مانسہرہ کی تین وادیاں، تین تحصیلیں

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

مرغزاروں کی سرزمیں مانسہرہ؛ مجموعی طور پر تین وادیوں پر مشتمل ہے جو مانسہرہ کی تین تحصیلوں سے مل کر بنتی ہیں۔  وادی پکھل:مانسہرہ میں وادی پکھل انتہائی زرخیز زمینوں کا مکان ہے۔ یہاں سبز ہریالے کھیت لہلاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں میدانی علاقوں میں کاشت کاری پہاڑی سلسلوں سے قدرے آسان ہے۔ میدانی علاقوں میں نہری نظام بھی رواں ہے۔ جس سے کسان اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ یہاں سبزیاں اور تمباکو سب سے زیادہ منافع بخش ہیں۔ پکھل میں ”بفہ“ مشہور تاریخی مقام ہے جو پکھلی میدان کے شمال اور دریائے سرن کے کنارے پر واقع ہے۔ پکھل میں چاول کا بہترین فصل یہیں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہاں کی ٹاؤن کمیٹی 1873؁ء، یعنی زمانہ قدیم سے میونسپلٹی قائم ہے۔ بفہ کو”استادوں کا شہر“ بھی کہا جاتا ہے۔  یہاں کا کھوا ملک بھر میں مشہور ہے۔ٖمعروف عالم دین مولانا غوث ھزارویؒ اور عبدالستار خانؒ کا مقبرہ یہیں واقع ہے۔  مانسہرہ کا مشہور دریائے سرن یہیں سے گزرتا ہے۔ یہیں سے ایک نہر گزرتی ہے جسے ”ہوائی نہر” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نہری راستے میں ڈھلان کے خاتمے کے لیے نہری پل بنایا گیا۔ اوپر سے نہر گزرتی جب کہ نیچے سڑک پر ٹریفک رواں دواں ہے۔ اس پل کے نیچے تقریبا 80 یا 90 ستون ہیں جن پر اس نہر کوکھڑا کر رکھا ہے جو کسی عجوبے سے کم نہیں۔ دریائے سرن کے ہی کنارے ایک قصبہ ڈھوڈیال، کسی زمانے میں خچروں کی وجہ سے مشہور تھا مانسہرہ سے تقریبا سولہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کا مرکز تحصیل شنکیاری ہے۔

تحصیل شنکیاری

خیبر پختون خواہ کی جامعہ ہزارہ یہیں ڈھوڈھیال کے مقام پر واقع ہے۔ یہ غالبا 2002؁ء میں قائم ہوئی۔ اس جامعہ میں سائنس، آرٹس اور ہیلتھ سائنسز کے شعبہ جات ہیں۔ یہاں بیچلر سے پی ایچ ڈی تک تعلیم کے وسائل و ذرائع دستیاب ہیں۔ دور دراز کے طلبا و طالبات یہاں زیر تعلیم ہیں۔ وادی پکھل کو وادی سرن بھی کہا جاتا ہے۔ بے شمار سیاحتی مقامات کے ساتھ سرن ویلی ملک بھر کے سیاحوں کو بلاتی ہے مگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سیاح اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ سرن ویلی کی سیر کرنا معرکے سے کم نہیں۔ یہاں ایک مقام پلیجا ہے جہاں ایک وسیع و عریض میدان ہے جس میں بیک وقت کرکٹ کے تین گراونڈ بن سکتے ہیں۔ لیکن سڑک نہ ہونے کی وجہ سے سیاح ان میدانوں کا رخ کرنے سے قاصر ہیں۔ مقامی آبادی گھوڑوں اور خچروں کی طفیل اپنے گھروں تک پہنچتے ہیں یا پھر پیدل چل کر معرکہ سرانجام دیتے ہیں۔

وادی کونش:

تحصیل شنکیاری سے وادی کونش کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ وادی خوبصورتی میں اپنا ایک نام و مقام رکھتی ہے۔ یہاں کے خوبصورت مناظر دیکھنے والوں پر ایک سحر طاری کر دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جس جگہ نے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، وہ یہی وادی کونش ہے۔ حدودِ اربعہ کے لحاظ سے وادی کونش کے مشرق میں درہ بھوگڑمنگ واقع ہے جبکہ مغرب میں وادی اگرور کے مشہور گاؤں کھبل، اوگی، دلبوڑی،  شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ کے چھوٹے مضافات اور بستیاں، جبکہ جنوب میں مانسہرہ شہر، ہزارہ یونیورسٹی، عطر شیشہ کا وسیع و عریض علاقہ اپنے قدرتی مناظر کواپنے اندر سموئے ہوئے  بانہیں پھیلائے کھڑاہے۔مانسہرہ کی طرف سے شاہراہ قراقرم جب وادی کونش میں داخل ہوتی ہے تو سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی شنکیاری سے نکل کر کوٹلی بالا، بٹل اور چھترپلین کے وسیع و عریض میدان میں قدم رنج ہوتی ہے۔ اس خو بصورت وادی کا ہیڈ کوارٹر بٹل، جو اسی قراقرم ہائی وے پر واقع ہے۔ بٹل پہاڑوں کی گود میں واقع ایک خوبصورت شہر ہے۔ بٹل سے بذریعہ سڑک چند منٹ کی مسافت پر وادی کونش کا ایک اور دلکش، صحت افزاء مقام چھترپلین آتا ہے جہاں گلگت، چین اور شمالی علاقہ جات جانے والے غیر ملکی سیاح اپنی آنکھوں میں قدرت کے ان انمول مناظر کو سمو کر جاتے ہیں۔ سیاحوں کی دلچسپی کے مدنظرچھترپلین میں قیام و طعام کے لیے ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز بن رہے ہیں۔

اس وادی میں جہاں تک نظر دوڑائیں قدرتی مناظر کا ایک دلکش سلسلہ چہار سو پھیلا دکھائی دیتا ہے، بالخصوص موسم بہار میں ان قدرتی مناظر کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ موسم گرما میں بھی یہاں رات کا آخری پہر سرد ہوتا ہے حتیٰ کہ لحاف یا کمبل میں بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔ پہاڑ، جنگلات اور خوبصورت بل کھاتے ندی نالے اس وادی کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ پہاڑوں کے درمیان گری اس حسین و جمیل وادی کے ہیڈ کوارٹر بٹل سے شفاف پانی کا ایک خوبصورت دریا گزر کر جاتا ہے جسے مقامی لوگ دریائے کونش، بٹ کَس کے ناموں سے پکارتے ہیں۔ یہ دریا اس وادی کی خوبصورتی کو مزید دلکش بنا دیتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے ہر راہ گیر کو اپنے خوبصورتی کے سحر میں مبتلا کر لیتا ہے۔

وادی اگرور

وادی اگرور کالا ڈھاکہ (موجودہ ضلع تورغر) کے دامن میں واقع ہے۔ اس کا مرکز ”تحصیل اوگی” مانسہرہ سے شمال مغرب کی طرف عین تورغر کے نیچے، مانسہرہ سے 45 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ شاہرہ ریشم سے ایک راستہ بائیں ہاتھ اوگی کی جانب نکلتا ہے۔ اوگی تک پہنچنے کے لیے بل کھاتی سڑک پر اونچی نیچی ڈھلانوں کو سر کر کے پہنچتے ہیں۔ ملک بھر میں مہنگی ترین زمینوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اوگی سے تین سینگھ نما شاخیں نکلتی ہیں۔ شمال کی طرف دلبوڑی کی گھاٹی، مشرق کی طرف کٹھائی کی گھاٹی اور جنوب کی طرف اربوڑہ کی گھاٹی ہے۔ اوگی جائیں تو راستہ میں بھیرکنڈ کے بازار سے علی اصغر کبا ب فروش سے یہاں کا مشہور چپلی کباب خریدنا نہ بھولیں۔ خاکی کے بازار میں یہاں کی مشہور دریائے سرن کی مچھلی سے بھی انصاف کر سکتے ہیں۔ اوگی کے صحت افزا سیاحتی مقامات میں سے کٹھائی ٹاپ، پنجہ گلی، کھبل، ہوا گلی، مچئی سر بہت مشہور ہیں۔

تحصیل اوگی

بلند پہاڑیوں میں گرا یہ علاقہ قدرت کا عظیم شاہکار ہے۔ اردگرد کی کسی بھی پہاڑی چوٹی پر چڑھ کر اوگی کو دیکھیں تو یہ گاوں پیالے کا ویوو دیتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی پیالا پہاڑوں کے درمیان  رکھا گیا ہو۔  پہاڑی در پہاڑی سے گزرتی، سڑک پر سے گزریں، ایک طرف پہاڑ دوسری طرف ڈھلان، کہیں کھائی، سرسبز و شاداب جنگل، لہلہاتے کھیت، جیسے کسی دیوار پر لگی دیو قامت تصویر کا عکس دیکھ رہے ہوں۔ یہاں زندگی سبک رو ہے مگر جہاں بھر کی سہولیات شہری مکینوں کو میسر ہیں۔ جب کہ دیہی علاقوں کے لوگ ان سہولیات سے تاحال محروم اور حکومت وقت کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ یہاں کی خوبصورتی و رعنائیوں کو آنکھوں میں بسانے ضرور رخت سفر باندھیں۔ مری کا حسن اس کی خوبصورتی کے سامنے ہیچ ہے ہاں مگر لفٹیں اور جھولے میسر نہیں کیوں کہ سیاحتی مقامات لوگوں کی نظروں سے اوجھل اور ارباب اختیار کی توجہ کے منتظر ہیں۔ آپ اگر شور غوغا سے الجھن محسوس کرتے اور تنہائی پسند ہیں تو اوگی کے سیاحتی مقامات آپ ہی کے لیے ہیں۔ کٹھائی سے آگے جائیں تو بٹل سے ہوتے ہوئے اور اگر اوگی سے دلبوڑی کی گھاٹی کی طرف جائیں تو ضلع بٹگرام سے ہوتے ہوئے شاہراہ قراقرم سے جا ملتے ہیں۔

تحصیل بالاکوٹ

مانسہرہ کی ایک تحصیل بالاکوٹ ہے۔ وہ بالاکوٹ جو سید احمد شہیدؒ و شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک بالاکوٹ کی وجہ سے مشہور ہے۔ سید احمد شہیدؒ کا مزار دریائے کنہار کے کنارے مرکزی مسجد سے ملحق ہے۔ مانسہرہ کا مشہور دریا دریائے کنہار بالاکوٹ کی اوٹ میں بہتا ہے۔ شیشا نما صاف و شفاف اچھلتا پانی دیکھنے والوں کو جھکڑ لیتا ہے۔ اور گزرتے سیاحوں کے قدموں کو جکڑ لیتا ہے۔ دریا کے کنارے رکیں اور پکوڑے نہ کھائیں توسوغات سے محرومی ہی کہا جا سکتا ہے۔ چٹانوں سے ٹکراتا دریائے کنہار کا پانی اپنے آپ سے دور رہنے کا اشارہ دیتا ہے۔ خبردار! میں ہوں قاتل اور مجھے کہتے ہیں خونی دریا، دور رہیے۔ اس دریا کے پانی کا بہاو انتہائی تیز اور اس قدر ٹھنڈا یخ ہوتا ہے کہ پانی میں پاؤں رکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برف کے موزے پہن رکھے ہوں۔ دریا کی موسیقی کانوں میں عجب رنگ گھولتی ہے۔

قدرت نے زمین پر سیاح نام کی جو مخلوق پیدا کی ہے وہ  مشہور، خوبصورت مقامات پر جب تک خود نہ چلی جائے دل کو سکون ملتا ہی نہیں۔ سو اگر آپ کے اندر بھی اسی سیاح کی روح بستی ہے تو یہ دلکش مقامات آپ کے منتظر ہیں۔ ضرور رخت سفر باندھیں۔

حصہ
mm
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الباسط ذوالفقارمختلف سماجی موضوعات پر انتہائی دل سوزی سے لکھتے ہیں،جو براہ راست دل میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔مختلف اخبارات و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں