ہم اخلاقی پستی کا شکار کیوں ہیں ؟ 

ابھی حال ہی میں کراچی میٹرک بورڈ نے نتائج کا اعلان کیا ہے،  157045 طلباء نے اس میں شرکت کی، کامیابی کا تناسب 63% رہا۔ میرے اپنے ہی خاندان میں جتنے بچوں نے امتحان دیے وہ سب 80% سے زیادہ نمبر لینے میں کامیاب ہوئے،مطلب آج کے دور میں نالائق اور کند ذہن طالب علم ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کی مانند ہے ۔ یہ سارے کامیاب طلبا مستقبل میں کسی نہ کسی شعبے سے وابستہ ہوں گے، ممکن ہے ان میں زیادہ تر سرکاری ملازم، ڈاکٹر، انجینئر، چارٹر اکاؤنٹنٹ بنیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب اتنی بڑی تعداد میں ہمارے یہاں ہونہار طلبا موجود ہیں، امتحان میں کامیابی کا تناسب بھی ہر سال بڑھتا ہی جارہا ہے، میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلوں کے لئے ہزاروں طلبا داخلہ بھی لیتے ہیں، ٹیسٹ کی تیارے کے لئے ہزاروں روپے کی فیس بھی خوشی خوشی ادا کرتے ہیں، تو پھر ہونا تو یہ چاہئے کے ہمارا شمار دنیا کی تہذیب یافتہ قوموں میں ہو، ہم سوشل میڈیا پر مخالفين کو گالیاں نہ دیتے ہوں بلکہ حد درجہ احترام کرنے والے ہوں، سنگل توڑنے والے نہیں بلکہ سنگل پر رکنے والے ہوں، قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرنے والے ہوں، دوسروں کی ذاتیات پر بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے والے ہوں، ہم کتاب پڑھنے والے اور کتابوں سے محبت کرنے والے ہوں، ہم اپنی مرضی دوسروں پر مسلط نہ کرنے اور دوسروں کی رائے کو اہمیت دینے والے ہوں، ہم آواز کے بجائے اپنے دلائل بلند کرتے ہوں ، ہم محافل میں بزرگوں کے لئے احترام میں کھڑے ہونے اور ان کے لئے نشست چھوڑنے والے ہوں، ہم بڑوں کے سامنے بیٹھ کر ٹھک ٹھک ٹائپنگ نہ کرتے ہوں اور کانوں میں ہینڈ فری لگا کر نہ بیٹھتے ہوں، ہم خواتین کا حد درجہ احترام کرتے ہوں، غرض یہ وہ چند چیزیں ہیں جو اب تک تو ہمارے معاشرے کا خاصہ بن جانی چاہئے تھیں مگر صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے ۔

چند دنوں پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک نوجوان شاعرہ اور بلاگر بذریعہ ویڈیو لنک اپنے فالورز سے بات کرنے اور ان کے سوالات کا جواب دینے کے لئے لائیو آئیں، ابتداء میں لوگوں نے کیریئر اور دیگر تعلیمی مسائل پر سوالات پوچھے مگر کچھ ہی دیر بعد چند نوجوانوں نے محترمہ کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھنا شروع کردیے، کچھ تو اپنی اخلاقی گراوٹ میں اس قدر آگے نکل گئے کے ان سے نمبر مانگنے اور دوستی کی خواہش ظاھر کرنے لگے، جب یہ نوجوان براہ راست سب کے سامنے کسی لڑکی  کا نمبر مانگنے اور اس کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوتے ہوں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کے وہ عام زندگی میں اخلاقیات کے کس درجے پر فائز ہوں گے، تحقیق کرنے پر ان حضرات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دی گئی معلومات کے مطابق ان میں سے اکثریت کا تعلق ان میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیز سے تھا جن میں تعلیم حاصل کرنا ہر باصلاحیت طالب علم کا خواب ہوتا ہے، یقیناََ یہ وہ ہی نوجوان ہوں گے جو میٹرک اور انٹر میں اعزازی نمبروں سے کامیاب ہوئے ہوں گے ان کی کامیابی پر والدین سینہ چوڑا کر کے لوگوں کے سامنے اپنے بچوں کی تعریف اور ان کے صلاحیتوں کے گن گاتے ہوں گے ۔

 مگر اس میں قصور ان بیچارے نوجوانوں کا بھی نہیں قصور والدین اور ہمارے اس کھوکھلے نظامِ تعلیم کا ہے جس میں تعلیم  تو دی جاتی ہے مگر تربیت نہیں کی جاتی، جس میں تمام سائنس کے مضامین تو پڑھائے جاتے ہیں مگر اخلاقیات سیکھائی اور پڑھائی نہیں جاتی ،بچپن ہی سے بچے کے  اچھے گریڈ لانے پر خوش ہونا اور اس کی اخلاقی تربیت پر توجہ نہ دینا یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہے جس کا آئے روز ہم رونا روتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اخلاقی برائیوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، حال ہی میں گزرے یومِ آزادی کے دن کی ہی مثال لے لیں جس میں سڑکوں پر نوجوان ون ویلنگ کرتے رہے، سڑکوں پر خواتین کو آوازیں کسنا، موٹر سائیکل کے سلینسر کو نکال کر شور مچانا بلکہ اس سال تو ایک ایسا باجا ایجاد کیا گیا جس نے سارا دن لوگوں کے دماغ  میں ٹیسے ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ حد تو یہ ہے کے ہماری قوم نے بابائے قوم کے مزار کو بھی نہ چھوڑا اور وہاں جاکر بھر پور توانائی کے ساتھ باجے بجا کر قائد کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔

میں ہرگز یہ نہیں کہتا کے ہمارے معاشرے میں ہر طرف برائی ہی پھیلی ہوئی ہے، یقیناً اس معاشرے میں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں بلکہ ہزاروں لوگ ایسے بھی ہوں گے جو بلاگ میں لکھی گئی خرابیوں سے بچتے بھی ہوں گے، مگر مجموعی طور بے شمار اچھائیوں کے ساتھ ساتھ برائیاں بھی موجود ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کے زیادہ علم سیکھنے کے بجائے تھوڑا ادب بھی سیکھا اور سیکھایا جائے ورنہ آئے دن امتحانات میں کامیابی کا تناسب تو بڑھتا چلا جائے گا مگر اخلاقیات کی کمی کے سبب ہم دنیا کی نظروں میں حقیر ہی رہیں گے ۔۔۔!

حصہ

جواب چھوڑ دیں