مرغزاروں کی سرزمین

مانسہرہ خیبر پختون خواہ کا ایسا شہر جسے جھیلوں، سبزہ زاروں، مرغزاروں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ مانسہرہ ”مان سنگھ” کے نام سے اخذ ہوا جو کسی زمانے میں یہاں کا حکمران تھا۔ (یہ حقیقت ہے یا فسانہ، معلوم نہیں) ضلع مانسہرہ زمانہ قدیم سے انتہائی اہمیت کا حامل رہا۔ 1976 ؁ء میں ہزارہ سے علیحدہ ہو کر وجود میں آیا۔ ضلع کی جغرافیائی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی سرحدیں کشمیر، تورغر، نادرن ایریاز سے ملی ہوئی ہیں۔ بھٹو دور میں اس شہر کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ یہ پشاور سے تقریبا 2177 کلو میٹر، جب کہ اسلام آباد سے 1955 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس وقت مانسہرہ تین تحصیلوں، بالاکوٹ، اوگی، شنکیاری مانسہرہ کی صورت میں موجود اور مجموعی طور پر تین وادیوں پر مشتمل ہے۔


شاہراہ قراقرم، جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جاتا ہے۔ اس کا گزر اسی شہر سے ہوتا ہے۔ جو ’’گیٹ وے‘‘ کہلاتا ہے۔ پاکستان کی تجارتی، معاشی، دفاعی شہ رگ کہلاتی، انسانی ہمت، محنت اور اعلی صلاحیتیوں کا جیتا جاگتا ثبوت جو طویل پہاڑی سلسلوں کے سینے میں شگاف ڈال کر بنائی گئی۔ سنگلاخ چٹانوں، دیوقامت پہاڑوں، بلند ترین چوٹیوں، خوبصورت و دلربا مناظر، اچھلتی ندیوں، مچلتے دریاؤں کے بیچ گزرتی اس شاہراہ قراقرم پر سفر کرنا ہر پاکستانی کا خواب ہے۔ فلک بوس چٹانوں کے ساتھ بل کھاتی اس شاہراہ پر سفر کرنا ایڈوانچر سے کم نہیں۔ کئی مقامات پر محسوس ہوتا ہے جیسے فلک بوس چٹانوں کے ساتھ چمٹی اس سڑک کی دوسری جانب گہری کھائی آپ کو آواز دے رہی ہے۔ مسافر آنکھیں موند لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


مانسہرہ کی حدود میں داخل ہوں تو سب سے پہلی ملاقات چیڑھ کے درختوں سے ہوتی ہے۔ دراز قد و قامت، آسمان سے باتیں کرتے درخت، ہوائیں چلیں تو سیٹیاں بجاتے ہمکلام ہوتے ہیں۔ یہ شور آلود ضرور ہے مگر پرامن شہر ہے جو ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کو بانہیں کھول کر’’خوش آمدید‘‘ کہتا ہے۔یہ شہر قدرت کے عطا کردہ حسین نظاروں سے عبارت ہے۔ بل کھاتی سڑکوں کے پار ایستادہ پرغرور پہاڑوں، جنگلوں، صنوبر، چیڑھ، دیودار، توت، کیکر، سرو، شیشم، بیار، جیسے لاتعداد قیمتی درختوں، صحت افزا، تاریخی و ثقافتی مقامات، بہترین تعلیمی اداروں سے آراستہ و پیراستہ ہے۔ زندگی کی تمام تر سہولیات شہری آبادی کو میسر ہیں۔ جب کہ دیہی آبادی تاحال بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔یہاں تنگ سڑکیں، بمپر سے بمپر ٹریفک، بازاروں میں شور و غل ضرور ہے لیکن اس سب کے باوجود بے پناہ سکوت اور سکون ہے۔


شہر میں قدم رکھیں تو پیٹ پوجا کے لیے زیادہ فکر مندی نہیں کرنی پڑتی یہاں قدم قدم پر فاسٹ فوڈ کیفے، چھوٹے بڑے ہوٹل، ٹھیلے اور مختلف النوع کھانے پینے کی اشیاء کی اشتہا انگیز بو اپنی طرف بلا رہی ہوتی ہے۔ معیاری ہوٹل پر ارزاں کھانا مہنگے نرخوں کھا کر شہر بھر کی سیر کی جا سکتی ہے۔ آپ اگر فاسٹ فوڈ کے شوقین ہیں تو ”رائل بیکرز” کا فاسٹ فوڈ، اگر ہوٹل کی تلاش ہے تو ”فوڈ ہاٹ”، ’’گرین ویلی‘‘، دیسی کھانوں کے دلدادہ ہیں تو ”نہاری ہوٹل” اور اگر رہائش کے لیے فکر مند ہیں تو ”آشیانہ ہوٹل” اور ”رائل سماء” ہوٹل اسٹینڈرڈ ہیں۔ یہاں کے لوگ مجموعی طور پر رجعت پسند اور اخلاقی قدروں کا پاس رکھنے والے، خوش اخلاق و ملنسار اور ملک بھر میں مہمان نواز سمجھے جاتے ہیں۔ ہاں مگرہزارہ کی منافقت کے ذرے یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ مذہب سے لگاؤ رکھتے، سادہ طرز زندگی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہاں اردو، ہندکو، پشتو، اور کوہستانی بولیاں کثرت سے بولی جاتی ہیں۔ اکثریت قومی لباس پہنتی جبکہ کچھ نئے زمانے کے لڑکے بالے شرٹ پتلون میں ملبوس نظر آتے ہیں۔


مانسہرہ کے ذکر کے ساتھ ہی یہاں کی مشہور جھیل کا نام یاد آجاتا ہے۔ وادی کاغان اور وادی ناران ہر سال سیکڑوں سیاحوں کی طبیعتوں کو فرحت بخشتی ہیں۔ جھیل سیف الملوک جس کا ذکر چھڑتے ہی افسانوی داستاں، شہزادے سیف اور پری بدری جمال کی رومانوی کہانی یاد آتی ہے۔ اس جھیل تک پہنچنے سے پہلے کچھ مقامات ہیں جنہیں ٹریلر سمجھ کر ضرور دیکھنا چاہیے۔ بالاکوٹ سے ہی منزل تک پہنچنے کا سہانا سفر شروع ہوتا ہے۔ سڑک پر چلتے ہوئے دریائے کنہار کا پانی ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے اردگرد دیکھیں تو سبزہ ہی سبزہ، خوابوں کی دنیا سے نکلیں تو پتا ہی نہیں چلتا وادی کاغان استقبال کرتی دکھائی دیتی ہے۔وادی ناران کے سحر انگیز مناظر دیکھنے والے کو مبہوت کیے رکھتے ہیں۔ سڑک، دریا، سبزے اور برستے مگر روئی نما سفید بادلوں کا منفرد ملاپ میلوں دور تک پھیلا ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے قدرت نے سچ میں یہ ان جگہوں کو پریوں کا مسکن بنایا ہو۔
سرمئی گلیشیئر ناران
ناران میں داخل ہوں تو سرمئی گلیشیر ویلکم کرتاہے۔ جو ناران بازار سے تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کتابوں اور موسم کی خبروں میں گلیشیئر کا نام تو سنا ہوگا لیکن حقیقی روپ میں دیکھنا ہے تو یہاں کا رخ کیجیے۔ عین سڑک پر ہونے کی وجہ سے جھیل جانے والے سیاح اس کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے اور دھوئیں کی دھونی لینے ضرور رکتے ہیں۔ یہ برف کے غار سے اٹھتا ٹھنڈا شفاف دھواں ہے جو کئی گز کے فاصلے تک آئے مہمانوں کو اپنے سحر میں قید رکھتا ہے۔جوں جوں منزل قریب آتی ہے خون تیز ہوتا رہتا ہے اور خوشی کا ان مٹ نشان چہرے پر ثبت دکھائی دیتا ہے۔ ناران میں داخل ہوں تو بازار سیاحوں سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔ جیسے تمام آدم زادے یہیں اٹھ آئے ہوں۔ بازار سے دنیا بھر کی اشیاء باآسانی مل جاتی ہیں مگر دگنے داموں کیوں کہ یہاں نئے آنے والے سیاحوں کی جیبیں خالی کرانے کا بھرپور انتظا م ہے۔
بابو سرٹاپ
ناران بازار سے فرصت مل گئی ہو تو بابو سر ٹاپ کا چکر لگا لیجیے۔ یہ تقریباً 13 ہزار فٹ کی بلندی پر گلگت کے راستے پر واقع ہے۔ ناران سے تقریبا 3 گھنٹے کی مسافت پر بابوسرٹاپ ہے جو حسین مناظر سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ اوپر پہنچ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کے کسی حصے پر آگئے ہوں یا کرہ ارض کے حسین ترین خطے پر قدم رکھ دیے ہوں ہر جانب دلفریب اور سحر انگیز مناظر تھے، سحر انگیزیوں سے لطف اٹھانے کے بعد واپسی کی راہ لیں۔
لالہ زار
یہیں ایک اور مقام لالہ زار ہے جو ناران بازار سے بابو سر ٹاپ کی طرف واقع ہے۔ یہ ناران کے قریب تو ہے مگر پہاڑ پر واقع ہے جس کی وجہ سے بغیر جیپ کے پہنچنا ممکن نہیں۔ جیب یہاں کی طاقتور گاڑی ہے۔ چند کلومیٹر کا یہ راستہ پرخطر اور کٹھن ہے۔ تنگ اور کچے راستے پر جیپ ہچکولے کھاتی، موت کی یاد دلاتی ہے۔ راستہ کچا ہونے کی وجہ سے گرد وغبار کے بادل اٹھتے ہیں، وہاں پہنچ کر یا واپس آکر،کسی سے سامنا ہو تو تعارف ضرور کروایئے گا مبادا وہ پہچان نہ پائیں تو۔۔۔!! لالہ زار دراصل زرخیز میدان ہے۔ لالہ زار پہنچنے کے بعد گھنے اور تناور درختوں کے نیچے سرسبز و شاداب میدان میں کچھ دیر سستا لیں، قدرتی رعنائیوں سے محظوظ ہولیں پھر اس کے بعدیہاں آپ کی خدمت کے لیے موجود گھوڑوں پر سوار ہو کر پورے علاقے کا طواف ضرور کریں۔
جھیل سیف الملوک
لالہ زار کی سحر انگیزی کے سحر میں مبتلا ہونے کے بعد جنوں اور پریوں کی جھیل دیکھنے کی نیت کی تجدید کرلیں۔ کچے اور لمبے راستے اور ان پر قطار اندر قطار جیپیں، لوگوں کی بے قراری دیکھ کر ان کا منہ چڑاتی اور ایسے چلتی ہیں جیسے چیونٹیاں رینگ رہی ہوں۔ تقریبا2000 جیپیں، بیک وقت جھیل آتی جاتی ہیں۔ ڈھائی گھنٹے کے پر خطر مگر دلکش سفر کے بعد جھیل سیف الملوک پہنچیں تو تاحد نگاہ برفیلے پہاڑوں کے بیچ میں نیلے رنگ کی خوبصورت جھیل نظر آتی ہے۔ خوبصورتی ایسی کہ دیکھنے والے حیرت کے سمندر میں ڈوبے رہ جائیں۔’’وآو‘‘ کے آواز کا ھیولا منہ سے نکل کر اڑتا دکھائی دیتا ہے۔ جھیل سیف الملوک سالہا سال سے ملکہ پربت کے پانیوں سے آباد ہے۔ مقامی سطح پر یہ بات زبان زد عام ہے کہ ملکہ پربت پر، جنوں اور دیو سائی کا سایہ ہے۔


صد حیف! کہ آج آدم زادوں کے اندھے ہجوم نے قدرت کے عجوبے، جنوں اور پریوں کے مسکن کا برا حال کر دیا ہے۔ وہ جھیل جو قدیم روایتوں میں پریوں کا مسکن ہوا کرتی تھی اب ابتر صورتحال میں شکوہ کناں دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پرانے وقتوں میں جب جن اور پریاں یہاں اترتے تھے اب کیوں نہیں اترتے؟ بقول شخصے اس کا جواب یوں ملتا ہے کہ بیٹا!! ’’آدم زادے و آدم زادیاں اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ اب یہاں پریوں کے لیے جگہ ہی نہیں رہی اور جھیل کے اْس طلسماتی سحر کو ٹھیس پہنچ رہی ہے‘‘ جس کا ذکر قصہ گو کے قصے میں ملتا ہے۔

حصہ
mm
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الباسط ذوالفقارمختلف سماجی موضوعات پر انتہائی دل سوزی سے لکھتے ہیں،جو براہ راست دل میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔مختلف اخبارات و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں