ووٹرز کی پریشانی

100

آج کل پاکستان میں تقریبا تمام لوگوں میں ایک انفیکشن پھیل گیا ہےاورانفیکشن کے شکار افراد بہت ہی مشتعل مزاج ہوتے ہیں-پہلی علامات میں وہ خود سے باتیں کرتے دیکھائ دیتے ہیں،ایک ہی بات کو بار بار دہراتے ہیں اور لوگوں کو اپنی سوچ کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں،اگر لوگ انکے مطابق چل جائیں تو ٹھیک ہیں ورنہ ذہنی
اور جسمانی تشدد سے بھی گریزہ نہیں ہوتے -اور کچھ لوگوں کا مرض اتنا بڑھ جاتا ہے کے انکو عام عوام سے دور رکھنا پڑتا ہے-
اس بیماری کے شکار افراد میں ہر عمر اور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں-جن سے ہر قسم کے رویے اور حرکات و سکنات کی امید رکھی جاسکتی ہے-ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک ملکی سیاسی موسم می تبدیلی آے گی تو انفیکشن میں بھی خود بخود کمی آجاےگی-ڈاکٹرز ابھی تک اس انفیکشن کا علاج دریافت کرنے میں ناکام رہے ہیں-
اس بیماری کے شکار افراد ایک دوسرے کو یوتھیا ، پٹواری اورجاگیردار کہ کر طعنہ دیتے ہیں-ایک دوسرے پر الزامات لگانا،افراد کے بارے میں نازیبا گفتگو کرنا ان یوتھیوں اورپٹواریوں کا خاصا ہے-یوتھیے اور پٹواری سرعام ایک دوسرے کے خلاف غلاظت بکھرتے ہوئے نظر آتے ہیں-ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کسی حد تک بھی چلے جاتے ہیں-ان میں یہ انفیکشن سب سے زیادہ اور خطرناک حد تک ہے،اور یہ انکے لئے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے-
آیئے سب سے پہلے آپ کایوتھیوں سے تعارف کرتے ہیں-یوتھیے بہت پر جوش ہیں اور تبدیلی لانا چاہتے ہیں نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں- اس کے لئے وہ کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں-یہ بات اور ہے کہ جما یما سے ریحام خان تک ایک اور داستان جنم لیتی ہے-ان پر الزامات لگانے والوں کی فہرست میں اپنے سرفہرست ہیں-عوام میں انکے بارے میں ملی جلی راۓ ہے-یہ طبقہ امرہ میں سب سے زیادہ پسند کے جاتے ہیں –
اب بات کرتے ہیں پٹواریوں کی،پٹواریوں نے پچھلے ٣٠ سال میں اتنی کرپشن کی ہےکہ اب لفظ کرپشن کی جگہ نواز استعمال کیا جاےگا کیونکہ نواز سے زیادہ کرپشن کے لئے جامع لفظ نہیں ہے-انکا نعرہ ہے کہ کرپشن کرتا جا آگے بڑھتے جا -کرپٹ ِاعظم کے پاس میڈیا کے مطابق ٣٥ ارب ڈالرز ہیں اور باقی انکے رشتےداروں میں کرپشن سے کمائی دولت الگ ہے -اس کرپٹ خاندان نے پاکستان پر ٣٠ سال حکومت کی اور کرپشن کے ایسے نئے اور جدید طریقے ایجاد کیے جو کہ ابھی تک کسی نے استعمال نہیں کیے کرپشن کے معاملے میں انکے دماغ بہت زرخیر ہیں-پاکستان کی سرزمین کو اپنی لوٹ مار کے لئے انتہائی سازگار پاتے ہیں جہاں سے وہ مال لوٹتے ہیں اور پھر لندن اور یورپی ممالک میں جمع کرتے ہیں،انکے گھر وہاں ،انکی اولادیں باہر انکی عیدیں لندن میں اور حکمرانی صرف پاکستان میں-
واہ کیا طرفہ تماشا ہے مقتدرہ حلقے بھی تماشائی ہیں- آہ افسوس صدافسوس ان لٹیروں کو لوگ آج بھی ووٹ دینے کو تیار ہیں کہتے ہیں “کھاتا ہے تو لگتا بھی تو ہے”-مگر اصل میں وہ صرف کھاتا ہے اور لگتا بھی صرف اپنے اوپر ہے-پھر پٹواریوں نے سوچا کے ہم کیوں نہ رجب طیب اردوگان بن جا ئیں لیکن کیا وہ نہیں جانتے اردوگان نے ترکی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ،لوگ آج اسلئے اسکے ساتھ کھڑے ہیں اس نے ترکی کی عوام کی عزت نفس نا صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں بحال کیا اور ترکی کی عوام ترقی کی جدیدوقدیم شاہراہ پر ڈال دیا آج ترکی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نام ڈالوانے کے لئے تیار بیٹھا ہے -اب ترکی قرض لیتا نہیں دیتا ہے،لیکن یہاں پٹواریوں اور زرداریوں نے غریب اوم سے موہ کا نوالہ بھی چین لیا اور یہاں جنکو بریانی اپنے مستقبل سے زیادہ عزیز ہے وہ انکے ساتھ نکلے ہیں-پٹواری آج سارا خزانہ خالی کرکے اپنے ساتھ لیجا چکے ہیں پھر بھی چاہ رہے ہیں کے لوگ انکے ساتھ ہوں-اسے کہتے ہیں جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسنا،انکے کاغذی پروجیکٹس کاغذ کی ناؤ بن کر ڈوب گئے-
اب چلتے ہیں جاگیرداروں کی طرف-روٹی،کپڑا اور مکان ..جسکا خیال انہوں نے اپنے خاندان کی حد تک رکھا-آجکل کھلنڈرے بھی منڈیر چھوڑ کر انتخابی مہم میں جت گے ہیں-جلسوں میں اپنی تقاریر کے دوران ایسے ایسے کارنامے بتارہے ہیں جیسے وہ تختهِ مشق بنے پاکستان سے نہیں بلکہ یورپ والوں سے ووٹ مانگنے جارہے ہوں جنکو بالعموم پاکستان اور بالخصوص سندھ کے حالات سے آ گا ہی ہی نہیں-سندھ میں صحت کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھر کے حالات پوری دنیا پر عیاں نہیں لیکن یہ صاحب مصر ہیں کہ سندھ می صحت کی صورتحال یورپ والوں سے بھی بہتر ہے-صاحب کہتے ہیں کہ ملک سے لوٹی ہوئے دولت واپس لونگا،واہ سبحان الله جھانکوذرا اپنے گریبان میں میاں صاحبزادے !
سندھ کے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اسپتالوں کی حالت سے کون واقف نہیں-یہ خدا ہی جانتا ہے کہ کس دل سے حکومت عوام کے لئے میڈیکل کا بجٹ بناتی ہوگی اور پھر کھاؤ پیو سیاستدان اور بیوروکریٹس اپنا بھاتا وصول کرتے ہوئے معصوم عوام کو تڑپا تڑپا کہ مرتے ہیں-کھلنڈرے کو تو ابھی موقع ہی نہیں ملا کے وہ عوام کو اپنا اصل رنگ دکھا سکیں لیکن انکے والد صاحب مسٹر %١٠ کے نام سے ضرور جانے جاتے ہیں اور محترمہ کی شہادت کے بعد تو مسٹر %١٠٠ بن چکے ہیں،بقول میڈیا انکے پاس ٢٥ ارب ڈالرزکے اثاثہ جات ہیں-یہ تو میڈیا کے سامنے تسلیم شدہ ہیں اور غیر تسلیم شدہ الگ ہیں-
اب تذکرہ کرتے ہیں طفیلی سیاسی،مذہبی لسانی اور علاقائی جماعتوں کا، سب سے پہلے یہاں ذکر کرتے ہیں کتاب کا-انکا موٹو ہے کہ وہ “تعلیم عام کرینگے “”خواتین کی تعظیم کی جاےگی””دیانتدار کو ووٹ دیں” اس کے علاوہ بہت کچھ …. اس اتحاد کا ایک لیڈر ایسا ہے جسکو آلو کی سبزی سے تشبىح دی گے ہے اور باور کرایا گیا ہے کہ اسکا دین ایمان صرف حکومت میں شامل ہونا ہے چاہے کوئی قیمت دینی پڑے-اس لیڈر کے اتحاد کے حمام میں جو بھی نہایا اس لیڈر جیسا ہوگیا،کوئی چاہے اپنی طہارت و پاکیزگی کی جتنی دلیلیں دیتا پھیرے-اس کے علاوہ علاقائی لسانی جماعتیں اپنے چھوٹے چھوٹے مقاصد کے لئے ملک دشمنوں کا آلہ کار بنی ہوئی ہیں-
آجکل کہیں ہم نئے پاکستان کی باتیں سن رہے ہیں تو کہیں تعلیم عام کرنے کی،لیکن یہ نعرہ وہی لوگ لگا رہے ہیں جنہوں نے پاکستان پر 70سال حکومت کی اور انکا منشور لوٹ مار ہی رہا- وہ نئے چہرے کہاں ہیں جنکے آنے کا ہم سن رہے تھے،یہ سب تو وہی پرانے چہرے ہیں-یوتھیوں نے اپنی ٹوکری میں وہی پرانے بدبودار سڑے ہوئے پھل بھر لئے ہیں-وہ کیا بدلے گے پاکستان جنکو صرف اپنی کرسی پیاری ہے-
اس وقت پاکستان پر ٩٠ ارب ڈالرز کا قرضہ ہے-قرض میں جکڑی عوام مہنگائی کی چکی میں اب مزید پسنے کے قبل نہیں-مگر بقول میڈیا اس ملک کے صرف ٢ سیاستدانوں کے پاس ٦٠ ارب ڈالرز ہیں اور اس کے علاوہ ٢٠٠ ارب ڈالرز سوئس بنکوں میں موجود ہیں-جو کے ہمارے معتبر سیاستدانوں نے پاکستان سے لوٹ کر رکھے ہوئے ہیں-کیا آنے والی حکومت پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ پاکستان کو واپس دلا سکےگی یا پھر پچھلی حکومتوں کی طرح صرف اپنا پیٹ بھر کر پاکستان سے نو دو گیارہ ہوجاےگی-یہی سوچنے کی بات اور سوالیہ نشان ہے؟

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں