یہ نواز شریف کا نصیب ہے 

عقل اور نصیب دو دوست تھے ایک دن انہوں نے گھومنے کا منصوبہ بنایایہ گھومتے گھو متے شہر سے دور نکل گئے راستے میں ان کی گاڑی خراب ہو گئی یہ دونوں پریشان ہو کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کریں دونوں میں یہ فیصلہ ہو ا کہ یہیں رک کر کسی اور گاڑی کا انتظار کیا جائے عقل نے کہا میں سڑک کے پاس ایک درخت ہے اس کے نیچے لیٹ جاتا ہوں تا کہ کوئی وہاں سے گزرے تو مجھے دیکھ لے اور رک جائے چنانچہ عقل سڑک کے پاس والے درخت کے نیچے لیٹ گیا عقل کے لیٹتے ہی نصیب سڑک پر لیٹ گیا عقل نے کہا یہ کیا یہ تو خود کشی ہے پر نصیب نہیں مانا تھوڑی دیر بعد ایک تیز رفتار گاڑی وہاں سے گزری اور نصیب کو بچاتے بچاتے گاڑی درخت سے ٹکرا گئی اور عقل کی موت ہو گئی۔
آپ کو ماننا ہو گا کہ میاں نواز شریف نے پاناما کیس کے بعد اداروں کے خلاف
جو زبان استعمال کی ہے اگر ان کی جگہ کوئی او ر ہوتا تو شاید تاریخ کا حصہ بن چکا ہوتالیکن تمام غلطیوں کے باوجود یہ نواز شریف کا نصیب ہی ہے جو انہیں تمام مشکلات سے نکال لیتا ہے۔
آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں میاں نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے ہیں اس اقتدار کو حاصل کرنے سے پہلے انہوں نے اس کی کوئی نہ کوئی قیمت ادا کی
ہے۔ آپ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دور دیکھ لیں اگر بھٹو نے نیشنلائزیشن
کی پالیسی اختیار نہ کی ہوتی اگر یہ نواز شریف کے خاندان کی ملکیت کو حکومتی قبضے میں نہ لیتے تو آج کی تاریخ میں میاں نواز شریف کو شاید ہی کوئی جانتا ۔ آ پ نواز شریف کے نوے کی دہاہی کے دونوں حکومتی ادوار کو دیکھ لیں ان کی قسمت ان کے ساتھ کھیل کھیلتی رہی ہے۔ میاں نواز شریف سب سے طویل مدت تک جس دور میں پاکستان کے وزیر اعظم رہے ہیں آپ اس دور پر نظر ڈال کر دیکھ لیں انہیں یہاں تک پہنچنے کے لےئے ایک آمر کے مارشل لا ء نما دور کو برداشت کرنا پڑا انہیں اس ملک سے جلا وطنی برداشت کرنا پڑی جس ملک کے وہ دو بار وزیر اعظم رہ چکے تھے۔ اب آپ اگر موجودہ صورتحال کا جا ئزہ لیں تو شاید یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ میاں نواز شریف ایک اور بار بطور وزیر اعظم
اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی عرض سے وزیر اعظم ہاؤس کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔
آپ کو یہ بھی ماننا ہو گا کہ جو قسمت نواز شریف اپنے ساتھ اس دنیا میں لائے ہیں وہ کر وڑوں میں کسی کی ہوتی ہے یہ ہر بار کسی نہ کسی مسئلے میں پھنس جاتے ہیں ۔ ان کی قسمت انہیں اس مسئلے سے مکھن سے بال کی طرح نکال لیتی ہے۔ آپ اگر 13 جولائی کے دن کو یاد کر لیں تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ میاں نواز شریف ملک میں واپس آئیں گے جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ وہ نہیںآئیں گے وہ جانتے تھے کہ یہاں آ کر ان کے ساتھ کیا ہو گا وہ اگر چاہتے تو اپنی باقی زندگی
لندن میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ سکون سے گزار سکتے تھے اور شاید کوئی انہیں واپس نہ لا سکتا اور وہ اس وقت جیل کی اذیت سے دو ر پر سکون ماحول میں اپنا وقت گزار سکتے تھے لیکن درمیان میں آگئی نواز شریف کی قسمت یہ سابق وزیر اعظم کی قسمت ہے جو انہیں زوال کی طرف لے جا تی اور پھر اچانک اس زوال کو عروج میں بدل دیتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نوازشریف کا زوال ہے کہ وہ جیل میں اپنے خاندان سے دور اپنی بیوی سے دور ایک بہت مشکل زندگی گزار رہیں ھے لیکن آپ کو ماننا ہو گا میاں نواز شریف اپنے عروج کی طرف بڑھ رہے ہیں ان کی قسمت کب اس زوال کو ان کا عروج بنا دے گی آپ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ یہ 13 جولائی کو پاکستان یہ سوچ کر آئے تھے کہ یہ چوتھی بار پاکستان کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ ان کی قسمت ان کیساتھ عروج اور زوال کا کھیل کھیل رہی ہے او ر اگر اﷲ تعالیٰ نے انکو لمبی عمر عطا کی ہے تو پھر یقین جانےئے یہ اس کھیل کو جیت جائیں گے یہ اس ملک کے چوتھی بار وزیر اعظم بن جائیں گے یہ ان تمام مسائل سے نکل جائیں گے اور اگر وقت نے انہیں بھٹو بنا دیا تو پھر تاریخ گواہ ہے کہ بھٹو کے جانشین آج بھی اس کے نام پر اقتدارکر رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف کا یہ زوال پھر ان کی بیٹی مریم کی صورت میں عروج بن کر ابھرے گا اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ نوازشریف کو پسند کرنے والے لوگوں کی ترجیح ان کی بیٹی مریم نواز ہوں گی جوان کے بیانیے کو پورے جوش وخروش کے ساتھ آگے کے کر چلی ہیں۔

حصہ

2 تبصرے

  1. Bht khoob jnb bht acha likha ha aur apne bt ko story k sath jo explain kia ha zabardast Allah apko salamat rakhy hamesha asy hi acha likhty rahein.

جواب چھوڑ دیں