کراچی کے مینڈیٹ کی توہین

ان دنوں سیاست کے داؤ پیچ عروج پر تو کسی کے ستارے گردش میں ہیں،دنیا بھر کی نظریں اس وقت بنی گالہ کے شہزادے پر لگی ہیں کہ متوقع وزیراعظم عمران خان بنتے ہیں یا نہیں صوبائی اور وفاقی سطح پرپی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس جاری ہیں وہیں کراچی مرکز نگاہ بنا ہوا جس نے ایم کیو ایم کی نیندیں حرام کردی ہیں ،ایک جانب ایم ایم اے ،پیپلز پارٹی،مسلم لیگ نوازجیسی تنظیمیں انتخابات پر اپنے شکوک و شبہات کا کھل کر اظہار کررہی ہیں تو اہل کراچی کو بھی تحریک انصاف نے ایک ایسا تحفہ دیا ہے جس کی ماضی مثال نہیں ملتی،نعرہ تھا اس بار وزیراعظم کراچی سے مگر ہوا کچھ یوں کہ جیت بھی گئے اور وفاق کا راستہ بھی آسان ہوا پر شہر کراچی پھر نظر انداز ہوگیا ۔
کہتے ہیں سیاست میں کوئی لفظ حرف آخر نہیں ہوتا مگر اس کی عملی مثال ایم کیو ایم (پاکستان) اورپی ٹی آئی کا اتحاد ہے کراچی کا نام نہاد ووٹ کسی بھی طرح کسی کے بھی حصے میں آیاوہ ایک الگ بات ہے مگر جس کو ووٹ دیا اس نے کراچی پھر اس کے حوالے کردیا،جو 35سال تک شہر کراچی پرحکمرانی کرتی رہی، لاشیں گرتی رہیں ،ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی ،چائنا کٹننگ چلتی رہی،بلدیہ فیکٹری کا کیس چلتا رہا ،مئیر پر الزام تراشیاں ہوتی رہیں،کچرے کے ڈھیر میں پلتے رہے۔ اہل ِ کراچی مگر کسی کو خیال نہ آیا ۔عوام نے جمہوری حق استعمال کیا اوراب جمہوریت کا حسن بھی دیکھ رہے ہیں جہاں وعدے ،دعوے ،الزام ،عصبیت ،صوبائیت،لسانیت اور فرقہ واریت پر سیاست عام سی بات ہے جس کو عوام مسترد کردیں وہ بھی اقتدار کے مزے لوٹتا ہے جیسے تحریک انصاف نے ایم کیو ایم سے اتحاد کر کے کراچی والوں کو دیاصرف “دھوکا”۔
پی ٹی آئی کو وفاق میں حکومت بنانے میں پریشانی ہوئی تو اس نے ایم کیو ایم کا دروازہ کھٹکھٹایا بس پھر کیا تھا ایم کیو ایم ہو اور اقتدار میں نہ ہو ایسا کبھی نہیں ہوا کل تک جو ایم کیو ایم ٹارگٹ کلرز کی جماعت تھی وہ آج اچانک فرشتوں کی جماعت بن گئی ۔پی ٹی آئی کی بانی رہنماء زہرہ شاہد کا قتل ہوا تو یہی پاکستان تحریک انصاف تھی جس نے الزام لگایا تھا کہ قتل ایم کیو ایم کے غنڈوں نے کرایا ،میئر پر کرپشن کا الزام لگا کر اس کو عدالت تک گھسیٹنے والے کوئی اور نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ایک رہنماء فیصل واڈوا بھی ہیں جن کا کہنا تھا کہ میئر وسیم اختر شہر کراچی کے 17ارب روپے کھا گئے ہیں ،مزاق کا آغٖاز یہاں سے ہوتا ہے جب ایم کیوا یم اپنا مینڈیٹ چوری ہونے کا الزام تحریک انصاف پر لگاتی ہے اور وفاق میں اسی کی اتحادی بن جاتی ہے ۔
حکومتیں بنتی ہیں اور ٹوٹ بھی جاتی ہیں اتحاد ہوتے ہیں اور ٹوٹ جاتے مگر اتحاد بھی ایسے ہوتے ہیں جن کے خیالات کسی حد تک ایک دوسرے سے ملتے ہوں اور سیاست تو ہے ہی مفاد پرستی کا نام ،ایسے میں سب سے بڑا سوال تحریک انصاف کے اوپر اٹھتا ہے کہ کیا ایم کیو ایم بدل گئی ہے۔یااقتدار کی چکا چوند میں انصاف کے دھارے،قتل کیے گئے لوگوں کا خون رائیگاں ہوگیا ہے یا پھر کرسی کی قدر،کل تک جس ایم کیو ایم کو کپتان اور اس کے حواری کوسا کرتے تھے آج بغل گیر ہوتے شرم نہیں آئی ۔
اگر اہل کراچی نے تبدیلی کا ساتھ دیا تو اس کا مطلب تحریک انصاف کو کراچی کی صورت میں اس کودوبارہ معاشی حب بنانا تھا،شہر کی روشنیوں کو بحال کرنا،پلے گراؤنڈ تعمیر کرنا تھا ،مجرمان کے خلاف کارروائی تھی نہ کہ خود ملزمان کی سرپرستی کرنا۔ سندھ میں اب بھی صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی ہے، تو ہم پھر ایک مرتبہ یہ راگ سننے والے ہیں کہ اختیارات نہیں ،وسائل کی کمی ہے ،فنڈز نہیں ۔۔۔۔تو پھر شاید ہم کو دوبارہ سوچناہوگا ۔۔۔ ایک عام شہری اگر کسی تبدیلی کو ووٹ دیتا ہے تو اس لیے نہیں کہ ایک جماعت یااس کا کوئی وزیرشہری کی قسمت کا فیصلہ کرے بلکہ اس لیے کہ وہ اس کے حقوق کی جنگ لڑے اور اس کامحافظ بنے۔

حصہ
mm
موسیٰ غنی ایک مقامی روزنامہ کی ویب سائٹ پر سب ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ مختلف اخبارات میں بھی کالمز لکھتے ہیں۔مطالعے سے خاص دلچسپی اور بلاگ لکھنے کا شوق رکھتے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں