’’اب امتحان عافیہ کا نہیں ریاستی حکام کا ہے ‘‘

امریکہ میں تعینات خاتون پاکستانی سفارتکارعائشہ فاروقی نے حقیقی معنوں میں ڈھارس بندھائی ہے کہ بیوروکریسی میں ابھی قوم کے ہمدرد موجود ہیں کیونکہ پاکستان کی تاریخ کے آخری 15 جمہوری سالوں نے عوام کو سخت مایوس کیا ہے۔ سیاستدانوں کو ہمیشہ سے یہ شکوہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے جبکہ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جب بھی پاکستان میں جمہوریت کا سورج طلوع ہواہے تو سیاستدان نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں نے عوام کی خدمت کی پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ابھی زرداری کے غیرملکی بنک اکاؤنٹس کے ہوشربا اسکینڈل کی کہانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ نواز شریف کے پانامہ لیکس نے قوم کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ سیاستدانوں کی یہ عجیب منطق ہمیشہ سے سمجھ سے بالاتررہی ہے کہ کرپٹ صرف سیاستدان ہی نہیں ججز اور جرنیل بھی ہیں مگر جب یہ سیاستدان برسراقتدار ہوتے ہیں تو انتہاکی بزدلی دکھاتے ہیں اور کرپٹ ججوں اور جرنیلوں کے خلاف کاروائی نہیں کرتے اور نہ ہی کرپشن کے خاتمہ کیلئے موثر قانون سازی کرتے ہیں۔مگر جب ان کی سیاست اور اقتدار کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہ اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر ججز اور جرنیلوں کو گالیاں دینے لگتے ہیں۔گذشتہ دس سالوں میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو پی ف، مسلم لیگ ن اور ان کے دیگر اتحادی برسراقتدار رہے ہیں۔کیا ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما جواب دیں گے کہ انہیں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، ملک پر قرضوں کا بھاری بوجھ ختم کرنے، پینے کا صاف پانی ، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار، بے روزگاری جیسے مسائل ختم کرنے اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی جیل سے رہا کرانے اور باعزت طور پر وطن واپس لانے سے کس نے روکا تھا؟
قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کا گذشتہ ڈھائی سالوں سے اپنے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا جس کا بار بار اظہاران کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے کیا گیا تھا مگرن لیگ کی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی تھی۔ نگران حکومت قائم ہوتے ہیں عائشہ فاروقی نے حکومت پاکستان کو ایک تفصیلی رپورٹ ارسال کی جوکہ میڈیا کے توسط سے عام پاکستانی شہریوں تک بھی پہنچ گئی ۔جو سلوک قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے امریکی جیل میں روا رکھا جارہا ہے اس نے ہراس باپ کا سرشرم سے جھکا دیا جس کی کوئی بیٹی ہے اور ہراس ماں کا کلیجہ چیر کا رکھ دیاہے جس کی کوئی بیٹی ہے۔عوام کو تو عافیہ کی صورت میں اپنی بیٹی نظر آتی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں بسنے والے سنگ دل پندرہ سالوں سے اپنی اور پرائی بیٹی میں فرق کررہے ہیں۔اب پاکستانی عوام یہ سوال کرنے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ کیا کسی سیاستدان، جج یا جرنیل کی بیٹی کے ساتھ اگر اس طرح کی بد سلوکی ہوتی توکیا اقتدار کے ایوانوں میں پھر بھی ایسی خاموشی چھائی رہتی؟ جیسی کہ عافیہ کے معاملے میں چھائی ہوئی ہے۔
ہم پاکستانیوں کو اقتدار کے ایوانوں میں ہونی والی سازشوں نے بڑے دکھ دئیے ہیں۔ایسا ہی کچھ معاملہ ڈاکٹر عافیہ کا بھی ہے۔ سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کیاتھا۔جس کا اعتراف مشرف دور کے وزیرخارجہ خورشید احمد قصوری اپنے ایک ٹوئیٹ میں کرچکے ہیں کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ اس معاملہ کا سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تحقیق و تفتیش کرنے کی زحمت نہیں کی کہ ڈاکٹر عافیہ پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور معصوم بیٹی کو اس کے تین کمسن بچوں سمیت اٹھا کر امریکی درندوں کے حوالے کردیا۔عورت کے دکھ کو عورت ہی سمجھ سکتی ہے یہ بات عائشہ فاروقی نے ثابت کردی اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی جیل میں ہونے والی شرمناک بدسلوکی کی تفصیلات حکومت پاکستان کو ارسال کردی ہے۔ اب حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس پر تیزرفتاری سے اقدامات اٹھائے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اب عافیہ کی زندگی کو پہلے سے زیادہ خطرہ لاحق ہوچکا ہے کیونکہ کارس ویل جیل کا کینہ پرور عملہ جن کی عافیہ نے شکایت کی ہے اب عافیہ کے ساتھ مزید بدسلوکی کرے گا اوراس سے انتقام لے گا۔واضح رہے کہ ٹیکساس کی یہ کارس ویل جیل دنیا کی تیسری بدترین جیل مانی جاتی ہے جہاں قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ناروا سلوک اور پراسرار موت معمول کی بات ہے ۔ڈاکٹر عافیہ کا اپنی والدہ کے نام ایک خط بھی منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے اپنی والدہ سے کہا ہے کہ اس جیل میں تقریباََ سارے مرد اور عورتیں rapist (زنا بالجبر، عصمت دری کرنے والے) ہیں۔ ایسے ماحول میں بھی ڈاکٹر عافیہ دین پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔ عائشہ فاروقی صاحبہ کی رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کارس ویل جیل کا عملہ عافیہ کے سیل کو ناپاک رکھتا ہے، اس کے کپڑوں پر پیشاب تک کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے دین پر عمل نہ کرسکے۔
قوم کی ایسی ذہین اور باکردار بچی کو امریکی درندوں کے حوالے کرکے پاکستان کے وقار پر شرمناک دھبہ لگایا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ نے 15 سال کے انسانیت سوز مظالم اور تشدد سہنے کے باوجود اللہ پر توکل اور پاکستانی عوام پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسے وطن واپس لے کر آئیں گے۔ ڈاکٹر عافیہ کا کیس عالمی سطح پرلے جانے کا کریڈٹ اندرون و بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے علاوہ دنیا بھر کے ان انسانیت اور انصاف دوست عوام کو بھی جاتا ہے جو مذہب، قوم اور نسل سے بالاتر ہوکر عافیہ کی رہائی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور جس کے باعث ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے تمام مراحل طے ہوچکے ہیں ۔ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حال ہی میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔معروف برطانوی تحقیقاتی صحافی مریم ریڈلے جس نے سب سے پہلے پاکستانی قوم کو بگرام ، افغانستان کے خفیہ عقوبت خانے میں ڈاکٹر عافیہ کی موجودگی کی خبر دی تھی۔ مریم ریڈلے ایک نہیں کئی مرتبہ واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی میں رکاوٹ پاکستان کے اندر سے ہے۔ ان کا اشارہ واضح طورپر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے۔پاکستانی قوم کیلئے ڈاکٹر عافیہ کا امریکی جیل میں گذرنے والا ہر دن انتہائی کرب اور شرمندگی کا باعث بن رہا ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ پاکستان کی بیٹی ہے ان کو مہرہ بنانا بھی شرمناک ہے۔ عافیہ کے ساتھ امریکی جیل میں ہونے والی بدسلوکی منظر عام پر آنے کے بعد سول اور عسکری قیادت پر باہم مل کر قوم کی بیٹی کو واپس وطن لانا واجب ہوگیا ہے۔ڈاکٹر عافیہ نے اپنے ساتھ امریکی جیل میں ہونے والی شرمناک بدسلوکی کی تفصیل ریاست پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے نمائندے کو بتادی ہے۔3کمسن بچوں سمیت اغواء کرکے امریکیوں کے حوالے کرنے، 15 سال کے طویل عرصہ پر محیط بے پناہ زیادتیوں اور بہیمانہ تشدد کے باوجود ڈاکٹر عافیہ نے اپنے دین اسلام پر استقامت اور اپنے وطن سے بے لوث محبت اور اپنی حکومت پر اعتماد ثابت کردیا ہے۔ اب امتحان عافیہ کا نہیں ، اس ملک کے بائیس کروڑ عوام اور تمام ریاستی حکام کا ہے جس پر’’گریٹ عافیہ ‘‘ نے اعتماد کیا ہے۔ سیاستدانوں پر قوم کو ریلیف، ججوں کو انصاف اور جرنیلوں کو تحفظ فراہم کرنے کا فریضہ عائد ہوتا ہے۔اس بحث میں پڑے بغیرکہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی میں کون رکاوٹ ہے ہم سب کو مل کرمعصوم عافیہ کو واپس لانا ہے، معصوم بیٹی کی واپسی رحمت خداوندی کا باعث بنے گی اس لئے اس کی واپسی کی راہ میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔یہ پوری پاکستانی قوم کی خواہش ہے جس کا تمام ریاستی عناصر کو احترام کرنا چاہئے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں