندان کی گزر اوقات انگریزوں کے وظیفوں سے منسلک ہوگئی۔
دہلی کی یہ بربادی اس دور کے ادبی منظر نامے میں بھی نظر آتی ہے۔دہلی میں موجود ادیبوں اور شاعروں نے دہلی کی بربادی کے مرثیے لکھے۔
میر تقی میر نے کہا ؂
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کر ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اجڑے دیار کے
سید یوسف بخاری دہلوی اپنی تصنیف ’’یہ دلی ہے‘‘ میں لکھتے ہیں ،
’’ایران کے بادشاہ نادر شاہ نے1739 ؁ء میں دہلی پر حملہ کردیا۔ محمد شاہ نے شکست کھائی اور پھر اپنی ہی بے وقوفی سے قتل عام کرایا۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہوا۔ بازاروں اور گلیوں میں کشتوں کے پشتے لگ گئے ۔ خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ جانیں تلف ہوئیں ۔ سنہری مسجد سے متصل کوتوالی میں بیٹھ کر یہ قیامت برپا کرانے کے بعد نادر شاہ شاہجہاں کا تخت و طاؤس اور اس کے علاوہ اسّی کروڑ روپیہ اپنے ہمراہ لے گیا ۔ جان و مال کا یہ سارا نقصان محمد شاہ رنگیلے کی بدولت بے گناہ رعایا کو بھگتنا پڑا۔‘‘
مختصراً یہ کہ نادر شاہ کا حملہ مغل سلطنت کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ ہندوستان بھر میں بغاوتیں زور پکڑ گئیں۔ ریاستوں کی صورت میں ہندو راجے مہاراجے اپنی اپنی حکومتیں قائم کرنے لگ گئے۔ مرہٹے مزید طاقتور ہوگئے اور ان کا زور توڑنے کیلئے شاہ ولی اللہ کو احمد شاہ ابدالی کو مدد کیلئے بلانا پڑا۔ سکھ زور پکڑ گئے اور1799 ؁ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ لاہور پر قابض ہوگیا۔ نادر شاہ کے حملے کے محض بیس سال بعد دہلی کی مغل سلطنت صرف دارالحکومت تک محدود ہوگئی اور شاہ عالم ثانی نے1762 ؁ء میں ہندوستان کی کئی ریاستوں پر انگریزی اقتدار تسلیم کرلیا۔ مقولہ مشہور تھا ’’حکومت شاہ عالم ! از دہلی تا پالم۔‘‘(پالم دہلی کے نواحی علاقے کانام تھا)
انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی: 
نادر شاہ کی یہ لوٹ مار انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی شمار کی جاتی ہے۔ اُس وقت دہلی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا تھا اور اس کی آبادی لندن اور پیرس کی مشترکہ آبادی سے بھی زیادہ تھی۔ کہتے ہیں کہ ایران واپسی کے بعد امور سلطنت کے لیے نادر شاہ کو تین سال تک عوام سے ٹیکس لینے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ دہلی کی لوٹی گئی دولت ہی کافی تھی۔ H.G Keen کے مطابق ، ’’اس دولت کی مالیت آٹھ کروڑ پونڈ اسٹرلنگ کے برابر تھی۔‘‘ روایت ہے کہ کئی ہفتوں تک سونے جواہرات کی اینٹیں ڈھالی جاتی رہیں تاکہ ان کی ایران منتقلی آسان ہوسکے۔ کوہ نور اور تختِ طاوس کی مالیت ہی آج کے حساب سے اربوں میں تھی۔
نادر شاہ کی دہلی سے روانگی اور غداروں کا انجام: 
12مئی1739 ؁ء کو آخر کار نادر شاہ اور محمد شاہ رنگیلا کی الوداعی ملاقات ہوئی جس میں نادر شاہ نے آخری ڈکیتی مغل بادشاہ کی پگڑی پر ڈالی۔ تفصیل اس کی کچھ یوں ہے کہ محمد شاہ نے کوہ نور ہیرا اپنی پگڑی میں چھپا لیا تھا مگر دہلی کی معروف خاتون نور محل جس کی اب اچھی خاصی دوستی نادر شاہ سے ہوگئی تھی اس نے مخبری کی اور بتایا کہ محمد شاہ کی پگڑی میں ایک ایسا ہیرا چھپاہوا ہے جس کے آگے کئی خزانے ہیچ ہیں ۔ چنانچہ اس آخری ملاقات میں نادر شاہ نے محمد شاہ رنگیلا سے کہا کہ اب ہم پگڑی بدل بھائی ہیں اور ایرانی روایات کے مطابق اس برادرانہ رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کی پگڑی تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ محمد شاہ نے یہ سن کر سر جھکا لیا اور کوہ نور ہیرا جو مغل سلطنت کی نشانی تھا وہ بھی نادر شاہ کے پاس پہنچ گیا۔
کہا جاتا ہے کہ آخر میں نادر شاہ نے نظام الملک آصف جاہ اور سعادت خان کو طلب کیا اور دونوں کو بری طرح دھتکارا کہ تم لوگوں نے اپنے آقا کی وفاداری کیوں نہ کی۔ چنگیزی روایت پر عمل کرتے ہوئے نادر شاہ نے بھی غداروں سے برا سلوک ہی کیا۔ The Mughal Empire کے مصنف H.G.Keen کے الفاظ ہیں،
’’ان کی داڑھیوں پر تھوکا اور انہیں اپنے حضور سے دھتکاردیا ۔ اس بے عزتی پر دونوں امیر دلبرداشتہ ہوئے اور آپس میں طے کیا کہ وہ گھر پہنچتے ہی زہر کھالیں گے کیونکہ اتنی ذلت کے بعد زندہ رہنا ممکن نہیں۔ سب سے پہلے نظام نے گھر جا کر نقلی زہر نگل لیا اور بے ہوش ہو کر گھر والوں کے سامنے گر پڑا ۔ سعادت خان کے جاسوس نے اسے فوراًیہ اطلاع پہنچائی۔ اس پر سعادت خان نے اس خیال سے کہ وہ بہادری میں نظام الملک سے پیچھے نہ رہ جائے ‘ فوراً زہر پی کر خود کشی کرلی ۔ جیسے ہی سعادت خان کی روح نے پرواز کی نظام الملک کو ہوش آگیا اور بعد میں وہ اپنے دوستوں کی نجی محفلوں میں برملا کہتا تھا کہ اپنے دشمن سے نجات حاصل کرنے کیلئے یہ اس کی چال تھی۔‘‘
مگر طباطبائی نے اس واقعے کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے مطابق سعادت خان کا انتقال پاؤں کے سرطان سے ہوا تھا۔ بہر حال دہلی میں دو ماہ گزار کر نادر شاہ نے تخت دہلی محمد شاہ رنگیلا کو واپس کردیا اور جاتے جاتے امور مملکت کے لیے کئی نصیحتیں بھی کیں۔ نادر شاہ کی یلغار کی بعد محمد شاہ رنگیلا کا اقتدار 9سال برقرار رہا اور 1748 ؁ء میں اس کا انتقال ہوا تو مغل سلطنت برائے نام ہی رہ گئی تھی۔

حصہ
mm
عدیل سلیم ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں،تاریخ اسلام سے انہیں خاص دلچسپی ہیں،تاریخی موضوعات کوعام فہم انداز میں قلم بند کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

4 تبصرے

  1. ندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کی دردناک داستان۔۔۔۔لیکن حالات تو اب تک نہیں بدلے۔۔۔

    ہماری تاریخ تو بار بار دھر آئی جاتی ہے۔۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے اس سےکہ کوئی نہیں سیکھتا۔

    شاید کوئی سیکھ لے۔۔۔ محترم عدیل جمالانئ نےصحرا میں آزان دینے کا یہ ایک عظیم سلسلہ شروع کیا ہے۔

    انتہائی دلنشین و پُراثر انداز سے ہمیں جگانے کی کوشش کررہے ہیں۔۔ خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔۔

  2. دہلی پر نادر شاہ کی یلغار ہماری تاریخ کا ایک دردناک باب ہے اور اس بارے میں عدیل بھائی نے بہت اچھا لکھا ہے۔

    اعلی تحریر اور منفرد اسلوب ۔۔۔

    ہمیشہ کی طرح!

  3. مسلمانوں کی تاریخ پڑھ کر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو خود مسلمانوں نے ہی پہنچایا ہے. دورحاض میں بھی یہی ماحول نظر آتا ہے…
    ایسے میں جناب عدیل صاحب نہایت محنت، مخلصی اور دردِ دل کے ساتھ تحریر کیے گئے مضامین کے ذریعے امت کو بیدار کر تے نظر آتے ہیں… اللہ پاک ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے آمین

جواب چھوڑ دیں