ترکستان کی سیاہ رات۔1

ناول نگار: ڈاکٹر نجیب الکیلانی
ترجمہ: میمونہ حمزہ اسلام اور آزادی کے متوالے امام بخاری اور فلسفے کے سرخیل ابنِ سینا اور فارابی ۔۔ اور عظیم اسکالر البیرونی کے ہم وطنوں اہلِ ترکستان کی اکیس سالہ جدوجہد کی داستانِ خونچکاں!!!
بعید شمال میں واقع عظیم اسلامی مملکت ترکستان کی کہانی، جسے استعماری طاقتوں نے شرقی ترکستان اور غربی ترکستان میں تقسیم کر رکھا ہے، غربی ترکستان پر روس نے قبضہ کر لیا اور اسے روسی متحدہ جمہوریات میں شامل کر لیا، قدیم زمانے میں شرقی ترکستان پر چین نے اپنے پنجے گاڑے اور اسے اپنی حدود میں شامل کر لیا اور اس کا نام سینکیانگ رکھاٰٰ نئی سرزمین اور اس سرزمین کے مشرق و مغرب یعنی پورے ترکستان پر کیمونزم نے اپنے پر پھیلا لئے۔۔ اس طرح اسلامی تہذیب ثقافت کی امین اور عظیم تاریخ کی حامل اور شرف و جہاد کی پروردہ عظیم الشان سلطنت تاریخ کی بے رحم دھول میں گم ہو گئی .۔۔بلا شبہ یہ اندلس ثانی ہے ۔۔۱۹۳۱ء سے ۱۹۵۲ء کے دوران ہونے والی عوامی جدوجہد کی عظیم داستان۔(۱)
مدینہ مقدسہ بیت اﷲ الحرام حجاج سے بھرا ہوا تھا، حرمِ مکی میں دنیا بھر سے آئے ہوئے خلق خدا کا انبوہِ کثیر تھا، جن کے رنگ و نسل جدا تھے، افریقہ کے سیاہ فام باشندے، امریکہ اور یورپ کے سفید فام، ایشیا کے ملکوں سے آنے والے سانولے، عرب و عجم کے باسی ہر جگہ تہلیل و تکبیر کے کلمات بلند کر رہے تھے، بیتِ عتیق کا طواف ہو رہا تھا، عاشقانِ خدا صفا و مروہ کے درمیان بھاگ رہے تھے، یا مقامِ ابراہیم پر نوافل ادا کر رہے تھے اور زمزم کے چند گھونٹ پینے کے لئے لپک رہے تھے، ان مقامات پر دنیا بھر سے آئے ہوئے بھائیوں کے درمیان اخوت و محبت کے دلچسپ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، جنکی زبانیں مختلف ہیں، رنگت جدا ہے، لیکن ایک مشترک اکائی نے انھیں جوڑ رکھا ہے … اﷲ پر ایمان اور اس کا رسول اور اس کی کتاب ۔۔۔
میں نمازِ ظہر ادا کر چکا تھا۔۔۔ سوچا مکہ میں اپنی رہائش گاہ پر چلا جاؤں، راستے میں بعض اسٹالز بھی دیکھتا جا رہا تھا ۔۔۔ جہاں تسبیحات اور جائے نماز رکھے تھے، مزین زیورات تھے، دعاؤں کی کتابیں تھیں، میں وہیں ایک اسٹول پر بیٹھ گیا .. بے اختیار میری نظر دکاندار پر پڑی جو ستر کے پیٹے میں تھا، وہ عربی نہیں تھا .. اسکی رنگت اور نقوش چغلی کھا رہے تھے، وہ اٹک اٹک کر عربی زبان میں بات کر رہا تھا … میں نے چند خوبصورت تسبیحیں اٹھاتے ہوئے پوچھا:
’’آپ کس علاقے سے ہیں؟؟؟‘‘
اسکی آنکھوں میں غم و یاس کے سائے لہرا اٹھے:
’’اﷲ کی وسیع سرزمین سے ..‘‘
’’یہ تو مجھے معلوم ہے .. آپکا اشارہ کس سرزمین سے ہے‘‘
اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور ڈبڈباتی آنکھوں سے بولا:
’’ترکستان سے …‘‘
میں سوچتے ہوئے بولا:
’’ کیا یہ ترکی سے ملحق کوئی علاقہ ہے؟؟؟‘‘
اسکے غمزدہ چہرے پر ساحرانہ مسکراہٹ ابھری، کہنے لگا:
’’مسلمانوں کو اپنے علاقوں کی بھی خبر نہیں .. آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟؟؟‘‘
’’میں مصری ڈاکٹر ہوں .. ‘‘
’’ آپ الازہر شریف سے ہیں اور ترکستان کو نہیں جانتے؟؟ اچھا .. آپ امام بخاری کو تو جانتے ہوں گے اور فلسفے کے سرخیل ابنِ سینا اور فارابی کو اور عظیم اسکالر البیرونی کو …؟ ‘‘
’’ہاں ان سب کو تو جانتا ہوں … ‘‘
’’یہ سب میرے ہی ہم وطن ہیں .. ‘‘
اسکا نام ’’مصطفیٰ مراد حضرت‘‘ تھا اس نے بتایا کہ ترکستان بعید شمال میں واقع ہے، جسے استعماری طاقتوں نے شرقی ترکستان اور غربی ترکستان میں تقسیم کر رکھا ہے، غربی ترکستان پر روس نے قبضہ کر لیا اور اسے روسی متحدہ جمہوریات میں شامل کر لیا، قدیم زمانے میں شرقی ترکستان پر چین نے اپنے پنجے گاڑے اور اسے اپنی حدود میں شامل کر لیا اور اس کا نام سینکیانگ رکھا۔۔نئی سرزمین اور اس سرزمین کے مشرق و مغرب یعنی پورے ترکستان پر کیمونزم نے اپنے پر پھیلا لئے… اس طرح اسلامی تہذیب ثقافت کی امین اور عظیم تاریخ کی حامل اور شرف و جہاد کی پروردہ عظیم الشان سلطنت تاریخ کی بے رحم دھول میں گم ہو گئی .. بلا شبہ یہ اندلس ثانی ہے .. مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی تاریخ تک نہیں جانتے اور کم ہی ہیں جو اپنے علاقوں سے واقف ہوں …
وہ یوں ہی بولتا رہا، اس کی سفید داڑھی لرز رہی تھی …
پھر وہ پوچھنے لگا:
’’آپ چائے پیئیں گے؟‘‘
’’کوئی حرج نہیں .. مگر آپ کی پوری داستان سننا چاہتا ہوں .. ‘‘
اس نے چھوٹی بچی سے چائے کی پیالی پکڑی، شائد وہ اس کی پوتی تھی:
’’یہ بڑا طویل قصہء درد ہے، ہر سال دنیا کے ہر گوشے سے مسلمان حج کرنے مکہ آتے ہیں، تمام مناسکِ حج ادا کرتے ہیں اور پھر وہیں لوٹ جاتے ہیں جہاں سے آئے تھے … کیا مسلمانوں کے اسی آنے جانے کیلئے حج فرض کیا گیا؟؟؟
میرا نکتہء نظر مختلف ہے … میرے خیال کے مطابق ان دیارِ مقدسہ کی زیارت کے لئے آنے والا ہر زائر اپنے خطہ ارضی پر اپنے مسلمان بھائیوں سے برتی جانے والی سفاکیت اور ظلم و ستم کی داستانیں اپنے سینے میں لئے آتا ہے؟ چلئے .. کیا ممکن ہے کہ ہم شام میں ملیں .. میں آپ کو کچھ کتابیں بھی دوں گا .. اور آپ کو اپنی داستان بھی سناؤں گا، میرا جسمانی وجود تو یہاں ہے .. اور میری نگاہیں اسی فلک شگاف پہاڑوں اور سرسبز و شاداب ’’جبل تیان شان‘‘ نامی سرزمین میں اٹکی ہیں‘‘ ..
’’یامیر‘‘ کا پہاڑی سلسلہ پاکستان اور ترکستان کی حدود کے درمیان واقع ہے .. اور ان پہاڑوں سے دوسری جانب وہ عورتیں بستی ہیں جنھوں نے اپنے چہروں سے نقاب کھینچ اتارے ہیں .. اور وہ نوجوان ہیں جو الحاد کی تعلیم حاصل کرنے دنیا کی جدید درسگاہوں کی طرف بھاگے چلے جاتے ہیں .. جہاں جھوٹے پروپیگنڈے سے ان کے معصوم ذہن زہر آلود کئے جاتے ہیں، حتی کہ وہ اپنے اسلاف اور اپنی تاریخ اور اپنے دین سے بے خبر ہو جاتے ہیں .. اور ان سے کچھ پرے .. وہ انبوہِ کثیر ہے جنھیں سیبیریا کے اطراف میں دھکیل دیا گیا جہاں ذلت کی آگ اور پے در پے عذاب اور نقطہء انجماد سے نیچے کی ٹھٹرتی سرد ہواؤں نے انھیں جلا ڈالا … میں اسی مشرقی ترکستان کا سپوت ہوں … میری داستان کی ابتدا کچھ یوں ہوتی ہے … ‘‘
(۲)
یہ ۱۹۳۰ء کا زمانہ تھا، میں ’’قومول‘‘ کا رہائشی تھا اور اسی برس چین نے اس علاقے پر جابرانہ قبضہ کیا تھا، اسکے بعد اس علاقے پر چین کی عملداری قائم ہو گئی اور علاقے پر چینی حاکم مسلط ہو گیا، اور سارا نظام اس کے اشارے پر چلنے لگا، حسرت زدہ عوام دل مسوس کر رہ گئے، اور ان کی آنکھوں سے غم چھلکنے لگا، قومول کا سابق امیر اپنے محل تک محدود ہو گیا، وہ صرف نام کا امیر تھا، جبکہ ہم دیکھ رہے تھے چینی افواج کس طرح خطہء قومول پر اپنے استبدادی پنجے گاڑتی چلی جا رہی ہیں .. چینی حکومت بے دریغ مال خرچ کر کے ترکستانی اراضی خرید رہی تھی، اور یہاں اپنے مسکن کدے تعمیر کر رہی تھی، تجارت میں انکا حصہ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا تھا، میں ان دنوں ایک پچیس سالہ نوجوان تھا .. میں نے مسجد میں قرآن پاک حفظ کیا، اور عربی لکھنا پڑھنا سیکھا، اپنی علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ چینی زبان بھی سیکھی .. میں مغربی ترکستان کے پڑوس میں تھا .. اور بارہا ان پڑوسی ’’منگولوں‘‘ کی زبان میں بات کی ضرورت پیش آتی تھی، جو روس کے زیرِ سلطنت تھے ..
صدیوں پہلے یہ علاقہ چنگیز خان اور اس کی اولاد کا مسکن رہا .. اور ہر شعبہ زندگی میں ان کی بطولات کے قصے زبانِ زدِ عام تھے ..
اور انھیں دنوں چینی حاکم نے ایک ایسا دستور جاری کیا جس نے اس سلطنت کے ہر گوشے میں تہلکہ مچا دیا ..
یہ دستور ہر ترکستانی باپ کو پابند کرتا تھا کہ اگر کوئی چینی اس سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگے تو اسے لازما اس پیش کش کو قبول کرنا ہو گا، خواہ اس چینی کا دین و مذہب کچھ بھی ہو ..
دشمن کے قبضے کے خلاف جدوجہد ہو سکتی ہے، اور کسی روز اس سے نجات بھی حاصل ہو سکتی ہے، اور دشمن سے لڑنا بھی ایک شان ہے .. لیکن اگر دشمن عوامی جذبات کچلنا شروع کر دے، اور ان کی شریعت کو اپنے بوٹوں تلے روند ڈالے، اور انکے دین کا مذاق اڑائے تو یہ ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے ..
چینی قائد نے قومول کے مسکین امیر کو اپنے سامنے طلب کیا اور کہنے لگا:
’’اے امیر .. میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں خود ہی تمھاری دامادی میں آجاؤں .. ‘‘
امیر کا چہرہ زرد ہو گیا، اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور وہ کپکپاتے ہوئے گویا ہوا:
’’اے قائد تجھے معلوم ہے کہ یہ ناممکن ہے‘‘
قائد نے استہزائیہ قہقہہ لگایا:
’’اے امیر ناممکن کا لفظ میری لغت میں نہیں‘‘
’’یہ اﷲ کا حکم ہے .. ‘‘
’’دل کے معاملے میں الہ کا کیا کام .. مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے .. ‘‘
’’فاتحین نے ہر دور میں مفتوحہ علاقوں کے باسیوں کے عقیدے کا احترام کیا ہے .. ‘‘
’’میرا اس خرافات پر ایمان نہیں .. ‘‘
’’اے قائد یہ موت سے بھی زیادہ بھیانک ہے …
قائد کا چہرہ لال بھبھوکا ہو گیا وہ گرجا:
’’میرا حکم ہے کہ میں نے شہزادی کا انتخاب کیا ہے .. جاؤ اور اسے آگاہ کر دو .. اور اس حکم کی تعمیل کے لئے تمہارے پاس چند گھنٹے ہیں .. ‘‘
اور ترکستانی امیر جب باہر نکلا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا اور اسے ارد گرد کی کچھ خبر نہ تھی، اس ذلت کے بعد بھی کوئی ذلت ہو گی، وہ اپنے محل سے ذلت اور عذاب کی ابتدا ہوتے دیکھ رہا تھا، وہ اپنی بیوی اور اولاد کا سامنا کیسے کرے گا، زندگی بے قیمت ہو گئی تھی، کیا وہ فرار ہو کر پہاڑوں میں گم ہو جائے اور جڑی بوٹیاں کھا کر پیٹ پالے، اور درندوں کی صحبت اختیار کر لے، تاکہ یہ دن دیکھنے اسے نصیب نہ ہوں؟؟
وہ کتنا دھتکارا ہوا عاجز و مسکین ہے!! اور جب یہ دھتکار شان اور رعب و داب حکومت کے حامل امیر کے حصے میں آجائے تو اس کی حد نہیں رہتی …
اور امیر محل میں داخل ہوا .. نایاب تلواریں بڑی احتیاط سے دھری تھیں، اور خالی بندوقیں شیلف پر خاموش رکھی تھیں گویا ان کے کل پرزے بکھرے ہوں، اور آباء و اجداد کا شاندار ماضی، تاریخ کے صفحات کی آغوش میں گہری نیند سو رہا تھا جنکے غلافوں پر غبار کی دبیز تہیں تھیں …
اسکی بیوی نے سرگوشی کی:
’’کیا ہوا؟؟‘‘
اس نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھا بولا:
’’میں اﷲ کے فیصلے کا منتظر ہوں .. ‘‘
وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہنے لگی:
’’کیا آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہے؟؟ مجھے پہلے ہی ان چینیوں سے کسی خیر کی توقع نہیں .. ‘‘
’’جو رب کو نہیں پہچانتا اس سے رحم کی امید بھی بیکار ہے .. ‘‘
’’سچ کہتے ہیں آپ .. ‘‘
’’قائد چاہتا ہے کہ ہماری بیٹی سے شادی کرلے .. ‘‘
پھر وہ ہذیانی انداز میں پکارا:
’’بیٹی ادھر آؤ .. اوہ میری پیاری .. ‘‘
اس نے آنکھوں سے ابلتے آنسو بے رحمی سے پونچھے:
’’میری ہیروں جیسی شہزادی … یہ احمق ریچھ تجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے .. یہ نا ممکن ہے .. کیا تمہیں منظور ہے یہ؟؟‘‘
شہزادی کی آنکھیں مارے حیرت اور دہشت کے پھیل گئیں اسے کچھ سمجھ ہی نہ آیا:
’’اس کا کیا مطلب ہے ابا جان؟؟‘‘
ترکستانی امیر کا چہرہ اندرونی احساس سے سرخ ہو گیا، وہ کھسیاہٹ چھپاتے ہوئے ہنسا:
’’اب یہاں بہت سی ایسی باتیں ہے جن کے کوئی معنی نہیں .. بلکہ اب تو زندگی بھی بلا معنی ہے .. ‘‘
’’لیکن ابا جان میں اس سے کوئی نسبت جوڑنا نہیں چاہتی .. ‘‘
’’لیکن وہ چاہتا ہے .. ‘‘
’’لعنت ہو اس پر .. ‘‘
’’لعنت ہمیشہ شکست خوردہ کا نصیب بنتی ہے .. ‘‘
’’کونسا دین یا شریعت لازم کرتی ہے کہ کہ لڑکی کی رضا مندی کے بغیر اس کی شادی کر دی جائے .. ‘‘
’’جب معاملہ غالب اور مغلوب کا ہو جائے تو بیٹی اصولوں اور آزاد مرضی کی پرواہ کون کرتا ہے .. ‘‘
امیر نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، ارد گرد کی فضا میں اسکا دم گھٹ رہا تھا اس کے سانس بے ترتیب ہونے لگے، وہ نہایت بے بسی سے قریب پڑے بستر پر ڈھے گیا
’’کیا تمہیں منظور ہے؟؟‘‘
’’موت قبول ہے لیکن یہ نہیں‘‘
’’کیوں؟؟‘‘
’’اﷲ کا حکم چینیوں کے حکم سے بالاتر ہے .. ‘‘
وہ کھڑا ہو گیا اور چھوٹی شہزادی کو گلے لگا لیا، اس کی آنکھوں میں قاتلانہ حیرانی تھی، اور اسکا گلابی تروتازہ چہرہ با رعب نظر آرہا تھا، وہ زور زور سے رونے لگی:
’’ابا جان میں تصور بھی نہیں کر سکتی .. میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ کسی لڑکی کو یوں رخصت کیا جائے .. موت کی وادی میں داخل ہونا اس سے کہیں آسان ہے .. ‘‘
امیر نے بیٹی کے آنسو پونچھے، اور اس کے خوبصورت بال سہلانے لگا، اس نے محبت سے اس کے گال محبت سے تھپتھپائے اور کھڑے ہو کر زمین پر ٹھوکر مارتے ہوئے بولا:
’’یہ کبھی نہیں ہو گا .. ‘‘
اسکی بیوی کپکپاتے ہوئے بولی:
’’معاملے کو حکمت سے سلجھائیے .. ‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ وہ اس ہزیمت کو قبول نہیں کرے گا .. ‘‘
’’اور یقیناًوہ تشدد کی راہ اپنائے گا .. تم چینی قیادت کو بہت اچھی طرح جانتے ہو .. ‘‘
’’وہ کس انتہا تک جا سکتا ہے .. کیا ہو گا؟؟ میری جان؟؟‘‘
اسکی بیوی نے غم سے سر نیچے کر لیا ..
ترکستانی امیر نے آواز دی:
’’مصطفی مراد حضرت .. ‘‘
’’حکم میرے آقا .. ‘‘
وہ نظریں جھکائے اندر داخل ہوا
’’مصطفی .. کاغذ سیاہی اور قلم حاضر کرو .. ‘‘
اور ہمارے امیر نے اسی وقت چینی قائد کو خط تحریر کیاجس کے الفاظ کچھ یوں تھے:
’’ …. اے فاتح قائد یہ معاملہ میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے، کیونکہ ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا، دوسری جانب میری بیٹی ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی، اور پھر یہ عقیدے اور انسانی اعتبار سے بھی قابلِ عمل نہیں، اور پھر یہ چین کی قدیم روایت کا حصہ ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی روایات کا احترام کرتی ہے، اور ان کے عقائد کو نہیں مٹاتی، اور نہ ان کے احساسات کو ضرب لگاتی ہے .. اور یہ معاملہ نہ تو چین کی کبریائی سے متعلق ہے نہ فاتح فوج سے، یہ ایک ثانوی معاملہ ہے اور جب پورا علاقہ آپ کے قبضے میں ہے تو یہ معاملہ بے ضرر ہے، اور تمام سیاسی اور مادی رشتوں کی ڈور آپ کے ہاتھ میں ہے .. اور میرا یقین کریں کہ اس معاملے کے اثرات و نتائج مرتب ہوں گے، جو دونوں قوموں چینی اور ترکستانی کے درمیان تاریخی تعلق کو نقصان پہنچائیں گے .. اور اگر ہم مل کر اس قانون کے اثرات کا جائزہ لیں جو ترکستانی مسلمان لڑکیوں کی شادی چینی کفار سے کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ بہت اہم معاملہ ہے، میں کوئی دھمکی دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن میں دوستانہ مفاہمت کا ارادہ رکھتا ہوں، تاکہ علاقے میں امن قائم ہو جائے .. اور میں آپ کو ہر کبریاء اور مقدس کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اس معاملے پر نظرِ ثانی فرمائیں .. تاکہ اس کے تمام پہلو آپ پر واضح ہو جائیں .. بہترین تسلیمات اور احترام کے ساتھ .. ‘‘
امیر قومول
دسمبر ۱۹۳۰ء.
یہ خبر شہر بھر میں سوکھی لکڑیوں میں آگ کی طرح پھیل گئی، اور قصرِ شاھی کے اونچی رکاوٹیں پھلانگ گئی، اور گھروں میں عورتوں کی سرگوشیوں کا موضوع بن گئی، اور مرد غیض و غضب سے تھوک نگلنے لگے .. اس سرزمین پر عارضی قبضہ ان کے انتظار کو مشکل بنا رہا تھا کہ اس سے نجات کب ملے گی، لیکن کیا اب لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں اس طرح دخل دیا جائے گا، ان کے عقیدے اور شرف کو یوں خاک میں ملانا بالکل دوسرا معاملہ ہے جو اپنے اندر بے شمار مضرات لئے ہوئے ہے .. جب چینی قائد نے ترکستانی امیر کا نامہ پڑھا، اور میں ہی اسے لیکر گیا تھا، اس نے اسے پرزہ پرزہ کر دیا، اور اسے نیچے پھینک کر اس پر تھوک دیا …
اور مجھے متوجہ کر کے کہنے لگا:
’’اپنے آقا سے کہو وہ کیا بچگانہ حرکتیں کر رہا ہے .. یہ ’’چن یان چن‘‘ عظیم بابائے چین کا فرمان ہے .. اور اس سرزمین پر کوئی طاقت ان قوانین کو جھٹلا نہیں سکتی … ‘‘
اور اسی رات ہمارے امیر کو قید خانے میں منتقل کر دیا گیا .. اس رات پھر شہر اسی طرح کراہتا رہا حیسے معرکے میں اپنے شہداء کے خون پر رویا تھا، اور اس رات لوگوں کو معلوم ہوا کہ چینی لشکر زمین پر غاصبانہ قبضے کے ساتھ اپنے جلو میں کچھ دوسرے خطرات بھی لئے ہوئے ہے،اور یہی خطرہ ایک دوسری شکل میں مغربی ترکستان میں بھی ظہور پزیر ہو رہا تھا، جہاں کیمونسٹ روس کا راج تھا، اس رات نیند کی دیوی قومول کی دوشیزاؤں اور مردوں کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی، اور ابلیس دور کھڑا ہنس رہا تھا کیونکہ قومول کی دوشیزائیں اپنے لئے مسلمان مرد تلاش کرتی پھر رہی تھیں تاکہ وہ ان سے راتو رات نکاح کر لیں قبل اسکے کہ وہ ایک ذبیحے کی مانند چینی عسکریوں یا انکے مہاجروں کے مذبح خانے میں جبرا دھکیل دی جائیں .. میرا بھی دلچسپ قصہ تھا .. میں محل میں کام کرنے والی ایک دوشیرہ سے ایک سال سے محبت کرتا تھا .. وہ ہمیشہ میرے جذبوں کو ٹھکرا دیتی اور کسی طرح شادی پر آمادہ نہ تھی، وہ مجھ سے زیادہ اونچے اسٹیٹس والے کی خواہش مند تھی .. جبکہ میں محل میں محض ایک چوکیدار تھا .. اور محل میں عالی مرتبت لوگوں کا آنا جانا تھا ..
جب امیر کو قید خانے بجھوا دیا گیا تو وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئی اور آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی:
’’مصطفی .. اب میں تمہارے اختیار میں ہوں .. ‘‘
میں امیر کے برے انجام پر بہت آزردہ تھا .. مجھے دنیا کی کسی شے کی خواہش نہ رہی ۔میں اس کے حسین چہرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چلایا۔
’’تمہاری مجھ پر اتنی عنایت نجمۃ اللیل‘‘
’’ہو سکتا ہے مجھ سے تمہیں رنج ملا ہو .. لیکن میں تمہیں پسند کرتی ہوں .. ‘‘
میرے حواس پر امیر کی گرفتاری چھائی ہوئی تھی، اپنے عظیم رہنما کو بیڑیوں میں جکڑے دیکھنا کس قدر مشکل ہوتا ہے، انھیں غلاموں کی طرح قید خانے کی جانب دھکیلا گیا، یا الہی میں یہ منظر قیامت تک نہیں بھلا سکتا، لیکن ہمارا امیر اپنا سر جھکائے بغیر چینی داروغوں کے ہمراہ چلا گیا، اسنے اپنی ناک اونچی رکھی، اس کی خاموشی انقلاب کی نوید دے رہی تھی، اس کے سپر ڈالنے میں آندھیوں کی خبر تھی، اور اسکی آنکھوں کی چمک خوفناک خونی پکار تھی
میری پرانی محبوبہ بولی:
’’مصطفی حضرت تم بولتے کیوں نہیں؟؟ تم کس چیز کے منتظر ہو؟ اگر کوئی ملعون چینی آگیا مور مجھے لے گیا تو تم تمام عمر پچھتاؤ گے .. ‘‘
میں شائد اس سے پرانے حساب چکا رہا تھا بولا:
’’میں حالتِ اضطرار میں شادی کے خلاف ہوں .. ‘‘
’’او احمق، اس سے تیری ہی آرزو پوری ہو گی، اور میری بھی بچت ہو جائے گی، اور ہمارے دین اور عصمت کی حفاظت بھی .. ‘‘
میں نے اسے مڑ کر دیکھا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں بے اختیار بولا:
’’رو نہیں .. میں لوگوں کے چہرے کی طرف نہیں دیکھتا .. کیونکہ ہر جگہ آنسو ہی آنسو ہیں .. ایسی زندگی گزارنا میرے بس میں نہیں .. اچھی طرح جان لو کہ جب تک امیر قید میں ہیں میں ہرگز شادی نہیں کروں گا ..
اس نے میرے قریب سرگوشی کی:
’’او پاگل .. امیر کا دور ختم ہو گیا .. تمھیں جاتے زمانے، اور زوال پزیر شرف سے تعلق جوڑنے کی ضرورت نہیں .. ‘‘
میں نے بڑی سختی سے اس کا بازو جھنجھوڑا اور غصے سے بولا:
’’یہ تو خیانت ہے نجمہ .. ‘‘
’’تمہاری رائے غلط ہے مصطفی .. میں بھی امیر اور انکے خاندان سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتی ہوں .. لیکن اسے معنی یہ نہیں کہ ہم موقع گنوا دیں .. یہ شائد خود امیر بھی پسند نہ فرمائیں .. ‘‘
میں بلا کچھ جواب دیے اسے چھوڑ کر چلا آیا، ماتمی فضا امیر کی نصرت کے لئے آس لگائے ہوئے تھی، اس کی زوجہ پاگلوں کی طرح ہاتھ پاؤں مار رہی تھی، وسیع و عریض محل میں رہتے اس کا کھانا پینا تک چھوٹ چکا تھا، اس کی اولاد اور رشتہ دار آنکھیں پتھرائے اس مصبیت کو آتے دیکھ رہے تھے، چھوٹی شہزادی نے محل کے ہال میں قیمتی قالین پر بیٹھے حسرت سے کہا:
’’کیا تھا اگر میں اس سے شادی کر لیتی اور اسے قتل کر دیتی؟؟‘‘
اس کی جانب کسی نے توجہ نہ دی، لیکن وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلتی رہی، اور وہ اسی سوچ کے نشیب و فراز پر غور کرتی رہی، حتی کہ اس کی والدہ نے آکر نرمی سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑی رسان سے بولی:
’’معاملہ اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے .. ‘‘
اگلے روز قومول کی شاہراہیں ایک اور درد ناک منظر پیش کر رہی تھی، جس کے تصور ہی سے جسم کانپ اٹھتا تھا، اس کے ھول سے سر سفید ہو رہے تھے، چینی سپاہی نوجوان لڑکیوں کو گھسیٹ کر اپنے فوجیوں اور مہاجروں کی طرف لیکر جا رہے تھے اورجو باپ اس میں مزاحم ہو رہے تھے ان کے جسموں پر کوڑے برسائے جارہے تھے، انہیں بندوقوں کے بٹ مار رہے تھے، اور نہایت توہین آمیز انداز میں انھیں ٹھوکریں مار رہے تھے، اور کتنے ہی بچ بچا کر شہر ہی چھوڑ کر چلے گئے، اور رات کی تاریکی میں پہاڑ کی کھوہوں اور صحرا کی وسعتوں میں گم ہو گئے.
اسی رنج و الم میں دن بسر ہونے لگے، ہمارے شہر میں ایک معروف شخصیت ’’خوجہ نیاز حاجی‘‘ کی تھی، وہ محب وطن دین دار اور صاحبِ فکر انسان تھے، جو بہت شجاع اور صدیق مشہور تھے، لوگ اپنی پریشانی میں انہیں کی طرف رجوع کرتے .. انکا ایک ہی جواب ہوتا:
’’نصرت کے طریقے تم خوب جانتے ہو .. صبر اور ثابت قدمی .. موت تک جہاد .. محمدﷺ کے کلمات کے بعد کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں .. دیکھو .. لوہا ہی لوہا کاٹتا ہے … میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ جب قومیں بغیر شرف اور بغیر دین کے ہوں .. وہ مردہ ہیں، اگرچہ وہ کھانا کھاتی ہوں اور سانس بھی لیتی ہوں. صرف دشمن کے اقدامات ہی سے نفرت نہ کرو، بلکہ اپنی ذلت کو روؤ اور اپنی فرمانبرداری کا انکار کرو .. کیا سمجھے؟؟‘‘
لیکن سرکشی کی لہریں بلند ہوتی اور پھیلتی رہیں .. مدد کیلئے پکار ابھرتی تو جبر کا کوڑا اسے خاموش کروانے کو حرکت میں آجاتا اور ننگے جسموں پر برستا اور گوشت کے لوتھڑے اڑا دیتا، اور دوشیزایں ظالم چینی قانون کے تحت جبرا فوج کے جہنم میں دھکیلی جاتی .. مرد انتہائی شرمندگی، بے بسی اور ذلت محسوس کر تے .. چینی لشکر قہقہے لگا رہا تھا، اور بھوکوں کی طرح ان معصوم جسموں کو بھنبھوڑ رہا تھا، انکی حالت منڈی میں قربانی کے لئے آئی ہوثی بھیڑ بکریوں سے مختلف نہ تھی .. اور قومول آتش فشاں کی طرح پھٹنے کو تھا، لوگوں کے لیے سانس لینا دشوار ہو گیا، جبکہ انکا مہربان امیر بھی قید خانے میں تنہائی اور عذاب برداشت کر رہا تھا … اور میں ایک کمزور غلام ’’مصطفی مراد حضرت‘‘، میں کیا کر سکتا تھا؟؟ ہمارے لیڈر خوجہ نیاز حاجی نے مجھے بلوایا اور کہنے لگے:
’’مصطفی .. امیر کے پاس قید خانے میں جاؤ .. اور ان سے کہو کہ کسی صورت باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کریں .. ‘‘
حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

3 تبصرے

  1. بے حد درد ناک کہانی اور اثر انگیز انداز بیان !
    حقیقت افسانے سے زیادہ تلخ اور غمزدہ ہوتی ہے .میمونہ اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے ہماری تاریخ سے واقفیت کروائی جس کا تسلسل جاری ہے

جواب چھوڑ دیں