ایک قوم بن کر ڈیم بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں‎

دنیا میں جن ممالک میں جمہوریت کامیابی سے چلائی جارہی ہے وہاں تعلیم اور شعور کا معیار بہت بلند ہے اس کے مقابلے میں ایشیائی ممالک انڈیا ، بنگلہ دیش ،کی جمہوریت پر نظر ڈالیں تو کاگردگی سے زیادہ تعصب کی بنیاد پر ووٹنگ ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی جمہوریت کو بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے اگر آپ پرانے  سیاست دانوں  سے سوال کریں کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر  کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کے وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں  گے اور اگر آپ پچھلے 10 سالوں کی دونوں بڑی پارٹیوں کی حکومت کا تجزیہ کریں تو انھوں نے مجموعی طور ملک کی ترقی کے لیے وہ کردار ادا نہیں کیا جو وہ موجودہ وسائل میں کرسکتی تھی پچھلی حکومت نے بجلی کا مسئلہ چھوڑا تو پوری الیکشن مہم بجلی کی کمی پوری کرنے کے نام پر چلائی گی اس میں جتنی کامیابی آپ کو اشتہارات میں نظر آے گی حقیقت اس کے بر عکس ہے اب پانی اور ڈیم کی سیاست ہورہی ہے کیا ہر 5 سالہ حکومت میں اس قوم کا ایک مسئلہ حل ہوگا  ہمارے کچھ نادان پاکستانی بھائی چند سیاست دانوں کے بہکاوے میں آکر ہمارے ادروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں چونکہ ہمارے نام نہاد  سیاست دان اپنی ذاتی کرپشن چھپانے کے لیے سیاست کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اوراپنی ناکامیوں اور ناہلی کو چھپانے کے لیے اداروں پر  الزام لگاتے ہیں جس کو ہماری سادہ لوح عوام اپنے لیڈر کی اندھی عقیدت میں سچ مان لیتے ہیں جب کے سچ اسکے برعکس ہے آج عوام کے جن مسائل کو ہمارے سیاست دانوں نے حل کرنے تھے ان کی ناکامی اور عوام کو پہنچنے والی تکلیف کو دیکھتے ہوے اگر عدالتیں ان  کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے تو یہ سیاست دان ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر عوام کے یہ دیرینہ مسائل حل کون کرے گا۔ لیکن الحمداللہ ہماری عوام آج سچ اور سیاست میں فرق سمجھ رہی ہے اور آج عدالتوں کےذریعے ہونے والے سوموٹو ایکشن پر خوش بھی ہے اور مطمئن بھی۔ پانی جو ہماری زندگی اور موت کا مسلہ ہے جس پر ہمارے حکمرانوں نے مجرمانہ غفلت برتی ہے لیکن ہمارے چیف جسٹس صاحب نے اس پر نہ صرف ایکشن لیا بلکہ اسکے حل کے لیے قوم سے مدد بھی مانگی ہے جس پر قوم نے بہت حوصلہ بخش جواب دیا ہے اور ہماری پاک فوج جس پر ہم جتنا ٖفخر کریں کم ہے۔ آج فوج نے ہمیشہ کی طرح پہل کرتے ہوے فوجی نے ایک دن کی تنخوا اور افسران نے دو دن کی تنخوا دینے کا علان کر کے اس قوم کا سر اور فخر سے بلند کر دیا میں اپنے تمام پاکستانی بھائیوں جو دنیا کے کسی بھی حصے میں  رہایش پذیر ہیں اپیل کرتا ہوں کہ آج پاک سر زمیں آپ سے قربانی مانگ رہی ہے جتنا ہوسکے اپنے اور اپنی آنے والی نسل کی بقا کے لیے چندہ دیں ۔ہمارے بزرگوں نے جس طرح اپنا کل ہمارے آج پر قربان کیا تھا اور 65 میں اپنے گھر کے زیورات اور سب کچھ پاک وطن کی حفاظت کے لیے دینے کو تیار ہوگئے تھے  اسی طرح ہمیں اپنا آج اپنی نسل کے کل پر قربان کرنا ہے آج ہمیں ان کی اس قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہوے ایک بار پھر اپنا حصہ ڈالنا ہے ہر ادارے کے ملازمین ڈیم کی تعمیر میں کم از کم ایک دن کی تنخوا دینی ہے یاد رکھیں دشمن نے آبی دہشت گردی کرتے ہوے پوری قوم کا للکارہ ہے ہمیں ڈیم بنا کر اسکی سازش کو ناکام بنانا ہے ہم سب ایک قوم بن کر دشمن کے تمام عزائم کو ناکام کر سکتے ہیں ہمارہ اتحاد اور قربانی ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے ۔اللہ پاکستان کی حفاظت کرے ۔آمین

حصہ

جواب چھوڑ دیں